ایک عہد جو تمام ہوا

شیخ غلام حسنؒ ۔۔۔۔ایک عہد جو تمام ہوا

شہبازبڈگامی

مقبوضہ جموں و کشمیر کی دینی، سماجی اور سیاسی تاریخ میں شیخ غلام حسن ایک نہایت باوقار اور بااثر شخصیت کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ وہ 16 مئی 2026ء کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔جناب شیخ ؒکے انتقال پر ملال کو پورے مقبوضہ جموں و کشمیر میں شدت کیساتھ محسوس کیا گیا ۔ ہر مکتبہ فکر نے ان کے وفات کو ایک بڑا نقصان قرار دیا۔ اور پھر جب ان کا جنازہ اٹھایا گیا، تو چشم فلک نے وہ سارے بندھن اور ضبط ٹوٹتے بھی دیکھے، جس پر 05 اگست 2019 کے بعد شاذ و نادر ہی مشاہدہ کیا جاچکا ہو۔ تاری گام کولگام کی تمام گلیاں اور کوچے انسانوں سے بھر چکے تھے، جس پر اپنوں کے ساتھ ساتھ پرائے بھی انگشت بدنداں رہے۔

شیخ حسنؒ کا تعلق جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے تاریخی گاؤں تاری گام سے تھا۔ وہ ایک مذہبی اور باوقار گھرانے میں پیدا ہوئے جہاں دینی تعلیم اور سماجی شعور کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے دینی علوم اور اسلامی فکر کا گہرا مطالعہ کیا۔ابتدائی عمر ہی سے وہ اسلامی تحریکات اور معاشرتی اصلاح کے نظریات سے متاثر تھے۔ یہی رجحان بعد ازاں انہیں جماعتِ اسلامی کے قریب لے آیا، جہاں انہوں نے اپنی پوری زندگی تحریک، دعوت اور تنظیمی سرگرمیوں کیلئے وقف کی تھی ۔
جماعتِ اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کے ساتھ ان کی وابستگی نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط رہی۔ وہ جماعت اسلامی کے ان رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی تنظیمی ڈھانچے کو سنبھالے رکھا اور اس کیلئے اپنا سب کچھ تج دیا۔انہوں نے مختلف ادوار میں جماعت کے ضلعی اور مرکزی عہدوں پر فائز رہ کر خدمات سرانجام دیں اور بعد ازاں امیر جماعتِ اسلامی جموں و کشمیر منتخب ہوئے۔ وہ 2006ء سے 2012ء تک مسلسل دو ادوار میں امیر جماعت اسلامی کے فرائض انجام دیتے رہے۔ ان کی قیادت کے دوران جماعتِ اسلامی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعلیمی، رفاہی اور دینی سرگرمیوں کو بھرپور فروغ دیا۔ وہ ہمیشہ سیاسی جدوجہد، عوامی شعور اور اسلامی اقدار کے فروغ کے پر زور حامی رہے۔
شیخ حسنؒ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مضبوط حامی تھے۔وہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ تنازعہ کشمیر کا حل عوامی اور سیاسی جدوجہد میں مضمر ہے۔ بعض انٹرویوز میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کیلئے سیاسی حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔ انہوں نے ریاستی جبر، گرفتاریوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جماعتِ اسلامی پر پابندیوں کی کھل کر مخالفت کی۔وہ بھارت کی جانب سے جماعتِ اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر پرعائد پابندیوں اور کریک ڈاؤن کے شدید ناقد تھے۔ 2019ء میں مودی حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد انہوں نے اسے اہل کشمیر کی شناخت، دینی آزادی اور سیاسی آواز کو دبانے کی ناکام کوشش قرار دیا۔ شیخ محمد حسن کا کہنا تھا کہ اندھی طاقت کے استعمال سے نظریات کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق جماعت کی اصل قوت عوام کے اندر اس کی سماجی خدمت، تعلیمی کردار اور دینی وابستگی ہے اور پھر وقت نے انہیں درست ثابت کیا۔ان کے مخالفین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے ذاتی صدمات کو سیاسی انتقام یا اشتعال انگیزی کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ نسبتاً متوازن رویہ اختیار کیا۔
شیخ غلام حسن ؒکی زندگی قربانیوں سے عبارت ہے ۔ ان کے خاندان نے تنازعہ کشمیر کی بھاری قیمت ادا کی اور شدید مصائب جھیلے۔ ان کے ایک لخت جگر نثار الحسن کی شہادت نے ان کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ کشمیری حلقوں میں یہ واقعہ ایک بڑی قربانی کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اسے بھارتی عسکری پالیسیوں اور مظالم کے تناظر میں یاد کیا جاتا ہے۔ کشمیری عوام کے نزدیک اس قربانی کو جناب شیخ کے خاندان کی جدوجہد اور قربانی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جناب شیخ ؒ نے ہمیشہ بیٹے کی قربانی پر فخر کیا اور ان کے ماتھے پر بل نہیں بلکہ ان کا نورانی چہرہ انبساط سے کھل اٹھتا تھا ، اور پھر انہیں اپنے شہید بیٹے کی قبرکے ساتھ ہی سپرد خاک کر کے اشکبار آنکھوں کے ساتھ الوداع کہا گیا۔

