مفتی خالد عمران خالد

سوال: مفتی صاحب اگر ایک عورت اپنے شوہر سے زبردستی طلاق لینا چاہتی ہے ،اور خاوند طلاق دینا نہیں چاہتا ،اور اسی بحث و مباحثہ میں عورت گھر سے چلی جائے ،شریعت میں اسکا کیا حل ہے ،رہنمائی فرمائیں ،جزاک اللہ خیرا کثیرا
جواب:گر کوئی خاتون اپنے شوہر سے زبردستی طلاق لینا چاہتی ہو اور شوہر طلاق دینے کو تیار نہ ہو، تو شریعت مطہرہ کے مطابق طلاق نہیں ہوتی۔ طلاق شوہر کا حق ہے، عورت اسے زبردستی نہیں لے سکتی۔اس صورت میں شریعت کا درست حل خلع ہے۔ عورت کو چاہیے کہ سب سے پہلے خاندان کے بزرگوں یا محلے کے معتبر لوگوں کے ذریعے شوہر سے بات کروائے اور مصالحت کی کوشش کی جائے۔ اگر مصالحت نہ ہو تو عورت خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ خلع میں عورت عام طور پر اپنا مہر (اگر وصول ہوا ہو) یا کچھ مال و متاع واپس کر کے نکاح ختم کرا لیتی ہے۔خلع کے بعد عورت عدت گزارے گی اور پھر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔
اگر شوہر خلع پر راضی نہ ہو تو عورت شرعی عدالت (یا پاکستان میں فیملی کورٹ) سے خلع کی درخواست دے سکتی ہے۔ عدالت شوہر کو سننے کے بعد، اگر عورت کے پاس شرعی وجوہات ہوں تو خلع کا حکم دے سکتی ہے۔
گھر چھوڑ کر جانا نُشوز (شوہر کی نافرمانی) شمار ہو سکتا ہے، اس لیے عورت کو چاہیے کہ جب تک شرعی راستہ طے نہ ہو جائے، گھر سے نہ نکلے، بلکہ صبر و تحمل سے کام لے اور اللہ سے مدد مانگے۔اللہ تعالیٰ سب کے درمیان بہتری اور صلح پیدا فرمائے۔ آمین۔جزاک اللہ خیراً کثیراً۔
سوال :کیا نقد اور اقساط یا ادھار میں خرید و فروخت درست ہے
جواب :شریعت مطہرہ میں نقد اور ادھار (قسطوں پر) دونوں طرح کی خرید و فروخت جائز اور درست ہے۔ ادھار میں متعدد قسطیں رکھنا بھی بالکل درست ہے، اور یہ ضروری نہیں کہ پوری رقم ایک ہی مرتبہ متعینہ مدت پر وصول کی جائے۔ادھار (قسطوں) میں نقد کے مقابلے میں زیادہ قیمت رکھنا بھی جائز ہے، کیونکہ یہ بیعِ مؤجل (ادھار کی بیع) کی ایک قسم ہے جس میں بائع کو تاخیر کی وجہ سے اضافی قیمت ملتی ہے اور مشتری کو قسطوں کی سہولت۔ یہ سود نہیں ہے، بلکہ جائز تجارت ہے۔
اہم شرائط جو لازمی ہیں:مجلس عقد (سودے کی مجلس) میں ہی واضح طور پر طے کر لیا جائے کہ معاملہ نقد ہے یا ادھار/قسطوں پر۔
کل قیمت (مجموعی رقم) متعین ہو، قسطوں کی تعداد، ہر قسط کی رقم اور ادائیگی کی مدت بالکل واضح ہو۔
معاملے میں کوئی جہالت (ابہام) نہ رہے، یعنی کوئی چیز غیر واضح نہ ہو۔
کوئی شرط فاسد (جیسے تاخیر پر جرمانہ لگانا) نہ ہو۔ اگر تاخیر ہو تو صرف اصل واجب رقم وصول کی جا سکتی ہے، اضافی جرمانہ نہیں۔
