مفتی خالد عمران خالد
سوال ۔۔۔امام کے سلام پھیرتے وقت جماعت میں شامل ہونے کا مسئلہ اور اس کاطریقہ کیا ہے
امام سلام پھیرنے ہی والاہو کہ اس دوران ایک شخص جماعت میں شامل ہونے کے لیے تکبیرِ تحریمہ کہہ کر نماز شروع کردے تو اس کی چند صورتیں ہیں
جواب ۔۔۔امام کے لفظ ’’السلام‘‘کہنے کے بعد اس کی تکبیرِ تحریمہ ختم ہوئی تو ایسی صورت میں اس کی یہ اقتدا درست نہیں ہوئی، اس لیے اس کو جماعت نہیں مل سکی اور نہ ہی اس کی نماز شروع ہوسکی، بلکہ اب وہ دوبارہ تکبیرِ تحریمہ کہہ کر نماز شروع کرے گا۔ امام کے سلام پھیرنے سے پہلے یا کم از کم ’’السلام‘‘ کے میم سے پہلے پہلے اس کی تکبیر تحریمہ ختم ہوئی تو ایسی صورت میں اس کی یہ اقتدا درست ہوئی اور اس کو جماعت مل چکی ۔ اس صورت میں اگر یہ شخص امام کے سلام پھیرنے تک بیٹھا نہیں تھا تو اب بیٹھنے کی ضرورت نہیں،بلکہ کھڑے کھڑے ہی اپنی نماز جاری رکھے، لیکن اگر وہ شخص قعدہ میں بیٹھ چکا تھا تو ایسی صورت میں تشہد پڑھ کر ہی اٹھنا چاہیے، اس لیے اسی میں احتیاط ہے، البتہ اگر وہ شخص تشہد مکمل کیے بغیر ہی اٹھ گیا تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
سوال ۔۔۔کسی عذر کی وجہ سے امام کے بعد رکوع یا سجدہ کرنے کا کیا حکم ہے
جواب ۔۔۔واضح رہے کہ امام کی اتباع / اقتدا کی تین صورتیں ہوا کرتی ہیں:۔
پہلی صورت یہ ہے کہ مقتدی کا ہر ایک فعل امام کے بالکل ساتھ ساتھ اور برابر برابر ہی واقع ہو۔
دوسری صورت یہ ہے کہ مقتدی کا فعل امام سے کچھ دیر بعد اس طور پر واقع ہو کہ امام کے اس فعل سے فارغ ہونے سے پہلے پہلے ہی مقتدی امام کو اس فعل کے دوران ہی پالے۔
تیسری صورت یہ ہے کہ امام کے اس فعل سے فارغ ہونے کے بعد مقتدی اس فعل میں امام کی اقتدا کرے۔یہ تینوں صورتیں اقتدا / اتباع میں داخل ہیں۔لہٰذا اگر کوئی معذور مقتدی عذر کی وجہ سے امام کے رکوع اور سجدے کے بعد رکوع اور سجدہ ادا کر لیتا ہے تو ایسی صورت میں مقتدی کی نماز درست ہوگی۔
سوال ۔۔۔کسی دینی شخصیت یا ہستی کا دن منانے اور اس دن جلوس ومجالس منعقد کرنے کا کیا حکم ہے
جواب ۔۔۔یہ اصولی بات یاد رکھیے کہ حضور اقدس ﷺ کی پیدائش کا دن منانا، کسی صحابی کی پیدائش، وفات یا شہادت کا دن منانا یا دن کی تخصیص کے ساتھ کسی صحابی کی شہادت کے دن ریلی اور جلوس نکالنا اور مجالس منعقد کرنا؛ حضور اقدس ﷺ، صحابہ کرام، تابعین وتبع تابعین اور ائمہ مجتہدین سے ثابت نہیں، یہ شریعت کا مزاج بھی نہیں، اس لیے یہ اہل السنۃ والجماعۃ کا مسلک بھی نہیں، سو ایسی تمام باتوں سے مکمل اجتناب کرنا ہی شریعت وسنت اور مسلکِ اہل السنۃ کا تقاضا ہے۔
سوال ۔۔۔ہیک شدہ موبائل نمبر کے ذریعے فراڈ کرکے رقم وصول کرنے کا ضمان اصل مالک پر ہونے کا مسئلہ اور اس کی ذمہ داری کس کی ہوگی ۔آجکل موبائل نمبر ہیک کرکے دوسروں سے رقم طلب کرنے کا فراڈ عام ہو رہا ہے، اس حوالے سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ جس شخص کے نمبر کو ہیک کرکے دوسروں سے رقم لی گئی ہے کیا وہ اس رقم کا ضامن ہوگا؟
جواب ۔۔۔مذکورہ صورت میں رقم مذکورہ شخص نے نہ خود وصول کی ہے، اور نہ ہی اس فراڈ کی اجازت دی ہے، اور نہ ہی اس دھوکہ دہی میں کسی قسم کا تعاون یا شرکت کی ہے، بلکہ کسی دھوکہ باز شخص نے فراڈ اور غلط بیانی کے ذریعے مذکورہ شخص کے نمبر اور نام کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں سے رقم حاصل کی، لہٰذا شرعًا ان رقوم کی ذمہ داری اسی دھوکہ دہی کے مرتکب شخص پر عائد ہوگی، مذکورہ شخص چونکہ اس معاملے میں بے خبر اور غیر شریک رہا ہے، اس لیے اس پر مذکورہ رقوم کی ادائیگی لازم نہیں، اور نہ ہی اس کے ذمہ ان رقوم کا کوئی مالی تعاون ثابت ہوتا ہے۔
