خواجہ محمد شہباز وانی
حق و باطل کی کشمکش اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسانی تاریخ۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور فرشتوں کو سجدے کا حکم دیا تو ابلیس نے تکبر اور سرکشی کی بنیاد پر انکار کیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب حق اور باطل کی پہلی واضح لکیر کھنچی۔ اس کے بعد تاریخ کے ہر دور میں حق و باطل مختلف صورتوں میں ایک دوسرے کے مقابل آتے رہے۔ کبھی حضرت نوح علیہ السلام کی دعوتِ حق کے مقابل سرکش قوم کھڑی ہوئی، کبھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سامنے نمرود آیا، کبھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابل فرعون اور کبھی خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے سامنے کفارِ مکہ صف آرا ہوئے۔ لیکن تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ یہی رہا کہ حق سربلند ہوا اور باطل ذلیل و رسوا ہو کر مٹ گیا۔اسی سلسلۂ حق و باطل کا ایک عظیم، دردناک اور فیصلہ کن باب واقعۂ کربلا ہے۔ یہ صرف ایک جنگ یا سیاسی اختلاف کا نام نہیں بلکہ حق، صداقت، عدل، وفاداری اور دین کی سربلندی کے لیے دی جانے والی بے مثال قربانی کی داستان ہے۔ نواسۂ رسول، جگر گوشۂ بتول، امامِ عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے نانا جان ﷺ کے دین کی حفاظت کے لیے وہ عظیم قربانی پیش کی جس کی مثال انسانی تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔اہلِ کوفہ کی مسلسل دعوت اور خطوط کے بعد جب امام حسین رضی اللہ عنہ کوفہ کی جانب روانہ ہوئے تو حالات نے ایک ایسا رخ اختیار کیا کہ کربلا کا میدان حق و باطل کے درمیان آخری معرکے کی صورت اختیار کر گیا۔ ایک طرف حق، صداقت اور دین کی سربلندی کا علم تھا اور دوسری طرف اقتدار، جبر اور دنیا پرستی کی قوتیں تھیں۔ امام حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے جاں نثار ساتھیوں نے تعداد کی کمی، بھوک، پیاس اور مصائب کی شدت کے باوجود حق کا دامن نہ چھوڑا۔ انہوں نے اپنی جانیں، اپنے اہلِ خانہ، اپنے نوجوان بیٹے، بھتیجے اور ساتھی سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا لیکن باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کیا۔کربلا کا واقعہ رہتی دنیا تک مسلمانوں کو یہ پیغام دیتا رہے گا کہ ایمان، عزت اور حق کے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی ہمیں زندگی کے ہر میدان میں استقامت، صبر، وفا اور حق گوئی کا درس دیتی ہے۔

واقعۂ کربلا سے ہمیں درج ذیل اہم اسباق حاصل ہوتے ہیں
(1) دین اسلام کی خدمت اور دعوت کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ حق کی دعوت دیتے وقت مشکلات اور مخالفتوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔
(2) دین کی حفاظت کے لیے اگر مال، اولاد، گھر بار اور جان تک قربان کرنا پڑے تو مؤمن پیچھے نہیں ہٹتا بلکہ اللہ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھتا ہے۔
(3) مصائب، آزمائشیں اور مشکلات زندگی کا حصہ ہیں، لیکن ایک مسلمان ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتا اور شریعت کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے۔
(4) نماز بندے اور رب کے درمیان سب سے مضبوط تعلق ہے۔ کربلا میں شدید ترین حالات کے باوجود نماز کی ادائیگی اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ نماز کسی حال میں معاف نہیں۔
(5) صبر مؤمن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیتِ اطہار نے شدید ترین تکالیف میں بھی صبر و رضا کا دامن نہیں چھوڑا۔
(6) وعدے کی پاسداری اور وفاداری اسلامی کردار کا بنیادی وصف ہے۔ کربلا کے جاں نثاروں نے اپنے عہد اور وفا کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔
(7) مسلمان کو جھوٹ، دھوکے، خیانت، ظلم، غیبت اور حقوق العباد کی پامالی سے بچنا چاہیے، کیونکہ یہی برائیاں معاشروں کو تباہ کرتی ہیں۔
(8) اسلام امن، محبت اور رحمت کا دین ہے۔ کسی پر ظلم کرنا، کسی کا حق مارنا یا کمزوروں کو ستانا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ حتیٰ کہ جانوروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔(9) قرانِ کریم سے محبت اور اس کی تلاوت مسلمان کی پہچان ہے۔ کربلا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قرآن اور اہلِ بیت دونوں سے وابستگی ایمان کی علامت ہے۔
(10) خواتین کے لیے خانوادہ نبوت کی مقدس خواتین خصوصاً حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا کردار ایک روشن نمونہ ہے۔ انہوں نے بے مثال صبر، حوصلے اور وقار کا مظاہرہ کیا اور مصائب کے پہاڑ ٹوٹنے کے باوجود شریعت کی حدود اور پردے کے تقاضوں کو برقرار رکھا۔
(11) کربلا ہمیں اتحادِ امت کا درس بھی دیتی ہے۔ مسلمان اگر اپنے اختلافات کو بھلا کر قران و سنت کے سائے میں جمع ہوجائیں تو کوئی طاقت انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
(12) حق کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، لیکن انجام کے اعتبار سے یہی کامیابی کا راستہ ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے ہمیں سکھایا کہ وقتی نقصان برداشت کیا جا سکتا ہے مگر اصولوں اور حق کا سودا نہیں کیا جا سکتا۔واقعۂ کربلا محض ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہے جو ہر دور کے مسلمانوں کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے عقیدے، کردار، عبادات اور معاملات میں حق و صداقت کو اختیار کریں اور باطل، ظلم اور ناانصافی کے خلاف ڈٹ جائیں۔ اگر مسلمان کربلا کے پیغام کو سمجھ لیں اور اپنی زندگیوں میں نافذ کر لیں تو انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر ان کی زندگیوں میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں امامِ حسین رضی اللہ عنہ، اہلِ بیتِ اطہار اور شہدائے کربلا کی سیرت و کردار سے سبق حاصل کرنے، ان کی قربانیوں کی قدر کرنے اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔







