ٹارگٹ کلنگ یا کانفلیکٹ مینجمنٹ؟

سید عارف بہار

آزادکشمیر کے دارالحکومت کے مصروف علاقے میں ایک پرائیویٹ کالج کے پرنسپل کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعے نے مقامی اور سرکاری سطح پر کوئی مخصوص رنگ پکڑا بھی نہیں تھا کہ چند منٹ کے بعد ہی بھارتی میڈیا نے فاتحانہ انداز میں اس واقعے کی خبریں شائع کرنا شروع ہوگیا۔تجزیہ نگار اپنے زاویے سے اس واقعے پر تبصرے کرنے لگے۔ان کی بیان کردہ کہانی کا خلاصہ یہ تھا کہ مظفرآباد میں پلوامہ حملے کے ماسٹر مائنڈ ارجمند گلزار المعروف حمزہ برہان کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا۔بظاہر تو یہ محض خبر دینے اور نشر کرنے کا انداز تھا مگر دوران تبصرہ ہر چہرے اور ہر لفظ سے خوشی اورا نبساط جھلک اور چھلک رہی تھی۔ایک طرف کنٹرول لائن کے پار واقعے پر ایک واضح موقف تھا دوسری طرف آزادکشمیر کے حکام اور انتظامیہ اسے محض کالج کے پرنسپل کے قتل سے تعبیر کر رہے تھے بلکہ اس پر واضح موقف دینے سے بھی گریز ہی کیا جا رہا تھا۔

صرف سوشل میڈیا بیچ چوراہے قتل کی اس واردات کو گمنامی کے پردوں میں گم ہوجانے سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔کئی ایک سوچیں سوشل میڈیا مہارت سے اُبھر کر اسے عسکری تنظیموں کی باہمی چپقلش اور کشمکش کا شاخسانہ قرار دے رہی تھیں۔ غنیمت تھا کہ کوئی اسے موبائل چھیننے کی واردات نہیں کہہ رہا تھا۔حمزہ برہان کون تھا کیا تھا۔یہ بات اس وقت ثانوی ہوکر رہی گئی جب قتل کی واردات کے چند منٹ بعد ہی بھارتی میڈیااسے ایک انتہائی مطلوب اور اہم ہدف کا قتل قراردینے لگا۔

بھارتی حکام کئی برس پہلے پلوامہ حملے کا ذمہ دار قرار دے کر ان کے سر پر انعام مقرر کر چکے تھے۔ قتل کے وقت بھارتی میڈیا انہیں البدر کا کمانڈر قرار دے رہا تھا۔ سری نگر میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حمزہ برہان کا تعلق جنوبی کشمیر کے علاقے پلوامہ سے تھا اور کئی رپورٹس میں انہیں شہرہ آفاق پوسٹر بوائے برہان وانی کے گیارہ قریبی ساتھیوں میں سے ایک بتایا گیا مگر برہان وانی کے ان وردی پوش ساتھیوں کے ساتھ تمام گروپ فوٹوز میں حمزہ برہان کہیں دکھائی نہیں دے رہے۔وہ شادی کرنے کے بعد مظفرآباد میں ایمز کالج میں پرنسپل کے طور پر معمول کی زندگی گزار رہے تھے۔عینی شاہدین کے مطابق انہیں کالج سے باہر بلایا گیا کچھ دیر بات چیت کی گئی جب بات ختم ہوکر سب رخصت ہونے لگے تو ایک شخص نے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کی۔چند گھنٹے موت وحیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد وہ شیخ زید ہسپتال مظفرآباد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئے۔یوں وہ چند برس سے جاری واقعات کی زنجیر کی ایک اورکڑی بن کر رہ گئے۔یہ پاکستان میں اپنے انداز کی قتل کی پہلی واردات نہیں اور تجزیہ نگاروں کے مطابق آخری بھی نہیں۔آخری اس لئے نہیں کہ پاکستان کے طول وعرض میں کشمیر کی تحریک سے وابستہ سابقین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو اب پیرانہ سالی کا شکار ہو کر معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔ان کو بھارت انتہائی مطلوب قرار دے چکا ہے اور اکثر کے سروں کی قیمت بھی مقرر ہے۔بھارت کے پاس ایسے اہداف کی طویل فہرست ہے جو کشمیر میں اسے مختلف ادوار اور اوقات میں زخم لگا چکے ہیں۔گزشتہ کئی برس سے بھارت اس فہرست میں چالیس کے قریب افراد کوپاکستان اور آزادکشمیر کے اندر نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کر چکا ہے اور بھارت دھڑلے سے ان واقعات کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔

یہ سلسلہ مبینہ طور پر خالصتان نواز شخصیات سے شروع ہوا مگر اس کا دائرہ کشمیری مزاحمت کے سابق کرداروں تک دراز ہوگیا۔اس سلسلے کا پہلا واقعہ راولپنڈی کھنہ میں حزب المجاہدین کے مشہور کمانڈر پیر بشیر المعروف امتیا زعالم کا قتل تھا۔ عین اس وقت جب قاتل نامعلوم تھا ان کے جنازے کے جلوس میں کشمیریوں کے نعروں کی ڈور کو پکڑ کر قاتلوں تک پہنچا جا سکتاتھا مگر اس کے بعد واقعات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس کے بعدکراچی میں پرنسپل خالد رضا کا قتل ہو اور پھر ملک کے طول وعرض سے وقفے وقفے سے ایسی ٹارگٹ کلنگ کی خبریں آنے لگیں۔ہر واقعے کے چند منٹ بعد بھارتی میڈیا کا جشن عملی طور پر واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کا ایک انداز تھا اس کے برعکس ہر واقعے کے بعد پاکستان میں ماحول پر ایک تذبذب اور احتیاط کا رنگ غالب ہوتا ہے۔یہاں تک بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے لگی لپٹی بغیر کہہ دیا کہ ہم نے گھس کر مارا ہے اور مزید ایسی کاروائیاں کر یں گے۔پاکستان میں Hot pursuit یعنی گرم تعاقب ایک دیرینہ نعرہ رہا ہے۔یہ اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف اپنائی گئی پالیسی سے کشید کیا گیا تھا جس میں اسرائیل فلسطین سے باہر اُردن دوبئی مصر وغیر ہ میں مقیم حماس اور الفتح اور پاپولر فرنٹ سمیت کئی تنظیموں سے وابستہ شخصیات کو نشانہ بناتا رہا ہے۔جس کا آغاز فلسطین کے معروف قلم کار ناولسٹ اور پاپولر فرنٹ کے لیڈر خسان کنفانی کو بیروت میں قتل کرنے سے ہوا تھا۔2016میں بھارت نے علاقائی سطح پر اس پالیسی کی مشق برما میں قائم سیون سسٹرز میں چلنے والی ایک تحریک سے وابستہ لوگوں کے ایک مبینہ کیمپ کو نشانہ بنا کرکیا تھا اور اس وقت ہی بھارت کا روئے سخن یوں پاکستان کی طرف تھا کہ بھارتی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے میں دوسر ے ملکوں میں بھی اپنے مطلوب افراد کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔جس کا جواب اس وقت کے پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے یہ کہہ کر دیا تھا کہ بھارت پاکستان کو برما سمجھنے کی غلطی نہ کرے۔عملی طور پر بھارت نے اپنے اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا۔یہ تو ان کا پاؤں کینیڈا کی دلدل پر پڑا اور کینیڈا نے اس معاملے کو اپنی خودمختاری اور اقتدار اعلیٰ پر حملہ قرار دے کر بھارت کو دفاعی پوزیشن میں دھکیل کر اسے مزید کسی ایسے قدم سے روک دیا۔پاکستان ان واقعات کو عالمی سطح پر پیش نہ کر سکا۔یہاں تک کہ 2024میں برطانیہ کے مشہور اخبار گارڈین نے ان واقعات پر ایک تہلکہ خیز سٹوری شائع کی جس کا عنوان تھا
Indian government ordered killings in Pakistan, intelligence officials claim
ٓٓٓٓاس رپورٹ میں کشمیری عسکریت سے وابستہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر دونوں طرف کے انٹیلیجنس ذرائع کے حوالے دئیے گئے تھے۔اسے بھارتی ذرائع نے ٹارگٹ کلنگ کی بجائے کانفلیکٹ مینجمنٹ کے زاویے سے دیکھا تھا۔اگر کانفلیکٹ مینجمنٹ کا یہ انداز ہے تو پھر خون کی ندیاں بہہ جانے کے خطرات موجود ہیں۔گارڈین کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را یہ کاروائیاں متحدہ عرب امارات میں قائم اپنے سیلز کے ذریعے کرتی ہے۔یہ سیل نہ صرف اُجرتی قاتلوں کو رقم فراہم کرتے ہیں بلکہ انہیں ہدایات بھی دیتے ہیں۔یہ نیٹ ورک اگر کئی برس پہلے پکڑا گیا تھا تو دوبارہ کیسے تشکیل پایا اور اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں کیونکر کامیاب ہورہا ہے؟یہ اور اس طرح کے کئی سوال اپنی جگہ موجود ہیں۔پاکستان اس عمل کو کینیڈا کی طرح اپنی ریڈ لائن قرار دے کر سخت ردعمل ظاہر کرنے کا پیغام پہنچانے میں جب تک کامیاب نہیں ہوتا اس طرح کی مزید وارداتوں کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