امیرالعظیم کہئے یا امیرالاعظم کہئے

جچتے ہیں یہ نام جس پر اسے شجر سایہ دار کہئے

خواجہ محمد شہباز عارف

16 فروری1996ءماہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ تھا،میں نے ہزار رنج و الم سہہ کر اپنے خوابوں کی سرزمین اسلامیہ جمہوریہ پاکستان پر قدم رکھا ۔سجدہ شکر اداکیا اپنے مرکزی دفتر پہنچا ۔بزرگوں اور جوانوں سے ملاقی ہوا۔ابھی چند ہی دن گزرے تھے کہ جماعت اسلامی کا ایک وفد مرکز پہنچا ۔ہمارے امیر محترم سید صلاح الدین صاحب کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے پوچھا کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات کیسے ہیں؟انہوں نے میری طرف اشارہ کرکے فرمایا یہ ہمارے ساتھی محمد عارف صاحب ہیں،چند دن پہلے اندر سے آئے ہیں۔یہ آپ کو کشمیر کی تازہ صورتحال سے آگاہ کریںگے۔چونکہ میں ان میں سے کسی کو نہیں جانتا تھا نہ وہ مجھے جانتے تھے لیکن وہ مجھ سےایسے بغلگیر ہوہوکر ملے جیسے کہ برسوں کی شناسائی ہو۔ان میں ایک خوبرو،چہرے پر مسکراہٹ لئے شخصیت نے بڑے ہی پیار سے میرے سر پر دست شفقت رکھ کر فرمایا کہ پہلے ہم سب اپنا تعارف کرائیں گےپھر محترم عارف سے تازہ اپ ڈیٹ لیںگے۔انہوں نےاپنا تعارف کرتے ہوئے فرمایا:میرا نام امیرالعظیم ہے ،جماعت اسلامی کا ادنیٰ ساخادم ہوں اور لاہور سے میرا تعلق ہے۔اس کے بعدسب نے اپنا اپنا مختصرتعارف کرایا،آخر پر میں نے اپنا تعارف کرایااور مقبوضہ جموں و کشمیر کے تازہ حالات بیان کئے۔پھر سوالات ہوئے جن کا جواب دینے کی بھر پور کوشش میں نے کی ۔دعا کے بعد مجلس پرخاست ہوئی۔

