مسلہ کشمیر کے حل کی امید

پاکستان کی ثالثی ، عالمی سیاست میں ہلچل: مسلہ کشمیر کے حل کی نئی امید

بھارت اور پاکستان کے مابین ایک بامعنی مذاکراتی عمل کا آغاز ممکن ہو سکتا ہے
اب اگر کشمیر کے مسئلے کو اس عالمی مکالمے میں شامل نہ کیا، تو یہ تاریخی غفلت ہو گی
آج پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک راستہ عظمت کی طرف جاتا ہے اور دوسرا گم نامی کی طرف

سید عمر اویس گردیزی

شبِ آشوب کے سیاہ دامن میں جب مشرقِ اوسط کے افق پر شعلہ ہائے نزاع نے اپنے پر پھیلائے، تب فلکِ سیاست کے ستارے بھی لرزاں ہو گئے۔ ہوا کے دوش پر ایک عجیب سی کراہ سنائی دینے لگی، جیسے زمین کے سینے میں دفن صدیاں یکایک بیدار ہو کر نوحہ کناں ہو گئی ہوں۔ ایران کے ریگزار، شام کی ویران گلیاں، اور بیت المقدس کی آہنی فصیلیں، سب ایک ہی داستان دہرا رہی تھیں۔۔خون، آہ اور بے بسی کی داستان۔ اور انہی سسکیوں کے درمیان کہیں دور، اسلام آباد کی خاموش فضاؤں میں امید کا ایک مدھم چراغ جلنے لگا۔ یہ چراغ کسی عام روشنی کا مظہر نہ تھا بلکہ ایک ایسی روشنی تھی جس میں صبر کی تپش، حکمت کی گہرائی، اور وقت کے سینے کو چیر دینے والا یقین موجزن تھا۔ جب دنیا کے بڑے ایوانوں میں دھواں بھرا ہوا تھا، جب سمندر بھی بارود کی بو سے لرز رہے تھے، تب ایک شہر، خاموش، سنجیدہ، اور متین، اپنے دامن میں امن کے بیج سمیٹے بیٹھا تھا۔ اسلام آباد، جو بظاہر ایک دارالحکومت ہے، مگر اس لمحے گویا تقدیر کے اوراق پر ایک نئی سطر لکھنے جا رہا تھا۔ اور پھر وہ لمحہ آیا جب تاریخ نے اپنی سانس روک لی،جب دشمن ایک میز پر بیٹھے، جب نفرتوں کے بیچ الفاظ نے پل باندھنے کی جسارت کی، اور جب خون آلود ہاتھوں نے مصافحہ کرنے کی ہمت کی۔ یہ منظر کسی افسانے سے کم نہ تھا، مگر اس افسانے کے پیچھے حقیقت کا وہ بوجھ تھا جس نے دلوں کو لرزا دیا، آنکھوں کو نم کر دیا، اور روحوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

شرق الاوسط کی سرزمین، جو صدیوں سے تہذیبوں کا گہوارہ رہی، آج ایک ایسی کشمکش کا میدان بن چکی ہے جہاں طاقت اور بقا کی جنگ اپنے عروج پر ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے مابین بھڑکنے والی اس جنگ نے نہ صرف خطے کو بلکہ پوری دنیا کو ایک لرزہ طاری کر دیا۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی تجارت کی شہ رگ تصور کی جاتی ہے، اس کے بند ہونے کے خدشات نے دنیا کی معیشت کو ایسے جھنجھوڑا کہ بازاروں میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔ تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، کرنسیوں کی قدر لڑکھڑانے لگی، اور غریب اقوام کی سانسیں بوجھل ہو گئیں۔ یہ جنگ محض ہتھیاروں کی جھنکار نہ تھی بلکہ یہ عالمی نظام کے توازن کو چیلنج کرنے والی ایک قیامت خیز صدا تھی۔ امریکہ، جو خود کو سپر پاور کہلوانے کا عادی ہے، اس بار ایک ایسے دلدل میں اتر چکا تھا جہاں ہر قدم اسے مزید دھنستا جا رہا تھا۔

