پروفیسرمحمد رفیع بٹ

پروفیسرمحمد رفیع بٹؒ۔۔۔ایک شخص ایک کارواں

مدثر احمد

سری نگر 4مئی2018 کو، یونیورسٹی آف کشمیر میں سوشیالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر محمد رفیع بٹ نے صبح کا لیکچر دیا، اپنے ساتھیوں کے ساتھ چائے پی، اور کیمپس سے تقریباً 3 بجے نکلتے ہوئے اپنی بیوی کو فون پر بتایا کہ وہ شام تک گھر پہنچ جائیں گے۔ان کی سرگرمی میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی، سوائے اس کے کہ 32 سالہ استاد نےشاید پہلی بار پنا دوپہر کا لیکچر چھوڑ دیا۔تاہم جب “میں نے انہیں فون کیا کہ ان کے طلبہ منتظر ہیں تو انہوں نے جلدی سے مجھے بتایا کہ گھر میں کچھ فوری کام ہے” ۔۔سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ایک سکالر نے بتایا جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش کی۔لیکن جب رفیع صاحب(جیسا کہ کیمپس اور ان کے آبائی گاؤںچندینہ گاندربل میں پیار سے کہا جاتا تھا) اس رات گھر نہیں پہنچے تو اگلے صبح ان کے خاندان نے پولیس میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔
6 مئی 2018 کی صبح، شوپیاں ضلع کے گاؤں بڈنگھام میں مجاہدین اور بھارتی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ رفیع صاحب، ان پانچ حزب المجاہدین کے کارکنوں میں شامل تھے جنہیں انکاؤنٹر میں شہیدکر دیا گیا۔ اس انکاؤنٹر میںحزب کا اعلیٰکمانڈر صدام پڈر اور کشمیرمیںسب سے لمبے عرصہ تک زندہ رہنے والا عسکریت پسند عادل ملک بھی شہادت سے سرفراز ہوا۔
ایک “ابھرتے ستارے” سے عسکریت پسند بننے اور پھر اس کی شہادت یہ سب کچھ 40 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں وادی کشمیر کی اس المناک حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جو پچھلے تین دہائیوں سے مسلسل دیکھی جا رہی ہے۔بٹ خاندان نے ابھی صبح کی چائے ختم کی ہی تھی کہ عبد الرحیم بٹ کے موبائل کی گھنٹی بجی۔دوسری طرف رفیع صاحب تھا۔ لیکن عبد الرحیم اس کے بارے میں پوچھ پاتا اس سے پہلے ہی رفیع صاحب نے بات کاٹتے ہوئے کہا: “میں کورڈن میں پھنس گیا ہوں۔ اگر میں نے آپ کو تکلیف دی ہو تو معاف کر دیں۔”

عبد الرحیم کے ہاتھ سے فون گر گیا۔ بغیر مزید سنےان کے بڑے بیٹے امتیاز نے بتایا۔ اسے بچانے کی کوشش میں، سابق سرکاری ملازم عبد الرحیم نےشوپیاں جانے کا فیصلہ کیا۔
بغیر وقت ضائع کئے، عبد الرحیم، امتیاز اور رفیع صاحب کی بیوی انکاؤنٹر کی جگہ کی طرف روانہ ہو گئے جو ان کے گھر سے 80 کلومیٹر دور تھی۔ راستے میں انہوں نے یونیورسٹی کے پانچ سکالرز کو بھی ساتھ لیا تاکہ وہ اپنے استاد کو قائل کر سکیں۔لیکن خاندان کاانکاؤنٹر کی جگہ تک پہنچنے سے پہلے ہی رفیع صاحب شہادت کے مقام پر پہنچ چکے تھے۔ غمزدہ خاندان اپنے پروفیسر سے مجاہد بنے بیٹے کی گولیوں سے چھلنی لاش لے کر گھر واپس آیا۔ طلبہ اور ساتھیوں کے لیے رفیع صاحب ایک مینٹر اور پیارے استاد تھے جو طلبہ کی مدد کرنے سے کبھی گریز نہیں کرتے تھے۔پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے فوراً بعد 2017میں انہیں ڈیپارٹمنٹ میں فیکلٹی ممبر منتخب کر لیا گیا تھا۔ وہ سلیکشن لسٹ میں سرفہرست تھے۔رفیع صاحب نے NETٹیسٹ پاس کیا تھا اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے سینئرریسرچ فیلو تھے۔ان کا اپنے مضمون پر مکمل عبور تھا ۔ یونیورسٹی میں ان کے ایک دوست نے کہا۔ “ریسرچ کے میدان میں وہ اپنے ساتھیوں اور حتیٰ کہ ڈیپارٹمنٹ کی فیکلٹی سے بھی کہیں آگے تھے
رفیع صاحب کے قومی اور بین الاقوامی جرائد میں کم از کم 30 مقالے شائع ہو چکے تھے، جیسےکیپیٹلزم اور انڈیا میں کسانوں کی خودکشی ۔۔۔کشمیر میں پتھراؤ: ایک سوشیالوجیکل مطالعہ۔۔۔ اور کیپیٹلزم کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاصر ماحولیاتی چیلنجز پر عالمی نقطہ نظر۔”ہم نے ایک مینٹر، ایک دانشور اور ایک ایسے استاد کو کھو دیا جو کسی بھی صورتحال میں اپنے طلبہ کا ساتھ دیتے تھے” سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سکالر میر سہیل نے کہا۔مزید کہتے ہیں کہ رفیع صاحب نے طلبہ کو بتایا تھا کہ انہیں سنٹرل یونیورسٹی آف حیدرآباد میں نوکری مل گئی ہے اور وہ دو ہفتوں کے اندر اندر وہاں چلے جائیں گے۔ یہ خبر طلبہ کے لیے صدمے کا باعث بنی تھی جنہوں نے ایک نظم لکھی تاکہ اپنے استاد کو قائل کریں کہ وہ “ہمیں اکیلے نہ چھوڑیں”۔

