غازی شہاب الدین شہیدؒ۔۔۔ایک عام مجاہد سے اعلیٰ کمانڈر بننے کا سفر
عبد الرشید ڈار
جموں و کشمیر کی سرزمین آزادی کی جدوجہد کی ایک زندہ مثال ہے۔ یہاں کے لوگوں نے بھارتی قبضے کے خلاف نہ صرف پرامن احتجاج کیا بلکہ جب ان کی آواز دبائی گئی تو بندوق اٹھا کر مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ 1987ء کےانتخابات میں بھارتی حکومت نے جمہوری عمل کو ناکام بنا کر کٹھ پتلی حکومت قائم کی، تو کشمیری نوجوانوں نے فیصلہ کیا کہ اب پرامن جدوجہد کا دور ختم ہوا۔ انہوں نے بھارت کے ظلم کا جواب طاقت سے دینے کا عزم کیا اور جہادِ کشمیر کا نعرہ بلند کیا۔ اس تحریک میں مرد، خواتین، بچے اور بوڑھے سب شامل ہوئے۔ ہر گھر سے قربانیاں دی گئیں، خون بہایا گیا اور عزت و ناموس کی حفاظت کے لیے لڑائی لڑی گئی
اس عسکری جدوجہد میں حزب المجاہدین کا کردار سب سے نمایاں رہا۔ یہ تنظیم اصولوں پر قائم رہی اور آزادی کی راہ میں ہزاروں جانوں کی قربانی پیش کی۔ حزب المجاہدین کے مجاہدین نے نہ صرف بھارتی فوج کے خلاف لڑائی لڑی بلکہ عوام کے دلوں میں آزادی کا جذبہ بھی پیدا کیا۔ انہی مجاہدین میں ایک ایسا نام ہے جو عام سے شروع ہو کر اعلیٰ کمانڈر تک پہنچا اور پھر شہادت کا جام نوش کر کے تاریخ کا حصہ بن گیا۔ وہ نام ہے عبدالرشید شہردار عرف غازی شہاب الدین شہیدؒ، جنہیں جہادی حلقوں میں کمانڈر اقبال کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

1974ء میں سرینگر کے قریب تحصیل کھنموہ کے ایک خوبصورت اور زرخیز علاقے میں ایک دیندار گھرانے میں عبدالرشید شہردار کی پیدائش ہوئی۔ ان کے والد محمد یوسف شہردار اسلامیہ ہائی سکول کھنموہ کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ گھر کا ماحول مکمل طور پر دینی تھا۔ والدین نے بچے کی تربیت بڑی محنت سے کی۔ پانچ سال کی عمر میں ہی والد صاحب نے انہیں اپنے سکول میں داخل کر دیا۔ عبدالرشید نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی اور پھر گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول کھنموہ سے بارھویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔
تعلیم کے دوران وہ صرف کتابیں نہیں پڑھتے تھے بلکہ کھیلوں اور تقریری مقابلوں میں بھی حصہ لیتے۔ علاقے کی مساجد میں جمعہ کے خطابات کرتے، جس سے ان کی عوامی رابطے کی صلاحیت بڑھتی گئی۔ علاقے میں جماعت اسلامی کا اثر بہت تھا اور تقریباً پورا علاقہ تحریکِ اسلامی کا ہمدرد تھا۔ اسی پس منظر کے ساتھ اور اسی دوران عبدالرشید شہردار نے جوائنری مل پانپور میں ملازمت اختیار کی۔ ملازمت کے دوران بھی وہ تبلیغی کام جاری رکھتے۔ لوگوں کو دین کی طرف بلاتے اور اسلامی اقدار کی ترویج کرتے۔
