وہ با وفا بھی چلاگیا

وہ باوفا بھی چلاگیا۔۔۔۔۔سجاد احمدؒ

فاروق قیصر

29اپریل کی شام ایک بے چینی سے بھرپور پیغام موصول ہوا’’مجاہدسجاد جماعتی‘‘ کو خون کی اشد ضرورت ہے اور وہ راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ دل دھک سے رہ گیا۔ کچھ ہی دیر بعد خبر آئی کہ خون کا انتظام ہو چکا ہے، اور ساتھ ہی یہ تسلی بھی دی گئی کہ ان شاء اللہ حالات بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مگر دل کی بے قراری کم نہ ہو سکی۔وہ رات آنکھوں ہی آنکھوں میں کٹ گئی۔

ہر لمحہ ایک انجانے خدشے کے ساتھ گزرا,30 اپریل2026ء کی صبح ہوتے ہی میں اپنے ایک ساتھی محمدارسلان کے ہمراہ ہسپتال پہنچا۔ وہاں موجود احباب نے بتایا کہ حالت گزشتہ روز کی نسبت کچھ بہتر ہے۔ یہ سن کر دل کو تھوڑی ڈھارس ملی۔ہمیں دیکھ کر سجاد بھائی نے وہاں موجود دیگر دوساتھیوں کو لیٹے لیٹے ہی ان کاشکریہ ادا کرنے کے بعد خوشی سے انہیںرخصت کیا،انہوں نے ہی سجاد بھائی کی طبیعت بگڑجانے کے بعد ایمرجنسی حالت میں مانسہرہ سےراولپنڈی ہسپتال پہنچایا تھا، ، گویا کچھ لمحے وہ ہمارے ساتھ گزارنا چاہتے ہوں۔ ہم ان کے قریب بیٹھ گئے۔ چہرے پر کمزوری کے آثار تھے، مگر آنکھوں میں عجب سی طمانیت جھلک رہی تھی۔ سینے میں جما ریشہ انہیں تکلیف دے رہا تھا اور بات کرنا مشکل ہو رہا تھا، مگر اس کے باوجود وہ دھیمی آواز میں مسلسل ہم سے باتیں کرتے رہے۔کچھ چیزیں اشاروں میںسمجھاتے رہے۔ایک موقع پر انہوں نے نہایت سکون سے کہا’’موت کی رگ اسی دن کاٹ دی تھی جب میدان کارزار میں جہاد کے لئے اتراتھا۔ اب جو بھی اللہ کو منظور ہے، مجھے قبول ہے۔‘‘یہ جملہ سن کر دل جیسے تھم سا گیا۔ ان کے لہجے میں نہ کوئی خوف تھا، نہ بے چینی صرف رضا اور تسلیم۔گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ گزرنے کے بعد انہوں نے قہوے کی فرمائش کی۔ ہم فوراً ہسپتال کی کینٹین سے قہوہ لے آئے۔ انہوں نے آہستہ آہستہ، مگر شوق سے قہوہ پیا۔ ان کے انداز میں ایک عجیب سی طمانیت تھی، جیسے وہ ہر لمحے کو شعوری طور پر جی رہے ہوں۔ قہوہ پینے کے بعد انہوں نے کہا کہ اب وہ تکیے سے ٹیک لگا کر آرام کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے نہایت احتیاط سے انہیں سہارا دے کر لٹا دیا۔ کچھ ہی لمحوں بعد ان کی سانسوں کی وہ بھاری آوازیں مسلسل آرہی تھیں مدھم پڑنے لگیں اور سانس قدرے ہموار محسوس ہونے لگا۔میں نے اپنے ساتھی کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا:’’لگتا ہے اب انہیں سکون مل گیا ہے‘‘۔اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ہم دونوں نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ شاید اب تکلیف کم ہو رہی ہے۔مگر اسی سکون کے عالم میں اچانک ایک لمحہ آیا جب میں نے ان کی آنکھوں کو چھت کی جانب جمی ہوئی دیکھا۔ وہ نظر عام نہ تھی اس میں ایک عجیب سی گہرائی تھی، جیسے وہ کسی اور منظر کو دیکھ رہے ہوں، کسی اور جہان کی طرف متوجہ ہوں ۔ دل میں ایک انجانا خوف جاگا۔ہم نے فوراً ڈاکٹر کو بلایا۔ ہوش میں لانے کی کوششیں کی گئیں، مگر سب کچھ چند لمحوں میں بدل چکا تھا۔ روح اپنے رب کے حضور پرواز کر چکی تھی۔وقت مقرر ہو چکا تھا۔یقین کرنا دشوار تھا، مگر حقیقت بالکل واضح تھی سجاد بھائی اب ہمارے درمیان نہیں رہے تھے۔ وہ اس فانی دنیا سے رخصت ہو کر اپنی ابدی منزل کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔ہسپتال کی ضروری کارروائی مکمل ہونے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد میت ہمارے حوالے کی گئی۔ ہم چند ساتھیوں کے ہمراہ ان کے آبائی علاقے مانسہرہ روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچ کر ان کی میت گھر کے صحن میں آخری دیدار کے لیے رکھی گئی۔یہ نہایت صبر آزما لمحات تھے۔ اہلِ خانہ نے قابلِ رشک ضبط و حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ تاہم ان کے معصوم بچوں کے لیے یہ لمحات قیامتِ صغریٰ سے کم نہ تھے۔ دونوں بچے گھر سے لے کر جنازہ گاہ تک اپنے والد کی میت کے ساتھ روتے رہے۔ نمازِ جنازہ کے دوران بھی وہ اپنے والد کے جسدِ خاکی سے لپٹ کر سسکیاں بھرتے رہے۔ ان کی آہوں اور سسکیوں کی آوازیں حاضرین کے دلوں کو چیرتی محسوس ہوتی تھیں۔رات ساڑھے دس بجے نمازِ جنازہ ادا کی گئی جس میں بڑی تعداد میں مقامی لوگوں اور مجاہدین نے شرکت کی۔ اس موقع پر قاری مصعب الحق نے مرحوم کی جہادی زندگی پر روشنی ڈالی اور انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔

سجاد بھائی کا اصل نام محمد مقبول شیخ تھا، مردم خیز علاقے پلہالن میں علی محمد شیخ کے گھر میں2 جولائی 1972میںپیدا ہوئے۔ ان کا خاندان ایک باوقار زمیندار اور دینی گھرانے کے طور پر جانا جاتا تھا ۔ علاقے میں جماعت اسلامی کا تنظیمی ڈھانچہ اور عوامی اثر و رسوخ مضبوط تھا۔یہی وجہ تھی سجاد بھائی کی نظریاتی تربیت اسلامی تحریک کے اصولوں پر ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے ہی گائوں میںموجودجماعت اسلامی کے زیر انتظام چلنے والے’’ اسلامی ماڈل سکول پلہالن‘‘ سے حاصل کی۔یہاں دینی اور عصری دونوں علوم سے آراستہ ہوئے۔مڈل تک جماعت کے درس گاہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد پلہالن ہائی سکول میں میٹرک کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا۔جماعت اسلامی کے آغوش میں تربیت پانے کے باعث ان کے اندر شعور کی پختگی اور نظریاتی وابستگی کم عمری ہی میں نمایاں ہو چکی تھی۔ جماعت کے اجتماعات اور پروگراموں میں انہیں نعتِ رسول ﷺ یا علامہ اقبالؒ کی نظمیں پڑھنے کے لیے خصوصی طور پر منتخب کیا جاتا تھا۔مجھے آج بھی یاد ہے کہ چھٹی جماعت کے طالب علم کی حیثیت سے انہوں نے ایک پروگرام میں علامہ اقبالؒ کی نظم ’’یارب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے‘‘ اجتماعی انداز میں پڑھی، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔جماعت اسلامی کے نصب العین سے والہانہ محبت ان کی رگوں میں رچی بسی تھی۔ اسی وابستگی کے باعث سکول کے ساتھی انہیں محبت سے ’’جماعتی‘‘ کہہ کر پکارتے تھے، اور یہی لقب ان کی مستقل پہچان بن گیا۔نوجوانی ہی میں انہوں نے اسلامی تحریک کے اکابر سے فکری فیض حاصل کیا۔ وہ مولانا مودودیؒ کا لٹریچر باقاعدگی سے پڑھتے تھے، جس نے ان کے فکر و شعور کو مزید جلا بخشی۔