اسرائیل کی جارحیت نے اس آگ کو مزید بھڑکایا، اور ایران، جو صبر و استقامت کا استعارہ بن چکا ہے، اپنے مخصوص انداز میں جواب دیتا رہا، نہ مکمل خاموشی، نہ مکمل جنگ، بلکہ ایک ایسا توازن جو دشمن کو بے چین رکھے۔ ایسے میں پاکستان کا کردار کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ ایک ایسا ملک جو خود اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نبرد آزما ہے، اس نے عالمی سفارت کاری کے میدان میں ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جس کی مثال صدیوں میں کم ہی ملتی ہے۔ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کا انعقاد، وہ بھی ایسے وقت میں جب دنیا جنگ کے دہانے پر کھڑی ہو، ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، اور ایرانی اسپیکر باقر قالیباف کا ایک میز پر بیٹھنا، یہ محض ایک ملاقات نہ تھی بلکہ تاریخ کے سینے پر ثبت ہونے والا ایک سنہری لمحہ تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے دنیا کو یہ باور کروایا کہ طاقت صرف اسلحے میں نہیں بلکہ حکمت اور تدبر میں بھی ہوتی ہے۔ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت اور وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک ایسا پل تعمیر کیا جس پر چل کر دشمن بھی بات کرنے پر آمادہ ہو گئے۔

لبنان میں اسرائیلی حملوں کو وقتی طور پر رکوانا، ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں کردار ادا کرنا—یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے اس بار تاریخ کا دھارا موڑنے کی جسارت کی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ، جو کبھی اس جنگ کو ایک آسان فتح سمجھ بیٹھا تھا، آج خود اس آگ میں گھرا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کی حکمت عملی، جو ابتدا میں جارحیت پر مبنی تھی، اب دفاعی انداز اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان کی جانب جھکاؤ، اسلام آباد آنے کے اشارے، یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ امریکہ کو اب اپنی عزت بچانے کے لیے پاکستان کی ضرورت ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں طاقت کا توازن بدلتا ہوا محسوس ہوتا ہے، جہاں ایک کمزور سمجھی جانے والی ریاست ایک طاقتور ملک کے لیے سہارا بن جاتی ہے۔
مگر اس تمام تر منظرنامے میں ایک اور داستان بھی چھپی ہوئی ہے، کشمیر کی داستان۔ وہ سرزمین جو دہائیوں سے خون میں نہا رہی ہے، وہ لوگ جو اپنے حق کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ اگر پاکستان اس موقع کو بروئے کار لاتے ہوئے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرے، تو شاید تاریخ کا دھارا بدل سکتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جس کا انتظار نسلوں نے کیا، یہ وہ موقع ہے جو شاید دوبارہ نہ آئے۔