سوال :کیامنی ایکسچین میں ملازمت جائز ہے یا نہیں وہاں ریال دیتے ہیں پاکستانی پیسے لیتے ہیں ڈالر دیتے ہیں پاکستانی پیسے لیتے ہیں اور ڈالر دیتے ہیں لیتے ہیں تو پاکستانی پیسے لیتے ہیں انہیں غیر ملکی کرنسی لیتے ہیں دیتے ہیں اس میں کام کرنا جائز ہے یا نہیں
جواب :اسٹاک ایکسچینج ،منی ایکسچینج ، بیمہ کمپنی اور بینک کی ایسی ملازمین جن کا تعلق براہ راست سودی لین دین یا کسی ناجائز کام سے ہو ان کا اختیار کرنا حرام اور ان پر ملنے والی تنخواہ کا بھی یہی حکم ہے جو ملازمت ایسی نہ ہو ان کو اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔
سوال:کیا وظیفہ کیا کسی عمل کرنے کے لیے کسی شیخ کی یا پیر کی اجازت ضروری ہے یا اپنے طور پہ خود بھی وظائف اور عمل کیا جا سکتا ہے شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیے
جواب شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں وظیفہ یا عمل پڑھنے کے لیے کسی شیخ یا پیر کی اجازت شرعاً لازم یا ضروری نہیں ہے۔ بغیر اجازت کے بھی مستند، قرآن و حدیث سے ثابت شدہ یا معتبر کتابوں میں مذکور وظائف اور اعمال کرنا جائز اور درست ہے۔البتہ بعض اوقات لوگ بزرگوں سے اجازت (اذن) اس لیے لیتے ہیں کہ:اپنے احوال کے مطابق مناسب اوراد کی تشخیص ہو۔کلمات کی ادائیگی، تلفظ اور اصلاح ہو۔بزرگوں کے تجربات کی روشنی میں مفید ہدایات مل سکیں۔فیض و برکت میں اضافہ ہو اور کیفیتِ باطنی میں ترقی ہو۔اسی کو ”اجازت“ کہا جاتا ہے۔حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒاسی نوعیت کے سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فائدے کی دو قسمیں ہیں: ایک اجر و ثواب، دوسری کیفیت باطنی۔ بلا اجازت پڑھنے سے اجر و ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ البتہ کیفیت باطنی میں فرق پڑ سکتا ہے، خصوصاً جب کوئی شخص شیخ سے تربیتِ باطن کا تعلق رکھتا ہو۔ (امداد الفتاویٰ وغیرہ)
سوال :کیا عملیات تعویذات میں اجازت کی کیا ضرورت ہے؟
جواب: عملیات دو قسم کی ہیں: ایک تو وہ جن کا اثر دنیاوی ضرورتوں کا پورا ہونا ہے۔ اس میں اجازت کا مقصد تقویتِ خیال (یعنی خیال کو مضبوط کرنا) ہے؛ کیوں کہ رواج اور عادت کی وجہ سے پڑھنے والے کو یہ اطمینان ہوجاتا ہے کہ اجازت کے بعد خوب اثر ہوگا۔ اور اثر ہونے کا دارو مدار قوت خیال پر ہے اور اجازت وغیرہ قوت خیال کا ذریعہ ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ اجازت دینے والے کی توجہ بھی اس کی طرف ہوجاتی ہے، اس سے اس کے خیال کے ساتھ ایک دوسرا خیال مل جاتا ہے جس سے عمل پڑھنے والے کے خیال کو تقویت پہنچتی ہے۔
