ظالموں کے لیے دردناک سزا یقینی ہے

پھر اس کے بعد آگے اس کے لیے جہنم ہے ۔وہاں اُسے کچ لہو کا سا پانی پینے کو دیا جائے گاجسے وہ زبردستی حلق سے اتارنے کی کوشش کرے گا اور مشکل ہی سے اتار سکے گا ۔موت ہر طرف سے اس پر چھائی رہے گی مگر وہ مرنے نہ پائے گا اور آگے ایک سخت عذاب اس کی جان کالاگو رہے گا۔جن لوگوں نے اپنے ربّ سے کُفر کیا ہے اُن کے اعمال کی مثال اُس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اُڑا دیا ہو ۔ وہ اپنے کیے کا کچھ بھی پھل نہ پا سکیں گے۔ یہی پرلے درجے کی گُم گشتگی ہےکیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق کو حق پر قائم کیا ہے؟ وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے ۔ایسا کرنا اُس پر کچھ بھی دُشوار نہیں ہے۔اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنےبے نقاب ہوں گے تو اُس وقت ان میں جو دُنیا میں کمزور تھے وہ اُن لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کہیں گے’’دُنیا میں ہم تمہارے تابع تھے، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لیے بھی کچھ کر سکتے ہو؟“ وہ جواب دیں گے’’اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں بھی دکھا دیتے۔ اب تو یکساں ہے خواہ ہم جزَع فزَع کریں یا صبر، بہر حال ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیںاور جب فیصلہ چُکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کیے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کیے اُن میں سے کوئی بھی پُورا نہ کیا ۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تمہیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبّیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری۔اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا میں اُس سے بری الذّمہ ہوں، ایسے ظالموں کے لیے تو دردناک سزا یقینی ہے۔“

سوررۃابراہیم آیت نمبر 16 تا 22 تفہیم القرآن سید ابوالاعلی مودودی ؒ

حلال و حرام میں تمیز نہ کرنا روح ایمانی کی موت ہے

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی کو اس کی پروا نہ ہوگی کہ وہ جو لے رہا ہے حلال ہے یا حرام جائز ہے یا ناجائز۔
(صحیح بخاری)
تشریح
۔۔حدیث کا مطلب بالکل ظاہر ہے اور رسول اللہ ﷺ نے جس زمانہ کی اس حدیث میں خبر دی ہے بلاشبہ وہ آچکا ہے آج امت میں ان لوگوں میں بھی جو دیندار سمجھے جاتے ہیں کتنے ہیں جو اپنے پاس آنے والے روپیہ پیسہ یا کھانے پہننے کی چیزوں کے بارے میں یہ سوچنا اور تحقیق کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ جائز ہے یا ناجائز۔ ہو سکتا ہے کہ آگے اس سے بھی زیادہ خراب زمانہ آنے والا ہو۔ (مسند رزین کی اسی حدیث کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ اس وقت ان لوگوں کی دعائیں قبول نہ ہوں گی)حلال و حرام اور جائز و ناجائز میں تمیز نہ کرنا روح ایمانی کی موت ہے۔
استغفار کی اہمیت
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ سے استغفار اور اس سے توبہ کرتا ہوں۔
(صحیح بخاری)