ضلع ڈوڈہ میں بھارتی فوج کی ظالمانہ کارروائی ، ایک نوجوان شہید،پورا علاقہ سراپا احتجاج
مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھارتی فوج و پولیس کے بڑے پیمانے پرمحاصرے اور چھاپے
3500 سے زائد کشمیری نوجوان گرفتار،متعدد جائیدادیں ضبط
ہمایوں قیصر
17 جولائی 2026۔۔۔ سرینگر کے علاقے میں انسدداد منشیات کی آڑ میںبھارتی حکام نے عدنان لطیف شیخ، دانیال احمد،شاہد گل اور عادل احمد میر کے رہائشی مکانات سمیت متعدکروڑوں مالیت کی جائیدادیں ضبط کرلی ہیں ۔بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی ایک خصوصی عدالت نے ایک جھوٹے مقدمے میں زیر حراست 10کشمیر یوں روبینہ نذیر ملک، اشفاق احمد میر، مدثر احمد پسوال، محفوظ احمد مغل، محمد راشد ٹھاکر، محمد ریاض لوہار، جاوید اقبال ٹھاکر ، عبدالرشید میر، عبدالرشید بٹ اور بشارت علی پسوال کے خلاف فرد جرم عائد کری ہے ۔جبکہ دیگر ملزمان میں صغیر احمد پسوال ، ، طارق احمد ملک ، الف الدین بڈانہ ، مشتاق احمد نائیک فردوس احمد ڈار اور مشاق احمد ملک بھی شامل ہیں۔یادرہےمشتاق احمد ڈارچند برس پہلے ایک معرکہ میں بھارتی فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرچکے ہیں ۔
18 جولائی2026 ۔۔۔ ضلع ڈوڈہ کے علاقے بھدرواہ کے علاقے میں بھارتی فوج نے ایک ظالمانہ کارروائی کے دوران جعلی مقابلے میں نوجوان عارف حسین کو اندھا دھند فائرنگ کر کے شہید کیاہے۔ عارف حسین کے بہیمانہ قتل کیخلاف علاقے میں زبردست احتجاجی مظاہرے کیے گئے ۔بھدرواہ جامع مسجد کے باہر سینکڑوں لوگوں نے جمع ہو کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور قابض بھارتی انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔ بھارتی پولیس کے ایک افسر نے دعویٰ کیا ہے کہ علاقے میں فائرنگ کے واقعے میں تین پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ ضلع پلوامہ کے علاقے سانبورہ میںبھارتی فوج نےمحاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران گھروں میں گھس کر تلاشی لی، مکینوں کو ہراساں کیا،گھریلو سامان کی توڑپھوڑ کی، نقدی سمیت قیمتی سامان بھی لوٹ لیا۔بھارتی فوج نے کم از کم چھ خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی اورانہیں تشدد کا نشانہ جس کے نتیجے میں شدید وہ زخمی ہوئیں۔ضلع جموں میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے انسداد منشیات کی آڑ میںتعمیر شدہ مزید دوافراد کے مکانات کو مسمارکئے جبکہ ضلع سانبہ میں بڑی برہمنہ کے علاقے اپر بلولے میںایک جائیداد ضبط کر لی ہے۔
20 جولائی 2026۔۔۔ ضلع کپواڑہ کے لولاب علاقےمیںبھارتی فوج نے ایک ظالمانہ مہم کے دوران عوام پرسخت پابندیاں عائد کرتے ہوئےقریبی جنگلات میں جانور چرانے اور سبزیاں جمع کرنے سے روک دیا ہے،بھارتی فوج کے اس اقدام سے پوری وادی لولاب میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
22 جولائی 2026۔۔۔ ضلع اسلام آبادکے علاقے لال چوک میں محاصرے کے دوران ایک نامعلوم شخص نے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین پرقریب سے گولیاں چلادیں جس کے نتیجے میں وہ موقعہ پر ہی ہلاک ہوگیا۔ ضلع گاندربل کے علاقے وائل میں ایک 25 سالہ شخص اپنی رہائش گاہ پر پراسرار حالت میں مردہ پایا گیاجس کی شناخت فرحان احمد خان کے طور پر کی گئی ہے۔
