شہزاد منیر احمد
معاشرے میں اکثریت” جی حضور یوں ” کی ہوتی ہے۔ بہت کم شخصیات ہوتی ہیں جو اپنی معاشرتی سرگرمیوں اور خد و خال کو نظریاتی اصولوں پر قائم رکھ کر جیتے ہیں۔ در اصل یہی لوگ اپنی قوم کی ترقی اور بین الاقوامی شناخت کا وسیلہ اور اثاثہ ہوتے ہیں، کہ وہ مر کر بھی زندہ رہتے ہیں۔ کل ارادہ تھا کہ اس دفعہ ماہنامہ کشمیر الیوم کے لئے کوئی بھرپور سیاسی مضمون لکھوں گا پھر نہ جانے کیا ہوا کہ ،5 جنوری 1949 ذہن پر سوار ہو گیا ۔
آکاش بیل (جسے امر بیل یا Cuscuta بھی کہا جاتا ہے) ایک زرد یا نارنجی رنگ کی، بغیر جڑوں اور پتوں کے خودرو طفیلی (Parasitic) بیل ہے جو دوسرے درختوں پر لپٹ کر ان کا رس چوستی ہے۔ یہ پودا زمین سے غذا حاصل نہیں کرتا، بلکہ میزبان پودے پر مکمل انحصار کرتا ہے اور اکثر اسے خشک کر دیتا ہے۔ یہ ایک مکمل طفیلی پودا ہے جو دوسرے درختوں کے اوپر باریک جڑوں کے ذریعے چپک جاتا ہے۔اس کا نہ سر ہوتا ہے نہ پیر ( خفیہ دشمن) یہ ناگن کی طرح بل کھائی ہوئی، تار نما اور زرد رنگ کی ہوتی ہے۔یہ عموماً بیر، بیری، اور دیگر ہرے بھرے درختوں اور باڑوں پر پھیلتی ہے۔


آکاش بیل موسم بہار اور گرمیوں میں تیزی سے پھیلتی ہے اور جس درخت پر چھا جائے، اسے غذائیت سے محروم کر کے خشک کر دیتی ہے۔اس کی چالاکی یہ سامنے اتی ہے کہ یہ درخت کو ختم نہیں کرتی ، بلکہ درخت کو زندہ رکھتی ہے لیکن اس کی شان ، زندگی، خوبصورتی اور اہمیت کو مار دیتی ہے۔ بالکل ویسے جیسے۔ طاقتور اقوام و ممالک، کمزور اقوام اور ریاستوں کو فتح کرکے انہیں اپنی کالونی بنا کر رکھتے ہیں، ان کے وسائل اور قومی دولت پر عیش کرتے ہیں، جیسےسونے کی چڑیا ہندوستان کو برطانیہ نے بنا رکھا تھا۔آج بھی ہم پاکستان پر سیاسی اکاش بیل چھائی ہوئی دیکھتے ہیں ۔اس کے تعمیری وسائل اور قومی دولت پر طاقتور ممالک اور شخصیات مضبوط گرفت قائم کئے ہوئے ہیں۔ ۔روئے زمین پر برصغیر میں ریاست جموں و کشمیر کے قدرتی حسن اور دلکش خوبصورت ماحول کی بنیاد پر اسے جنت نظیر کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ جب کہ مملکتِ خدا داد، اسلامی جمہوریہ پاکستان ، توحید ورسالت پر ایمان لانے والوں اور اطیعواللہ و اطیعوا الرسول کی اطاعت پر قائم مسلمانوں کی ریاست کو بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت و رسالت سے منحرف عیسائیوں ، ہندوستان کے بت پرستوں ہندووں کی اکثریت کی غلامی سے اللّٰہ قادر و عادل نے ، 14 اگست1947 سے نجات دے کر اپنی بے شمار نعمتوں اور رحمتوں سے نواز کر عالمی جغرافیائی اہمیت اور فطری حسن سے سجا رکھا ہے۔اس میں سارے موسم ، سمندر و دریا ، فلک بوس و برف پوش پہاڑوں ، معدنیات سے اٹے ہوئے کوہ و بیاباں ، زرخیز میدان ، ہر ریاستی اور معاشرتی ضرورتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ توحید ورسالت کی منکرین اقوام و شخصیات نے اپنے مذہبی تعصب کی بنا پر پاکستان کو اس کی آزادحیثیت سے اور ریاست جموں و کشمیر کو 27 اکتوبر1947 سے ( جب ہندوستان نے جارحانہ کاروائی کرتے ہوئے اپنی مسلح افواج سرینگر میں اتار دیں ) ان کے حق خودارادیت سے محروم کر رکھا ہے۔5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ میں یہ قرارداد پاس کی تھی کہ ریاست جموں و کشمیر میں حق خودارادیت وہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق طے کیا جائے گا جو بذریعہ رائے شماری معلوم کیا جائے گا ۔ اس قرارداد نے یہ بھی ثابت و طے کر دیا کہ کشمیر کا مسئلہ کوئی داخلی مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی تنازعہ ہے۔ لیکن ، بھارت کے عدم تعاون ، عالمی خاموشی، بین الاقوامی سفارت کاروں کی بد نیتی ، اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کا جانبدارانہ اور متعصب رویہ ہے۔5 اگست 2019 کا ، ہندوستان کا کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کرنا اور اقوام متحدہ کا خاموش رہنا، اس حقیقت کا غماز ہے کہ وہ مسلہ کشمیر کو حل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں ۔ جرم ضعیفی کی سزا نہ جانے کتنی اور باقی ہے۔ برطانوی ادیب فلاسفر ، جان ملٹن نے 1667 میں بڑے پائے کی کتاب پیراڈائز لاسٹ ، PARADISE LOST ( فردوس گمشدہ) لکھی تھی ۔اپنے فنی حسن اور علمی گہرائی کی وجہ سے انگریزی ادب کا شاہکار سمجھی جاتی ہے۔یہ کتاب منفرد انداز زبان اور عظیم رزمیہ شاعری کا مجموعہ ہے ۔ فردوس گمشدہ ، آدم و حوا کے جنت سے نکالے جانے،( انسانیت کے زوال کی ابتدا) کے آفاقی موضوع پر انسانی آزادی اور خدا تعالیٰ کی حکمتوں اور پیچیدہ عدل پر لکھی گئی ہے۔یہ کلاسیکی انداز کی رزمیہ نظم ہے جس میں بائبل میں درج واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں شیطان کے زوال کا تذکرہ ہے اور آدم و حوا کے جنت سے نکلنے کا احوال ہے۔ مذکورہ نظم کا مرکزی موضوع اس کا انسانوں کے لیے اللّٰہ کی راہوں کا جواز تلاش کرنا ہے۔ملٹن نے لکھا ہے۔
” To justify the ways of God to men.”۔
یعنی انسانی زوال کے پیچھے پوشیدہ حکمت الٰہیہ کا بیان ہے ۔ شیطان کو ایک باغی ، پیچیدہ اور پر عزم کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو نظم کے ادبی حسن میں اضافہ کرتا ہے۔ فردوس گمشدہ کے مطالعہ سے روحانی اعتبار سے قاری کو خاطر خواہ نفع نصیب نہیں ہوتا ہے۔ ملٹن نے لاطینی اور انگریزی زبان کے اشتراک سے اپنی اس کتاب کو ایک نیا اسٹائل بنا کر پیش کیا ہے جسے Miltonic verse کہا جاتا ہے۔ یہ کتاب انسانی گناہ ، توبہ اور آزادی ارادہ Free will کی گہرائی کو اجاگر کرتی ہے جو ملٹن نے مقدس کتاب انجیل سے اخذ کی ہیں۔
جان ملٹن برطانوی حکومت میں اپنی علمی وسعتوں اور فکر و خیال کے اعتبار سے FOREIGN LANGUAGE کے سیکریٹری کے عہدے پر 1649 سے 1660 تک فائز رہا تھا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب برطانیہ کا بادشاہ چارلس اول تھا ملک میں انتہائی جابرانہ و آمرانہ حکومت چلا رہا تھا۔ ملک میں انسانی بنیادی حقوق کی پامالیاں ہو رہی تھیں ، انسانیت کی تذلیل عام اور شہریوں کے ریاستی حقوق بھی سلب کیے ہوئے تھے۔لارڈ کرمویل اور جان ملٹن ، بادشاہ کی مذکورہ بالا چیرہ دستیوں اور آمریت کو روکنے کی ہر چند کوششیں کرتے رہے۔ لیکن جب بات نہ بنی تو لارڈکرمویل نے اسمبلی توڑدی۔خود حکومتی نظام سنبھالا۔ بادشاہ چارلس اول پر مقدمہ چلایا اور عدالت سے سر قلم کرنے کی سزا دلوائی ۔برطانیہ میں بنیادی حقوق کی پامالیوں پر ویسا رد عمل دیا اور مسئلہ کشمیر پر انتہائی سرد مہری قائم رکھی ہوئی ہے۔
تعصب بھی کیا شے ہے زمانہ میں اور تو ’’میں‘‘
چھین لیتی ہے دور بینی، بن کر خود بین مفکر
شہزاد منیر احمد