یہ میری پہلی ملاقات تھی جناب امیرالعظیم صاحب کے ساتھ!چونکہ یہ نام میرے لیے بالکل نیا تھا ،پھر ان کی شفقت ،ان کی رس گھولتی ہوئی گفتگو ان کے چہرے پر خوشی اور مسکراہٹ نے مجھے ان کا گرویدہ بنالیا۔پھر دوسری ملاقات ایک دو ماہ بعد بٹراسی کیمپ المعروف جنگل منگل کیمپ میں ہوئی۔یہاں میں امیر کیمپ کی ذمہ داری نبھا رہا تھا۔محترم امیر العظیم صاحب ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے تشریف لائے اور مہمان خانہ میں کافی دیر تک آر پار کےحالات پر گفت و شنید ہوئی۔چونکہ اکثر و بیشتر وفود آتے رہتے تھے ،مجاہدین کے ساتھ ملاقات کرتے تھے اور یہ سلسلہ جاری رہا۔چھ ماہ بعد تنظیم نے مجھے ایک کام کے سلسلے میں بنگلہ دیش روانہ کیا۔وہاں مجھے قانونی طور پر رہنے کے لیے کچھ چھوٹا موٹا کاروباری سلسلہ شروع کرنے کی ضرورت پیش آئی ۔میں نے اپنے امیر محترم سے مشورہ کیا۔انہوں نے مجھے امیرالعظیم صاحب سے رابطہ کرنے کا حکم دیا۔میں نے فوراََ موصوف سے رابطہ کیا اور انہوں نے بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہوئےمیری بھرپور رہنمائی فرمائی اور میں نے کہا امیرالعظیم صاحب نام کے ہی نہیں بلکہ کام کے امیر العظیم ہیں۔دوماہ بعد بنگلہ دیش سے واپس آکر مجھے شعبہ حزب میڈیامیں جناب مسعود صاحب کا معاون مقررکیاگیا۔تقریباََ ایک سال بعد مسعود صاحب میدان کارزارکی طرف چلے گئے اور مجھے اس شعبے کی مرکزی ذمہ داری سونپی گئی اور حزب المجاہدین کی اعلیٰ قیادت نے فیصلہ کیا کہ ہماری اپنی سالانہ ڈائری اور کیلنڈر وغیرہ چھپوانے کی ضرورت ہے ۔میڈیا میں میرے ساتھ محترم ڈار مسرورصاحب ،محمد شفیع صاحب اور محترم عمر ملک صاحب کام کرتے تھے۔ہم نے اجتماعی سعی کرکے پہلی بار ڈائری و کیلنڈر برائے سال 1997 تیار کئے اور ٹیبل کیلنڈر بھی تیار کیا۔اس کو چھپوانے کے لیے لاہور کا رخ کیا اور محترم امیر العظیم صاحب کی خدمت میں پہنچے ۔انہوں نے بڑی گرمجوشی کے ساتھ خوش آمدید کہا اور ڈائری و کیلنڈر کا پرنٹڈ مواد دیکھ کر بڑی خوشی کا اظہار کیا۔اس ڈائری میں ہر تاریخ کو شہید ہونے والے مجاہد کا نام درج کیا گیا تھا اور کشمیر کا مختصر تعارف بھی لکھا ہوا تھا۔ان کے Future vision سے ہماری چیزیں تیار ہوئیں اور اس دوران مجھے پروف ریڈنگ کے لیے کئی کئی دن ان کے پاس ٹھہرنا پڑا اور یہ سلسلہ کئی برسوں تک جاری رہا۔وہ مجھے اپنے گھر ساتھ لیتے تھے اور میں ان کے بچوںکے ساتھ ملاقات کرتا تھا جو تب بہت چھوٹے تھے۔وہ بھی میرے گھر تشریف لاتے تھے اور اس طرح دوستی اور تحریکی رشتہ مضبوط سے مضبوط ترہوتا گیا ۔ایک دن جناب حسن نثار صاحب کو ساتھ لیکر ہمارے گھر تشریف لائے ااور عشائیہ کے بعد کافی دیر تک آرپار کے حالات پر گفتگو ہوئی۔میں نے اپنی زندگی میں شاید ہی ایسی کوئی شخصیت تحریکی یا غیر تحریکی حلقوں میں دیکھی ہےجو امیرالعظیم ؒجیسی ہو۔ وہ جب بھی ملتے تھے گرمجوشی سے ملتے تھے۔میں ایک دن اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر اپنے بیٹے انجینئر محمد انصار اللہ کے پاس لاہورگیا۔میں نے امیر العظیم کو فون کیا ۔دعا و سلام کے بعد انہوں نے پوچھا آپ کہاں ہیں؟ میںنے کہاآپ کے شہر لاہور میں ہوں ۔فرمایا کہ ملاقات ہوسکتی ہے ؟میںنے کہا یہ تو میری دلی خواہش ہے ۔آپ مجھے وقت اور جگہ بتادیں میں حاضر ہوجائوں گا۔انہوںنے فرمایا کہ آپ کا بیٹا کس جگہ رہتاہے میں نے ایڈرس بتایا۔کوئی آدھا گھنٹہ گزر گیا کہ انہوں نے فون کیا عارف صاحب !میں آپ کے ایڈرس پر پہنچا ہوں ۔گیٹ سے باہر تشریف لائیں۔اللہ اکبر!میںچونک گیا باہر نکلا حیرت سے پوچھا !حضرت میںآپ کی خدمت میں حاضر ہونے کی تیاری کررہا تھا۔آپ یہاں تشریف لائے ۔فرمایا’’آپ میرے دوست اور مہمان ہیں ،آپ کو تکلیف کیسے دیتا۔‘‘میں نے ان کو چائے پلائی ۔میرے بیٹے کےساتھ انہوں نے خوب گفتگو کی اور یہ جان کر خوش ہوئے کہ میرے بیٹے نے مختلف ممالک سے ڈگریاں حاصل کی ہیں۔بہت ساری دعائیںدیں اور ہمیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔مجھ سے فرمایا ’’عارف صاحب ایک ٹی وی چینل کا ڈائریکٹر جو میرا اچھا دوست ہے ،مجھ سے کشمیر کے موجودہ حالات پر گفتگو کروانا چاہتا تھا۔آج جب آپ کا فون آیا میںنے اس کو کہا کہ آپ کا مسئلہ حل ہوگیا ۔مقبوضہ کشمیر کا ایک سینئرساتھی یہاں آیا ہے ۔اس کا انٹرویو کریں۔وہ حالات کی درست نشاندہی کریں گے۔فرمایا:عارف صاحب آپ اگر تیار ہیں تو میں ان سے وقت طے کروں گا۔میںنے عرض کیا ،محترم میں اپنے امیر سے پوچھ کر بتائوں گا کیونکہ مرکز کی اجازت کے بغیر کسی ٹی وی چینل پر انٹرویو دینا ٹھیک نہیںہے۔فرمایا کہ اچھا ! یہ تو اچھی بات ہوئی۔’’میںنے محترم پیر صاحب سے رابطے کی کوشش کی لیکن نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے وہ انٹر ویو نہیں ہوسکا۔