مقبوضہ جموں وکشمیر کی سیاست میں مختلف اوقات میں جماعتِ اسلامی اور اس سے وابستہ شخصیات کے خلاف پرایوں کے علاوہ اپنوں نے بھی مذموم وار کرنے سے اجتناب نہیں کیا۔شیخ صاحب ؒ ہمیشہ اس مؤقف پر قائم رہے کہ جماعتِ اسلامی ایک نظریاتی اور عوامی جماعت ہے جس کا مقصد سماجی اصلاح، دینی بیداری اور کشمیری عوام کے حقوق کی حمایت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ طویل العمری اور خرابی صحت کے باوجود متعدد مواقع پر “جے ڈی ایف “نامی انتشاری ٹولے سے ببانگ دہل اظہار لاتعلقی بھی کرتے رہے، اور اس سلسلے میں کسی ملامت یا مخالفت کو خاطر میں نہیں لائے، جسے ان کے اولوالعزم ہونے کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا۔انہوں نے کئی مواقع پر اس بات پر زور دیا کہ جماعت کو غیر ضروری طور پر متنازعہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ اس کی عوامی حمایت کو کمزور کیا جاسکے۔ ان کے مطابق اگر کسی فرد یا گروہ کے اعمال یا طرز تخاطب کو بنیاد بنا کر پوری جماعت کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے تو یہ قرین انصاف نہیں ہوگا۔
شیخ غلام حسنؒ نہایت سادہ مزاج، نرم گفتار اور بردبار شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے قریبی ساتھی انہیں ایک اصول پسند، دیانتدار اور فکری رہنما کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ وہ نوجوانوں کی تربیت، دینی تعلیم اور سماجی ہم آہنگی پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے دینی و سیاسی حلقوں میں انہیں نہایت ہی احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات پر مختلف جماعتوں، حریت رہنماؤں اور عوامی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ کشمیری عوام نے انہیں ایک باوقار مذہبی و سماجی رہنما کے طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا۔مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیاسی، دینی اور سماجی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ابھرتی ہیں جو محض ایک تنظیم یا جماعت کی نمائندہ نہیں ہوتیں بلکہ پورے عہد کی علامت بن جاتی ہیں۔ شیخ محمد حسنؒ بھی انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں ۔ وہ جماعتِ اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کے ان ابتدائی رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے نہ صرف تحریک اسلامی کے نشیب و فراز کو قریب سے دیکھا بلکہ سخت ترین حالات میں اپنی فکری وابستگی، تنظیمی استقامت اور عوامی کردار کو برقرار رکھا۔

ان کی رحلت محض ایک فرد کی موت نہیں بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی ایک فکری اور تنظیمی روایت کے نقصان کے طور پر دیکھا گیا۔ ان کی زندگی جماعتِ اسلامی کی جدوجہد، کشمیری عوام کی مشکلات، سیاسی اتار چڑھاؤ، ریاستی دباؤ، قربانیوں اور نظریاتی وابستگی کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے۔ وہ مطالعے کے بے حد شوقین تھے اور اسلامی تاریخ، فقہ، سیاسیات اور تحریکاتِ اسلامی کے موضوعات میں خاص دلچسپی رکھتے تھے۔یہ وہ دور تھا جب تقسیم برصغیر کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر ایک پیچیدہ سیاسی بحران سے گزر رہا تھا۔ کشمیری عوام کی شناخت، سیاسی مستقبل اور حقِ خودارادیت کے سوالات شدت اختیار کر رہے تھے۔ ایسے ماحول میں نوجوان نسل مختلف فکری تحریکات کی جانب متوجہ ہورہی تھی۔ شیخ محمد حسن بھی انہی نوجوانوں میں شامل تھے جنہوں نے دین اور سیاست کو ایک دوسرے سے جدا نہیں سمجھا۔
شیخ غلام حسنؒ کی عملی زندگی کا اصل آغاز جماعتِ اسلامی جموں و کشمیر سے وابستگی کے ساتھ ہوا۔ جماعتِ اسلامی جموں و کشمیر 1940ء اور 1950ء کی دہائیوں میں ایک مذہبی و سماجی اصلاحی تحریک کے طور پر ابھری تھی جس کا مقصد اسلامی تعلیمات کی روشنی میں معاشرتی اصلاح، دینی بیداری اور عوامی شعور پیدا کرنا تھا۔وہ نوجوانی ہی میں جماعت کے حلقوں سے متاثر ہوئے۔ ان کی سادگی، تنظیمی صلاحیت اور فکری سنجیدگی نے جلد ہی انہیں جماعت کے سرگرم کارکنوں کی صفوں میں لاکھڑا کیا۔ انہوں نے گاؤں اور قصبوں کی سطح پر دعوتی سرگرمیوں میں حصہ لیا، دینی اجتماعات منعقد کیے، نوجوانوں کی تربیت کی اور عوام کے اندر سیاسی شعور بیدار کرنے کی کوشش کی۔
وہ ان رہنماؤں میں شامل تھے جو جماعت کو صرف ایک مذہبی تنظیم نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر اصلاحی تحریک سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کشمیری عوام کو صرف سیاسی آزادی ہی نہیں بلکہ اخلاقی، تعلیمی اور سماجی اصلاح کی بھی ضرورت ہے۔ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ کارکنوں کیساتھ قریبی تعلق رکھتے تھے اور مشکل حالات میں بھی تنظیمی نظم کو برقرار رکھتے تھے۔

