محمد احسان مہر
نریندر مودی تل ابیب ایئر پورٹ پر جس طمطراق سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے زبردستی گلے مل (جپھی ڈال) رہے تھے عالمی میڈیا پر اسکا چرچا توہونا ہی تھا،یہ ملاقات 2 عالمی دہشت گرد ریاستوں کے سربراہان کی اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کے تناظر میں مشترکہ ماضی،حال اور مشترکہ مستقبل کی نظریاتی وابستگی عیاں کرنے کیلئے کافی مقبول ثابت ہوئی،اسلام اور مسلمانوں سے نفرت اور تعصب کی بنیاد پردنیا کے امن و سلامتی کو عدم واستحکام سے دو چار کر کے جس طر ح امریکہ اور اسرائیل نے مشرق وُسطیٰ کوتباہی کے دھانے پر لاکھڑا کیا ہے بھارتی وزیر اعظم مودی بھی فطری طور پراس تباہی وبربادی کے گٹھ جوڑ سے کسی طرح جنوبی ایشیاء کو بھی پیچھے نہیں رکھنا چاہتے۔

مودیـــ بھارت میںسیاسی، آزادی اظہار رائے اور اختلافی آوازوں کودبانے کیلئے (U,A,P,A ) جیسے کالے ْقوانین کاسہارا لیکراب کشمیری خواتین رہنمائوں کو بھی سزائیں دے رہے ہیں،مودی گجرات کے قصائی کے طور پر کوئی کم شہرت نہیں رکھتے لیکن پھر بھی وہ عالمی دہشت گرد(عالمی عدالت انصاف کو مطلوب )نیتن یاہو سے جَپھی ڈال کرمسلمانوں سے نفرت ، تعصب اور فطری اتحادی ہونے کا پیغام دے رہے ہیں، نفرت اور تعصب کی ایسی ہی ایک مثال اس وقت سامنے آئی جب دہلی کی عدالت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں سیاسی، اختلافی اور حق خود ارا دیت کی آوازوں کودبانے کیلئے62سالہ آسیہ اندرابی کو عمر قید ، اور ان کے ساتھ بھارتی جیلوں میں قید فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 30؍30سال کی سزا سنا دی،یہ کشمیری خواتین رہنمااورکشمیری لیڈر شبیر شاہ ، ڈاکٹرقاسم فکتو3دہائیوں سے زائد عرصے سے بھارتی جیلوں میں قید ہیں، ہندئو توا نظریات کے نیچے دبی بھارتی عدالتیںغیر منصفانہ طریقے سے کشمیریوں کو سزائیںسنا کر جنوبی ایشیائی خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا سبب بن رہی ہیں۔ مودی کی حکومت نے جب پہلے ہی بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کیلئے عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے ایسے میںکشمیری رہنمائوں کو غیر منصفانہ سزائیں دینے کا بھارتی اقدام خطے کومزید عدم استحکام کی طرف دھکیل کر بڑے خطرات سے دوچار سکتا ہے،مسلمانوں کے ساتھ تعصب برتنے، اُنہیں سیاسی اور معاشی طور پر پیچھے دھکیلنے پر ہندو توا بھارتی سرکار کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے ۔مشرق وُسطیٰ میں امریکہ کی نکیل پکڑکر اسرائیل نے خلیجی ریاستوں میں تباہی وبربادی کے جو( گُل) کھلائے ہیں، نریندر مُودی بھی جنوبی ایشیاء میں اُسی نفرت اور سازشوں کے درمیان؛ کشیدہ حالات میں؛ پہلگام واقعہ کی طرز پر کسی نئے فالس فلیگ آپریشن کی کوششوں میںمصروف نظر آتے ہیں ، آگ سے کھیلنے جیسے خطرناک بھارتی عزائم اسکی چھوٹی سی غلطی سے پورے خطے کو جنگ کے انگاروں پر دھکیل سکتے ہیں، یہ واضح رہے کہ پہلگام واقعہ کے بعد 2800 سے زائد کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے، میڈیاء اطلاعات کیمطابق اس(آپریشن) کیلئے کشمیر میں گرفتار اور بھارتی جیلوں میں قید بے گناہ مسلمان قیدیوں کو بھی بھارتی(مذموم مقاصد)کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ آپریشن سُندور کے نتیجے میں بھارت اس کی ایک فصل کاٹ بھی چکا ہے۔ لیکن بھارت داخلی کمزوریوں کو چھپانے اور بیرونی کشیدگی بڑھانے کیلئے بلاجواز ہوا دے رہا ہے ۔نریندر مودی یتن یاہو سے جپھی ڈال کرمسلمانوں کو تباہی وبربادی کا جو پیغام دینا چاہ رہے ہیں اس سے کون واقف نہیں، مودی؛ ہندوء توا نظریات اور فسطایت کے پیغام کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوںکے ساتھ ظلم وناانصافی کا جو ماحول بنا رہے ہیں مستقبل قریب میں وہ بھارت کو بھی مہنگا پڑنے والا ہے۔بھارت کی ،متعدد ریاستوں میں علیحدگی پسندتحریکیں اور سکھ برادری کامختلف ممالک میں بھارت سے علیحدگی کیلئے ریفرنڈم کا انعقاد سنجیدہ حالات کی نوعیت سمجھنے کیلئے کافی ہے ۔لیکن اُس وقت شایدیہ (مودی) اقتدار میں نہ ہو ،اس طرح مودی، نیتن یاہو کی جپھی عالمی امن کیلئے خطرہ تو ہے ہی یہ بھارت کو بھی مہنگی پڑ سکتی ہے۔بھارت میں ہندو انتہاء پسند گروہ مساجد ،چرچ پر حملوں ، مسلمانوں پر تشدد میں ملوث پائے گئے ہیں۔بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مسلمانوں کوشناخت کرکے ریاست سے چُن چُن کر بے دخل کرنے ا ور اُونچی آواز میں عبادت پر پاپندی کا فیصلہ کیا ہے، پُر تشدد ہجوم کے ہاتھوںمسلمانوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور تشدد کے واقعات کو عالمی برادری سے چھپایا نہی جاسکتا،اور ایسے واقعات کو جب سرکاری سر پرستی حاصل ہوتویہ بھارت کے اندرونی استحکام کے لیئےزیادہ خطرناک ہو سکتا ہے، لیکن عالمی برادری کے سامنے بھارت میں غیر قانونی اقدام رپورٹ کرنا ، مسلمانوں اور اقلیتو ں کیخلاف جرائم کی رپوٹنگ کرنے پر صحافیوںکو دھمکیوں اور مقدمات کاسامنابھی کرنا پڑ رہا ہےبھارت، اسرائیل ریاستی گٹھ جوڑ کی دوسری مثال اُس وقت سامنے آئی جب دہلی کی عدالت کشمیری رہنمائوںکو غیر منصفانہ سزائیں سنا رہی تھی اُس وقت اسرائیل میں فلسطینیوں کو سزائے موت کا قانون منظور کیا جارہا تھا،اور یہ کیسا بھونڈا اتفاق ہے کہ جسطرح ناجائز اسرائیلی ریاست کی کوئی قانونی سرحد نہیں،اسی طرح مودی کی اخلاقی حدود و قیود کی کوئی حد نہیں ، لیکن پھربھی گریٹر اسرائیل اور اکھنڈبھارت کاسپنادیکھتےہوئےوہ(دونوں)ذرانہیں شرماتے۔