دوسرے وہ اعمال جن کا ثمرہ اخروی ہوتا ہے (یعنی آخرت میں ثواب ہوگا) سو ایسے اعمال میں اجازت کی کوئی ضرورت نہیں، ثواب اور اللہ کا قرب ہر حالت میں یک ساں ہوگا اور اگر اس کو اجازت حدیث وغیرہ پر قیاس کیا جائے تو صحیح نہیں۔کیوں کہ وہاں اجازت سے سند کی روایت مقصود ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر شخص روایت کا اہل نہیں ہوتا۔ اسی طرح میرا خیال ہے کہ ہرشخص وعظ کا بھی اہل نہیں جس کی حالت پر اطمینان ہوجائے کہ وہ گڑبڑ نہ کرے گا اس کو اجازت دینا چاہیے۔
الغرض اخروی اعمال میں اجازت کے کوئی معنی نہیں، بلا اجازت بھی (ان اعمال کے کرنے سے) ثواب میں کمی نہ ہوگی۔ البتہ ماثور (یعنی مسنون) دعاؤں میں الفاظ واعراب کی تصحیح بھی مقصود ہوتی ہے، سو جس کو استعداد نہ ہو (جو صحیح نہ پڑھ سکتا ہو) اس کے لیے اجازت میں یہ مصلحت ہے کہ استاد صحیح کرادے گا، اور جس کو اتنی استعداد ہو کہ وہ خود صحیح پڑھ سکتا ہواس کو اس کی بھی ضرورت نہیں‘‘۔
سوال: کیا کھیل کھیلنا جائز ہے اور اس کی کیا شرائط ہیں کسی بھی کھیل کی شرعی طور پر ۔سنوکر گیم کے بارے میں آپ کی رائے
جواب :کسی بھی قسم کا کھیل جائز ہونے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے، ورنہ وہ کھیل لہو ولعب میں داخل ہو نے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہوگااوراس کی کمائی بھی حرام ہوگی :
1۔ وہ کھیل بذاتِ خود جائز ہو، اس میں کوئی ناجائزبات نہ ہو۔
2۔ اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت ہو مثلًا جسمانی ورزش وغیرہ ، محض لہو و لعب یا وقت گزاری کے لئے نہ کھیلا جائے۔
3۔ کھیل میں غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ کیا جاتا ہو، مثلاً جوا وغیرہ۔
4۔ کھیل میں اتنا غلو نہ کیا جائے کہ شرعی فرائض میں کوتاہی یا غفلت پیدا ہو۔
حاصل یہ ہے کہ اگر ”اسنوکر گیم“ میں مذکورہ خرابیاں پائی جائیں یعنی اس میں غیر شرعی امور کا ارتکاب کیا جاتا ہو یا اس میں مشغول ہوکر شرعی فرائض اور واجبات میں کوتاہی اور غفلت برتی جاتی ہو، یا اسے محض لہو و لعب کے لیے کھیلا جاتا ہو ( جیسا کہ عام طور پر سنوکر کلب میں یہ سب ہوتا ہے) تو اس طرح کا گیم کا کھیلنا جائز نہیں ہوگا اور نہ اس کی کمائی حلال ہوگی، اور اگر یہ خرابیاں نہ ہوں تو بھی ” سنوکر گیم“ کھیلنے میں نہ جسمانی ورزش ہے، نہ دینی یا بامقصد دنیوی فائدہ ہے ۔صورت مسئولہ میں سنوکر کھیلنےکاعام مروجہ طریقۂ کار وہی ہے کہ ہارنے والافرد یا جماعت اسنوکر کھیلنے کی قیمت کی ادائیگی کرتی ہے، اب چاہے اس کو وقت کی فیس ہی کیوں نہ کہا جائے، شرعی اعتبار سے یہ وہی جو ے کی رقم ہے جو ہارنے والی جماعت ادا کرتی ہے۔ مزید یہ کہ ایسے مقامات عام طور پر کئی قسم اخلاقی خرابیوں مثلامیوزک گانا بجانا لڑائی جھگڑا، گالم گلوچ وغیرہ کا مرکز ہوتے ہیں، نیز ایسے کھیلوں میں حصہ لینے والے عموما نمازوں سے غفلت کا شکار ہوتےہیں، ایسی صورت حال میں اسنوکر کلب کا کھولنا جوا اور غیر شرعی کاموں میں معاونت کرنا ہے، اس لیے اسنوکر کلب کھولنا جائز نہیں اور اس کی کمائی حلال نہیں ۔