سوال ۔۔۔حائضہ خاتون کا دینی مجالس یا پروگرامات وغیرہ میں شرکت کے لیے مسجد جانے کا حکم؟
جواب۔۔۔واضح رہے کہ حیض ونفاس کی حالت میں خواتین کا مسجد کی شرعی حدود میں داخل ہونا جائز نہیں، اس لیے مسجد کی شرعی حدود میں داخل ہوکر
اس منعقد کسی بیان یا تقریب وغیرہ میں شرکت بھی جائز نہیں۔
سوال ۔۔۔عقیقہ کے گوشت کےاستعمال کا طریقہ نیزعقیقہ کےجانور کےگوشت کا استعمال کس طرح کیا جاسکتا ہے؟
جواب۔۔۔عقیقہ کے گوشت کا حکم بھی قربانی کے گوشت کی طرح ہے، یعنی عقیقہ کا گوشت سارا خود بھی کھاسکتے ہیں اور گھر والوں کو بھی کھلاسکتے ہیں اور دوسروں کو ہدیہ بھی دے سکتے ہیں، البتہ مستحب یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کی طرح اس کے بھی تین حصے کیے جائیں، ایک حصہ اپنے لیے رکھا جائے اور ایک حصہ عزیز و اقارب میں تقسیم کیا جائے اور ایک حصہ فقراء میں تقسیم کرنا مستحب ہے،اور اس گوشت سے دعوت کرنا بھی جائز ہے اور ایسی دعوت میں شریک ہونا بھی جائز ہے۔
سوال ۔۔۔عقیقہ کب کرنا سنت ہے؟ اگر تاخیر سے کیا جائے تو سنت ادا ہو جائے گی یا نفل ہو گا؟
جواب۔۔۔بچے کی پیدائش پر شکرانہ کے طور پر جو قربانی کی جاتی ہے اسے ’’عقیقہ‘‘ کہتے ہیں،عقیقہ کرنا سنت نہیں، بلکہ مستحب ہے، عقیقہ کا مستحب وقت یہ ہے کہ پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرے، اگر ساتویں دن عقیقہ نہ کرسکے تو چودھویں (14) دن ، ورنہ اکیسویں (۲۱) دن کرے، اس کے بعد عقیقہ کرنا مباح ہے،اگر کرلے تو ادا ہوجاتا ہے، تاہم جب بھی عقیقہ کرے بہتر یہ ہے کہ پیدائش کے دن کے حساب سے ساتویں دن کرے۔
سوال ۔۔۔کیا دادی نانی کا دودھ پی سکتے ہیں؟
جواب۔۔۔دادی یا نانی مدتِ رضاعت (دو سال کی عمر تک ) میں اپنے پوتے پوتی یا نواسے نواسیوں میں کسی کو دودھ پلادے تو یہ جائز ہے، البتہ اس سے حرمت رضاعت ثابت ہوجائے گی، وہ دادی یا نانی ان بچوں کی رضاعی ماں بھی بن جائے گی اور اس اعتبار سے پھر حرمت رضاعت کے احکامات ثابت ہوں گے۔
سوال ۔۔۔جن دو بچوں نے کسی عورت کا دودھ پیا ہو ان کا آپس میں نکاح کا حکم مثلاََ میرے بیٹے عادل کومیری بہن نے دودھ پلایا ، پھر میری بھتیجی کو پانچ سال بعد دودھ پلایا میری بہن نے، اب میرا بیٹا عادل 20 سال کا ہے ، اور میری بھتیجی 16 سال کی ہے، ان دونوں کا آپس میں رشتہ کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب۔۔۔صورت مسئولہ میں اگر سائل کے بیٹے اور بھتیجی نے مدت رضاعت یعنی ڈھائی سال کی عمر کے دوران سائل کی بہن کا دودھ پیا ہے تو ایسی صورت میں حرمت رضاعت ثابت ہو چکی ہے، اور وہ دونوں آپس میں رضاعی بہن بھائی ہیں لہذٰا ان کا آپس میں نکاح شرعاً جائز نہیں
سوال ۔۔۔کیا محرم میں نکاح کرنا جائز ہے ؟ صحابہ کرام کی عملی زندگی سے ثابت کیا جا سکتا ہے؟
جواب۔۔۔محرم الحرام کے مہینے میں نکاح کرنے میں کوئی قباحت نہیں،دیگر مہینوں کی طرح اس ماہ مبارک میں بھی نکاح کرنادرست اور جائزہے،بلکہ اس ماہ میں نکاح نہ کرنےکی رسم کو ختم کرنے کے لیے نکاح کرناموجب اجر ہوگا۔اگر اس ماہ مبارک میں شہادتوں کی وجہ سے اس کو غم اور سوگ کامہینہ قرار دے کر نکاح سے احتراز کیاجائے تو سال بھر میں کوئی مہینہ ایسانہیں جس میں کسی عظیم شخصیت کی شہادت کا واقعہ پیش نہ آیاہو،اور اس بنا پر تمام مہینوں میں نکاح سے احترازناممکن بات ہے۔اس لیے محرم الحرام میں بھی نکاح کرناعام مہینوں کی طرح جائزہے۔
