
علامہ یوسف القرضاوی
حضرت ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین قسم کے آدمیوں سے بات نہیں کرے گا اور نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کرے گا، نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا اور ان کو درد ناک عذاب ہوگا `1۔بوڑھا (ہونے کے باوجود) زنا کرنے والا۔ 2۔جھوٹ بولنے والابادشاہ3۔تکبر کرنے والا فقیر۔‘‘(مسلم ،کتاب الایمان )
اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں سے صرف فتح و نصرت ہی کا وعدہ نہیں کیا ہے، بلکہ اپنے وعدۂ نصرت کی تکمیل کے لیے اس نے کافروں کی چالوں، اسلام اور اہلِ اسلام سے متعلق ان کی سازشوں اور نورِ اسلام کو بجھا دینے کی ان کی کوششوں کو ناکام بنادینے کا وعدہ بھی فرمایا ہے۔ تاریخ اس امر پر گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے کافروں کی چالوں کو خود انہی پر الٹ دیتا ہے اور ان کے زہر آلود تیروں کو خود انہی کے سینوں میں پیوست کردیتا ہے۔ یہ اللہ جل شانہٗ کا وعدہ ہے، اور وہ اپنے وعدے کے خلاف کوئی کام نہیں کرتا۔سورۃ ’’الطارق‘‘ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’یہ لوگ کچھ چالیں چل رہے ہیں اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں، پس اے نبیؐ! چھوڑدو ان کافروں کو، انہیں ایک ذرا سی مہلت دے دو۔‘‘ (17-15)
اسی طرح ’’سورۃ الانفال‘‘ میں ارشاد ہوتا ہے: ’’وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا، اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔‘‘ (30)
اور اسی وعدۂ الٰہی کا اظہار سورۃ یونس کے اندر موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے یوں ہوتا ہے۔ موسیٰؑ نے کہا: ’’یہ جو کچھ تم لائے ہو، یہی دراصل جادو ہے‘‘، اللہ ابھی اسے باطل کیے دیتا ہے، مفسدوں کے کام کو اللہ سدھرنے نہیں دیتا اور اللہ اپنے حکم سے حق کو حق کر دکھاتا ہے، خواہ مجرموں کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو‘‘۔(82-81)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانفال میں اُن لوگوں کا انجام بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے جو اپنے مال اور اپنی ساری جدوجہد لوگوں کو اسلام سے باز رکھنے کے لیے صرف کرتے ہیں: ’’بلاشبہ جن لوگوں نے حق کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے، وہ اپنے مال اللہ کے راستے سے (لوگوں کو) روکنے کے لیے صرف کررہے ہیں، وہ ابھی اور خرچ کرتے رہیں گے، مگر آخرکار یہی کوششیں ان کے لیے افسوس کا باعث ہوں گی، پھر وہ مغلوب ہوں گے‘‘۔ (36)
ایک اور جگہ ارشادِ ربانی ہے: ’’اے محمدؐ! جن لوگوں نے تمہاری دعوتِ حق کو ماننے سے انکار کیا ہے، ان سے کہہ دو کہ قریب ہے وہ وقت، جب تم مغلوب ہوجائوگے اور جہنم کی طرف ہانکے جائوگے، اور جہم بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ تمہارے لیے ان دو گروہوں میں ایک نشانِ عبرت تھا، جو (بدر میں) ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافر تھا۔ دیکھنے والے کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دوچند ہے، مگر (نتیجے نے ثابت کردیا کہ) اللہ اپنی فتح و نصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے‘‘ (آل عمران،13-12)
مذکورہ بالا آیت میں جن دو گروہوں کا ذکر ہوا ہے، ان میں ایک گروہ مومنین کا اور دوسرا کافروں کا تھا۔ ان دونوں کی مڈبھیڑ مقامِ بدر پر ہوئی تھی۔ کفر کے مقابلے میں اسلام کی اس پہلی جنگ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو ان کی قلتِ تعداد، اسلحے کی اور جنگی تیاریوں کی کمی کے باوجود کافروں پر غلبہ عطا فرمایا تھا۔ اس فتح و نصرت کا بنیادی عنصر وہ مضبوط ایمان اور راہِ حق میں ان کی ثابت قدمی تھی جس سے اللہ نے انہیں سرشار کیا تھا، اور مزید برآں، اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کی حمایت کے لیے اپنی فوج بھی اتاری اور دشمنوں کے دلوں میں ان کا رعب ڈال دیا، اور دستِ قدرت نے مسلمانوں کے ساتھ وہ معاملہ کیا جو ظاہری اسباب سے بالاتر تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا، اور تُونے (خاک) نہیں پھینکی بلکہ اللہ نے پھینکی (اور یہ سب کچھ اس لیے ہوا) تاکہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزاردے۔‘‘ (الانفال:17)
اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے مشہور قبیلے بنو نضیر کی مدینے سے جلاوطنی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ’’وہ اللہ ہی ہے جس نے اہلِ کتاب کافروں کو پہلے ہی حملے میں ان کے گھروں سے نکال باہر کیا، تمہیں ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے، اور وہ بھی یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ (کی مار) سے بچالیں گے۔ مگر اللہ ایسے رخ سے ان پر آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ گیا تھا۔ اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے گھروں کو برباد کررہے تھے اور مومنوں کے ہاتھوں سے بھی برباد کروا رہے تھے۔ پس عبرت حاصل کرو، اے دیدۂ بینا رکھنے والو۔‘‘ (الحشر:2)
یہ دراصل قدرتِ الٰہی کی کار فرمائی تھی جس کی عمل داری ظاہری اسباب کے اندر بھی ہوتی ہے اور اسباب و عوامل سے ماورا بھی ہوتی ہے۔ اور اللہ کی قدرت ہمیشہ اپنے مومن بندوں پر سایہ فگن رہتی ہے تاکہ انہیں کفر کی طاقتوں پر غلبہ و تمکن نصیب ہو اور ان کے ذریعے کلمۂ حق بلند ہو۔ِ
کلمۂ حق کی سربلندی کے لیے کسی پسندیدہ قوم کا انتخاب
اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں دینِ اسلام سے مرتد ہونے والوں کو دھمکی دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ لوگ اپنے اس رویّے سے اللہ کے دین کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے۔ ان کے ارتداد اور دینِ حق سے ان کی بے زاری کے سبب اسلام کی عمارت ہرگز منہدم نہیں ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ذمہ داری لے لی ہے کہ اس دین کی حفاظت و اقامت کے لیے ہمیشہ مضبوط اہلِ ایمان کی ایک نسل کو باقی رکھے گا، اور یہی وہ نسل ہوگی جو مرتدین اور دین بیزاروں سے مقابلہ کرے گی اور خود دینِ اسلام پر مضبوطی سے قائم ہوگی۔ ان کے اور ان کے رب کے درمیان محبت کا تعلق ہوگا۔ اہلِ ایمان کے ساتھ ان کا رویہ ہمیشہ ہمدردانہ و رحم دلانہ ہوگا اور کافروں اور سرکشوں کے ساتھ ان کا معاملہ سخت ہوگا۔ یہ شر اور کفر کے علَم برداروں کے ساتھ جہاد کریں گے۔ اللہ کے نزدیک پسندیدہ گروہ کے یہ وہ بنیادی اوصاف ہیں جنہیں قرآن نے مومنوں کو بشارت دیتے ہوئے اور مرتدین کو خوف زدہ کرتے ہوئے نمایاں کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے ایمان لانے والو! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے)، اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کردے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا، جو مومنوں کے لیے نرم خو اور کفار کے لیے سخت گیر ہوں گے، جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے‘‘ (المائدہ، 54)
مذکورہ بالا آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے علامہ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس آیت کے اندر اپنی عظیم قدرت کی خبر دے رہا ہے، اور اس بات سے خبردار کررہا ہے کہ جو لوگ اس کے دین کی نصرت اور اس کی شریعت کی اقامت سے روگردانی کریں گے اللہ اُن کی جگہ ایسے لوگوں کو سامنے لائے گا جو اس کے دین و شریعت کی نصرت و اقامت کے لیے اُن سے بہتر ہوں گے۔ وہ اللہ کے دین کی سختی سے حفاظت کریں گے اور خود ان کی زندگی بھی راستی کی علامت ہوگی۔ اپنی اس سنت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں کیا ہے: ’’اگر تم منہ موڑوگے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے‘‘ (محمد:38)۔ اور الانعام میں فرمایا ہے: ’’اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹاکر تمہاری جگہ دوسرے جن لوگوں کو چاہے لے آئے جس طرح اس نے تمہیں کچھ اور لوگوں کی نسل سے اٹھایا ہے‘‘ (133)۔ اسی طرح سورۃ ابراہیم میں ارشاد ہوتا ہے:’’وہ چاہے تو تم لوگوںکو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے۔ ایسا کرنا اس پر کچھ بھی دشوار نہیں ہے۔‘‘ (20-19)
غلبہ اسلام کی قرآنی بشارتوں میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول بھی ہے: ’’عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی، یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے‘‘۔ (حم السجدۃ:53)
یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو ہر زمانے میں ظاہر ہوتا رہتا ہے، جس کا ہم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں اور جسے ہم اپنے کانوں سے آئے دن سنتے ہیں، اور اس وعدۂ الٰہی کی حقانیت کو اپنے دلوں میں محسوس کرتے ہیں۔