2006ء میں وہ جماعتِ اسلامی جموں و کشمیر کے امیر منتخب ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب مقبوضہ جموں و کشمیر شدید سیاسی بحران، عسکری تحریک، بھارتی فوجی کریک ڈاؤن اور عوامی بے چینی کا شکار تھا۔ جماعتِ اسلامی پر بھی ریاستی دباؤ مسلسل بڑھ رہا تھا۔ ان حالات میں قیادت سنبھالنا آسان کام نہیں تھا، مگر شیخ محمد حسن نے کمال تحمل اور بہترین حکمت کیساتھ جماعت کو منظم رکھا۔ان کی قیادت کے دوران جماعت نے تعلیمی سرگرمیوں، رفاہی منصوبوں اور سماجی خدمت کے کاموں پر خصوصی توجہ دی۔ جماعت کے زیرِ انتظام اسکولوں، یتیم خانوں اور فلاحی اداروں کو مزید فعال بنانے کی کوشش کی گئی۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ معاشرے کی اصلاح صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی خدمت سے ممکن ہے۔شیخ محمد حسن نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال کو نہایت قریب سے مشاہدہ کیا ۔ انہوں نے وہ دور بھی دیکھا جب سیاسی مزاحمت نسبتاً پرامن تھی اور وہ 36 برسوں کا دور بھی جب مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلح جدوجہد کا عروج رہا۔

جماعتِ اسلامی جموں و کشمیر کی تاریخ مسلسل آزمائشوں سے بھری پڑی ہے۔ مختلف ادوار میں اس پر پابندیاں عائد کی گئیں، دفاتر سیل کیے گئے، کارکن گرفتار ہوئے اور رہنماؤں کو ہراساں کیا گیا۔شیخ محمد حسن نے اپنی زندگی میں کئی مرتبہ ایسے کٹھن اور پر اشوب حالات کا سامنا کیا۔ ان کے مطابق جماعت کو صرف ایک سیاسی یا مذہبی جماعت کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک فکری قوت کے طور پر نشانہ بنایا جاتا رہا۔
وہ جذباتی نعروں کے بجائے فکری گفتگو کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کی تقاریر میں مذہبی حوالوں کیساتھ ساتھ سماجی اور سیاسی شعور بھی نمایاں ہوتا تھا۔ وہ نوجوانوں کی تربیت پر خاص توجہ دیتے تھے اور انہیں مطالعے، اخلاق اور نظم و ضبط کی تلقین کرتے تھے۔شیخ حسنؒکا اثر صرف جماعتِ اسلامی تک محدود نہیں تھا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف دینی، سیاسی اور سماجی حلقوں میں انہیں نہایت ہی احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کے ناقدین بھی ان کی دیانت داری، سادگی اور استقامت کے معترف تھے۔انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مذہبی طبقے اور سیاسی شعور کے درمیان ایک توازن پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ان کا ماننا تھا کہ مذہب کو صرف عبادات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے معاشرتی انصاف، اخلاقی اصلاح اور عوامی خدمت کا ذریعہ بننا چاہیے۔
زندگی کے آخری برسوں میں شیخ صاحب شدید علالت کا شکار رہے۔ عمر اور بیماری کے باوجود وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھتے تھے اور وقتاً فوقتاً اپنے خیالات کا اظہار بھی کرتے تھے۔ وہ ان رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے تحریک، تنظیم، جبر، قربانی، سیاسی تبدیلیوں اور عوامی جدوجہد کے کئی ادوار دیکھے ہیں، ان کی زندگی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیاست صرف بھارتی فوجی طاقت اور مزاحمت کی کہانی نہیں بلکہ نظریات، قربانیوں، سماجی خدمت اور فکری استقامت کی داستان بھی ہے۔انہوں نے اپنی پوری زندگی ایک نظریے کے ساتھ وابستگی میں گزاری۔ان کی دیانت داری، سادگی اور استقامت کو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ میں ان کا نام جماعتِ اسلامی کے ایک اہم رہنما، ایک صابر باپ، ایک فکری شخصیت اور ایک ثابت قدم کارکن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہی ان کا کل سرمایہ افتخار ہے۔