23 جولائی 2026۔۔۔ ضلع راجوری سندر بنی سیکٹر میں بھارتی فوج کا ایک اہلکارسکھپریت سنگھ ڈیوٹی کے دوران پھسل کر گہری کھائی میںجا گرا جس کے نتیجے میں وہ موقعہ پر ہی ہلاک ہو گیا۔بھارتی فوج نے ایک ظالمانہ کارروائی کے دوران ضلع اسلام آباد کے علاقے بیج بہاڑہ میں مجاہد عادل احمد ٹھوکرساکن بجبہاڑہ ااور ہارون گنائی ساکن حسن پورہ کے مکانات کو بارودلگا کر تباہ کردیا۔دونوں مجاہدین کے گھر 2025 میں بھی بھارتی فوج نے ایک مہم کے دوران چند برس پہلےمسمار کئے تھے ،ان دوبارہ تعمیر شدہ مکانات کو بارود سے اڑاکر فوج نے ظلم و جبر کی نئی داستان رقم کردی ہے۔ضلع کولگام میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد حملہ آوروں کو گرفتارکرنے کے آڑ میں اجتماعی سزا کے طور پر قابض فوج نے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران 3500 کے لگ بھگ بے گناہ نوجوانوںگرفتار کر کے وادی کے مختلف جیلوں میں منتقل کردیاہے۔
24 جولائی 2026۔۔۔ مقبوضہ وادی میںبھارتی پولیس نے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر میاں عبد القیوم، سابق نائب صدر ایڈووکیٹ اعجاز بیدر، ایڈووکیٹ جی این شاہین اور مرحوم ایڈووکیٹ بلال احمد بٹ کے خلاف درج ایک جھوٹے مقدمے میں سرینگر کی این آئی اے عدالت میں چارج شیٹ پیش کی ہے۔
25 جولائی 2026۔۔۔ ضلع سرینگر میںبھارتی پولیس نے این آئی اےکے ہمراہ کالے قانوں کےتحت ایک چھاپے کے دوران حیدر پورہ کے علاقے پیر باغ میںعاقب فاروق کا ایک دو منزلہ رہائشی مکان، اندرہامہ بٹہ پورہ میں اذان پرویز ساکن رعناواری کا ایک منزلہ رہائشی مکان اور صورہ میں مبشر احمد حکیم کی 12مرلے اراضی کے ساتھ ایک دو منزلہ رہائشی مکان کوبھی ضبط کر لیا ہے۔
27 جولائی2026۔۔۔ ضلع کپواڑہ کے ہندواڑہ قصبے میں بھارتی فوج کا ایک ہیڈ کانسٹیبل شیو کمارڈیوٹی کےدوران اچانک بے ہوش ہونے کے بعد چل بسا۔
28 جولائی2026 ۔۔۔ضلع بارہمولہ کے اوڑی کے کمل کوٹ علاقے میں اپر گڑھ فارورڈ پوسٹ کے قریب ایک دھماکہ ہواجس کے نتیجے میںبھارتی فوج کےدو اہلکار دفادار وجے کمار اور نائیک شراناپا انگاری زخمی ہوگئے۔ ضلع گاندربل کے کنگن علاقے میںیاتریوں کی ایک بس تیز رفتاری کے باعث سڑک سے پھسل کرایک مکان پر جاگری جس کے نتیجے میں کم از کم 39 ہندو امرناتھ یاتری زخمی ہو گئے۔ضلع شوپیاں کے علاقے زینہ پورہ میں وچی روڈپرایک سڑک حادثے کے دوران بھارتی فوج کی ایک گاڑی الٹ گئی جس کے نتیجے میں 11اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔
29 جولائی 2026۔۔۔ ضلع بڈگام کےشیخ پورہ علاقے میں بھارتی فوج کی ایک گاڑی چنار کے درخت سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں تین فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔
30 جولائی 2026 ۔۔۔ضلع رام بن کے علاقوں کندن کھاری، کوٹ کھاری اور بانہال میں بھارتی انتظامیہ نے ایک کارروائی کے دوران غلام رسول، عبداللطیف نائیک، عبدالرشید اور مشتاق احمد کی اراضی کالے قانون کے تحت ضبط کردی ہے ۔
یکم اگست 2026۔۔۔ ضلع کولگام کے علاقے کیلم میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دوغیر ریاستی باشندےدیپک راترےاوربوپندرکمار ہلاک ہو گئے ہیں۔
2 اگست 2026۔۔۔ضلع بارہمولہ کے علاقے میں شیری گوری وان کراسنگ پر محاصرے اور تلاشی کی ایک مشترکہ کارروائی کے دوران بھارتی فوج نے ایک نوجوان اعجاز ا حمد گنائی کو مجاہدین کا معاون قراردے کر گرفتارکرلیا اور اس کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔
3 اگست2026 ۔۔۔ضلع پلوامہ کے علاقے پچار فروٹ منڈی کے قریب محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران بھارتی پولیس نے ایک عام شہری توفیق احمد ڈارکوگرفتار کرلیا۔گرفتاری کا جواز پیش کرنے کے لئے بھارتی فوج نے اس کے قبضے سے پوسٹر اور ایک دستی بم برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔ جموں کے اکھنور کے علاقے فارورڈ جوگوان میں ڈیوٹی کے دوران ایک بھارتی فوجی کی سروس رائفل سے غلطی سے گولی چلنے سے وہ موقعہ پر ہی ہلاک ہوگیا۔ضلع بارہمولہ میں سوپور کے علاقے ڈانگر پورہ میں ایک نوجوان پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا۔
4 اگست 2026۔۔۔ ضلع کپواڑہ کےعلاقے ہندواڑہ ماور میںایک بھارتی پولیس افسر اسسٹنٹ سب انسپکٹر ڈیوٹی کے دوران گر کر ہلاک ہوگیا۔
6 اگست 2026۔۔۔ضلع پونچھ کےمینڈھر سیکٹر کے کنگا گلی میں کنٹرول لائن کے قریب بارودی سرنگ کے دھماکے میںگشت کے دوران بھارتی فوج کے دو اہلکار زخمی ہو گئے۔
7 اگست 2026۔۔۔ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور ہردوشیوا میں ایک نوجوان کو پراسرارطورپرمردہ پایا گیا۔
8 اگست 2026۔۔۔ بھارتی پولیس کے خصوصی ونگ” کانٹر انٹیلی جنس کشمیر‘‘ نے وادی کے متعدد علاقوں میںفوجی اہلکاروں کے ہمراہ گھروں پر چھاپے مارے اور تلاشی کی کارروائیاں عمل میں لائیں اس دوران خواتیں اور بچوں سمیت مکینوں کو سخت ہراساں کیا گیا ،اراضی اور دیگر جائیدادوں کی ضروری دستاویزت ، لیب ٹاپ ، موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات ضبط کیے گئےاور قیمتی گھریلو اشیاء کی توڑ پھوڑ کی گئی۔
9 اگست 2026 ۔۔۔ بھارتی فوج اور تحقیقاتی ایجنسیوں کی متعدد ٹیموں نے ضلع بارہمولہ میں سوپور اور ملحقہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر کالے قانون کے تحت درج ایک جھوٹے کیس کے سلسلے میں 26 مقامات پر جماعت اسلامی کے کارکنوں کے گھروں میںگھس کر تلاشیاں لیں اورمکینوں کو ہراساں کیا۔بھارتی پولیس نے بڈگام کے ارچندرہما، ماگام میںسراج نبی کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرنے پر گرفتارکرکے عدالتی حراست میں سینٹرل جیل سرینگر بھیج دیا گیا۔
11 اگست2026 ۔۔۔سرینگر کی ایک عدالت نے کشمیری نوجوان غلام محی الدین کو 2020کے ایک جھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ بھارتی پولیس کا الزام تھا کہ غلام محی الدین تحریک المجاہدین کے بانی ارکان میں شامل تھا۔
13 اگست2026۔۔۔ضلع پونچھ کے علاقے مینڈھر میںعسکری گروپ کے ساتھ وابستہ ہونےکے الزام میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی خصوصی عدالت نے ایک آزادی پسند کشمیر ی نثار احمدجو2012سے قید ہیںکو 14برس قید کی سزاسنائی ہے ۔
14 اگست2026 ۔۔۔ ضلع ادھمپورکے علاقے مونگر ی پانچیری میں بھارتی فوج کی سرپرستی میں قائم ویلج ڈیفنس گارڈز کے ایک رکن نے فائرنگ کر کے اپنے ہی ساتھی بلدیو سنگھ کو ہلاک اور دوسرےساتھی کا ومیش سنگھ کو شدید زخمی کر دیا۔
15 اگست 2026۔۔۔بھارتی انتظامیہ نےایک جھوٹے الزام میں ضلع بڈگام کے علاقے خانصاحب میں محمد رفیق خان نامی کشمیری کی ایک دکان اور سروس سٹیشن ضبط کر لیا۔