یہ نظم اردو میں لکھی گئی تھی جسے رفیع صاحب نے 4 مئی دوپہر کو فیس بک پر پوسٹ کیا۔ “آپ دھوپ میں سایہ ہیں، آپ ٹھنڈی ہوا ہیں، آپ کے الفاظ دعا جیسے لگتے ہیں، دھوپ میں ٹھنڈی اور سکون بخش ہوا…” تین صفحوں کی اس نظم میں اسی انداز کے اشعار تھے۔”میرے طلبہ کا تحفہ۔ میں تمہاری محبت اور احترام کو یاد رکھوں گا۔ تم سب کو برکت ہو،” رفیع نے نظم کا جواب دیتے ہوئے اپنی آخری فیس بک پوسٹ میں لکھا تھا، اس سے پہلے کہ وہ شوپیاں کی طرف عسکریت میں شامل ہونے کے لیے نکلے۔۔۔ ان کی شہادت نے یونیورسٹی کے طلبہ برادری کو شدید صدمے میں ڈال دیا ہے
ان کے خاندان والوں اور یونیورسٹی کے ساتھیوں نے کہا کہ انہیں کبھی یہ اندازہ نہیں ہوا کہ رفیع صاحب عسکریت میں شامل ہو جائیں گے۔ وہ ہمیشہ اپنے طلبہ کو پڑھنے اور کشمیر پر لکھنے کی ترغیب دیتے تھے۔ “یہ بھی ظلم کے خلاف لڑنے کا ایک طریقہ ہے”، ان کے طلبہ سے ان کے اکثر دہرائےجانےوالےالفاظ تھے۔ایک طالب علم، جو چار سال سے پروفیسر رفیع صاحب کے قریب تھانے کہا کہ وادی میں جاری قتل و غارت گری اور سیاسی انتشار نے ان پر گہرا اثر ڈالا تھا۔ہر بار جب کوئی شہادت ہوتی تو وہ اپنے ذہن میں پیدا ہونے والی بے چینی کا ذکر کرتے تھے۔ایک کشمیری سکالر نے کہا۔ “پرامن طریقوں سے اختلاف رائے کا اظہار کرنے کے تمام ذرائع بند کر کے، باقی صرف مسلح فورسز کے خلاف خود دفاع رہ جاتا ہے… آگے کا راستہ اسٹیٹس کو میں تبدیلی ہے، جہاں طاقت صرف طاقت کے لیے استعمال نہ ہو،” انہوں نے 18 اپریل کو لکھا تھا۔”۔۔۔کاش ہمیں اس سے بات کرنے کا موقع ملتا، اسے قائل کرنے کا… ہم کچھ کر پاتے اس سے پہلے ہی سب کچھ ختم ہو گیا،” ایک پریشان حال امتیاز نے اخباری نمائندوں کو بتایا۔ انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ پونہ انڈیا کی ریسرچ سکالر امیش اُنی نے ان کی شہادت پر کہا “مجھے اس میں کوئی مذہبی سخت گیر نہیں ملا۔۔۔وہ نرم گفتار اور عاجز شخص لگتے تھے جو سیاسی جدوجہد میں تشدد کے خیال کے حامی نہیں تھے۔ وہ میرے ساتھ کشمیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہمیشہ امن کی وکالت کرتے تھے،وہ شاید انتہائی تکلیفوں سے گزرے ہوں گے جس کی وجہ سے انہوں نے ہتھیار اٹھا لئے۔ میں بہت برا محسوس کر رہا ہوں کیونکہ میرے ہاتھوں پر بھی ان کا خون ہے۔ ہم انڈینوں کے ہاتھوں پر ہزاروں کشمیریوں کا خون ہے جسے کوئی معافی یا مالی پیکج نہیں دھو سکتاـ”