سید علی گیلانیؒ۔۔۔ایک شخص ایک کارواں

ابو ہادیہ

سید علی گیلانیؒ محض ایک فرد، سیاسی رہنما یا حریت فکر کا نام نہیں بلکہ کشمیری عوام کی مزاحمت، حقِ خودارادیت اور بھارتی قبضے کے خلاف غیر متزلزل جدوجہد کی ایک پوری تاریخ کا نام ہے۔ یکم ستمبر 2021 کو حیدرپورہ سرینگر میں ان کے انتقال کو پانچ برس مکمل ہو رہے ہیں، لیکن ان کی شخصیت، نظریات، سیاسی جدوجہد اور قربانیوں کی بازگشت آج بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کے طول و عرض میں سنائی دیتی ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اپنے عوام کے حقِ خودارادیت کیلئے وقف کی اور آخری سانس تک اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے۔سید علی گیلانیؒ 29 ستمبر 1929 کو شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں پیدا ہوئے۔ بعدازاں ان کا خاندان سوپور منتقل ہوگیا۔ انہوں نے اورینٹل کالج لاہور سے ادیب عالم جبکہ کشمیر یونیورسٹی سے ادیب فاضل اور منشی فاضل کی اسناد حاصل کیں۔ 1949 میں بحیثیت استاد عملی زندگی کا آغاز کیا اور تقریباً بارہ برس تک مقبوضہ کشمیر کے مختلف تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ مذہبی اور دنیاوی تعلیم کے امتزاج نے ان کی شخصیت کو ایک منفرد فکری بنیاد فراہم کی، جس کا اثر ان کی پوری زندگی اور سیاسی جدوجہد میں نمایاں رہا۔

سید علی گیلانی کم عمری ہی سے جماعت اسلامی جموں و کشمیر سے وابستہ ہوگئے اور 1953 میں جماعت کے رکن بنے۔ انہوں نے مختلف تنظیمی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے قائم مقام امیر جماعت اسلامی تک کا منصب سنبھالا۔ ان کی سیاسی زندگی کا ایک بڑا حصہ بھارتی حکمرانوں کی جانب سے گرفتاریوں، قید و بند اور پابندیوں میں گزرا۔ وہ پہلی مرتبہ 28 اگست 1962 کو گرفتار ہوئے اور تیرہ ماہ بعد انہیں رہائی ملی۔ مجموعی طور پر انہوں نے اپنی زندگی کے چودہ برس سے زائد عرصہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں گزارا، جبکہ آخری ایام میں انہیں بارہ برسوں کے طویل عرصے تک اپنے گھر میں نظربند رکھا گیا۔وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی رہے اور 1972، 1977 اور 1987 میں حلقہ سوپور سے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔ تاہم 30 اگست 1989 کو انہوں نے اسمبلی کی رکنیت سے ہمیشہ کیلئے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے نزدیک مسئلہ کشمیر محض انتخابی سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ایک بنیادی قومی اور انسانی مسئلہ تھا، جس کا حل کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے اصول کے مطابق ہونا چاہیے۔

