آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال ۔۔۔حقوق کی تحریک یا کچھ اور
ابو ہادیہ
آزاد جموں و کشمیر اس وقت ایک نہایت حساس اور پیچیدہ سیاسی و انتظامی مراحل سے گزر رہا ہے، جہاں ۔۔عوامی حقوق۔۔ ـکے نام پر جاری تحریک نے مختلف شہروں میں احتجاج، دھرنوں اور عوامی مظاہروں کی صورت اختیار کر لی ہے۔ بالخصوص راولاکوٹ میں جاری پانچ جون سے دھرنا اس وقت پورے خطے میں سیاسی بحث کا مرکزی نقطہ بنا ہوا ہے۔ اس دوران بعض ناخوشگوار واقعات بھی رونما ہوئے ہیں، جو صورتحال کو مزید مکدر بنانے کا باعث بنے۔موجودہ صورتحال صرف ایک مقامی احتجاج تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ ایک وسیع تر سیاسی و سماجی بحث کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں ریاستی رٹ، عوامی مطالبات، معاشی مسائل اور سیاسی اعتماد جیسے بنیادی سوالات ایک ساتھ زیرِ بحث ہیں۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (اب کالعدم) کی جانب سے جاری عوامی حقوق کی تحریک بنیادی طور پر چند مسائل، مہنگائی، بجلی و آٹے کی قیمتوں، روزگار کے مواقع اور انتظامی شفافیت جیسے نکات پر مرکوز تھی اور ہے۔ ریاست پاکستان نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36مطالبات کو تسلیم کرکے ان پر عملدر آمد بھی کیا ہے۔ جس کا اکثر و بیشتر اظہار ریاست پاکستان کی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین ذرائع ابلاغ کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے کرچکے ہیں۔ البتہ موجودہ صورتحال جوں کی توں یا ڈیڈ لاک اس بات پر ہوا کہ عوامی ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر اسمبلی میں بارہ مہاجرین نشستیں ختم کرنے اور بقول پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئررہنما اور مذاکراتی کمیٹی کے رکن چوہدری قمر الزمان کائرہ نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویومیں اس بات کا خلاصہ اور انکشاف کیا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی نشستوں کیساتھ ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر سے آنے والے مہاجرین کا سٹیٹ سبجیکٹ بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ،جو حکومت آزاد جموں وکشمیر نے ایک طویل قانونی جدوجہد اور عمل کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کو فراہم کیا ہے،جو ان کے بچوں کیلئے ایک قانونی دستاویز ہے۔ جناب کائرہ کا یہ انکشاف ایک بم کی شکل میں پھٹا ہے۔البتہ کشمیری مہاجرین خاموش اور انہوں نے اپنے لب سی لیے ہیں۔ یہ خاموشی وقت کا تقاضا اور ناگزیر ضرورت بھی ہے۔

مقبوضہ جموں وکشمیر سے آنے والے لوگوں کی رشتہ داریاں آزاد کشمیر کے علاوہ پاکستان کے تقریباََ ہر شہر میں قائم ہوچکی ہیں۔آزاد کشمیر اور پاکستان میں بے شمار والدین نے مقبوضہ جموں و کشمیر سے آنے والے مہاجرین کیساتھ اپنی پڑھی لکھی بیٹیاں بہاں دی ہیں،اسے بڑے اخوت کے رشتے کی اور کیا عظیم مثال پیش کی جاسکتی ہے۔یوں مقبوضہ جموں وکشمیر سے آنے والے لوگ اہل پاکستان و آزاد کشمیر سے خونی رشتوں میں بندھ چکے ہیں۔ایسے میں قمر الزمان کائرہ کے انکشافات تکلیف دہ اور دلوں کو رنجیدہ کرنے والے ہیں اور یہ کسی صورت دور رس نتائج کے حامل نہیں ہوسکتے۔
