مظلومانہ خراج عقیدت

وہ شخص نہیں، ایک احساس تھا،

حمزہ شہیدکی رفیقہ حیات کا منظوم خراج عقیدت

ارجمند گلزار ڈارالمعروف ’’حمزہ برہان‘‘
وہ شخص نہیں، ایک احساس تھا،
خاموش لبوں میں چھپا ہوا اک دردِ خاص تھا۔
آنکھوں میں اُمیدوں کے جلتے چراغ لیے،
سینے میں کئی خواب اور کئی راز لیے۔
وہ چلتا تو حوصلوں کی صدا ساتھ چلتی،
وہ رُکتا تو جیسے ہر دعا ساتھ رُکتی۔
لہجہ اُس کا نرم مگر ارادے فولاد تھے،
خاموشی میں بھی اُس کے کئی انقلابات تھے۔
وہ اپنے لیے کم، دوسروں کے لیے جیتا تھا،
ہر زخم چھپا کر بھی لوگوں کو حوصلہ دیتا تھا۔
پھر ایک دن ایسا آیا… خاموشی چھا گئی،
ہر آنکھ نم، ہر دل پہ اداسی سی آ گئی۔
جیسے کسی ماں کی دعا بچھڑ گئی ہو کہیں،
یا وقت کی دھڑکن ہی ٹھہر گئی ہو کہیں۔
آج بھی جب اُس کا نام لبوں پر آتا ہے،
دل بے اختیار درد سے بھر جاتا ہے۔
کیونکہ کچھ لوگ مٹتے نہیں وقت کی گرد میں،
وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں لوگوں کے درد میں۔

شہید حمزہ برہان اور شہیدامتیاز عالم

جناب مبارک شاہ صاحب کا منظوم خراج عقیدت۔۔۔

سنو قافلہ والو خبر تازہ سنو
ایک اور ہم سفر کا وصال آگیا
خوبصورت تھا اور خوب سیرت بہت
راہ حق پر اسکا کمال آگیا
زندگی تج دی عدل و انصاف پر
تیغ زن تھا علم و حکمت کا خیال آگیا
اس قدر جری مانند حمزہ اسد
دشمنوں کی صفوں کا وبال آگیا
مثل برہان حق و باطل میں کر دی فرق
جب جہاں فیصلہ کا سوال آگیا
کر کے تقلید رہنما امتیاز کی
سر مقتل پیش کر دی جان عزیز
اور بھی منتظر ہیں اس راہ میں
یوں مبارک، عدو کا زوال آگیا