بھارتی سرکار اور مودی کے غیر اخلاقی، غیر قانونی اقدامات کی عالمی سطح پر سُبکی اورسفارتی تنہائی سے مایوس حالات :کی نشاندہی کرتے ہوئے انڈین نیشنل کانگرس پارٹی کی ترجمان سپریاشیرنت مودی پربرس پڑیں، اور( سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے) کہنے لگیں کہ مودی جی کا کھی،کھی کر کے ایک پاگل کے ساتھ پاگل پن اور زبردستی سے گلے ملنا اور فوٹو کھنچوانے نے بھارت کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔۔۔ ایران امریکہ،اسرائیل جنگ کی شدت کے حساس ترین موقع پرجنگ بندی کیلئے پاکستان کی عالمی سطح پر مضبوط، کامیاب سفارتکاری کے دوران بھارت کی خاموشی بھی عالمی اور علاقائی سطح پر بھارت کے امن واستحکام کے کردار پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ B,B,C کے مطابق مودی حکومت اسرائیل کے قریب سفارتی توازن برقرار نہ رکھ سکی، مودی پاکستان کو تنہا کرنا چاہتے تھے لیکن خود تنہا ہو گئے،بھارت کی خارجہ پالیسی کا اسرائیل کی طرف جھکائو، 2ارب ڈالر کا اسلحہ خریداری ،انٹیلی جنس فراہمی کا معاہدہ ،توسیع پسندانہ (اکھنڈ بھارت) عزائم ، ہمسایہ ممالک میں بے جا مداخلت، اقوام متحدہ کی قرادادوںکو نظر انداز کرنا، کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، سیاسی قدغن اور زبان بندی ،ماورائے عدالت قتل، بھارت کی ریاستی دہشتگردی ،مشرق وُسطیٰ کی جنگ سے چند دن پہلے مودی کادورہ اسرائیل اورجنگ کی حمایت نے بھارت کو ایک نئے (عالمی تنہائی)کے بحران میں دھکیل دیا ہے۔ ا یک ایسے وقت جب مشرق وسطیٰ کا تنازعہ تیسری عالمی جنگ کی طرف تیزی سے بڑھ رہا تھا،دو طرفہ رابطوں اور اعتماد سازی سے ایران، امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کا ڈپلومیسی (پیغامات کی تبادلہ سازی) کا کرداراورفریقین کا اسلام آباد میں مذکرات کے آغازسے پاکستان نے دنیا میں امن و سلامتی کے پیغام اور خطے کی ترقی وخوشحالی کی بنیاد رکھ دی ہے ، اقوام متحدہ ،چین ،روس، یورپی یونین اور دنیا بھر کے ممالک پاکستان کی تعمیری ثالثی کے کردار اور مخلصانہ کوششوں کے معترف ہیںکہ پاکستان نے عالمی تجارت، معیشت ،توانائی کے بحران پر قابو پانے او ر قیمتی انسانی جانوں کوبچانے کیلئے ایک مثبت اورذمہ دارانہ ریاست کا کردار ادا کیا ہے،ایران،امریکہ جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے ہی پاکستان کی سفارتی کوششوںاور ثالثی میں بڑی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیل ،لبنان جنگ بندی کے اعلان کے بعدایران نے بین الاقوامی سمندری گزگاہ؛ آبنائے ہُرمز؛ کھولنے کا اعلان کردیا،جس کے فوری بعد امریکہ نے ایران کے منجمداثاثوں سے20 ارب ڈالر کے اثاثے جاری کرنے کا اعلان کیا ہے،امریکی میڈیا کے مطابق اسکے بدلے میںایران افزودہ یورینیم کے ذخائر سے دستبردار ہو گا، لیکن صدر ٹرمپ کسی بھی مالی لین دین کی نفی کررہے ہیں، بحرحال یہ طویل پراسس ہوگا،ظاہر ہے 47سال کے تنازعات حل ہونے میں وقت تولگے گا۔


مشرق وُسطیٰ میں گریٹر اسرائیل کی ادھوُری خواہش فلسطینیوں کی نسل کشی،غزہ کی تباہی،خطے کے امن واستحکام کوباربارخطرات سے دوچار کرنے جیسے اسرائیلی مکروہ عزائم کے پیچھے امریکی پشت پناہی نے عالمی برادری کوامریکی کردار اور اسرائیل سے بیزار کر دیاہے، ہو سکتا ہے عالمی برادری امریکی اجارہ داری کے بغیر کسی نئے نظام کی طرف نکل آئے ۔ بھارت کی دنیا بھر میں منفی سرگرمیاں،کشمیر میںغیر قانونی اقدامات ، بنیادی انسانی حقوق اورعالمی قوانین کی خلاف ورزیاںعالمی سطح پر تنہائی کا سبب بن رہی ہیں، نیتن یاہو اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے کہ دوسروں کے گھرو ںمیں بم پھوڑنے سے شُرلیاں اپنے گھر کا بھی رُخ کر سکتی ہیں،لیکن نیتن یاہو سے جپھی کا خمار (شائید) مودی ابھی تک نہیں بھول پائے،اور کشمیری رہنمائو کو سزائیں سنا کرخطے میں اشتعال انگیز صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔اب جبکہ علاقائی طاقتیں مشرق وسطیٰ کی جنگ سے باعزت امریکی واپسی کی راہیںہموار کر رہیں ہیں ،اورمودی اُسی خمار میں مدہوشــ لیکن کسی گمشدہ اکھنڈبھارت کے سپنےکوٹوٹتاہوا دیکھ رہے ہیں،وہ سوچ رہے ہوں گے کہ جدیدترین دفائی نظام ، طاقتور بحری بیڑے ، دنیا کی سپر پاوراور اس کے ؛بگڑے بغل بچے ؛کا 5 دہائیوں سے مالی ،عسکری ، معاشی اور اقتصادی پابندیوں میں جکڑے ایران نے ایسی دُرگت بنائی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کُھل کر رو سکتے ہیں نہ کسی کو بتا سکتے ہیں۔مشرق وسطیٰ کی جنگ تنازع سےزیادہ ایک ضد تھی،جوصہیونی اورعالمی استعماری طاقتوں نے حقائق نظر انداز کر کے اپنے دل میں پال رکھی ہے، جو مسلمانوں کوجدید ٹیکنالوجی ،مالی خود انحصاری اور دفاعی میدان میں خود کفیل نہیں دیکھ سکتے ،ویسے بھی جب بندرنے فصل اجاڑنا ہوتی ہے تو وہ کچے ،پکے پھل تھوڑی دیکھتا ہے۔جنوبی ایشیاء میں بھارت بھی کشمیر کی آئینی،قانونی ،جغرافیائی حقیقت اور نظریاتی رجحان نظر انداز کر کے اسلام اور پاکستان مخالفت کی ضدمیں آگے بڑھ رہا ہے، ایسے میںبھارتی دانشورگودی میڈیاپر،،ہاہا کار، ،اور چیخ وپُکار کرکے حقائق مسخ کرنے کے بجائے مودی کوخطے کے امن وسلامتی کی خاطر مسئلہ کشمیر اور علاقائی تنازعات حل کرنے کی ترغیب دیں، مودی جان بوجھ کر پہلے سے کشیدہ حالات کو طاقت ،ہٹ دھرمی اور غلط فیصلوں کے زور پر اشتعال انگیز صو ر تحا ل کی طرف دھکیل رہے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی بھی مسئلہ ،اختلافات اور تنازعات طاقت سے نہیں بات چیت اور سفارتکاری سے حل کیے جا سکتے ہیں، وہ یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ ڈھٹائی ، بے شرمی ، زبردستی سے آپ کھی،کھی کر کے کسی کو جپھی تو ڈال سکتے ہیں، لیکن زبردستی سے کسی کو جنگ میں گھسیٹنا ۔۔۔۔۔یہ مہنگا پڑسکتا ہے۔






