خدا کی نعمتیں بے شمار ہیں

اللہ وہی تو ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اُس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لیے طرح طرح کے پھل پیدا کیے۔ جس نے کشتی کو تمہارے لیے مسخّر کیا کہ سمندر میں اُس کے حکم سے چلے اور دریاوٴں کو تمہارے لیے مسخّر کیا۔جس نے سُورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخّر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارے لیے مسخّر کیا۔جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو کر نہیں سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے۔ یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم ؑ نے دُعا کی تھی کہ ’’پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بُت پرستی سے بچا ۔ پروردگار ، اِن بُتوں نے بہتوں کو گُمراہی میں ڈالاہے( ممکن ہے کہ میری اولاد کو بھی یہ گُمراہ کر دیں، لہٰذا اُن میں سے )جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو یقیناً تُو درگزر کرنے والامہربان ہے۔پروردگار، میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لابسایا ہے۔ پروردگار، یہ میں نے اِس لیے کیا ہےکہ لوگ یہاں نماز قائم کریں، لہٰذا تُو لوگوں کے دِلوں کو اِن کا مشتاق بنااور انہیں کھانے کو پھل دے ، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں پروردگار، تُو جانتا ہے جو کچھ ہم چھُپاتے ہیں اور جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں۔ اور واقعی اللہ سے کچھ بھی چھُپا ہوا نہیں ہے، نہ زمین میں نہ آسمانوں میں ۔’’شکر ہے اُس خدا کا جس نے مجھے اِس بڑھاپے میں اسماعیلؑ اور اسحاقؑ جیسے بیٹے دیے، حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دعا سنتا ہےا ے میرے پروردگار، مجھے نماز قائم کرنے والابنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں) پروردگار، میری دعا قبول کرپروردگار ، مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اُس دن معاف کر دیجیو جب کہ حساب قائم ہوگا۔
(سورۃابراہیم آیت نمبر 32 تا 41 تفہیم القرآن سید ابوالاعلی مودودی ؒ )

فتنوں کے دور میں ایمان کی حفاظت کیسے کریں

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” فتنوں کا دور جب آئے گا تو اس میں بیٹھنے والاکھڑا رہنے والے سے بہتر ہو گا ، کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والادوڑنے والے سے بہتر ہو گا جو اس میں جھانکے گا فتنہ بھی اسے اچک لے گا اور اس وقت جسے جہاں بھی پناہ مل جائے بس وہیں پناہ پکڑ لے تاکہ اپنے دین کو فتنوں سے بچا سکے ۔“ (صحیح بخاری)
امارت طلب کرنا!!!
جریر بن حازم نے کہا : ہمیں حسن بصری نے اور انہیں عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا :’’ عبدالرحمن ! امارت طلب نہ کرنا کیونکہ اگر تم کو طلب کرنے سے ( امارت ) ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے ( اس کی تمام تر ذمہ داریاں خود اٹھاؤ گے ، اللہ کی مدد شامل نہ ہو گی ) اور اگر تمہیں مانگے بغیر ملی
تو ( اللہ کی طرف سے ) تمہاری اعانت ہو گی ۔‘‘
(صحیح مسلم)
جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا!!!
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ منبر پر فرمایا جو شخص تھوڑے پر شکر نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر نہیں کرتا ، جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا ، اللہ کے انعامات و احسانات کو بیان کرنا شکر ہے ، چھوڑنا کفر ہے ، اجتماعیت رحمت ہے اور افتراق عذاب ہے ۔
( مسند احمد)