1990ء میں جب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز ہوا تو انہوں نے علاقے کے ذمہ داران سے بیس کیمپ جانے کی اجازت طلب کی۔ اس زمانے میں تنظیموں میں شمولیت آسان نہ تھی، خصوصاً حزب المجاہدین باقاعدہ انتخاب اور جانچ کے بعد ہی افراد کو شامل کرتی تھی۔ چار سال انتظار کے بعد 1994ء میں انہیں آزاد کشمیر کے بیس کیمپ جانے کی اجازت ملی اور انہوں نے عملی طور پر تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔سخت اور صبر آزما مراحل سے گزر کر وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سرحدی پٹی عبور کرنے میں کامیاب ہوئے۔ بیس کیمپ میں فرصت کے لمحات میں جہادی لٹریچر اور مولانا مودودیؒ کی متعدد کتب کا مطالعہ کیا اور مجاہدین کی فکری تربیت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہیں سننے والے گواہی دیتے ہیں کہ وہ نہایت سادہ اور مؤثر انداز میں بات سمجھانے کا فن جانتے تھے۔
1997ء میں تنظیمی حکم پر لبیک کہتے ہوئے وہ ایک پرخطر سفر کے بعد میدانِ عمل میں پہنچ گئے۔ یہ دور سخت آزمائشوں کا دور تھا۔ بھارت نواز ملیشیا ’’اخوان‘‘ جماعت کے کارکنوں اور ان کے حامیوں کو نشانہ بنا رہی تھی، جبکہ مجاہدین پر بھی مسلسل دباؤ بڑھ رہا تھا۔ ان کے خاندان کو بھی اس ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے راہِ وفا میں آنے والی ہر آندھی اور طوفان کا ثابت قدمی سے مقابلہ کیا اور ہر آزمائش میں جرأت و استقامت کا مظاہرہ کیا۔ پانچ برس تک وہ دشمن کے خلاف سرگرم رہے اور متعدد کارروائیوں میں حصہ لیا۔پلہالن گھاٹ کے گھنے بید کے جنگل میں قائم ایک خفیہ ٹھکانے پر ایک مرتبہ وہ کمانڈر شاکر غزنویؒ کے ساتھ بھارتی فوج کے محاصرے میں پھنس گئے۔ دن بھر شدید مارٹر شیلنگ ہوتی رہی، مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام مجاہدین محفوظ رہے۔ایک موقع پر بھارتی فوج کے مسلسل تعاقب کے باعث وہ کئی ہفتے اسی پناہ گاہ میں مقیم رہے۔اس جنگل کےبیچوں بیچ ایک دریا بہتا ہے جسےہم علاقائی زبان میں’’ ویتھ‘‘ کہتے ہیں،چونکہ وہاں ہروقت بھارتی فوجی پہرے پرہوتے تھے اور گشت کرتے رہتے تھے اس لئے دریا کا پانی استعمال کرنا خطرے کو دعوت دینے کےمترادف تھا وہاں موجود گڑھوں میں جمع پانی ہی پورے گروپ کی ضرورت پوری کرتا تھا۔ یہی غیر معیاری پانی بعد میں ان کی ناک کی شدید الرجی کا سبب بنا، جس کے نتیجے میں ناک اور ایک آنکھ سے مسلسل پانی بہتا رہتا تھا۔جب بیماری شدت اختیار کر گئی تو کمانڈر شاکر غزنویؒ نے انہیں 2001ء میں علاج کی غرض سے بیس کیمپ روانہ کیا۔ علاج کے ساتھ ساتھ انہوں نے مجاہدین کی فکری تربیت کا سلسلہ جاری رکھا، جو ان کی زندگی کا نہایت روشن باب ہے۔بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ ٹیومر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں، جو ناک سے شروع ہو کر دماغ کی جانب بڑھ رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامیاب آپریشن کے بعد وہ صحت یاب ہو گئے۔تاہم تقریباً بیس سال بعد یہی بیماری دوبارہ ظاہر ہوئی۔ اس مرتبہ راولپنڈی میں علاج جاری رہا، مگر یہی مرض بالآخر ان کی وفات کا سبب بنا۔۔اس بیماری کے عرصے کے دوران ہی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بدنام ایجنسی’’ این آئی اے‘‘ نےبھارتی فوج کےہمراہ ایک ظالمانہ کارروائی کےدوران آپ کی پانچ کنال پر مشتمل اراضی بھی ضبط کردی۔ یوں انہوں نے اپنی زندگی کی طرح اپنا مال بھی اپنے نظریے کی راہ میں قربان کر دیا ۔سجاد بھائی ایک مخلص، باوقار اور صاحبِ کردار انسان تھے۔ وہ محض ایک نام نہیں بلکہ ایک نظریاتی شخصیت تھے۔ ان کی زندگی سادگی، استقامت اور اصول پسندی کا حسین امتزاج تھی۔ آپ کے نزدیک اصل کامیابی اپنے نظریے پر سچے رہنے اور اسے عملی زندگی میں ثابت کرنے میں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے ساتھی، دوست اور جاننے والے سب عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔آپ اپنے پیچھے ایک روشن مثال چھوڑ گئے۔ آپ کی زندگی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ جب انسان کسی نظریے سے سچی محبت کرے تو وہ خود بھی امر ہو جاتا ہے اور اپنی یادوں کو بھی زندہ رکھتا ہے۔ ان کے ساتھ گزارے گئے لمحات یادوں کی صورت صرف دل میں ہی نہیں بلکہ تاریخ کےاوراق میں بھی محفوظ ہیںاور ہمیشہ رہیں گے۔