آزاد جموں و کشمیر تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے۔جس پر ہر کشمیری کو مان ہے اور اہل آزاد کشمیر نے اپنے بازو ہمیشہ واء کیے ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر سے بھارتی مظالم اور ریاستی دہشت گردی سے متاثرہ افراد کو اسی بیس کیمپ نے اپنے سینے میں سمویا ہے۔کو ہالہ پل پار کرنے کی دیر ہوتی ہے تو ایک عجیب سی ٹھنڈی اور مانوس ہوا آپ کو خوش آمدید کہتی محسوس ہوتی ہے۔اس ہوا میں اپنائیت کی وہ خوشبو ہوتی ہے جو دل کو فوراً اپنے سحر میں لے لیتی ہے۔یوں لگتا ہے جیسے راستہ نہیں بلکہ کوئی پرانا رشتہ آپ کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھا رہا ہو۔ہر قدم کیساتھ دل میں محبت سے بھرپور احساسات جاگنے لگتے ہیں۔یہ ساری صورتحال کسی دوسرے گھر میں داخل ہونے کا وہ احساس اجاگر کرتی ہے جہاں سکون پہلے سے بسا ہوا ہو۔ہوا کے ہر جھونکے میں ہمدردی اور خلوص کی ایک ان کہی زبان سنائی دیتی ہے۔دل کے نہاں خانوں میں ایک ہلکی سی انگڑائی سی محسوس ہوتی ہے جو خوشی کا پیغام دیتی ہے۔یہ منظر انسان کو اپنے ماضی اور یادوں کے بہت قریب لے آتا ہے۔ہر چیز میں ایک مانوسیت اور اپنائیت کا رنگ گھلا ہوا محسوس ہوتا ہے۔یوں لگتا ہے جیسے فطرت خود مسکرا کر آپ کو اپنے اندر سمو لینے کو تیار ہو اور اس لمحے انسان واقعی اپنے ’’دوسرے گھر‘‘ میں داخل ہونے کی خوشی محسوس کرتا ہے۔اس رشتے کو کس کی نظر لگی ہے۔ یہ بڑا سوال ہے؟ جس کا جواب تلاش کرنا ہر صاحب فکر کی ذمہ داری ہے۔
البتہ اس بھرپور احساس کے باوجود مقبوضہ جموں وکشمیر سے آنے والے لٹے پٹے لوگوں کیلئے ان کے سٹیٹ سبجیکٹ کی منسوخی کا مطالبہ دل کو چھلنی کر دیتا ہے۔یہ سوچ ہی انسان کے اندر ایک گہرا درد جگا دیتی ہے۔جس سر زمین پر دونوں طرف کی کئی نسلیں پلیں ہوں، وہاں سے شناخت چھین لینے کا مطالبہ ایک کربناک درد ہے۔یہ مطالبہ محض ایک شناخت چھینے کی حد تک محدود نہیں رہتا بلکہ اہل کشمیر کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔دل میں ایک بے چینی سی بھر آتی ہے جو لفظوں میں شاید بیان نہ ہو سکے۔سٹیٹ سبجیکٹ کی منسوخی کا مطالبہ مقبوضہ جموں وکشمیر سے آئے لوگوں کے حساس دل کو مضطرب کر نے کا باعث ہے اور وہ لمبی آہیں بھرتے ہیں۔اپنی ہی سر زمین پر اجنبیت کا احساس سب سے بڑا دکھ ہوتا ہے۔جو اندر ہی اندر کھائے جاتا ہے۔ہر باشعور انسان اس درد کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔یہ صرف سیاست نہیں بلکہ انسانی وقار کا بھی مسئلہ ہے۔لوگوں کی شناخت سے کھیلنا ان کے وجود پر ضرب لگانے کے مترادف ہے۔ایسے مطالبات وقت کیساتھ دلوں میں اور زیادہ فاصلے اور زخم پیدا کرتے ہیں۔تاریخ ایسے زخموں کو آسانی سے نہیں بھولتی۔سرزمین کشمیر کا سکون اس بے چینی کے سائے میں مزید اداس لگتا ہے۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں مظفر آباد سے ایک جانا پہنچانا نام انجم اعوان کا بھی ہے، جس کی مقبوضہ جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد کیساتھ شناسائی ہے۔ کیا برادر انجم اعوان بھی ہماری شناخت کی منسوخی کے ترازو میں اپنا وزن ڈالتے ہیں؟ دکھ اور افسوس کی با ت ہے۔کنٹرول لائن کی دوسری جانب کے لوگ یہ توقع نہیں کررہے تھے۔

تحریک آزادی کشمیر کے بطل حریت سید علی گیلانی کی سرینگر میں بھارتی فوجی بنکر کے سامنے کی گئی تقریر سے ایک اقتباس یہاں نقل کررہا ہوں ۔ جب ہوائیں چلتی ہیں تو ایک ساتھ چلتی ہیں،جب بارشیں برستی ہیں تو ایک ساتھ برستی ہیں۔ چاند کا مطلع ایک ساتھ کا مطلع ہے۔شدید بادو باراں کے باوجود سرینگر مظفر آباد سڑک کبھی بند نہیں ہوتی۔ ہمارا مذہب ایک، ثقافت ایک،روایت ایک،رہن سہن ایک ،کھانا پینا ایک اور ہم مضبوط رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں ۔ایسے میں سید علی گیلانی کہتے ہیں کہ پورا جموں و کشمیر پاکستان کا جزو لاینفک ہے۔ اہل آزاد کشمیر سے گزارش ہے کہ احتیاط برتیں ۔کہیں طاق میں بیٹھا دشمن ہمارے ان لازوال رشتوں کو نقصان اور کمزور نہ کرسکیں۔ جن کا ذکر سید علی گیلانی ایک بار نہیں بلکہ درجنوں مرتبہ کرچکے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مہاجرین آپ کے بنیادی حقوق کے قطعاََ خلاف نہیں ہیں۔دنیا بدل چکی ہے۔لوگوں کے سوچنے اور آگے بڑھنے پر پہرے نہیں بٹھائے جاسکتے۔اس پوری صورتحال میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ اگر آزاد کشمیر کے عوام بنیادی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس پر ہمدردانہ غور و فکر وقت کی ضرورت ہے۔ افہام و تفہیم سے ہی مسائل کو بہتر اندازمیں آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔اپنے لوگوں کوگلے لگانے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ ان کو سینے سے لگانے میں قد و کاٹ میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوگا اور آنے والے کل میں تاریخ دان یہ لکھنے پر مجبور ہوگا کہ ریاست نے اپنے لوگوں کو گود میں بیٹھا کر ماں ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

حکومت آزاد کشمیر کا موقف ہے کہ ریاستی ادارے عوامی مسائل سے مکمل طور پر غافل نہیں، تاہم ریاستی وسائل، آئینی حدود اور انتظامی ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر تمام مطالبات پورے کرنا ممکن نہیں۔ حکومتی نمائندے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ریاستی رٹ اور قانون کی عملداری کسی بھی صورت متاثر نہیں ہونی چاہیے۔حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذاکرات ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہیں، اور تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ پرامن اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے بات چیت کے ذریعے حل تلاش کریں۔
اس تمام تر صورتحال کے دوران ایک اور بحث بھی کھل کر سامنے آئی ہے، جس میں بعض حلقے آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال کا تقابل مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے ناجائز اور غاصبانہ قبضے کے خاتمے کیلئے تحریک آزادی سے کرتے ہیں،جس میں لاکھوں کشمیری اپنی جانوں سے گزر چکے ہیں، جہاں ہزاروں خواتین کی آبرو بھارتی درندے تار تار کرچکے ہیں،کھیت و کھیلان تباہ اور ہزاروں کشمیری بھارت کی دور دراز جیلوں میں زندگی کے ایام گزارتے ہیں۔ تاہم سیاسی تجزیہ کار اس بات پرمعترض ہیں کہ دونوں خطوں کا انتظامی ڈھانچہ، قانونی حیثیت اور سیاسی حالات یکسر مختلف ہیں، اس لیے براہِ راست موازنہ نہایت حساس اور پیچیدہ معاملہ ہے۔