سید علی گیلانیؒ کا سیاسی مؤقف ہمیشہ واضح، دوٹوک اور غیر متزلزل رہا۔ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے پرزور حامی تھے اور ان کا مشہور نعرہ ’’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘‘ کشمیری عوام میں ایک معروف سیاسی نعرے کی حیثیت اختیار کر گیا۔ ان کے نزدیک مقبوضہ جموں و کشمیر کی مذہبی، تہذیبی، تاریخی، جغرافیائی اور معاشرتی وابستگیاں پاکستان کے ساتھ گہری تھیں۔ اسی مؤقف کی بنیاد پر انہوں نے بھارت کے زیرِ تسلط جموں و کشمیر کو ایک متنازعہ خطہ قرار دیتے ہوئے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کو اپنی زندگی کا بنیادی مقصد بنایا۔7 اگست 2004 کو انہوں نے اپنی سیاسی جماعت تحریک حریت جموں و کشمیر قائم کی اور اس کے پہلے سربراہ منتخب ہوئے۔ بعدازاں 19 مارچ 2018 کو انہوں نے اپنی زندگی ہی میں محمد اشرف خان صحرائی کو تحریک حریت کی قیادت سونپ دی۔ اس سے قبل وہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے تاحیات چیئرمین بھی رہے۔ تاہم 29 جون 2020 کو انہوں نے ناگزیر وجوہات کی بنا پر کل جماعتی حریت کانفرنس سے علیحدگی اختیار کرلی۔ ان کی سیاسی زندگی کا یہ سفر اس بات کا عکاس تھا کہ وہ تنظیمی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر اپنے بنیادی نظریے پر قائم رہے۔
سید علی گیلانیؒ صرف میدان سیاست کے شہکار نہیں تھے۔ وہ علم و ادب سے گہرا شغف رکھنے والی صاحبِ مطالعہ شخصیت تھے اور متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔ اپنی اسیری کے تجربات کو انہوں نے ’’رودادِ قفس‘‘ جیسی تصنیف میں محفوظ کیا۔ قرآن و حدیث، سیرت اور اسلامی فکر پر ان کی گفتگو میں گہری علمی بصیرت دکھائی دیتی تھی، جبکہ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال سے ان کی خصوصی عقیدت معروف تھی۔ وہ معروف عالمی اسلامی فورم رابطہ عالم اسلامی کے رکن بننے والے اولین کشمیری حریت رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ان کی زندگی کا بڑا حصہ بیماری، قید اور پابندیوں کے باوجود جدوجہد میں گزرا۔ انہیں مختلف جسمانی عوارض کا سامنا رہا، مگر بیماری اور بڑھتی عمر بھی ان کے عزم کو متزلزل نہ کرسکی۔ بھارتی حکومت نے انہیں طویل عرصے تک گھر میں نظربند رکھا، ان کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کیں اور انہیں بنیادی حقوق سے محرومی کا سامنا رہا۔ اس طویل قید کے دوران بھی ان کا سیاسی مؤقف تبدیل نہ ہوا۔ ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہی تھا کہ وہ سمجھوتے کے بجائے اپنے اصولوں پر قائم رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔
ان کی ثابت قدمی کا اعتراف ان کے سیاسی مخالفین بھی کرتے تھے۔ فاروق عبداللہ کا ایک بھارتی ٹی وی چینل کو دیا گیا بیان اس حوالے سے قابل ذکر ہے جس میں انہوں نے اختلافات کے باوجود اس امر کا اعتراف کیا کہ سید علی گیلانیؒ کے نظریات کو پیسے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ یہی استقلال ان کی سیاسی شخصیت کی سب سے بڑی پہچان تھا۔سید علی گیلانی کی جدوجہد کو عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل ہوئی۔ حکومت پاکستان نے 14 اگست 2020 کو انہیں ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ پاکستان سے نوازا۔ یہ اعزاز ان کی طویل سیاسی جدوجہد اور مسئلہ کشمیر پر ان کے نمایاں کردار کے ریاستی سطح پر اعتراف کی علامت سمجھا گیا۔

