چیف ایڈیٹر کے قلم سے
اسلام آباد میں منعقد ہونے والے امریکہ۔ایران مذاکرات کا پہلا دور بغیر کسی نتیجے کے ختم اور دوسرا دور شروع ہوتے ہوتے تادم تحریر نہ ہونا محض ایک سفارتی ناکامی نہیں بلکہ عالمی سیاست میں ایک خطرناک موڑ کی نشاندہی بھی ہے۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب مشرقِ وسطیٰ ایک شدید بحران سے گزر رہا ہے اور عالمی امن ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ توقع کی جارہی تھی کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں، اور دوست ممالک کے تعاون سے پیدا ہونے والی جنگ بندی، کسی مستقل امن معاہدے کی بنیاد بنے گی، مگر یہ امیدیں پوری نہ ہو سکیں۔ابتدائی طور پر پندرہ روزہ جنگ بندی نے ایک مثبت فضا قائم کی۔ اس پیش رفت نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو وقتی طور پر کم کیا بلکہ پاکستان کے کردار کو بھی عالمی سطح پر نمایاں کیا۔ تاہم، مذاکرات کے دوران امریکی رویہ ایک سنجیدہ سفارتی عمل کے بجائے جلد بازی اور دباؤ کی پالیسی کا عکاس دکھائی دیا۔ مبصرین کے مطابق دونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی پالیسی میں تحمل اور تدبر کی واضح کمی نظر آئی، جس کے باعث مذاکرات جلد ہی تعطل کا شکار ہوگئے۔ایرانی مؤقف کے مطابق امریکہ مذاکرات کو ایک سنجیدہ امن عمل کے بجائے اپنے اسٹریٹجک مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنانا چاہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو امریکہ نے نہ صرف مذاکراتی عمل ترک کیا بلکہ ایران کے خلاف سخت اقدامات، خصوصاً آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی بھی کردی۔یہ ناکہ بندی عالمی سطح پر شدید ردعمل کا باعث بن رہی ہے۔ امریکہ کے قریبی اتحادی بھی اس معاملے میں اس کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آئے۔ نیٹو ممالک، جن میں برطانیہ اور فرانس شامل ہیں، نے واضح طور پر اس اقدام سے لاتعلقی اختیار کی۔ Emmanuel Macron اور Keir Starmerدونوں نے نہ صرف اس پالیسی کی مخالفت کی بلکہ اس کے متبادل کے طور پر سفارتی حل پر زور دیا۔اسی طرح China نے بھی آبنائے ہرمز کی بندش کو عالمی معیشت اور بین الاقوامی تجارت کے لیے خطرناک قرار دیا اور تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔ یہ صورتحال واضح طور پر اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکہ کی یکطرفہ پالیسیاں اسے عالمی سطح پر تنہا کر رہی ہیں۔دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کی بندرگاہوں یا بحری حدود کو خطرہ لاحق ہوا تو پورے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔ اس تناظر میں مشرق وسطیٰ ایک بار پھر ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا نظر آتا ہے۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ امریکہ کے اندر بھی اس پالیسی کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد جنگی پالیسیوں سے نالاں ہو کر سڑکوں پر نکل آئی ہے۔ یہ داخلی دباؤ مستقبل میں امریکی خارجہ پالیسی پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا دنیا ایک بار پھر بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟ اگر امریکہ اپنی جارحانہ پالیسیوں پر قائم رہتا ہے اور سفارت کاری کو نظر انداز کرتا ہے تو یہ خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے اور مذاکرات کو فروغ دے۔پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنی سفارتی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کرے۔ اسلام آباد مذاکرات اگرچہ فوری طور پر کامیاب نہ ہوسکے، لیکن انہوں نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے ایک اہم ثالث کا کردار ادا کرسکتا ہے۔آخرکار، یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ طاقت کے ذریعے مسائل کا حل ممکن نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں تباہی لاتی ہیں جبکہ پائیدار امن صرف مکالمے اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اگر Donald Trump کی قیادت میں امریکہ اسی طرزعمل کو جاری رکھتا ہے تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا ایک طویل عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر سفارت کاری کو موقع دیا جائے تو اب بھی بہت کچھ سنبھالا جا سکتا ہے۔عالمی برادری خصوصاً ابھرتی ہوئی طاقتوں کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ ایک متوازن اور منصفانہ عالمی نظام کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔ چائنا، یورپی ممالک اور علاقائی طاقتیں اگر مشترکہ حکمت عملی اپنائیں تو نہ صرف موجودہ بحران کو ٹالا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے تنازعات کی روک تھام بھی ممکن ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دنیا اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ فیصلے اگر دانشمندی، تحمل اور دوراندیشی سے کئے گئے تو امن کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، بصورت دیگر تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا سکتی ہےاور اس بار اس کی قیمت کہیں زیادہ بھاری ہوگی۔






