وادی کے چشموں سے کالج کے گیٹ تک

وادی کے چشموں سے کالج کے گیٹ تک: ایک ادھورا سفر

فیصل بن محمد

ڈاکٹرحمزہ برف پوش وادی کا بیٹا تھا، جہاں پہاڑوں کی چوٹیوں پر جمی برف سورج کی پہلی کرن کے ساتھ چمک اٹھتی ہے، جہاں چشمے پہاڑوں کے سینے سے پھوٹ کر نغمے گنگناتے ہیں، اور جہاں صبحیں پرندوں کی چہچہاہٹ سے جنم لیتی ہیں۔ وہ ایک ایسی سرزمین کا باسی تھا جہاں فطرت خود انسان کو سادگی، خلوص اور پاکیزگی کا سبق دیتی ہے۔اسی حسین وادی کے ایک دینی اور علمی گھرانے میں اس نے آنکھ کھولی۔ یہ گھرانہ صرف ایک خاندان نہیں تھا بلکہ ایک فکری مدرسہ تھا۔ اس کے والد پہلے ہی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی فکر اور جماعتِ اسلامی سے وابستہ ہیں۔ اس فکری اور دینی ماحول نے اس کی شخصیت کو بچپن ہی سے ایک مقصد، ایک سمت اور ایک نظریہ عطا کیا۔ یہاں علم صرف معلومات نہیں تھا بلکہ عبادت تھا، اور کردار صرف اخلاق نہیں تھا بلکہ ایک ذمہ داری تھی۔

ڈاکٹر حمزہ برہان صرف ایک نام نہیں تھے، بلکہ ایک مکمل شخصیت، ایک فکری تسلسل اور ایک روشن مشن تھے۔ وہ علم کے وہ چراغ تھے جو خود جل کر دوسروں کی تاریک راہوں کو روشن کرتے ہیں۔ ان کے اندر ایک ایسی سادگی تھی جو دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی، اور ایک ایسا اخلاص تھا جو ہر رشتے کو حقیقت بنا دیتا تھا۔وہ طلبہ کے لیے صرف استاد نہیں تھے بلکہ ایک مربی، ایک رہنما اور ایک فکری معمار تھے۔ وہ انہیں صرف کتابیں نہیں پڑھاتے تھے بلکہ سوچنا سکھاتے تھے، سمجھنا سکھاتے تھے، اور انسان بننا سکھاتے تھے۔ ان کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف ڈگریاں دینا نہیں تھا بلکہ کردار پیدا کرنا تھا۔
ان کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جہاں علم اور دین ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔ یہ وہی تسلسل تھا جس نے انہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے عظیم تعلیمی ادارے تک پہنچایا اور پھر واپس اپنی مٹی میں لوٹا دیا تاکہ وہ یہاں علم کی شمع روشن کریں۔ وہ سمجھتے تھے کہ اصل کامیابی صرف ذاتی ترقی نہیں بلکہ اجتماعی اصلاح ہے۔
وہ میرے لیے صرف ایک دوست نہیں تھے بلکہ ایک چھوٹے بھائی کی طرح تھے۔ ان کی گفتگو میں اپنائیت تھی، ان کی مسکراہٹ میں اعتماد تھا، اور ان کے رویے میں ایک ایسی سچائی تھی جو کم ہی لوگوں میں باقی رہ گئی ہے۔وہ اورمیں شائد سب سے زیادہ ایک دوسرے سے مذاق بھی کرتےتھے. میرے بیٹے موسیٰ سے ان کی محبت بھی رسمی نہیں تھی بلکہ ایک خالص، بے لوث اور فطری رشتہ تھا۔وہ اکثر موسیٰ کو دیکھ کر مسکراتے اور اس سے اس کے مستقبل کے بارے میں بات کرتے۔ ان کی باتوں میں ہمیشہ ایک امید ہوتی تھی، ایک خواب ہوتا تھا، اور ایک سمت ہوتی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ آنے والی نسل صرف تعلیم یافتہ نہ ہو بلکہ باکردار اور باشعور بھی ہو۔

