امیر العظیم بھائی بھی داغ مفارقت دے گئے

محمد شاہد شیخ

اسلام کے داعی، جماعت اسلامی کے سپاہی، طلبہ کی جمہوری تحریک کے عظیم قائد امیرالعظیم بھی رب کے حضور پیش ہوگئے ہیں۔ وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔ یہ ایسا ظالم مرض ہے کہ انسان کو ہلکان کیے رکھتا ہے جس میں
زندگی بھی مشکل ہے، موت بھی آسان نہیں
میں جیوں گا، مروں گا اس کا بھی امکا ں نہیں

اس غیر یقینی صورتِ حال میں امیرالعظیم استقامت کا نمونہ بنے ہر غم دل میں چھپاتے رہے، دوستوں کو حوصلہ دیتے اور مسکراتے رہے۔ لیکن زندگی کا وقت معین ہے، یہ موت کی امانت ہے۔ اگرچہ موت کا مزا ہر ذی نفس کو چکھنا ہے لیکن بعض اموات ایسی ہوتی ہیں جو دوسروں کی زندگی اداس کردیتی ہیں۔ امیرالعظیم بھی ہزاروں نہیں لاکھوں کو اداس کرگئے ہیں۔چند دن پہلے ہی میں اور ڈاکٹر شاہد رفیق، عظیم بھائی کی عظمت کا تذکرہ کررہے تھے، وہ دن یاد آرہے تھے جب عظیم بھائی اپنے دو ساتھیوں طیب شاہین اور ضیاء الدین انصاری کے ساتھ کوٹ لکھپت جیل میں اسیر تھے، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے اراکین کی اکثریت نے انہیں اکتوبر1986ء میں آئندہ سیشن کے لیے ناظم اعلیٰ منتخب کرلیا تھا۔ مسئلہ درپیش تھا کہ ان سے حلفِ نظامت اور بقیہ تنظیمی امور کے لیے مشاورت کیسے کی جائے؟ جمعیت نے اپنا اثر رسوخ استعمال کیا اور جیل میں ہی مرکزی شوریٰ کا اجلاس و تقریبِ حلف برداری کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایک مشکل مرحلہ تھا لیکن ناممکن نہیں تھا۔ حکومت اور جیل انتظامیہ کو علم تھا کہ یہ جرم ِ بے گناہی میں قید ہیںُ لہٰذا سپرنٹنڈنٹ کے کمرے کے اوپر خصوصی ملاقاتی روم میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اراکین پہنچ گئے۔ مجھ سمیت اس یادگار اجلاس میں محترم راشد نسیم بھائی جو نظامتِ اعلیٰ کے منصب سے فارغ ہوئے تھے، محترم سراج الحق صاحب، ڈاکٹر شاہد رفیق، سید شاہد ہاشمی، ڈاکٹر معراج الہدیٰ، ریحان الحسن، ڈاکٹر شہاب الدین غازی، بحر اللہ، ڈاکٹر فخرالاسلام، سید محمد عباس، ملک یعقوب اعوان، حافظ تنویر، محمود شاہ، جہانگیر خان، نذر حسین سنپال، اظہر اقبال حسن، عارف بلوچ، و دیگر شریک تھے۔ نومنتخب ناظمِ اعلیٰ کی حلف برداری کے بعد عظیم بھائی نے ہم اراکینِ شوریٰ سے فرداً فرداً ملاقاتیں کیں۔ مشاورت کے بعد سید محمد عباس (ناظم جمعیت کراچی) کو معتمد عام مقرر کیا گیا، جبکہ فارغ ہونے والے ناظم اعلیٰ راشد نسیم کو قائم مقام ناظم اعلیٰ مقرر کیا گیا جس کے بعد قیادت کے جیل میں ہونے کے باوجود جمعیت کا تنظیمی و دعوتی کام و سرگرمیاں جاری رہیں۔امیرالعظیم معمولی آدمی نہیں تھے، وہ مزاحمت کا استعارہ، استقامت کا پیکر، جمہوری مزاج کے حامل، دردِ دل رکھنے والے ملنسار انسان تھے۔ جماعت اسلامی میں صائب الرائے لوگوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ وہ محترم قاضی حسین احمد ؒسے لے کر محترم سید منور حسنؒ اور محترم سراج الحق سے لے کر محترم حافظ نعیم الرحمٰن تک سب کی خصوصی مشاورتوں میں رہے۔ تنظیمی امور سے لے کر سیاسی معاملات تک حکمتِ عملی ترتیب دینے میں ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی تھی۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل (قیم) کی ذمہ داری نہایت عمدگی سے نبھا رہے تھے۔ جب تک بستر سے نہیں لگ گئے، اپنے عہدے پر قائم رہے۔

