وہ نادر روزگار

ہارون الرشید

خواہش اور دعا یہ ہے کہ پروردگار امیر العظیم کو اپنے خاص بندوں میں شامل فرما لے۔اقبال نے کہا تھا ۔
ہو اگر خود گر و خود نگر تو خود گیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے
پانی میں ڈوبے لاہور میں اس طرح خلق نے انہیں رخصت کیا۔ہے کہ بائید و شاید منصورہ کی وسیع و عریض مسجد دل زدوں سے بھر چکی تو صفیں باہر بھی بنائی گئیں۔

بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے
پرسوں شب تیسرے پہر پروفیسر ضرار کا پیغام پہنچا: امیر العظیم چلے گئے۔خبر ایسی تھی کہ یقین ہی نہ آیا۔لیکن پھر ملال اترا اور یاد آگیا کہ موت کا سیاہ ہاتھ جب حرکت میں آتا ہے تو پہاڑ بھی بکھر جاتے ہیں ۔وہ تو گداز قلب کا ایک آدمی ہی تھا۔ ہمیشہ ہنستا مسکراتا، جی دار سلیقہ مند آدمی۔ ایسا کہ جہاں کہیں بھی ہو۔ جس وقت بھی ، ماحول میں ان کی باتیں خوشبو کی طرح پھیلتی رہتی۔ ان نادر انسانوں میں سے ایک جن کا خاندان فقط بہن بھائی فرزند اور بیٹیاں ہی نہیں ہوتیں ۔ صرف وہی ان کے پسماندگان نہیں ہوتے۔ ایسا آدمی جس کاکوئی بدل نہیں ہوتا ۔ ہزاروں اور لاکھوں لوگ جسے روتے ہیں۔ ایسی ہی ایک شخص پر مولاناظفر علی خاں نے کہا تھا: آج بھی گریہ نہیں کرنا ہے تو یہ توفیق اللہ نے آدمی کو بخشی ہی کیوں تھی۔بعض اوصاف مرنے والے کے ایسے تھے کہ کبھی کسی اور میں نہ دیکھے۔ شاعر نے کہا تھا:
وہ اعتبار ہے مجھ کو سرشت انساں پر
کسی بھی شہر میں جاؤں غریب شہر نہیں
اپنائیت کاا ایسا پیکر ۔ کوئی بھی شخص، اللہ کا کوئی بھی بندہ اس کے لئے اجنبی نہ تھا۔۔نظر اٹھا کر دیکھتے اور آنکھیں چمک اٹھتیں۔ پھر وہ ان کا ہو جاتا۔ وہ اس کے ہو جاتے۔ ملک بھر کے کتنے ہی شہروں میں ہزاروں لوگ یہ سمجھتے تھے کہ وہ اس کے خاص دوست ہیں۔اس کی ہم دم اور ہم ساز ہیں۔
شاعر نے شکوہ کیا تھا:
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
وہ ہر ایک کے چارہ ساز اور غم گسار تھے۔ کوئی ذات پات ، کوئی قوم قبیلہ ، کوئی خاص مکتب فکر نہ جماعت، وہ سبھی کے تھے۔ لگ بھگ29 برس ہوتے ہیں نواز شریف نے روزنامہ جنگ کے دفاتر پہ پولیس چڑھا دی کہ کاغذ پرنٹنگ پریس تک پہنچ نہ سکے ۔ مرحوم سے میر شکیل الرحمان نے کہا: چار صفحات چھاپ دیجیے۔ ” چار کیوں پورے بارہ صفحات ” اس نے کہا اور شب بھر اس کے لئے جاگتے رہے۔نجم سیٹھی کے گرد اسی شریف نے گھیرا تنگ کیا۔ وہ قاضی حسین احمد مرحوم کے پاس پہنچے۔ ایسے میں ہمیشہ اسی آدمی کو یاد کیا جاتا۔خوش دلی سے وہ ہنستا اور خوشی سے فرض نبھاتا۔ زندگی اس کے لئے الفاظ نہیں عمل میں تھی۔
ممتاز،اخبار نویس عدنان عادل کرونا میں اس شدت سے مبتلا ہوئے کہ پھیپھڑے مجروح ہو گئے ۔انہی کو فون کیا۔اول انہوں نے برادر خورد کو ذمہ داری سونپی۔کچھ دیر میں خیال آیا کہ معاملہ معمول کا نہیں چنانچہ ایک مشہور Chest specialist کو فون کیا۔ وہ سرتاپا مصروف ۔۔مگر امیر العظیم کی بات کون ٹال سکتا تھا۔ انہی دنوں خاکسار بھی کرونا میں مبتلا ہوا۔۔ رات دس بجے نشر ہونے والا پروگرام میری ذمہ داری تھی۔ یہ ناچیز اور ایک خاتون میزبان۔موضوعات کے درمیان ربط قائم کرنے میں،اپنا ثانی نہ رکھتی تھی ۔عدنان عادل بر وقت نوٹس لکھا دیتے۔ ،کچھ ترتیب۔ کسی شعر ، کسی حکایت کسی تشبیہ کا اضافہ۔ میرے لئے تو یہ تعطیل ہو گئی
ٹالسٹائی نے کہا تھا : لکھنے والاوہ ہے کہ جو اس پر بیتے، ایسےموزوں الفاظ میں کہہ ڈالے کہ پورا تاثر قاری تک من وعن منتقل ہوجائے۔ ذہن مگر مباحثے میں جاگتا ہے۔ سب بھولا بسرا یاد آنے لگتا ہے۔ ٹیلی فون پہ بھی کوئی ٹی وی پروگرام ہوا کرتا ہے؟ رحمت کردگار سب کچھ بھی ممکن ہے۔
ان دنوں امیر العظیم سے بات ہوتی تو حوصلہ افزائی کرتے ۔ دوسرے سیاسی لیڈروں کے برعکس کبھی کوئی فرمائش نہ کی۔۔ تیس چالیس برس میں صرف ایک بار کوئی عنوان تجویز کیا۔ بات ہوئی تو ایسی معصومیت سے جو بچوں کا شیوہ ہے یہ۔کہا: کالم تو ٹھیک مگر تمہید کی ضرورت کیا تھی؟ ایسا آدمی ہی یہ بات کہہ سکتا ہے جس کا باطن ریا سے پاک ہو۔عمر فاروق اعظم ؓکے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان کا باطن ان کے ظاہر سے زیادہ اجلا ہے۔ سب اہل بیت اور سب اصحاب رسول ا یسے ہی تھے۔تن من کے اجلے۔ امیر العظیم مسلمان تھے۔ ہر ایک کے خیر خواہ۔۔۔۔ سرکار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے کہ آنکھیں بھر آئیں۔ فدا کاروں کی زبانیں گنگ ، چہروں پہ سناٹا۔” کیا کوئی گستاخی سرزد ہو گئی” ۔۔۔فرمایا: میں نے انہیں یاد کیا جو بعد میں آئیں گے مگر مجھ سے اتنی محبت کریں گے جتنی تم کرتے ہو، حالانکہ مجھے دیکھا نہ ہو گا۔ خواہش اور دعایہ ہے کہ امیر العظیم کو پروردگار اپنے انہی خاص بندوں میں شامل فرما لے۔