22 جولائی 2026ء کو امیر العظیم اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے، اور یکم ستمبر 2021ء کو امام سید علی شاہ گیلانیؒ نے مقبوضہ کشمیر میں، زیر حراست علالت کے دوران اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ بظاہر دونوں شخصیات کی جدوجہد کے میدان مختلف تھے۔ ایک پاکستان میں اسلامی تحریک کا سرگرم کارکن، تنظیمی رہنما اور جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی سیکرٹری جنرل تھاجبکہ دوسرا کشمیر کی تحریک آزادی کا مردحر اور مزاحمت کی علامت۔ مگر دونوں کے درمیان ایک گہری قدرمشترک موجود تھی۔نظرئیے سے وفا، مقصد سے وابستگی اور آزمائش کے وقت استقامت۔امیر العظیم کی زندگی کسی عہدے یا منصب کی کہانی نہیں بلکہ کارکن سے قائد بننے کے ایک مسلسل سفر کی داستان تھی۔ طالب علمی اور طلبہ سیاست سے عملی جدوجہد کا آغاز، تحریک کے مختلف مراحل، قید و بند کی صعوبتیں، تنظیمی ذمہ داریاں، مرکزی ترجمانی اور پھر جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری،یہ تمام منازل اس بات کی گواہ ہیں کہ انہوں نے سیاست کو محض اقتدار کا وسیلہ نہیں سمجھا۔ ان کے لیے تنظیم ایک امانت اور کارکن ہونا ایک اعزاز تھا۔ بیماری اور کمزوری کے آخری ایام میں بھی ذمہ داری کا احساس ان کے ساتھ رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات صرف ایک تنظیمی عہدے دار کی وفات نہیں، بلکہ ایک ایسے سیاسی کارکن کی رخصتی تھی جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ نظریاتی وابستگی کے نام کر دیا۔امام سید علی گیلانیؒ بھی اسی قبیل کے مرد تھے۔ ان کی پوری زندگی غلبہ اسلام اورآزادی کشمیر کی جدوجہد میں گزری۔ جیلیں، نظر بندیاں، پابندیاں، مقدمات، سیاسی دباؤ، بڑھتی عمر اور بیماری ،کوئی آزمائش انہیں اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹا سکی۔ ان کی شخصیت کی سب سے نمایاں خصوصیت یہی تھی کہ انہوں نے حالات کے بدلتے ہوئے موسموں کے ساتھ اپنے اصولوں کو تبدیل نہیں کیا۔ان کی شخصیت کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی تدفین کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورت حال نے یہ تاثر مزید گہرا کیا کہ باطل اور قابض قوتوں کا ان کی شخصیت سے خوف ان کی زندگی تک محدود نہیں تھا۔ لیکن تاریخ کا اپنا ایک فیصلہ ہوتا ہے۔ جسم کو پابندیوں میں رکھا جا سکتا ہے، قبر کو لوگوں سے دور کیا جا سکتا ہے، آواز کو خاموش کیا جا سکتا ہے، مگر ایک ایسے شخص کے نظرئیے کو دفن نہیں کیا جا سکتا جس نے اپنی پوری زندگی اسی نظرئیے کی قیمت ادا کرتے ہوئے گزاری ہو۔یہی وہ مقام ہے جہاں امیر العظیمؒ اور سید علی گیلانیؒ ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔ دونوں نے اپنی اپنی سطح پر شخصیت سے زیادہ نظریے، مفاد سے زیادہ مقصد اور منصب سے زیادہ ذمہ داری کو اہمیت دی۔ دونوں کی زندگیوں میں کارکن کا تصور نمایاں تھا۔ فرق صرف میدان کا تھا۔۔ایک نے پاکستان میں اسلامی تحریک کی تنظیمی اور فکری جدوجہد کو اپنا میدان بنایا، دوسرے نے کشمیر میں اپنی قوم کے سیاسی مستقبل کے لیے مزاحمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔امیر العظیم سید علی گیلانیؒ کے مداح تھے۔ یہ محض کسی شخصیت سے عقیدت کا معاملہ نہیں تھا۔ شاید انہیں امام گیلانیؒ کی شخصیت میں وہی چیز سب سے زیادہ متاثر کرتی تھی جو خود ان کی اپنی زندگی کا بھی نمایاں وصف تھی یعنی حق کیلئے ڈٹ جانا۔ ایسے وقت میں جب سیاست میں نظریاتی وابستگی اکثر وقتی مصلحتوں کے سامنے کمزور پڑ جاتی ہے، امام گیلانیؒ کی استقامت اور امیر العظیم کی تنظیمی وفا دونوں اپنے اندر ایک سبق رکھتے ہیں۔یہ خصوصی شمارہ اگرچہ امام سید علی گیلانیؒ کے روحانی شاگرد سے منسوب ہے، لیکن یکم ستمبر، ان کے یوم وفات کے موقع پر خودامام گیلانیؒ کا ذکر نہ کرنا اس شمارے کے ساتھ ناانصافی ہوتی۔ شاگرد کی نسبت اپنی جگہ محترم ہے،مگر روحانی اور فکری نسبت کی اصل بنیاد وہ شخصیت ہوتی ہے جس کے کردار، فکر اور عمل سے شاگرد روشنی حاصل کرتا ہے۔ اس لیے یہ شمارہ دراصل استاد اور شاگرد، فکر اور عمل، ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک فکری ربط بھی ہے۔سید علی گیلانیؒ کو صرف کشمیر کے ایک سیاسی رہنما کے طور پر دیکھنا ان کی شخصیت کو محدود کرنا ہوگا۔ وہ ایک ایسے عہد کی علامت بن چکے ہیں جس میں نظریاتی سیاست کے لیے قیمت ادا کرنا پڑتی تھی۔امیر العظیمؒ اب ہمارے درمیان نہیں اورامام سید علی گیلانیؒ بھی ہم سے رخصت ہو چکے ہیں۔ مگر بعض لوگ رخصت ہو کر ختم نہیں ہوتے۔ وہ اپنے کردار، اپنی جدوجہد اور اپنے سوالات کے ذریعے زندہ رہتے ہیں۔ ایک نے تنظیمی وفا کی مثال چھوڑی، دوسرے نے مزاحمت میںبے مثال استقامت دکھائی۔ ایک نے کارکن کی زندگی کو عزت دی، دوسرے نے قید و بند کے باوجود اپنے موقف کی حفاظت کی۔یہ دونوں مردان وفا ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسان کا اصل قد اس منصب سے نہیں جس پر وہ فائز ہو، بلکہ اس اصول سے متعین ہوتا ہے جس پر وہ آخری دم تک قائم رہتا ہے۔کیا مسافر تھے جو اس راہ گزر سے گزرے۔آج جب یکم ستمبر ہمیں سید علی گیلانیؒ کی یاد دلاتا ہے اور امیر العظیم کی تازہ رخصتی ہمارے دلوں میں ان کی یاد تازہ کئے ہوئے ہے، تو ضرورت صرف تعزیتی کلمات دہرانے کی نہیں، بلکہ ان دونوں شخصیات کے چھوڑے ہوئے اخلاقی اور نظریاتی میراث پر غور کرنے کی ہے۔