امیر العظیم 3 اکتوبر1958ء کو کرشن نگر (اسلام پورہ) لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین1947ء میں ہجرت کرکے پاکستان آئے۔ ان کی والدہ جماعت اسلامی سے وابستہ ہوگئیں، جس کا اثر امیرالعظیم پر بھی پڑا۔ وہ بچپن ہی سے تحریک کی طرف مائل ہوئے۔ پڑھنے لکھنے کا شعور آیا تو اردو ڈائجسٹ سے لے کر سید مودودیؒ کا لٹریچر… سب پڑھ ڈالا۔ قرآن و حدیث سے تعلق مضبوط کیا۔ ایم بی اے کے ساتھ ایم اے اسلامیات بھی کیا اور 1975ء میں جمعیت میں باقاعدہ شامل ہوئے۔ ناظمِ لاہور سے لے کر ناظم پنجاب تک ذمہ داریاں ادا کیں۔ 1982ء میں اسٹوڈنٹس یونین پنجاب یونیورسٹی کے صدر منتخب ہوگئے اور1986ء میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔عظیم بھائی کا دور بڑا معرکہ خیز تھا۔ جمعیت جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاکو للکارنے کی سزا بھگت رہی تھی، جنر ل ضیاء الحق جمعیت کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خائف تھے، اسی لیے انہوں نے 1984ء میں طلبہ انجمنوں و تنظیموں پر پابندی عائد کردی، پھر کوشش کی کہ پنجاب میں ایم ایس ایف کے ذریعے جمعیت کو کمزور کیا جائے۔ نوازشریف اقتدار کی دہلیز پر چڑھ چکے تھے، انہوں نے یہ کام بخوبی انجام دیا، جبکہ سندھ میں جنرلوں نے ایم کیو ایم کو جنم دے کر اُس سے یہ کام لیا، اور جمعیت کراچی سے لاہور اور فیصل آباد تک شہیدوں کے جنازے اٹھا رہی تھی۔ جمعیت کی قیادت جیلوں میں ٹھونس دی گئی، یہاں تک کہ امیرالعظیم کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کی زخمی حالت میں تصویر مجیب الرحمٰن شامی کے جریدے میں شائع ہوئی۔ لاہور میں صدر جنرل ضیاء الحق کی پریس کانفرنس تھی جن کا تاثر دھیمے و نرم لہجے میں بات کرنا مشہور تھا، انہیں توجہ دلاتے ہوئے جب میڈیا نے امیرالعظیم کی تصویر دکھائی تو وہ سخت لہجے میں بولے ’’امیرالعظیم ہوں یا امیرالعظم،کسی کے ساتھ رعایت نہیں ہوگی‘‘۔ پھر یہی کچھ ہوا، پشاور سے لے کر کراچی و حیدرآباد تک گرفتاریاں ہوئیں، کوڑوں کی سزا بھی سنائی گئی جس پر عمل نہیں ہوا، تاہم راقم سمیت سیکڑوں کارکنان جیلوں میں کئی کئی ماہ قید رہے اور ضمانتوں پر رہا ہوکر کئی سال تک عدالتوں کے چکر کاٹتے رہے۔

عظیم بھائی ملنسار اور دردِ دل رکھنے والے انسان تھے۔ جون 1990ء میں میری شادی ہوئی تو ہم لاہور گئے۔ ریلوے اسٹیشن سے منصورہ ہمیں محترم قاضی حسین احمد کی لینڈ کروزر میں لے جایا گیا جہاں چودھری صفدر مرحوم کے صاحب زادے نے حجلہ عروسی کی طرح ایک کمرے میں ہمارے ٹھہرنے کا اہتمام کیا۔ ان کے گھر عشائیہ بھی تھا۔ جبکہ امیرالعظیم بھائی نے بھی اپنے گھر پُرتکلف دعوت دی۔ امیرالعظیم بھائی جب حیدرآباد آتے، میرے غریب خانے کو بھی رونق بخشتے تھے، اور میری طبیعت و دکھ درد کو بھی سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جنرل پرویزمشرف کے دور میں لاہور میں ’شام کے بھٹیاں‘ کے مقام پر کُل پاکستان اجتماعِ اراکین ہوا تو عظیم بھائی حیدرآباد کے کیمپ آئے اور مجھے رات قیام و طعام کے لیے اپنے دولت کدے پر لے گئے۔ یہاں دوسرے مہمان پروفیسر آف جنرل سرجری ڈاکٹر عبداللہ متقی (کراچی) تھے۔ صبح لبرٹی پر انہوں نے لاہور کا روایتی ناشتہ کرایا۔ ان کی یہ محبت میں کبھی بھول نہیں سکوں گا۔

عظیم بھائی اپنے خاندان میں دوسرے نمبر پر تھے۔ ان کے بڑے بھائی نورالعظیم اور دو چھوٹے اشرف العظیم اور اسد العظیم ہیں، جبکہ انہوں نے بیوہ کے علاوہ ایک بیٹی اور چار بیٹے منیب العظیم، شہیرالعظیم، فصیح العظیم اور وجیہ العظیم کو بھی سوگوار چھوڑا ہے۔ وہ اشتہارات کے کاروبار سے بھی منسلک تھے۔ میڈیا مالکان سے لے کر عام صحافیوں تک روابط تھے۔ جیو کے سہیل وڑائچ کی شادی میں عظیم بھائی پیش پیش تھے، اور حسن نثار کی بیٹی کا نام ’محمدہ‘ رکھا۔ یہ کام انہوں نے بحیثیت سیکریٹری اطلاعات و نشریات کیا۔ تاہم جب سیکریٹری جنرل کی ذمہ داری آئی تو آخری سانس تک اپنی ذمہ داری سے وفا کرتے رہے۔ سرکلرز اور فون کے ذریعے ہر نظم سے رابطہ رکھا اور امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کی مکمل معاونت کی ۔

ہر چند زندگی کی قدریں بدل گئیں
اہلِ وفا سے اب بھی خالی نہیں زمانہ