اویس بلال
بروز جمعرات ماہِ اپریل 2026کی 30 تاریخ کو ایک ایسی خبر نے دلوں کو غمگین کر دیا کہ وادیٔ کشمیر کے معروف علاقے پٹن پلہالن کے ایک باہمت، باکردار اور بااخلاق فرزند حزب المجاھدین کے معروف مجاہد کمانڈر’’سجاد جماعتی ‘‘اس فانی دنیا کو خیر باد کہہ گئے۔انا للہ وانا اليہ راجعون۔

وہ ایک اسلامی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے ان گمنام مگر عظیم سپاہیوں میں شامل تھے جنہوں نے ظلم کے اندھیروں میں بھی حق کا چراغ جلائے رکھا۔جب تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا آغاز ہوا اور بھارتی افواج کے مظالم نے کشمیری عوام کی زندگی اجیرن بنا دی، اس وقت سجاد جماعتی جیسے بہادر جوانوں نے میدانِ عمل میں قدم رکھا۔ انہوں نے نہ صرف جرأت و استقامت کا مظاہرہ کیا بلکہ دشمنانِ دین کے سامنے ثابت قدمی کی ایسی مثال قائم کی کہ خود دشمن بھی ان کی حکمتِ عملی اور عزم کا اعتراف کرنے پر مجبور رہا۔مرحوم ایک عرصہ تک ہجرت کی زندگی گزارتے رہے۔ اپنے وطن، ماں باپ، بہن بھائیوں اور عزیز و اقارب سے دور رہنا کوئی آسان کام نہیں، مگر یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو کسی بڑے مقصد کے لیے اپنی ہر خوشی قربان کر دیتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں ہجرت کرنے والوں کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے کہ:’’جو لوگ اللہ کی راہ میں ہجرت کرتے ہیں، پھر قتل کر دیے جائیں یا وفات پا جائیں، اللہ انہیں بہترین رزق عطا فرمائے گا۔‘‘یہی وہ بشارت ہے جو ایسے لوگوں کے مقام کو بلند کرتی ہے۔موصوف ایک موذی بیماری میں مبتلا رہے، مگر صبر و رضا کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ شدید تکلیف کے باوجود ان کا اخلاق، ان کا نرم لہجہ اور لوگوں سے حسنِ سلوک ہمیشہ قائم رہا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں قرآن و سنت کے عملی پیکر تھے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔سجاد جماعتی سے جب بھی ملاقات ہوتی، وہ اپنی بیماری کے باوجود نہایت حوصلے اور مسکراہٹ کے ساتھ ملتے اور اپنے لیے صحت یابی کی دعا کی درخواست کرتے۔ ان کی ملنساری، اخلاص اور حوصلہ مندی ہر ملنے والے کے دل پر گہرا اثر چھوڑتی تھی۔ وہ ایک ایسے مجاہد تھے جنہوں نے زندگی کے آخری لمحات تک صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور ہر آزمائش کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔بالآخر وہ ایک موذی بیماری کے باعث اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر ان کی جدوجہد، قربانیاں، یادیں اور باتیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ ان کی زندگی ہمارے لیے صبر، استقامت اور مقصد سے وفاداری کی روشن مثال ہے۔یقیناً مرحوم کی یہ بیماری ان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنے گی۔وہ ایک ایسے مسافر تھے جنہوں نے اپنے وطن کی محبت میں سب کچھ چھوڑ دیا، اور ایک ایسی راہ اختیار کی جہاں واپسی کا امکان کم مگر اجر بے حساب ہوتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے خاص بندوں میں جگہ عطا فرمائے گا اور ان شاء اللہ وہ جنت کے بالاخانوں میں شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوں گے۔
وطن کی خاطر چھوڑا تھا ہر ایک اپنا سہارا
تنہا ہی چل پڑا تھا وہ بن کے حق کا ستارا
ماں کی دعا بھی ساتھ تھی، آنکھوں میں ایک خوا ب
ظلمت میں روشنی بنا، حق کا رہا جواب
رشتے سبھی قریب تھے، مگر تھی یہ مجبوری
دشمن کی نظر میں تھا، اس کی ہر ایک دوری
ہجرت کی راہ چن لی، صبر کو اوڑھ لیا
دکھ سہہ کے بھی اس نے، حوصلہ نہ چھوڑ دیا
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اور پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔








