شیخ محمد امین
میں نے اسے پہلی بار کشمیر الیوم کے دفتر میں دیکھا تھا۔وہ نہایت وقار اور شائستگی کے ساتھ آگے بڑھا، سلام کیا۔ میں نے جواب دیا اور حسب معمول خیریت دریافت کی۔ میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ شاید یہ کسی یہاں رہے کسی کشمیری ساتھی کا بیٹا ہوگا جو ملاقات یا کسی کام کے لئے آیا ہے۔ چہرے پر معصومیت، گفتگو میں سنجیدگی اور آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی تھی۔
اسی دوران ان کے ساتھ آئے ہوئے ہمارے عزیز ساتھی محمد شاکر صاحب نے تعارف کرواتے ہوئے کہا۔۔۔شیخ صاحب ۔۔یہ حمزہ برہان ہیں، آپ کے دوست جناب غلام قادر صاحب کے داماد ہیں۔

یہ سنتے ہی میرے دل میں جیسے ایک محبت کی لہر دوڑ گئی۔ میں بے اختیار اپنی جگہ سے کھڑا ہوا، اسے اپنے قریب کیا اور گلے سے لگا لیا۔ نہ جانے کیوں اس لمحے دل عجیب جذبات سے بھر گیا۔ آنکھیں فرط مسرت سے نم ہوگئیں۔ یوں محسوس ہوا جیسے برسوں کی شناسائی تھی۔
اس کے بعد تقریبا دو گھنٹے تک گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ کشمیر، حالات حاضرہ، نوجوان نسل، امیدیں، خواب، قربانیاں ۔اس گفتگو میں برادرم ادریس صاحب اور قیصر فاروق صاحب بھی شریک ہوئے ۔نہ جانے کتنے موضوعات زیر بحث آئے۔

حمزہ برہان کی گفتگو میں شعور بھی تھا، درد بھی اور اپنے وطن سے بے پناہ محبت بھی۔ میں اس کی باتیں سنتا رہا اور دل ہی دل میں اس نوجوان کی شخصیت سے متاثر ہوتا چلا گیا۔وہ رخصت ہوئے تو یہ طے کرکے اٹھے کہ ملاقاتوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔۔۔مگر کاتب تقدیر نے لوح محفوظ پر کچھ اور ہی لکھا تھا۔اس یادگار ملاقات کے بعد دوسری ملاقات اس کے جنازے پر ہوئی۔
وہی چہرہ… مگر خاموش
وہی آنکھیں… مگر ہمیشہ کیلئے بند
وہی وجود… مگر اب ایک بے جان جسم
آج بھی آنکھیں نم تھیں، مگر کیفیت مختلف تھی۔ اس دن خوشی کے آنسو تھے، آج رنج و الم کے۔ دل پر ایک بوجھ سا تھا، روح جیسے کسی گہرے کرب میں مبتلا تھی۔ جنازے کے ہجوم میں کھڑا میں بار بار خود سے یہی سوال کر رہا تھا
اسے قتل کیوں کیا گیا؟
اس کا قصور کیا تھا؟
کیا اس کا جوان ہونا جرم تھا؟
کیا اس کے خواب خطرہ تھے؟
یا پھر اس کا اپنے وطن سے محبت کرنا ناقابل معافی گناہ بن گیا تھا؟
یہ سوال صرف میرے ذہن میں نہیں، بلکہ ہر اس شخص کے دل میں گونج رہا ہے جو ظلم، جبر اور ناانصافی کے اس ماحول کو محسوس کرتا ہے۔ ایک زندہ، باشعور اور امید سے بھرپور نوجوان کو یوں خاموش کر دینا صرف ایک فرد کا قتل نہیں، بلکہ ایک سوچ ایک خواب اور ایک مستقبل کا قتل ہے۔
حمزہ برہان اب اس دنیا میں نہیں، مگر اس کی پہلی ملاقات کی مسکراہٹ اور آخری دیدار کا کرب زندگی بھر میرے دل میں زندہ رہے گا۔الوداع حمزہ ۔۔الوداع