وہ ساعتِ نایاب، جو صدیوں کے صبر و سوز کے بعد اقوام کے دامن میں آ گرتی ہے، آج مملکتِ پاکستان کے افق پر ایک ایسی ہی ضیا پاش گھڑی کی صورت جلوہ گر ہے کہ جب زمانۂ سیاست کی بساط پر مہرے اپنی پرانی چالیں بھول کر نئے اضطرار کے اسیر ہو چکے ہیں۔ پہلی بار وہ قوتِ عظمیٰ، جو خود کو تقدیرِ عالم کی مختار سمجھتی تھی، ایک ایسی کیفیتِ احتیاج میں مبتلا دکھائی دیتی ہے جہاں اسے ایک نسبتاً کمزور مگر باوقار ریاست کے در پر دستک دینا پڑ رہی ہے۔ یہ منظر محض حالات کا اتفاق نہیں بلکہ قدرت کے اس خفیہ نظام کا مظہر ہے جس میں مظلوم کی آہ آخرکار طاقت کے ایوانوں تک پہنچ ہی جاتی ہے۔ پس یہی وہ لمحہ ہے کہ جب پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی سفارتی بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے مسئلۂ کشمیر کو اس عالمی مکالمے کا جزوِ لاینفک بنا دے، تاکہ دہائیوں سے سلگتا ہوا یہ زخم کسی مرہم کی صورت پا سکے۔ یہ حقیقت اب کسی دلیل کی محتاج نہیں رہی کہ کشمیر کا قضیہ محض ایک خطۂ زمین کا نزاع نہیں بلکہ یہ انسانی وقار، حقِ خودارادیت، اور اجتماعی شعور کی بقا کا مسئلہ ہے۔ کشمیری عوام کی قربانیاں، ان کے لہو سے رنگین وادیاں، اور ان کے خوابوں کی چکنا چور ہوتی تصویریں، یہ سب اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جائے۔ اور جب خود امریکہ، جو ہمیشہ سے اس معاملے میں ایک محتاط تماشائی کا کردار ادا کرتا آیا ہے، آج پاکستان کی وساطت کا طالب نظر آ رہا ہے، تو یہ وہ ساعت ہے جسے ضائع کرنا گویا تاریخ کے ساتھ ایک ناانصافی کے مترادف ہوگا۔ یہی وہ موقع ہے کہ پاکستان اپنے دیرینہ موقف کو نہ صرف دہرائے بلکہ اسے ایک عملی ایجنڈے میں ڈھال کر دنیا کے سامنے رکھے۔ مزید برآں، یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو ماضی میں مسئلۂ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کو قبول کر چکے تھے، آج ایک بار پھر اسی دروازے کی طرف مراجعت پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ اس آمادگی کے پسِ پردہ مجبوریوں کا عنصر غالب ہے، مگر تاریخ کا جبر اکثر انہی مجبوریوں کو مواقع میں ڈھال دیتا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس پیشکش کو محض ایک بیان کی حد تک نہ رہنے دے بلکہ اسے ایک مربوط سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ بنائے، تاکہ بھارت اور پاکستان کے مابین ایک بامعنی مذاکراتی عمل کا آغاز ممکن ہو سکے۔ کیونکہ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں الفاظ محض سفارتی بیانات نہیں بلکہ تقدیر کے فیصلے بن سکتے ہیں۔ یہاں ایک اور پہلو بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے، اور وہ ہے بھارت کی بڑھتی ہوئی بے چینی اور اضطراب۔ اس کی چیخیں، اس کے سفارتی احتجاج، اور اس کی بے قراری اس امر کی واضح دلیل ہیں کہ اگر پاکستان اس موقع کو کامیابی سے استعمال کر لے تو مسئلۂ کشمیر عالمی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔ بھارت بخوبی جانتا ہے کہ اگر امریکہ اس قضیے میں عملی دلچسپی لینے لگے تو اس کے لیے اپنے دیرینہ مؤقف کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ اس امکان کو ابتدائی مراحل ہی میں ناکام بنا دیا جائے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس دباؤ کے سامنے جھک جائے گا یا اپنے اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے تاریخ کا رخ موڑنے کی جسارت کرے گا؟ بھارت کی بے چینی، اس کی چیخیں، اس کا اضطراب، سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اگر پاکستان کامیاب ہو گیا تو کشمیر کا مسئلہ عالمی ایجنڈے پر آ جائے گا۔ اور یہی وہ چیز ہے جس سے بھارت خائف ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس موقع کو پہچان پائے گا؟ کیا وہ اس لمحے کو تاریخ کے سنہرے باب میں بدل سکے گا، یا یہ بھی ایک حسرت بن کر رہ جائے گا؟
پس، اے اربابِ اختیار و اہلِ بصیرت! یہ وہ لمحہ ہے جو صدیوں میں ایک بار نصیب ہوتا ہے، یہ وہ در ہے جو بار بار نہیں کھٹکھٹاتا۔ اگر آج پاکستان نے اس موقع کو ضائع کر دیا، اگر اس نے کشمیر کے مسئلے کو اس عالمی مکالمے میں شامل نہ کیا، تو بعید نہیں کہ آنے والی نسلیں اسے ایک ایسی غفلت کے طور پر یاد کریں جس نے ان کے مقدر کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا۔ مگر اگر اس نے ہمت کی، اگر اس نے اس لمحے کو تھام لیا، تو شاید وہ دن دور نہیں جب وادیٔ کشمیر کے زخموں پر مرہم رکھا جائے گا، جب وہاں کی فضائیں آزادی کے نغمے گائیں گی، اور جب تاریخ یہ گواہی دے گی کہ ایک قوم نے اپنے عزم و استقلال سے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ آخر الامر، یہ تمام داستان ہمیں ایک ہی حقیقت کی طرف لے جاتی ہے، کہ قوموں کی تقدیر چند لمحوں کے فیصلوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ آج پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک راستہ عظمت کی طرف جاتا ہے اور دوسرا گم نامی کی طرف۔ اگر اس نے اس موقع کو پہچان لیا، اگر اس نے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کر دیا، تو شاید آنے والی نسلیں اسے فخر سے یاد کریں گی۔ ورنہ یہ لمحہ بھی وقت کی گرد میں کھو جائے گا، اور ہم ایک بار پھر دہائیوں تک انتظار کی اذیت سہتے رہیں گے۔ یہ وقت ہے، یہ موقع ہے، یہ آزمائش ہے، اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جس کے لیے تاریخ نے پاکستان کو چنا ہے۔