یکم ستمبر 2021 کوسید علی گیلانیؒ حیدرپورہ سرینگر میں اپنی رہائش گاہ پر انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال سے قبل طویل عرصے تک گھر میں نظر بندی نے ان کی صحت کو شدید متاثر کیا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد قابض بھارتی حکام کی جانب سے ان کی تدفین کے انتظامات اور اہل خانہ کے ساتھ سفاکانہ برتاؤ پر بھی شدید تنقید سامنے آئی۔ ان کے خاندان اور حامیوں کے مطابق ان کی خواہش تھی کہ انہیں مزارِ شہدا، سرینگر میں سپردِ خاک کیا جائے، تاہم ان کی میت کو بھارتی درندوں نے اپنی تحویل میں لے کر حیدرپورہ میں رات کی تاریکی میں تدفین کردی۔ یوں ایک ایسے رہنما کے آخری سفر پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں جس نے اپنی زندگی بھر کشمیری عوام کے سیاسی حقوق کیلئے جدوجہد کی تھی۔سید علی گیلانیؒ نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں بھارتی پالیسیوں، آبادیاتی تبدیلی اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے بارہا خبردار کیا تھا۔ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے اور اس کے بعد غیر ریاستی باشندوں کو ڈومیسائل فراہم کرنے کی پالیسیوں نے ان خدشات کو مزید نمایاں کردیا۔ ان کے نزدیک آبادی کے تناسب اور شناخت میں تبدیلی مسئلہ کشمیر کی بنیادی نوعیت کو متاثر کرنے کی کوشش تھی۔ان کی سیاسی جدوجہد کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ طاقت، جبر اور فوجی دباؤ کسی قوم کے سیاسی ارادے کو مستقل طور پر ختم نہیں کرسکتے۔ اسی لیے وہ گرفتاریوں، نظربندیوں، چھاپوں اور پابندیوں کے باوجود اپنے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ وہ اکثر بھارتی فوجیوں اور قابض حکام کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھاتے تھے کہ وہ ایک ایسی جمہوریت کے نام پر کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے کیوں محروم کر رہے ہیں جس کے دعوے عالمی سطح پر کئے جاتے ہیں۔تاریخ میں بعض شخصیات اپنے عہد سے آگے بڑھ کر آنے والی نسلوں کیلئے حوالہ بن جاتی ہیں۔ سید علی گیلانیؒ بھی ایسی ہی شخصیت تھے۔ ان کے ناقدین نے انہیں سخت گیر اور ان کے مؤقف کو غلط ٹھہرانے کی کوشش کی، مگر ان کے حامیوں کے نزدیک ان کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ انہوں نے اپنے سیاسی نظریے پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ قید، بیماری، نظربندی، سیاسی دباؤ اور جسمانی کمزوری بھی ان کے عزم کو شکست نہ دے سکی۔سید علی گیلانیؒ کا جسم آج ہمارے درمیان نہیں، لیکن ان کی سیاسی فکر، ان کے خطابات، ان کی تحریریں اور ان کی استقامت کشمیری سیاسی تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اپنے بنیادی مؤقف کو نہیں چھوڑا اور اس اعتبار سے وہ کشمیری مزاحمت کی تاریخ میں ایک نمایاں اور لازوال کردار کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔آج ان کے پانچویں یومِ شہادت پر انہیں یاد کرنے کا مطلب صرف ایک شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں بلکہ اس عہد کو یاد کرنا بھی ہے جس کیلئے انہوں نے اپنی پوری زندگی وقف کردی تھی۔ ان کی زندگی ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ کسی بھی تحریک میں نظریاتی استقامت، قربانی، علم اور اصول پسندی کس قدر اہم ہوتی ہے۔ سید علی گیلانیؒ ایک فرد سے بڑھ کر ایک فکر، ایک مشن اور ایک سیاسی عہد کا نام بن چکے ہیں۔بلاشبہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اپنی جدوجہد میں ان کے نظریات اور قربانیوں سے حوصلہ حاصل پاتے رہیں گے۔سید علی گیلانیؒ دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کی آواز، ان کا مشہور نعرہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے اور ان کی جدوجہد کی یاد آج بھی زندہ ہے۔ تاریخ ان شخصیات کو کبھی فراموش نہیں کرتی جو اپنی ذات سے اٹھ کر کسی بڑے مقصد کیلئے اپنی زندگی وقف کردیتی ہیں۔ سید علی گیلانی بھی انہی کرداروں میں شامل ہیں جن کا نام جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسے رہنما کے طور پر لکھا جائے گا جس نے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اپنے نظریے پر سمجھوتہ نہیں کیا اور یوں تاریخ میں امر ہوگئے۔