امریکا ایران جنگ کون جیتا کون ہارا؟
سیدعارف بہار
ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی پر اسرائیل کے اخبار ”معاریو“ نے کھلے لفظوں میں ایران کو اس جنگ کا فاتح تسلیم کیا ہے۔اخبار کے مطابق یہ جنگ ایران کے حق میں فیصلہ کن فتح پر ختم ہوئی اور دونوں ملکوں نے سٹریٹجک پسپائی اختیار کرتے ہوئے میدان چھوڑ دیا۔اخبار کے مطابق سپریم لیڈر کی شہادت کے باوجود ایرانی نظام برقرارہے۔عارضی جنگ بندی میں بھی ایران جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔حزب اللہ مضبوط ہو رہی ہے۔

اسرائیل کے اندر بے تحاشا نقصان اور عوامی دباؤ نے بے چینی پیدا کر دی ہے۔ایرانی میزائل حملوں میں اسرائیل کی پانچ ہزار عمارتیں تباہ ہوئیں۔ایران نے چار سو پچاس کلو گرام افزودہ یورینیم پر بھی امریکا کا فیصلہ قبول نہیں کیا۔اسی مضمون میں اسرائیل کے ایک سابق فوجی سربراہ گابی اشکنازی کا کہنا تھا کہ ایران نے آخری گولی چلائی اور اس جنگ میں صرف وہی ایک فاتح تھا۔اسرائیلی اخبار کا یہ تجزیہ بڑی حد تک حقیقت پسندانہ ہے۔ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اس حقیقت کی مظہر ہے کہ امریکا اپنے مقاصد حاصل کئے بغیر ایرانی عوام کی جانب تنی ہوئی بندوق گرانا چاہتا ہے۔حالیہ تاریخ میں افغانستان کے سوا امریکا کو اس خفت آمیز صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔عراق،لیبیا،شام تیونس میں شخصی حکومتوں کو تہس نہس کرتے ہوئے امریکا نے مصر میں پہلی منتخب عوامی حکومت کو روند ڈالا۔اسی دوران حماس اور حزب اللہ جیسی حکومت نما تنظیموں کو تباہ کر دیا گیا۔ایران مشرق وسطیٰ میں طاقت کے اظہار کے سفر کا آخری پڑاؤ تھا۔یہاں ایران کی مزاحمت نے ایسا ماحول بنا دیا تھا کہ امریکا کو مدتوں تک اسی پڑاو پر قیام کرنا پڑتا اور عین ممکن تھا کہ یہ دلدل امریکا کے لئے برمودہ ٹرائی اینگل ثابت ہوتی کیونکہ یہاں بہت سے شکاری امریکا کے زمین پر اُترنے کا انتظار کر رہے تھے۔چند برس قبل امریکا روس اور ایران کے صدور مشرق وسطیٰ میں ایک کانفرنس کے بعد دوربین سے کچھ دیکھ رہے تھے جس پر کہا گیا تھا کہ شکاری امریکا کے فلسطین میں اُترنے کا انتظار کر رہے ہیں۔فلسطین میں امریکا کو گھیرا تو نہ جا سکا کیونکہ امریکہ نے براہ راست غزہ میں اُترنے سے گریز کیا مگر ایران میں وہ ایک دام فریب میں آسکتا تھا۔ایران امریکا کے لئے ”غیر نصابی“ کردار بن کا اُبھرا۔اکتالیس دن کی لڑائی میں امریکا نہ صرف طاقت کا استعمال کیا اور ایران نے مزاحمت کا راستہ اپنائے رکھا۔اس جنگ نے امریکا کو اس قدر عاجز کر دیا تھا کہ آخر صدر ٹرمپ کو ایران پر ایٹمی حملے کی ملفوف دھمکی دینے پر مجبور ہونا پڑا مگر ایران اس دھمکی سے بھی ٹس سے مس نہ ہوا۔اکتالیس دن بعد جنگ بندی کی پس پردہ کوششیں رنگ لائیں اور پاکستان چین سمیت کچھ پس پردہ کردار وں نے دونوں ملکوں کے درمیان عارضی جنگ بندی کرادی۔

