ایک منفرد انسان، ایک محبوب قائد

امیر العظیم،ایک منفرد انسان، ایک محبوب قائد اور دلوں میں بس جانے والی شخصیت

شہبازبڈگامی

کچھ لوگ دنیا میں آتے ہیں، اپنی زندگی گزارتے ہیں اور خاموشی سے رخصت ہو جاتے ہیں، لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا وجود محض ایک فرد کا وجود نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک روایت کی علامت بن جاتے ہیں۔ وہ دنیا سے چلے بھی جائیں تو ان کی آواز، ان کا کردار، ان کی محبت، ان کی جدوجہد اور ان کی یاد لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ امیر العظیم بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھے۔ وہ واقعی عظیم تھے،ایسے عظیم جنہوں نے صرف ایک جماعت کی قیادت نہیں کی بلکہ اپنے اخلاق، کردار، تدبر، اخلاص اور انسان دوستی سے بے شمار دلوں کو فتح کیا اور ذہنوں میں اپنا ایسا نقش چھوڑکر گئے جسے وقت کی گرد بھی مٹا نہیں سکتی۔ایسے لوگ صدیوں بعد جنم لیتے ہیں۔ ان جیسی شخصیات کو کسی ایک جماعت، ایک شہر یا ایک مکتبہ فکر کی حدود میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی عظمت کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے، کیونکہ ان کے تعلقات عہدوں اور سیاسی وابستگیوں سے نہیں بلکہ انسانوں سے ہوتے ہیں۔ امیر العظیم بھی انہی لوگوں میں سے تھے جنہیں اپنے قریب رہنے والا اپنا سمجھتا تھا اور دور سے دیکھنے والابھی ان کے کردار کا معترف ہو جاتا تھا۔ان کی شخصیت کو اگر شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے اس شعر کے آئینے میں دیکھا جائے تو شاید اس سے بہتر ترجمانی ممکن نہ ہو:

