شہید اشرف صحرائیؒ

شہید محمد اشرف صحرائیؒ: جدوجہد آزادی کا استعارہ

غازی سہیل خان بلتستانی

مقبوضہ جموں و کشمیر کی تحریکِ آزادی میں کئی ایسے نام ہیں جو قربانی، استقامت اور نظریاتی پختگی کی علامت بن چکے ہیں۔ ان میں سے ایک روشن ستارہ تھا محمد اشرف خان، جنہیں صحرائی کے لقب سے جانا جاتا ہے۔ 5 مئی 2021 کو بھارتی جیل میں دوران حراست ان کی شہادت نے نہ صرف کشمیری عوام کے دلوں میں ایک نئی لہر پیدا کی بلکہ اس بات کا ثبوت بھی پیش کیا کہ بھارتی ریاست آزادی پسند کشمیری قیادت کو جسمانی طور پر ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ پانچ برس گزرنے کے باوجود شہید صحرائی کی جدوجہد، ان کی قربانیاں اور ان کے خاندان کا عزم آج بھی کشمیری نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

محمد اشرف صحرائی 1944ء میں ضلع کپواڑہ کے لولاب علاقے کے ٹکی پورہ گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن اور نوجوانی کشمیر کی اس فضا میں گزری جہاں بھارتی قبضے کے خلاف مزاحمت کی چنگاریاں جل رہی تھیں۔ ابتدائی تعلیم مقامی مدارس سے حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا، جہاں سے انہوں نے اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم کے دوران ہی ان میں قوم پرستی، اسلامی اقدار اور حقِ خودارادیت کا شعور پروان چڑھا۔ 1960ء کی دہائی میں وہ جماعت اسلامی جموں و کشمیر سے منسلک ہو گئے اور جلد ہی اس تنظیم کے فعال کارکن بن گئے۔
ان کی سیاسی جدوجہد کا باقاعدہ آغاز 1965ء میں ہوا ۔انہیں حکومت مخالف ایک تقریر کرنے کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا۔ تقریباً بیس ماہ مرکزی جیل سری نگر میں قید رہنے کے بعد رہا ہوئے۔ اس ابتدائی تجربے نے انہیں قید و بند کی صعوبتوں سے روشناس کرایا، مگر ان کی حوصلہ افزائی کا باعث بھی بنا۔ آگے چل کر وہ اسلامی جمیعت الطلبہ کے ناظمِ اعلیٰ بنے ۔وہ جماعت کے سیکرٹی جنرل اور قائم مقام امیر بھی رہے ۔۔ وہ ایک فکری اور تنظیمی شخصیت تھے جو نہ صرف تقریروں سے بلکہ عملی کاموں سے بھی لوگوں کو متاثر کرتے تھے۔ کپواڑہ اور لولاب جیسے علاقوں میں جماعت کی تنظیمی سرگرمیاں انہی کی قیادت میں منظم ہوئیں۔