2022 میں گوجرہ کے روز مارکی میں ہونے والے ایک سیمینار نے اس تعلق کو مزید گہرا کر دیا۔ وہاں فضا میں علم، فکر اور جذبے کی ایک عجیب کیفیت تھی۔ اسی موقع پر وہ بار بار موسیٰ سے کہتے رہے: ’’ہمارا ادھورا مشن آپ نے اٹھانا ہے‘‘یہ جملہ صرف ایک نصیحت نہیں تھا بلکہ ایک پوری زندگی کا نچوڑ تھا۔ یہ ایک امانت تھی، ایک فکر تھی، اور ایک ذمہ داری تھی جو وہ آنے والی نسل کے حوالے کرنا چاہتے تھے۔دو ہفتے پہلے انہوں نے مجھ سے ایک بات کہی جو آج دل پر ایک بھاری بوجھ کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا: ’’میں آپ کو ایک ذمہ داری دینا چاہتا ہوں، میرے کالج کی رجسٹریشن آپ رکھ لیں اور کالج اب آپ چلائیں عیدگاہ والی سائڈ پر، مجھ سے اب یہ نہیں چلایا جاتا۔‘‘
میں نے اس بات کو سن کر ہنستے ہوئے ٹال دیا اور صرف یہ کہا: ’’اللہ بہتر کرے گا‘‘مگر وقت نے یہ ثابت کیا کہ بعض جملے مذاق نہیں ہوتے، وہ تقدیر کے اشارے ہوتے ہیں۔ مجھے کیا خبر تھی کہ وہ مسکراتا ہوا چہرہ، وہ خلوص بھری آواز اور وہ محبت سے لبریز شخصیت کچھ ہی دنوں بعد ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گی۔ وہ اپنے ہی کالج کے گیٹ کے سامنے کھڑے تھے۔ وہی جگہ جہاں علم کے چراغ جلنے تھے، جہاں مستقبل سنورنا تھا، جہاں نسلوں کی امیدیں جڑنی تھیں۔ مگر اسی مقام پر ان پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔ چند لمحوں میں وہ زمین پر گر
گئے اور وہ چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ گیا۔ یہ منظر صرف ایک شخص کی موت کا نہیں تھا بلکہ ایک پورے خواب کے خاتمے کا منظر تھا۔ وہ جو دوسروں کے لیے راستے بناتا تھا، آج خود راستے سے ہٹا دیا گیا۔ وہ جو دوسروں کے لیے روشنی بانٹتا تھا، آج خود اندھیرے میں چلا گیا۔ان کا مسکراتا ہوا چہرہ اب صرف یادوں میں رہ گیا ہے۔ ان کی آوازیں، ان کی باتیں، ان کی اپنائیت سب ایک خاموشی میں بدل گئے ہیں جو دل کو اندر سے چیر دیتی ہے۔ یہ صرف ایک انسان کی موت نہیں ہے بلکہ ایک سوچ کا قتل ہے۔ یہ صرف ایک جسم کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک نظریے کی ادھوری کہانی ہے۔ جب ایسے لوگ چلے جاتے ہیں تو صرف ایک گھر نہیں ٹوٹتا بلکہ ایک پوری فکری دنیا بکھر جاتی ہے۔اب وادی کی فضا بھی سوگوار محسوس ہوتی ہے۔ وہ چشمے جو کبھی گنگناتے تھے، آج جیسے خاموش ہیں۔ وہ پہاڑ جو وقار کی علامت تھے، آج خاموش کھڑے ہیں۔ اور وہ صبحیں جو کبھی زندگی کی علامت تھیں، آج اداسی میں ڈوبی ہوئی لگتی ہیں۔
ڈاکٹر حمزہ برہان کا جانا صرف ایک فرد کا جانا نہیں بلکہ ایک مشن کا ادھورا رہ جانا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ استاد صرف پڑھانے والا نہیں بلکہ ایک قوم بنانے والا ہوتا ہے۔ وہ اسی مشن پر آخری دم تک قائم رہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ڈاکٹر حمزہ برہان کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کے مشن کو قبول فرمائے، اور ان کے اہل خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔اور شاید سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ جب علم کے چراغ بجھائے جاتے ہیں تو کیا صرف ایک انسان جاتا ہے، یا پھر پوری نسلوں کے راستے تاریکی میں ڈوب جاتے ہیں؟