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

امیر العظیم کی زندگی اسی شعر کی عملی تصویر دکھائی دیتی تھی۔ دوستوں، ساتھیوں، کارکنوں اور عام لوگوں کیلئے ان کا لہجہ نرم، انداز شائستہ اور دل محبت سے بھرا ہوا تھا۔ وہ کسی سے ملتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے برسوں سے شناسائی ہو۔ ان کے مزاج میں اپنائیت تھی، گفتگو میں خلوص تھا اور رویے میں ایسی شرافت تھی جو آج کے پراگندہ سیاسی ماحول میں کم کم دکھائی دیتی ہے۔ لیکن جب اصول، حق، نظریے،سچ اور حق کی بات آتی ہے تو یہی نرم مزاج انسان فولاد بن جاتا تھا۔ وہاں نہ مصلحت غالب آتی، نہ دباو انہیں جھکا سکتا تھا اور نہ مشکل حالات ان کے عزم کو متزلزل کر سکتے تھے۔واقعی امیر العظیم بریشم کی طرح نرم بھی تھے اور فولاد کی طرح مضبوط بھی۔ محبت میں نرم، اصول میں سخت؛ تعلق میں مخلص، نظریے میں ثابت قدم؛ بیماری میں صابر، ذمہ داری میں مستعد اور اختلاف میں بھی شائستہ۔یہی وجہ ہے کہ جماعت کا ہر کارکن آج ان کی یاد میں آنسو بہاتا ہے۔ کارکنوں کے ساتھ ان کا تعلق محض تنظیمی یا سیاسی نہیں تھا۔ وہ کارکن کو ایک نمبر، ایک ووٹ یا ایک ذمہ داری سمجھنے کے بجائے ایک انسان سمجھتے تھے۔ اس کے دکھ کو محسوس کرتے، اس کی بات سنتے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ قیادت کا تو یہی اصل کمال ہے کہ قائد اپنے کارکنوں کے دل میں جگہ بنائے، اور امیر العظیم نے یہ مقام کسی عہدے کے زور پر نہیں بلکہ اپنے کردار ، اپنی دلنیش گفتگو اور لازوال محبت کے ذریعے حاصل کیا تھا۔ان کی وفات کا دکھ صرف ان کی جماعت تک محدود نہیں رہا۔جس کی کامیابی کیلئے انہوں نے اپنے شب وروز صرف کئے۔بلکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی انہیں اپنے اپنے انداز میں یاد کیا اور اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ امیر العظیم کی شخصیت سیاسی وابستگیوں کی دیواروں سے بہت بلند تھی۔اختلافِ رائے اپنی جگہ، سیاسی نظریات اپنی جگہ، مگر کردار اور انسانیت کے معاملے میں ان کے مخالف بھی ان کے مقام کا اعتراف کرتے تھے۔ یہی کسی حقیقی سیاسی اور سماجی شخصیت کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ اختلاف رکھنے والے بھی اس کے کردار کی گواہی دیں۔مسلم لیگ ن کے دبنگ رہنما خواجہ سعد رفیق جناب امیر العظیم کو ان الفاظ میں یاد کرتے ہیں:’’جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل جناب امیر العظیم کے انتقال کی دلخراش خبر سن کر دل و دماغ غم سے بھر گئے ہیں‘‘۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔طلبا سیاست کے پر آشوب دور میں 1982 سے 1986 تک انکے ساتھ بطور قریبی حریف مقابلہ رہاجو دھائیوں پہلے قریبی دوستی اور بھائی چارے میں بدل گیا تھا۔وہ حلیم الطبع ، ملنسار ، مخلص ، با اخلاق اور خوشگوار شخصیت کے حامل گوھر ِ نایاب ، اپنی ذات میں اِک انجمن تھے۔طویل سیاسی جدوجہد کے دوران نہایت دلیری اور استقامت سے قید وبند کی صعوبتیں اور ریاستی تشدد سہا لیکن اف تک نہ کی ، وہ کبھی رکے نہ جھکے ، اسلامی و جمہوری اقدار کے فروغ کیلئے جہد مسلسل انکا شیوہ رہی،وہ نرم دم ِگفتگو اور گرم دم ِ جستجو کی عملی تصویر تھے۔انہوں نے کینسر کے موذی مرض کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور بیماری کے دوران بھی اپنا نظریاتی و سیاسی کام جاری رکھا ۔اللہ کریم انھیں اپنے جوار ِ رحمت میں جگہ دیں ، اپنے دیندار بندے کی کامل مغفرت فرمائیں اور انکے لواحقین کو صبر ِ عظیم سے نوازے۔امیر العظیم کی شخصیت کا ایک نہایت خوبصورت اور دل کو چھو لینے والا پہلو سکھ برادری کے ساتھ ان کا وہ تعلق بھی تھا،جس سے پرایوں کیساتھ ساتھ اپنے بھی لاعلم تھے۔وہ تھا کرتارپور دربار صاحب کے صحن کی کشادگی کیلئے زمین کی خریداری میں لاکھوں روپے فراہم کرنا،جو آج بھی انہی کے نام پر درج ہے۔یونہی سکھ برادری کے لوگوں نے ان کی جدائی کو اپنے لیے یتیمی سے تعبیر تو نہیں کیا۔ یہ الفاظ محض رسمی تعزیت نہیں بلکہ اس گہرے تعلق کا اظہار تھے جو امیر العظیم نے مذہب، مسلک اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر انسانوں کےساتھ قائم کیا تھا۔ انہوں نے اقلیتوں کو محض ایک سیاسی موضوع کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ انہیں اپنے معاشرے کا برابر کا حصہ سمجھا۔ ان کیلئے انسان پہلے انسان تھا، باقی شناختیں اس کے بعد آتی تھیں۔سکھ برادری کے جذبات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ امیر العظیم نے اپنے کردار سے محبت کے ایسے پل تعمیر کیے تھے جن پر چلنے کیلئے کسی مذہبی یا سیاسی شناخت کی ضرورت نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی جدائی کا غم ان لوگوں نے بھی محسوس کیا جن کا ان کی جماعت سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں تھا۔ کسی شخصیت کیلئے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے کہ مختلف مذاہب اور طبقات کے لوگ اسے اپنا سمجھ کر روئیں؟امیر العظیم کی شخصیت کو سمجھنے کیلئے جناب قاضی حسین احمد کےساتھ ان کے تعلق کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ قاضی حسین احمد جیسے عظیم قائد کا انہیں ’’اپنا بیٹا‘‘ کہہ کر پکارنا محض شفقت کا اظہار نہیں تھا، بلکہ اس اعتماد، محبت اور تربیتی رشتے کی علامت تھا جو دونوں کے درمیان قائم تھا۔ قاضی حسین احمد نے ان میں ایک ایسا شخص دیکھا جس پر اعتماد کیا جا سکتا تھا، جسے ذمہ داری سونپی جا سکتی تھی اور جو مشکل ترین حالات میں بھی نظریاتی استقامت کا مظاہرہ کر سکتا تھا۔امیر العظیم نے بھی اس اعتماد کی لاج رکھی۔ شدید اور جان لیوا بیماری کے باوجود گزشتہ چھ برسوں سے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل کی انتہائی اہم اور بھاری بھرکم ذمہ داری جس متانت، تحمل، تقویٰ اور استقامت کےساتھ انہوں نے نبھائی، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ بیماری انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے، جسمانی کمزوری قدم روک دیتی ہے اور زندگی کے معمولات بھی مشکل ہو جاتے ہیں، مگر امیر العظیم نے اپنی تکلیف کو اپنی ذمہ داری کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ انہوں نے اپنی بیماری کا بوجھ اپنے ساتھیوں پر ڈالنے کے بجائے اپنی ذمہ داری کا بوجھ خود اٹھائے رکھا۔چھ برس تک سیکرٹری جنرل جیسے منصب پر فائز رہنا اپنی جگہ ایک بڑا امتحان ہے، لیکن جان لیوا بیماری کےساتھ اس ذمہ داری کو نبھانا ایک غیر معمولی عزم کا تقاضا کرتا ہے۔ اجلاس، تنظیمی معاملات، کارکنوں سے روابط، سیاسی حالات کا جائزہ، جماعت کے فیصلے اور روزمرہ کی بے شمار مصروفیات۔یہ سب کچھ اس وقت انجام دینا جب جسم مسلسل بیماری سے نبرد آزما ہو، عام انسان کیلئے شاید ناقابلِ تصور ہو۔ مگر امیر العظیم کیلئے ذمہ داری صرف عہدے کا نام نہیں تھی؛ وہ اسے ایک امانت سمجھتے تھے۔ اسی لیے بیماری بھی ان کے عزم کو شکست نہ دے سکی۔ان کی متانت میں دکھائی دینے والی خاموش طاقت اور ان کے تقویٰ میں جھلکتی ہوئی عاجزی شاید ان کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو تھی۔ وہ شور بپاکرنے کے بجائے کام کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ اپنی خدمات کا چرچا کرنے کے بجائے ذمہ داری پوری کرنا ان کا شعار تھا۔ آج جب سیاست میں بلند آواز، تند و تیز زبان اور ذاتی تشہیر کو کامیابی کی علامت سمجھا جانے لگا ہے، ایسے میں امیر العظیم جیسی شخصیت یہ یاد دلاتی ہے کہ اصل قیادت بلند آواز ہونے کا نام نہیں، بلکہ بلند کردار کا نام ہے۔ان کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ شاید یہی تھا کہ انہوں نے لوگوں کو متاثر کرنے کیلئے مصنوعی انداز اختیار نہیں کیا۔ وہ جیسے تھے، ویسے ہی نظر آئے۔ ان کے اندر جو تھا، وہی ان کے الفاظ، رویوں اور فیصلوںمیں دکھائی دیتا تھا۔ اسی سچائی نے انہیں لوگوں کے دلوں میں جگہ دی۔آج جب جماعت اسلامی کا کارکن انہیں یاد کرتا ہے تو اس کی آنکھ نم ہو جاتی ہے۔ ساتھیوں کو ان کی گفتگو یاد آتی ہے، ان کا مسکرانا یاد آتا ہے، ان کا حوصلہ دینا یاد آتا ہے، ان کی شفقت یاد آتی ہے اور مشکل وقت میں ان کی مضبوط موجودگی یاد آتی ہے۔ سیاسی مخالفین انہیں اپنے انداز میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ وہ چلے گئے، مگر اپنے پیچھے ایک ایسا خلا چھوڑ گئے جسے پر کرنا آسان نہیں۔ ایسے لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ ان کی کمی صرف ایک جماعت کو محسوس نہیں ہوتی بلکہ وہ تمام لوگ انہیں یاد کرتے ہیں جنہوں نے کبھی ان کی محبت، شفقت، قیادت یا انسان دوستی کا لمس محسوس کیا۔بلاشبہ امیر العظیم واقعی عظیم تھے۔ عظمت صرف بڑے منصب، شہرت یا اختیار کا نام نہیں،عظمت یہ ہے کہ انسان اپنے بعد لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے۔ عظمت یہ ہے کہ اپنے بھی روئیں اور غیر بھی۔ عظمت یہ ہے کہ سیاسی مخالف بھی احترام سے نام لیں، مختلف مذہب رکھنے والے بھی جدائی کو یتیمی کہیں، اور کارکن اپنی زندگی کے ایک محبوب باب کے بند ہونے پر آنسو بہائیں۔

ایسے لوگ زمانے سے کہاں ڈھونڈ کر لائیں؟ایسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔وہ آتے ہیں، اپنے کردار سے ایک مثال قائم کرتے ہیں، لوگوں کے دل جیتتے ہیں اور پھر رخصت ہو کر بھی اپنے نقشِ قدم چھوڑ جاتے ہیں۔امیر العظیم بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔ایک عظیم قائد، ایک شفیق انسان، ایک بااصول رہنما اور ایک ایسی یاد جو مدتوں دلوں میں زندہ رہے گی۔ یہ سعادت بھی عظیم مفکر صاحب ِتفسیر سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے شاگرد کے حصے میں آئی ہے۔

واقعی وہ عظیم تھے، جو ہر مکتبہ فکر کو رلا گئے۔