1960ء اور 1970ء کی دہائیوں میں بھارتی ریاست نے کشمیری عوام پر دباؤ بڑھایا تو محمد اشرف صحرائی نے پرامن مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے کہ مسئلہ کشمیر زمینی تنازع نہیں بلکہ کشمیری قوم کا حقِ خودارادیت کا بنیادی مسئلہ ہے۔ ان کے نزدیک آزادی کا مطلب صرف بھارتی قبضے سے نجات نہیں بلکہ ایک خودمختار، اسلامی اقدار پر مبنی ریاست کا قیام تھا جو کشمیری عوام کی مرضی اور خواہشات کی عکاسی کرے۔
سید علی شاہ گیلانیؒ جیسے بزرگ رہنما کے قریبی ساتھی کے طور پر محمد اشرف صحرائی نے تحریک حریت جموں و کشمیر میں اہم کردار ادا کیا۔ جب گیلانی صاحب کی صحت نے امارت سے علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور کیا تو 23 مارچ 2018ء کو محمد اشرف صحرائی کو تحریک حریت کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ اس عہدے پر فائز ہونے کے بعد انہوں نے بھارت کے ظلم و جبر کے خلاف بے خوف آواز بلند کی۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں، نوجوانوں کے قتل عام اور بھارتی فورسز کی زیادتیوں کی مذمت کرتے رہے۔ وہ بار بار نظربند کیے گئے، مگر ہر بار جیل سے نکل کر مزید جوش و خروش کے ساتھ جدوجہد جاری رکھی۔
ان کی زندگی کا سب سے تکلیف دہ اور دردناک باب ان کے بیٹے جنید اشرف صحرائی کی شہادت سے جڑا ہے۔ جنید صاحب نے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی تھی اور ایک تعلیم یافتہ نوجوان تھے۔ بھارتی جبر اور کشمیری نوجوانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم نے انہیں مسلح جدوجہد کی طرف مائل کیا۔ وہ حزب المجاہدین سے منسلک ہو گئے۔ 19 مئی 2020ء کو نواکدل، سری نگر میں ایک معرکے کے دوران بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں جنید صحرائی شہید ہو گئے۔ اس خبر نے پورے کشمیر کو ہلا کر رکھ دیا۔
اس موقع پر محمد اشرف صحرائی کا رویہ کشمیری قوم کے لیے ایک تاریخی سبق بن گیا۔ جب انہیں بیٹے کی شہادت کی خبر ملی تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے ایک نظم سناتے نظر آئے جس کا ایک مصرع تھا: ”خدا کا شکر ہے یوں خاتمہ بل خیر ہونا تھا“۔ بھارتی انتظامیہ نے ان سے بیٹے کو واپس آنے کی اپیل کرنے کا مطالبہ کیا تو انہوں نے تاریخی الفاظ کہے: ”جب ہم دوسرے بیٹوں کو واپس آنے کی اپیل نہیں کرتے تو جنید کو واپس آنے کی اپیل کیوں کروں؟ کیا جنید کا خون دوسرے کشمیری بیٹوں سے زیادہ قیمتی ہے؟“
یہ الفاظ صرف ایک باپ کے نہیں بلکہ ایک قومی رہنما کے تھے جس نے ذاتی غم کو قومی جدوجہد کے سامنے قربان کر دیا۔ بیٹے کی شہادت کے فوراً بعد جولائی 2020ء میں ان پر پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا گیا۔ پہلے کوٹ بھلوال جیل جموں اور پھر ادھمپور جیل منتقل کیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر 77 برس تھی۔ جیل میں انہیں بنیادی طبی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا۔ متعدد امراض میں مبتلا ہونے کے باوجود مناسب علاج نہ دیا گیا۔ جب ان کی حالت انتہائی خراب ہوئی تو 4 مئی 2021ء کو ہتھکڑیاں لگا کر بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اگلے دن 5 مئی 2021ء کو وہ اللہ کو پیارے ہو گئے۔
ان کی شہادت کو کشمیری عوام، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقبوضہ کشمیر کی بار ایسوسی ایشن نے ”حراستی قتل“ قرار دیا۔ اہل خانہ کو ان کی بگڑتی صحت کی اطلاع بھی نہیں دی گئی۔ میت راتوں رات لولاب پہنچائی گئی اور صرف 20 افراد کو جنازے میں شرکت کی اجازت دی گئی۔ تاہم کشمیر کی تمام مساجد میں غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ آزاد کشمیر اور پاکستان میں بھی بڑے پیمانے پر غائبانہ نمازوں کا اہتمام کیا گیا۔
شہید صحرائی کی شہادت نے کشمیری نظربندوں کی سلامتی پر ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ 5 اگست 2019ء کے بعد جب بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تو ہزاروں آزادی پسند رہنما اور کارکن مختلف جیلوں میں قید کر دیے گئے۔ تہاڑ جیل دہلی سمیت 13 جیلوں میں ہزاروں کشمیری نوجوان اور رہنما بند ہیں۔ شہید صحرائی کی شہادت نے ثابت کیا کہ بھارتی ریاست قیدیوں کو علاج سے محروم رکھ کر انہیں خاموش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

