جولائی 1931ء سے جولائی 2026ء تک ۔۔ایک خون آشام تاریخ
چیف ایڈیٹر کے قلم سے
13جولائی 1931ء ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک ایسا دن ہے جس نے کشمیری عوام کی سیاسی، سماجی اور قومی جدوجہد کو ایک نئی سمت عطا کی۔ اس دن سری نگر جیل کے باہر ڈوگرہ حکمرانوں کی فائرنگ سے 22کشمیری مسلمان شہید ہوئے۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اپنے مذہبی، سیاسی اور انسانی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ڈوگرہ حکومت کے ظلم، ناانصافی اور استبداد کے خلاف یہ قربانی کشمیری عوام کی آزادی، وقار اور حق خودارادیت کی جدوجہد کی علامت بن گئی۔1931ء میں ڈوگرہ راج کے مظالم اپنی جگہ ایک سیاہ باب تھے، لیکن گزشتہ سات دہائیوں کے دوران بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو طرز حکمرانی اختیار کیا، اس نے ظلم و جبر کی ایسی داستان رقم کی جس کی مثال جدید دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ اگر13جولائی 1931ء کو ڈوگرہ حکمرانوں نے گولیوں سے کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش کی تھی تو آج کا بھارت جدید فوجی طاقت، کالے قوانین، سیاسی جبر، آبادیاتی تبدیلیوں اور معاشی دباؤ کے ذریعے اسی مقصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔1947ء کے بعد سے مقبوضہ کشمیر دنیا کے سب سے زیادہ فوجی محاصرے والے خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ لاکھوں فوجیوں کی موجودگی، مسلسل کریک ڈاؤن، گرفتاریاں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، تشدد اور اجتماعی سزائیں کشمیری عوام کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ ہزاروں نوجوانوں کو مختلف ادوار میں حراست، تشدد اور قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔ متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں پر بارہا تشویش کا اظہار کیا، لیکن عالمی طاقتوں کی سیاسی مصلحتوں نے کشمیریوں کو انصاف سے محروم رکھا۔خواتین کے خلاف جرائم بھی اس المیے کا ایک دردناک پہلو ہیں۔ کنن پوشپورہ جیسے واقعات آج بھی کشمیری عوام کے اجتماعی حافظے میں تازہ ہیں۔ ہزاروں خواتین بیوگی، یتیمی اور بے یقینی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئیں۔ متعدد خاندان ایسے ہیں جو دہائیوں سے اپنے لاپتہ عزیزوں کی واپسی کے منتظر ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالیوں کا یہ سلسلہ نہ صرف بنیادی انسانی اقدار بلکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔5اگست 2019ء مقبوضہ کشمیر کی تاریخ کا ایک اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ بھارتی حکومت نے یکطرفہ طور پر ریاست کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اور 35۔اے کو منسوخ کر دیا۔ اس اقدام سے نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روح مجروح ہوئی بلکہ کشمیر کے متنازعہ تشخص کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ اس فیصلے کے فوراً بعد پورے علاقے کو فوجی محاصرے میں لے لیا گیا، مواصلاتی نظام معطل کر دیا گیا، سیاسی قیادت کو نظر بند کیا گیا اور عوامی آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔2019ء کے بعد بھارت کی پالیسی کا سب سے خطرناک پہلو آبادیاتی تبدیلی کی منظم کوشش ہے۔ نئے ڈومیسائل قوانین کے ذریعے بڑی تعداد میں غیر ریاستی باشندوں کو مستقل رہائش کے حقوق دیے گئے۔ زمین کے قوانین میں تبدیلی کرکے مقامی آبادی کے تحفظ کی آئینی ضمانتوں کو کمزور کیا گیا۔ زرعی اراضی، جنگلات اور سرکاری زمینوں پر قبضوں کی شکایات میں اضافہ ہوا۔ کشمیری عوام کا خدشہ ہے کہ یہ اقدامات خطے کی مسلم اکثریتی شناخت کو تبدیل کرنے اور مستقبل میں حقِ خودارادیت کے مطالبے کو کمزور کرنے کی ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ہندوتوا نظریے کے زیر اثر ’’گھر واپسی‘‘ اور ثقافتی انضمام کی مختلف مہمات نے بھی کشمیری شناخت کے بارے میں خدشات کو بڑھایا ہے۔ زبان، ثقافت، تاریخ اور مقامی تشخص کو پس منظر میں دھکیل کر ایک نئی سیاسی و سماجی حقیقت مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تعلیمی نصاب، انتظامی ڈھانچے اور سیاسی نظام میں تبدیلیاں اسی سلسلے کی کڑیاں سمجھی جاتی ہیں۔بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے، لیکن مقبوضہ کشمیر میں اظہارِ رائے، آزادی صحافت اور سیاسی سرگرمیوں پر عائد پابندیاں اس دعوے کو سوالیہ نشان بنا دیتی ہیں۔ صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اختلاف رائے کو برداشت کرنے کا دائرہ مسلسل محدود کیا جا رہا ہے۔13جولائی 1931ءکے شہداء نے جس مقصد کےلئے قربانی دی تھی، وہ مقصد آج بھی زندہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس دور میں کشمیری ڈوگرہ آمریت کے خلاف برسر پیکار تھے اور آج وہ ایک ایسی ریاستی پالیسی کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں جو فوجی طاقت، سیاسی جبر اور آبادیاتی تبدیلی کے امتزاج سے ان کی شناخت اور حق خودارادیت کو متاثر کرنا چاہتی ہے۔13جولائی 1931ء سے جولائی 2026ء تک کے پچانوے برس اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ طاقت اور جبر وقتی طور پر آوازوں کو دبا سکتے ہیں، لیکن قوموں کے اجتماعی شعور کو ختم نہیں کر سکتے۔ کشمیری عوام کی قربانیاں، استقامت اور اپنے مستقبل کے تعین کے حق کے لیے جدوجہد اس بات کی دلیل ہیں کہ آزادی، انصاف اور انسانی وقار کی خواہش کسی بھی طاقت سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔شہدائے 13 جولائی کا لہو آج بھی یہ پیغام دیتا ہے کہ ظلم کی ہر شکل عارضی اور حق کی جدوجہد دائمی ہوتی ہے۔ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ طاقت کے ایوانوں میں نہیں بلکہ قربانی دینے والوں کے خون سے لکھا جاتا ہے۔