جب کشمیر میں آزادی کی تحریک نے ایک نئی شکل اختیار کی اور جہاد کا اعلان ہوا تو عبدالرشید شہردار نے اپنی تمام سرگرمیاں جہاد کے لیے وقف کر دیں۔ ان کی صلاحیتوں، دیانتداری اور قیادت کے جوہر کو دیکھتے ہوئے حزب المجاہدین کی قیادت نے انہیں مقامی سطح پر عسکری ذمہ داریاں سونپیں۔ انہوں نے مقامی طور پر ہی عسکری تربیت حاصل کی تھی۔جب انہیں سیکشن کمانڈر بنایا گیا تو ان کا جہادی نام “اقبال” رکھا گیا۔ یہ نام ان کی اپنی پسند کا تھا کیونکہ وہ علامہ اقبالؒ کے کلام اور فکر سے بہت متاثر تھے۔ کمانڈر اقبال شہردار نے اپنے عہدے کی ذمہ داریاں بڑی جرأت سے نبھائیں۔ ان کا سب سے یادگار کارنامہ حضرت بل درگاہ سرینگر سے نیشنل کانفرنس کے تسلط کو ختم کرنا تھا۔ حضرت بل کشمیریوں کی روحانی مرکز ہے۔ کمانڈر اقبال نے وہاں کھڑے ہو کر ہزاروں لوگوں کو جہاد کی دعوت دی۔ اس کے بعد درگاہ ایک جہادی مرکز بن گئی۔
کمانڈر اقبال کا پورا خاندان تحریک آزادی اور جماعت اسلامی سے وابستہ تھا۔ ان کے بہنوئی ہارون الرشید شہید حزب المجاہدین کے ابتدائی ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹر برائے سرینگر تھے۔ ان کی شہادت کے بعد بھی خاندان نے مزید نوجوانوں کو جہاد کی راہ میں پیش کیا۔ یہ خاندان قربانیوں کی مثال بنا۔کمانڈر اقبال نے مختلف محاذوں پر لڑائی لڑی اور اپنی صلاحیتوں سے ترقی کی منازل طے کیں۔ وہ بٹالین کمانڈر کے عہدے تک پہنچ گئے۔ بھارتی فوج ان سے اتنا خوفزدہ تھی کہ وہ علاقے میں کریک ڈاؤن کرتے ہوئے صرف اقبال شہردار کا پوچھتے۔ انہوں نے سینکڑوں نوجوانوں کو عسکری تربیت کے لیے بیس کیمپ بھیجا۔ یہ سلسلہ ان کی شہادت تک جاری رہا۔1998ء میں وہ بیس کیمپ گئے اور وہاں حزب المجاہدین کی اعلیٰ قیادت نے انہیں اہم ذمہ داریاں سونپیں۔ وہ ناظم دفتر رہے اور پھر شعبہ ٹرانسپورٹ کے ناظم بھی بنے۔ ہر جگہ انہوں نے دیانتداری، امانتداری اور انتظامی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ کیمپوں میں جاتے تو اپنی منفرد آواز اور طرزِ گفتار سے مجاہدین میں جہاد کا جذبہ اور شوقِ شہادت پیدا کرتے۔
جو لوگ ان کے قریب رہے، وہ بتاتے ہیں کہ کمانڈر اقبال غصہ کبھی نہیں کرتے تھے۔ ہمیشہ مسکراتے رہتے۔ سنجیدہ، بردبار، حلیم اور شفیق مزاج کے مالک تھے۔ بچوں سے بہت پیار کرتے۔ انہیں گود میں اٹھا کر چومتے اور کھیلتے۔ ان کی یہ نرم دل طبیعت انہیں عوام اور مجاہدین دونوں کا محبوب بناتی تھی۔وہ لڑائی کے میدان میں بھی پینترے بدل بدل کر دشمن سے ٹکر لیتے۔ آخری لمحات میں جب ان کے پاس گولیاں ختم ہو گئیں تو دشمن کی گولیاں ان کے سینے پر لگیں۔ وہ اللہ کی جنت کی طرف چلے گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

ان کی شہادت کی خبر پھیلتے ہی لوگوں کا ایک سمندر اُمڈ آیا۔ ہزاروں لوگوں نے اشک بار آنکھوں سے ان کا آخری دیدار کیا اور انہیں کھنموہ میں اپنے آبائی قبرستان میں دفن کیا۔ منظر بہت روح پرور تھا۔ خوشبوئیں فضا میں بکھر رہی تھیں۔ ان کے معصوم بچے، جو ابھی آٹھ سال کے تھے، اپنے باپ کو جنت کا دولہا بن کر جاتے دیکھ رہے تھے۔ یہ منظر صبر، عظمت اور قربانی کی مثال تھا۔ایسی جدائی کا اجر صرف آزادی اور جنت ہی ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قربانی قبول فرمائے، حزب المجاہدین کو ان کا نعم البدل عطا کرے اور کشمیری قوم کو آزادی اور اسلام کے نور سے منور کرے۔ آمین۔