اس پورے منظر نامے میں تحریک آزادی کشمیر کی ایک توانا ‘ مستند اور معتبر آواز سید صلاح الدین احمد ایک ویڈیو پیغام میں موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔اپنے ویڈیو پیغام میں جناب سید نے حکومت آزاد کشمیر اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی دونوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر تصادم کی راہ ترک کرکے مذاکرات اور مصالحت کو ترجیح دیں۔ کیونکہ باہمی اختلافات اور اندرونی تقسیم نہ صرف خطہ آزاد کشمیر کے استحکام کیلئے نقصان دہ ہے بلکہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی وسیع تر تحریکِ آزادی کے تناظر میں بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آزاد کشمیر کی وحدت اور استحکام ہی کشمیری عوام کی مجموعی جدوجہد کی طاقت اور منبع ہے، اور کسی بھی داخلی تصادم سے صرف مخالف قوتوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔سید صلاح الدین احمد کے مذکورہ ویڈیو بیان کو نہ صرف مقامی سطح بلکہ باہر کی دنیا میں بھی بڑے پیمانے پر سراہا جارہا ہے۔کیونکہ یہ بر وقت، حکمت و دانش سے بھرپور اور موزوں ہے۔ چونکہ و ہ خود بھی ایک بے مثال عوامی تحریک کی پیداوار ہیں،لہٰذا انہوں نے مسائل کے حل کیلئے جو تجاویز پیش کی ہیں،ان پر عملدر آمد ناگزیر ہے۔
مقبوضہ جموں وکشمیر میں بی جے پی کے زیر سایہ چند افراد آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر واویلا کرتے نظر آرہے ہیں ،جبکہ بعض یوٹیوبرز اور آن لائن کام کرنے والے آزاد کشمیر کی صورتحال کو اپنے اپنے انداز کے مطابق ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے معلوماتی ابہام اور سیاسی جذبات مزید بڑھ رہے ہیں۔یورپ میں بھی کچھ لوگ ریاست پاکستان کے اداروں کے خلاف زبان درازی کررہے ہیں،جو صحت مند روایت نہیں ہے۔ آپ آزاد کشمیر کے باسی ہیں ،ریاست کے بیٹے ہونے کے ناطے آپ کو ہر حال میں اس کی حفاظت اور بھرپور ادراک کرنا چاہیے کہ کہیں آپ کی ان غیر شعوری حرکتوں سے ریاست کی سالمیت اور وحدت کو ہی نقصان نہ پہنچے۔ لہٰذا بار گراں آپ کے ہی کندھوں پر عائد ہوگا۔
موجودہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ آزاد کشمیر ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں ایک طرف عوامی مطالبات ہیں اور دوسری طرف ریاستی ذمہ داریاں اور انتظامی حدود۔ اگر دونوں فریقین ایک دوسرے کو مخالف کے بجائے شراکت دار سمجھ کر آگے بڑھیں تو اس بحران کو پرامن طور پر حل کیا جا سکتا ہے۔جس میں ہر دو فریق فاتح ہوں گے۔ اس وقت سب سے اہم ضرورت فوری، سنجیدہ اور مسلسل مذاکرات کی ہے، تاکہ نہ صرف موجودہ کشیدگی کم ہو بلکہ مستقبل میں اس نوعیت کے بحرانوں سے بچنے کیلئے ایک مضبوط مکالمے کی بنیاد رکھی جا سکے۔کیونکہ کسی بھی خطے کی اصل طاقت اس کے اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد پر قائم ہوتی ہے اور یہی اعتماد موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ اہم اور نازک سوال بن چکا ہے۔