ان دنوں بھارت میں پارلیمانی انتخابات ہورہے تھے ،اس لیے میں نے بلا اجازت انٹرویو دینا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ نریندر مودی اور آرایس ایس کے حوالے سے سولاات ضرورہوتے تو میرا جواب کہیں پالیسی فیصلے کے برعکس ہوجاتا تو مسئلہ پیدا ہوتا۔‘‘بہرحال جناب امیر العظیم صاحب نےمسکراتے ہوئے فرمایا۔اچھا کوئی بات نہیں انٹرویو ہوتے رہیں گے البتہ امرواطاعت کی پاسداری زیادہ اہم ہے۔2001 کی بات ہے ۔میری اہلیہ مقبوضہ کشمیر سے واہگہ بارڑر سے پاکستان آرہی تھی ۔میں لاہور گیا منصورہ پہنچا ،وہاں امیر العظیم صاحب سے ملاقات ہوئی ۔پوچھاآج اچانک کیسے آگئے۔میں نے عرض کیا محترم !میری اہلیہ کشمیر سے آرہی ہے ان کو واہگہ جاکر رسیو کروں گا ۔فرمایا کس وقت کراس کریں گے۔میں نےکہا شام آٹھ بجے اس طرف پہنچیں گے۔میں نماز عصر کے بعد روانہ ہوجائوں گا ۔وہ مجھے مہمان خانے میں لے گئے ۔چائےپلائی پھر اپنے دفتر فیوچر وژن لے گئے۔نماز عصر کے بعد میں نےکہا حضرت ’مجھے اجازت دیجئے مجھے آٹھ بجےواہگہ پہنچنا ہے ۔فرمایا:عارف صاحب آپ اکیلے نہیں جائیں گے بلکہ ہم اکھٹے جائیں گے ۔دفتر کے کچھ کام نپٹا کر مجھے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور واہگہ بارڑر پر تقریباََ ایک گھنٹہ میرے ساتھ انتظارکیا ۔آٹھ بجے ٹرین پہنچی۔میںنے بیگم صاحبہ کو رسیو کیا ۔اس کے ساتھ کپوارہ کشمیر کے ایک بزرگ اپنی اہلیہ کے ہمراہ تھے۔وہ دونوں بھی ہمارے ساتھ بیٹھے ۔ان کا بیٹا راولپنڈی میں کینسر کے موذی مرض میں مبتلا تھا ۔محترم امیر العظیم صاحب نے ہم سب کو گاڑی میں بٹھا کر اپنے گھر پہنچایا ۔بہت اچھی خاطر تواضع کی ۔دوسرے دن ناشتہ کے بعد بس اڈے پہنچایا اور خود ہی چار ٹکٹیں خرید کر ہمیں ’’سکائی ویز ‘‘بس میں بٹھایا ۔میں نے باربار کہا حضرت آپ تکلیف نہ کریں میں خود ہی یہ کام کروں گالیکن وہ نہیںمانے ۔فرمایا کہ آپ میرے مہمان ہیں ،دوست ہیں اور میں میزبان ہوں۔یہ میرا فرض بنتاہے کہ آپ لوگوں کی خدمت کروں ۔جب گاڑی روانہ ہونے لگی توانہوں نے ہمیںالوداع کہا اور پھر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے ۔اسی طرح کے اور بھی بہت سارے واقعات ہیں جہاں میرے عظیم بھائی ،عظیم دوست ،امیرالعظیم ؒ نے میری مدد کی ،رہنمائی فرمائی اور آسانیاں پیدا کیں۔جب بھی پنڈی اسلام آباد تشریف لاتے تھے مجھے ضرور یاد کرتے تھے ۔جب بیمار ہوئے میں نے فون پر خیرت دریافت کی اور دعا دی ۔فرمایا :عارف صاحب!یہاں آنے کی زحمت نہیں اٹھانا ۔میں چند دنوں میں ٹھیک ہوجائوں گا اور اسلام آباد آکر آپ کو فون کروں گا۔وہاں ہی ملاقات کریں گے ۔بس اپنی دعائوں میںیاد رکھنا ۔اسکے بعد چند ہی دن گزرے کہ دلدوز خبر ملی ۔امیرالعظیم اپنے عظیم و کریم رب کے حضور پیش ہوگئے۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔اللہ ان کی کامل مغفرت فرمائے ،جنت الفردوس میںاعلیٰ مقام عطافرمائے اور لواحقین کو صبرجمیل عطافرمائے۔