ایک روایت کے مطابق حضرت علی اور
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کانکاح سن2ہجری ماہ محرم الحرام میں ہوا تھا،سیرۃ المصطفی میں مولانامحمدادریس کاندہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:”اسی سال(یعنی سن 2 ہجری میں ،اس میں اختلاف ہے کہ مہینہ کون سا تھا،ذوالحجہ ،محرم یاصفر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سب سے چھوٹی صاحبزادی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہاکی شادی حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے فرمائی”۔
سوال ۔۔۔محرم اور صفر کے مہینے میں شادی بیاہ کی تقاریب کرناکیا کسی مہینے میں شادی بیاہ کرنا منع ہے۔شہدائے کربلا کے سوگ کی وجہ سے محرم الحرام میں اور صفر المظفر کو منحوس و بے برکتی والامہینہ سمجھتے ہوئے صفر المظفر میں نکاح و شادی کی تقاریب نہ کرنا کیسا ہے؟
جواب۔۔۔محرم الحرام اور صفر المظفر کے مہینے میں شادی بیاہ کی تقاریب کرنا باقی مہینوں کی طرح بغیر کسی شک وشبہ کے جائز ہے، شرعا کوئی ممانعت نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی صفر المظفر کو منحوس و بے برکتی والا مہینہ سمجھتے ہوئے اس مہینے میں شادی بیاہ نہ کرے تو یہ بھی نا جائز و گناہ ہے کہ یہ بد شگونی ہے اور اسلام میں بد شگونی جائز نہیں، اور اس فعل کو جہالت کہا گیا ہے۔ نیز اس طرح کا اعتقاد رکھنا محض باطل ہے، جس کی کوئی اصل نہیں، بلکہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اس مہینے کو منحوس سمجھتے تھے، تو سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے اس کو منحوس جاننے سے منع فرمادیا، لہٰذا کسی بھی دن کو کسی بھی مہینے کو کسی بھی شخص کو کبھی منحوس نہ سمجھا جائے، بلکہ مسلمان کواللہ تبارک و تعالی پر بھروسہ کرتے ہوئے ہر نیک و جائز کام کرنا چاہیے۔
سوال ۔۔۔میت پہ کتنے دن تک سوگ کیا جا سکتا ہے شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے
جواب ۔۔۔جو عورت اللہ عزوجل اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اسے یہ حلال نہیں کہ کسی میت پر تین دنوں سے زیادہ سوگ کرے، مگر شوہر پر چار مہینے دس دن سوگ کرے۔
سوال ۔۔۔کیا شوال میں نکاح کیا جا سکتا ہے اس حوالے سے شریعت کیا کہتی ہے
جواب ۔۔۔شوال کے مہینے میں نکاح کرنا مستحب ہےاور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ سے شوال کے مہینے میں نکاح کیا اور پھر تین سال کے بعد شوال ہی کے مہینے میں مجھے رخصت کرا کر اپنے گھر لائے اب تم ہی بتاؤ رسول کریم ﷺ کی ازواج مطہرات میں کون سی زوجہ مطہرہ مجھ سے زیادہ خوش نصیب تھی ۔بعض جاہل لوگ شوال کے ماہ میں شادی بیاہ کرنے کو جو منحوس سمجھتے ہیں وہ بالکل غلط ہے بلکہ اس مہینہ میں شادی بیاہ کرنا یا دلہن کو رخصت کرا کر اپنے گھر لانا مستحب ہے۔ چناچہ عرب میں بھی زمانہ جاہلیت کے لوگ یہی عقیدہ رکھتے تھے اور شوال میں نکاح کرنے اور دلہن کو گھر میں لانے کو برا سمجھتے تھے۔ اسی غلط عقیدہ کی تردید میں حضرت عائشہ نے یہ بات فرمائی کہ اگر شوال کے مہینہ میں شادی بیاہ کرنا اپنے اندر کوئی نحوست رکھتا ہے تو پھر آخر میں شادی میرے حق میں منحوس کیوں نہیں رہی جب کہ شوال ہی میں میرا نکاح ہوا اور شوال ہی کے مہینہ میں رخصت کرا کر میں آپ ﷺ کے گھر آئی اور اس بات کو دنیا جانتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات میں جو خوش نصیبی اور آپ ﷺ کی محبت مجھے نصیب ہوئی وہ کسی بھی زوجہ کو حاصل نہیں ہوئی۔
مفتی خالد عمران خالد