شہید محمد اشرف صحرائی کی جدوجہد صرف سیاسی نہیں تھی بلکہ اخلاقی، نظریاتی اور انسانی تھی۔ وہ پرامن مزاحمت کے حامی تھے مگر بھارتی جبر کے سامنے جھکنے کو ہمیشہ مسترد کرتے تھے۔ ان کی زندگی سادگی، استقامت اور اصول پسندی کی مثال تھی۔ وہ کئی دہائیوں تک بھارتی جیلوں میں رہے۔ مجموعی طور پر تقریباً سولہ سال مختلف جیلوں میں گزارے۔ مگر قید نے ان کے عزم کو کمزور نہیں کیا بلکہ مزید پختہ کیا۔ وہ کہتے تھے کہ قید و بند ہمارے اسلاف کی سنت ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کی طرح ان کا جنازہ بھی جیل سے نکلا۔
ان کے خاندان نے بھی تحریک میں بے مثال قربانیاں دیں۔ جنید کے علاوہ ان کے بھتیجے بھی شہید ہوئے۔ ایک 1990ء کے اوائل میں حزب المجاہدین کے ساتھ وابستہ ہو کر شہادت کا درجہ پایا۔ دوسرا نجم الدین خان مہاجرت کے دوران شہید ہوا۔ ان کے بڑے بھائی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہ ذہنی طور پر مفلوج ہو گئے اور اسی حالت میں وفات پا گئے۔ شہید صحرائی نے اپنے پیچھے نہ صرف ایک خاندان بلکہ ایک نظریہ چھوڑا۔ وہ سید علی گیلانیؒ کے وفادار ساتھی تھے اور ان کے نظریات کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان کے ساتھ ان کی وابستگی پرجوش تھی۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد پاکستان کی سلامتی اور استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کی شہادت پر پاکستان کی سابق وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا تھا کہ ”بھارتی فسطائیت اہل کشمیر کو خاموش نہیں کر سکتی“۔
آج جب ہم شہید محمد اشرف صحرائی کی شہادت کے پانچ برس مکمل کر چکے ہیں تو ان کی یاد ہمیں کئی سبق دیتی ہے۔ سب سے بڑا سبق یہ کہ حق کی راہ میں استقامت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ بھارتی ریاست نے انہیں جیل میں رکھ کر، علاج سے محروم رکھ کر، خاندان سے الگ کر کے توڑنے کی کوشش کی مگر وہ آخری سانس تک اپنے مشن سے جڑے رہے۔ ان کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم کے سامنے جھکنا مرنے سے بدتر ہے۔شہید صحرائی کی جدوجہد نے کشمیری عوام میں ایک نئی نسل کو متاثر کیا ہے۔ آج چوتھی نسل بھارتی قبضے کے خلاف برسرپیکار ہے۔ مودی حکومت کے تمام دبانے والے ہتھکنڈے ناکام ہو چکے ہیں۔ 5 اگست 2019ء کے بعد کی صورتحال نے ثابت کیا کہ جبر سے آزادی کی چنگاری نہیں بجھتی بلکہ مزید بھڑکتی ہے۔ کشمیری عوام میں حق خودارادیت کا جذبہ آج بھی زندہ ہے اور شہید صحرائی جیسے رہنماؤں کی قربانیاں اس جذبے کو مزید تقویت بخشتی ہیں۔
ان کی شہادت نے عالمی سطح پر بھی کشمیر کے انسانی حقوق کے مسئلے کو اجاگر کیا۔ مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کشمیری ڈائسپورا نے حراستی قتل کی مذمت کی۔ مگر افسوس کہ بین الاقوامی برادری ابھی تک بھارتی جارحیت کے سامنے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔محمد اشرف صحرائی کی زندگی ایک روشن باب ہے جو جدوجہد، قربانی اور اصول پسندی کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی کشمیری عوام کی خدمت، مظلوموں کی حمایت اور آزادی کے خواب کی تکمیل کے لیے وقف کر دی۔ وہ خوف اور دباؤ سے بالاتر تھے۔ ان کی جدوجہد صرف بھارتی قبضے کے خلاف نہیں تھی بلکہ انسانی وقار، مساوات، انصاف اور آزادی کے اصولوں کی حفاظت بھی تھی۔
شہید محمد اشرف صحرائیؒ کشمیری مزاحمت کی ایک ایسی علامت ہیں جن کی قربانیاں تاریخ کے سنہری حروف میں لکھی جائیں گی۔ ان کے خون سے لکھی گئی یہ داستان نہ صرف کشمیری عوام بلکہ دنیا بھر کے آزادی پسندوں کے لیے ایک مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی شہادت کو قبول فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور کشمیری قوم کو ان کے مشن کی تکمیل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