حمزہ برہان ؒ کا قتل اور ریاستی ردعمل

چیف ایڈیٹر کے قلم سے

مظفر آباد کے ایک نجی تعلیمی ادارے کے پرنسپل ارجمند گلزار المعروف حمزہ برہان ؒکے قتل نے ایک بار پھر پاکستان اور آزاد کشمیر میں ہونے والی ان پراسرار ٹارگٹ کلنگز کے سلسلے کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے جن کے بارے میں مختلف حلقوں میں متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔ اس واقعے کی غیر معمولی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حملے کے چند ہی منٹ بعد بھارتی ذرائع ابلاغ نے اسے ایک ایسے شخص کی شہادت قرار دینا شروع کر دیا جسے وہ ماضی کے اہم عسکری واقعات، خصوصاً پلوامہ حملے، سے جوڑتے رہے ہیں۔اس کے برعکس مقامی انتظامیہ اور حکام کی جانب سے ابتدائی طور پر اس واقعے کو ایک نجی تعلیمی ادارے کے پرنسپل کے قتل کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ اس کے ممکنہ پس منظر یا محرکات کے بارے میں کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً اطلاعاتی خلا نے مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا اور سوشل میڈیا پر متعدد متبادل بیانیے گردش کرنے لگے۔یہ واقعہ کسی ایک فرد یا ایک مخصوص تنظیم سے وابستہ معاملہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر رجحان کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان اور آزاد کشمیر میں ایسی متعدد ٹارگٹ کلنگز رونما ہو چکی ہیں جن کے متاثرین کا تعلق ماضی میں کشمیر یا خالصتان سے وابستہ تحریکوں سے رہا ہے۔ ان واقعات کے بعد بھارتی ذرائع ابلاغ اور بعض سیاسی حلقوں کے بیانات نے ان شبہات کو تقویت دی ہے کہ بھارت اپنی سلامتی کی پالیسی کے تحت سرحد پار اہداف کے خلاف کارروائیوں کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔بھارت کی جانب سے اس نوعیت کی پالیسی کا تصور کوئی نیا نہیں۔ گزشتہ دہائی کے دوران بھارتی قیادت کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آتے رہے ہیں جن میں قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے عناصر کو سرحدوں سے باہر بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت اور ارادے کا اظہار کیا گیا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی بعض رپورٹس اور سفارتی تنازعات نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔ خصوصاً کینیڈا میں پیش آنے والے واقعات کے بعد یہ معاملہ عالمی توجہ حاصل کر چکا ہے اور ریاستی خودمختاری کے تناظر میں زیر بحث آیا ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ مقتولین کا ماضی کیا تھا یا ان کے بارے میں مختلف ممالک کے بیانیے کیا کہتے ہیں۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی ریاست کی سرزمین پر بیرونی عناصر یا غیر ملکی نیٹ ورکس کارروائیاں کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں تو یہ معاملہ قومی خودمختاری، داخلی سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد سے براہ راست تعلق رکھتا ہے۔اسی تناظر میں ضروری ہے کہ ہر ایسے واقعے کی شفاف، جامع اور پیشہ ورانہ تحقیقات کی جائے۔ محض قیاس آرائیوں یا غیر مصدقہ دعوئوں کی بنیاد پر نتائج اخذ کرنے کے بجائے ٹھوس شواہد اور قابل اعتماد معلومات کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ مزید برآں ریاستی سطح پر ایک واضح اور مستقل پالیسی کی ضرورت ہے جو اس امر کا تعین کرے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر مبینہ بیرونی مداخلت یا سرحد پار کارروائیوں کو کس حد تک قابل قبول سمجھتا ہے اور ان کے تدارک کے لیے اس کے پاس کیا حکمت عملی موجود ہے۔حمزہ برہان کا قتل ایک فرد کی جان کے ضیاع سے بڑھ کر کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ جب ایک تعلیمی ادارے کے باہر ایک کشمیری استاد محفوظ نہ ہو، تو وہ کشمیری جو یہاں نوے سے موجود ہیں اور اب مہاجرت کی زندگی گذار رہے ہیں اپنے تحفظ کے بارے میں کیا سوچے؟یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایسے واقعات معاشرے میں خوف، بے یقینی اور عدم اعتماد کو جنم دیتے ہیں۔ اگر بروقت اور شفاف تحقیقات نہ ہوں تو افواہیں اور قیاس آرائیاں مزید فضا کو آلودہ کر دیتی ہیں، جس کا فائدہ صرف ان عناصر کو ہوتا ہے جو ایسا ہی ماحول چاہتے ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ اس واقعے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے، ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، اور عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جائےجب تک ان سوالات کے واضح اور قابل اعتماد جوابات سامنے نہیں آتے، اس نوعیت کے واقعات کے بارے میں شکوک و شبہات برقرار رہیں گے اور مستقبل میں مزید ایسے واقعات کے امکانات بھی مکمل طور پر رد نہیں کیے جا سکیں گے۔