سوال :بھائی مجھے ارجنٹ فتویٰ چاہیے آج ضروری ہے ۔میں والد صاحب کی وراثت میں حصہ لینا چاہتا ہوں اور الگ ہونا چاہتا ہوں لیکن میری والدہ نہیں مانتی نہ الگ ہونا اور نہ حصہ دینا۔ ان باتوں میں شریعت کا کیا حکم ہے ۔مولانا اس کا فتویٰ لینا ہے
جواب:بھائی، شریعتِ مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ والد کی وفات کے بعد میراث تمام ورثاء پر فرض ہو جاتی ہے۔ بیٹا والد کی جائیداد میں شرعی حصہ رکھتا ہے، لہٰذا آپ کو اپنے والد کی میراث میں سے اپنا حصہ مانگنے کا مکمل شرعی حق حاصل ہے۔ والدہ اس حصے سے انکار نہیں کر سکتیں۔والد کی تمام جائیداد (گھر، زمین، بینک بیلنس، کاروبار وغیرہ) میں شرعی ورثاء کا حق ہے۔ بیٹے کا حصہ واضح ہے۔ والدہ صرف اپنا شرعی حصہ (آٹھواں یا چھٹا، حسبِ صورتحال) رکھ سکتی ہیں، باقی ورثاء (بیٹوں، بیٹیوں) کو تقسیم کرنا ضروری ہے۔والدہ کا احترام، خدمت اور نگہداشت آپ پر فرض ہے۔ میراث کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی عزت، دل آزاری سے بچنا بھی ضروری ہے۔ والدہ کو گھر میں رہنے کا حق ہے جب تک وہ خود الگ رہنا نہ چاہیں۔اگر گھر مشترک ہے تو آپ اپنا حصہ الگ کرا کے الگ رہ سکتے ہیں۔والدہ کو مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ آپ کے ساتھ رہیں یا آپ ان کے ساتھ رہیں۔ الگ رہنے کا حق بھی ہے، لیکن والدہ کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک برقرار رکھنا لازم ہے۔سب سے پہلے والدہ سے نرمی اور احترام کے ساتھ بات کریں۔ انہیں بتائیں کہ یہ آپ کا شرعی حق ہے، نہ کہ ان کے خلاف بغاوت۔اگر وہ نہ مانیں تو خاندان کے بزرگوں یا معتبر علماء کو درمیان میں لائیں تاکہ مصالحت ہو۔پھر بھی نہ بنے تو شرعی عدالت یا فیملی کورٹ میں کیس کر کے اپنا حصہ الگ کروا سکتے ہیں۔ عدالت والدہ کو بھی سنے گی اور شرعی اصولوں کے مطابق فیصلہ کرے گی۔اللہ تعالیٰ آپ کے درمیان صلح و خیر پیدا فرمائے، میراث میں برکت دے اور ماں بیٹے کے رشتے کو مزید مضبوط کرے۔ آمین
سوال اگر کوئی بچہ مردہ پیدا ہو جائے تو اس کو غسل دیا جائے گا یا نہیں
جواب: اگر بچہ مردہ پیدا ہو یعنی پیدائش کے وقت زندگی کی کوئی علامت اس میں موجود نہ ہو، لیکن سارے اعضاء بن چکے ہوں تو ایسے بچے کا حکم یہ ہے کہ اس بچے کو غسل بھی دیا جائے گا اور نام بھی رکھا جائے گا، لیکن باقاعدہ مسنون کفن نہیں دیا جائے گا اور جنازہ کی نماز بھی نہیں پڑھی جائے گی، بلکہ یوں ہی کسی کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیا جائے گا۔