اس جنگ میں کون ہارا کون جیتا؟ یہ بات قطعی پوشیدہ نہیں۔امریکا کچھ خواب اور کچھ دعوے اور اہداف لئے ایران پر چڑھ دوڑا تھا۔ان کا پہلا اور آخری مقصد رجیم چینج تھا۔ایران کے موجودہ نظام کو تبدیل کرنا اور اس کی جگہ ازکارفتہ بادشاہت کو براہ راست یا اسے جمہوری شکل میں بحال کرنا تھا۔امریکا کا خیال تھا کہ ایران کا سسٹم ان کی مضبوط قیادت سپریم لیڈر کے گرد گھومتا ہے۔جس دن سپریم لیڈرراستے سے ہٹ گئے ایران کا نظام تاش کے پتوں کی مانند بکھر جائے گا۔ایران کے پرانے نظام سے تنگ عوام نکل کر ایوانوں پر قبضہ کرلیں گے اور یوں رضاپہلوی فاتحانہ انداز میں ایران میں داخل ہوکر ریاست کا کنٹرول سنبھالیں گے۔یہ عراق اور لیبیا ماڈل بغاوت اور رجیم چینج کا منصوبہ تھا۔ایرانی عوام نے اس منصوبہ بندی کو جذبہ جہاد اور شوق شہادت کے تحت ناکام بنا دیا۔سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی عوام اور سماجی تانے بانے کو بکھیرنے کی بجائے متحد کر دیا۔امریکی سکرپٹ کے تحت جن عوام نے اس کے بعد رجیم چینج کے لئے نکلنا تھا وہ رجیم بچانے کے لئے نکل پڑے۔

سپریم لیڈر کی شہادت نے ایرانی عوام کی فالٹ لائنز کو بھر دیا اور وہ اسلامیت اور ایرانیت کے جذبات سے مغلوب ہو کر متحد ہو گئے۔انہوں نے بیرونی حملہ آور وں کے خلاف نفرت کا برملا اظہار کرنا شروع کیا۔خود ایران کی قیادت نے اپنے عوام کے سامنے ایک بہترین رول ماڈل پیش کیا۔سپریم لیڈر نے یہ کہہ کر کسی محفوظ مقام پر منتقل ہونے سے انکار کیا کہ کیا ایران کا ہر شہری محفوظ ہو چکا ہے۔نتیجتاََ انہیں باآسانی شہید کر دیا گیا۔اس شہادت نے دنیا بھر کے مسلمانوں ہی نہیں آزاد ضمیر معاشروں کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ کر دیں اور امریکا واسرائیل ظالم کرداروں کی صورت میں سامنے آئے۔ایران میں جاہ ومنصب کا مطلب قربان گاہ اور مقتل کی طرف سفر بن کر رہ گیا۔وہاں سپریم لیڈر کا مطلب یہ ٹھہرا کہ کسی بھی وقت امریکی میزائل اس کے وجود کو چیتھڑوں میں بدل سکتا ہے۔وہاں آرمی چیف بننے کا مطلب امریکا اور اسرائیل کی بندوق کے دہانے کے آگے سینہ رکھنے کے مترادف قرار پایا۔ایک کے بعد ایران کا دوسرا لیڈر اپنی جان قربان کرنے کے لئے آگے بڑھتا رہا۔بقول شاعر
ہجوم ایسا کہ مقتل میں جا نہیں ملتی
یہ جاں نثار سروں سے ٹلے نہ تھے ایسے

ایرانی قیادت کی اس ادا نے عوام کو ان کا دیوانہ بنا دیا اور یوں رجیم چینج کا خواب بیچ چوراہے کے پھوٹ گیا۔یہاں تک کہ ڈونلڈ ٹرمپ جو اپنا سارا جوا رضا پہلوی کے نام اور سر پر کھیل رہے تھے یہ کہنے لگے کہ ہم نے ایران کے سپریم لیڈر کو قتل کرکے رجیم چینج کر لی ہے۔اب ضروری نہیں کہ کوئی باہر سے آکر ایران پر حکومت کرے اسی رجیم کے اندر سے کسی کو آگے آکر ملک کا کنٹرول سنبھال لینا چاہئے۔گویاکہ وہ ایران میں رجیم چینج کی اصل فلاسفی سے توبہ تائب ہو کر اندرونی بغاوت کی خواہش ظاہر کر رہے تھے مگر ایران کے نظام اور قیادت نے رجیم چینج کی کوشش کا مہرہ بننے کی یہ پیشکش پائے حقارت سے ٹھکرادی۔یوں طاقت کا بے محابا استعمال ہی امریکا کا واحد ہتھیار رہا اور طاقت کے استعمال کے جواب میں ایرانی قوم ”بڑھتا ہے ذوق جرم یاں ہر سزا کے بعد“کی عملی تصویر بن کر رہ گئی۔امریکا ایران میں اپنے مقاصد کی تکمیل ہوئے بغیر جنگ بندی پر مجبور ہوااور یوں وقت ان کی رعونت پر خاک ڈال گیا۔طاقت کو حق کا میعار سمجھنے والے ایران میں اپنی پسند کا نقشہ ترتیب دینے کے خوابوں کی پوٹلی اُٹھائے اُلٹے قدموں سے واپس لوٹ رہے ہیں تو احمد فراز کا یہ شعر حالات کی درست تصویر بنا رہا ہے۔
کچھ اہل ستم کچھ اہل حشم مے خانہ گرانے آئے تھے
دہلیز کو چوم کے چھوڑ دیا دیکھا کہ یہ پتھر بھاری ہے
سیدعارف بہار