کشمیر کی تحریک آزادی کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی پس منظر کو دیکھنا ضروری ہے۔ 1947ء کے بعد سے کشمیر متنازعہ علاقہ رہا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود بھارت نے وعدوں کی خلاف ورزی کی۔ 1987ء کے انتخابات میں دھاندلی نے آگ بھڑکا دی۔ کشمیریوں نے پہلے پرامن مظاہرے کیے لیکن بھارتی فوج اور نیم فوجی دستوں نے انہیں کچل دیا۔اس کے بعد نوجوانوں نے عسکری راستہ اختیار کیا۔ حزب المجاہدین جیسی تنظیموں نے منظم جدوجہد شروع کی۔ سید علی گیلانیؒ جیسے رہنماؤں نے سیاسی اور عوامی سطح پر آواز بلند کی۔ ہر طبقے نے قربانی دی۔ مالی مدد، جانی قربانیاں، عزت و عصمت کی حفاظت — سب کچھ شامل ہے۔حزب المجاہدین نے شروع سے اصولوں پر قائم رہ کر جدوجہد کی۔ اس کے مجاہدین نے بھارتی فوج کے خلاف متعدد کارروائیاں کیں۔ عام کارکن سے لے کر اعلیٰ قیادت تک ہزاروں شہید ہوئے۔ ان شہداء نے اسلام کی عظمت، کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی بقا جیسے اہداف کے لیے لڑائی لڑی۔

غازی شہاب الدین شہید کا سفر ایک عام نوجوان سے اعلیٰ کمانڈر تک کا سفر ہے۔وہ سید صلاح الدین ٓحمد کے بہت ہی قریبی اور با اعتماد ساتھی تھے ۔ انہوں نے تبلیغ سے شروع کیا، پھر جہاد میں شامل ہوئے۔ سیکشن کمانڈر سے بٹالین کمانڈر تک پہنچے۔ ان کی قیادت میں سینکڑوں نوجوان تربیت پا کر میدان میں اترے۔وہ نہ صرف اعلیٰ جنگجوتھے بلکہ ایک اچھے منتظم بھی۔ دفتر، ٹرانسپورٹ اور کیمپوں کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
مجاہدین کو اخلاقی تربیت بھی دیتے۔ ان کی مسکراہٹ اور حلیم طبیعت انہیں الگ پہچان دیتی تھی۔ دشمن ان سے خوفزدہ تھا کیونکہ وہ علاقے کے نوجوانوں کو منظم کر رہے تھے۔ان کی شہادت۔۔۔مئی 2004ء میں ہوئی جب بھارتی فوج کے ساتھ ایک مقابلے میں انہوں نے آخری سانس تک لڑائی لڑی۔ وہ اس وقت چیف آپریشنل کمانڈر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے تھے۔
کشمیر میں ہزاروں غازی شہاب الدین جیسے مجاہدین نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی قربانیاں بے سود نہیں جائیں گی۔ شہداء کا لہو آزادی کے درخت کو سیراب کرتا ہے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا:”مقصد کے لئے جو بہہ جائے، وہ پاک لہو سستا تو نہیں۔۔۔ہر روز اُفق پر سجتا ہے، شہداء کا لہو چھپتا تو نہیں”۔۔۔یہ قربانیاں کشمیری قوم کو متحد رکھتی ہیں۔ بچے اپنے والد کی کہانیاں سن کر بڑے ہوتے ہیں۔ خواتین صبر کا پہاڑ بن کر گھر سنبھالتی ہیں۔
غازی شہاب الدین شہیدؒ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک عام انسان بھی اگر عزم اور ایمان کے ساتھ آگے بڑھے تو تاریخ بدل سکتا ہے۔ ان کا سفر تبلیغ سے جہاد تک، سیکشن کمانڈر سے چیف کمانڈر تک، اور پھر شہادت تک کا سفر ایک مثالی سفر ہے۔آج بھی کشمیر میں جدوجہد جاری ہے۔ بھارتی ظلم جاری ہے لیکن کشمیریوں کا حوصلہ بلند ہے۔ حزب المجاہدین جیسے مجاہدین کے حوصلے بلند ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام شہداء کی قربانیاں قبول فرمائے، کشمیر کو آزادی عطا کرے اور امت مسلمہ کو اتحاد کی توفیق دے۔ آمین۔






