محمد احسان مہر
امریکہ مشرق وُسطیٰ کی دلدل زدہ جنگ سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہےاور چاہتا ہے کہ کسی طرح ایران کے ساتھ آبرو مندانہ معاہدہ ہو جائے۔جنگ بندی اور سفارتکاری کے درمیان ایران ،امریکہ تنازع کی غیر یقینی صورتحال وال اسٹریٹ جرنل نے بیان کی ہے۔امریکی جریدے(وال اسٹریٹ جرنل)کے مطابق ٹرمپ مشرق وسطیٰ کی جنگ کو طویل ہوتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے،دنیا میں جب روس اور یوکرین جیسے ممالک بھی جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں،اور امریکہ جیسے طاقتور ملک بھی جنگوں سے سیکھ رہے ہیں،اس وقت بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک سال بعد بھی اُجڑے سندور کی خاک اُچھال رہی ہے،اور بھارت میں سندور جاری ہے کی بات کی جا رہی ہے۔معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی کے بعدشروع،شروع میں جب بھارت کی طرف سےسندُور جاری ہےکی آوازیں آئیں تو اسے ہندُوء ماہلائیں(شادی شدہ ہندو خواتین) کا دھرم سمجھا گیا،جسے خواتین اپنی خوبصورتی اور اپنے پتی کی خشنودی کیلئے اپنی مانگ میں بھرتی ہیں،یہ تو اُن کے دھرم کا حصہ ہے،اس میں ایسی کون سی بات ہے۔۔۔؟زندہ وجاوید معاشرے میں یہ تو جاری رہنا چاہیے،پھر بتانے کی ضرورت کیا ہے۔۔۔۔؟لیکن جسطرح بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت (آپریشن سندور) جاری ہے کی بات کرتے ہیں، یہ بات دنیا کے پلے نہیں پڑ رہی،بھارت کے آپریشن سندور کا تو پاکستان نے مار ،مار کر تندور بنا دیا ہے،جس کی آگ کی شدت بھارت میں آج بھی محسوس کی جا رہی ہے، پھر بار،بار سندُور کے تندُور سے بھارت کیا نکالنے کی کوشش کر رہا ہے،دراصل بھارت سندُور کے نتیجے میں اُٹھنے والی دُھول میں اسقدر اُلجھا ہے کہ اسے یقین ہی نہیں آرہا کہ ’’یہ ہمارے ساتھ‘‘ ایسا بھی ہو سکتا ہے،وہ سوچ رہا ہے کہ ہمارے ساتھ ہوا کیا ہے۔

جنگ کے دوران بھارتی میڈیا لاہور پورٹ پر قبضہ اور کراچی تباہ کرنے کی خبریں نشر کرتا رہا،اُس وقت (میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا،کہ 15 سال لاہور میں رہ کر بھی سمندر نہ دیکھ سکا ،فرضی قصے کہانیوں اورفتح کے جھوٹے دعووں کے درمیان جب اُسے یہ پتہ چلاکہ جدید ترین فضائی دفائی نظام ایس 400اور 8عدد جدید لڑاکا طیارے سندُور کی دُھول میں گم ہو گئے ہیں،تو وہ حواس باختہ ہو گیا،ویسے بھارت کوسندور جاری ہے کاچرچا کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟پاکستانی اور کشمیری مسلمان اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ سندوربھارتی مہیلائیں(خواتین) کا دھرم ہے،اور سجنے سنورنے میں اس کا خاص کردار ہے،لیکن بھارتی سرکار’ سندور‘ سے جس کردار کی توقع کر رہی ہے وہ دور، دورتک نظر نہیں آرہا،اس لئے سندور سے ایسی،ویسی(خام قسم کی) اُمید باندھنے کی بجائے بھارتی سرکار اندرونی استحکام اور علاقائی امن و سلامتی کے لئے کام کرے،بھارت سرکارسندور کے تندور سے خاک اُچھال خواہ مخواہ ہلکان ہورہی ہے ،ہمارہ مشورہ ہے کہ اسے عورتوں کے لئے چھُوڑیں اور آگے بڑھیں، ہزاروں کام پڑے ہیں، آپ کرنے والے تو بنیں،اپنے ارد گرد دیکھیں اور کوئی سنجیدہ کا م کر لیں،کوئی ایسا کام، جس سے سندور کی رسوائی،سفارتی تنہائی، دنیا میں بھارت کی جگ ہنسائی کاماحول بدل جائے،اور اقوام متحدہ اورعالمی برادری کو یقین آجائے کہ بھارت بھی عالمی برادری کے ساتھ مل کر جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کے لئے علاقائی تنازعات حل کرنے میںسنجیدہ نظر آتا ہے،ویسے اب تک بھارت کو سندور کاچیپٹر کلوز کر کے یہ یقین آجانا چاہئے تھا کہ پاکستان نے سندور میں اتنی گہرائی اور تکنیکی مہارت سے تندور بنایا ہے کہ بھارت کی ذرا سی غلطی سے وہ اس تندور کواب اپنی مرضی سے جتنا چاہے گہرا اور وسیع کر سکتا ہے،اور بھارت جتنا اس’’ تندور‘‘میں جھانکے گا وہ اتنا ہی خوف محسوس کرے گا،بھارت کو چاہیے کہ وہ اس رسوائی،سفارتی تنہائی اور عالمی سطح پر جگ ہنسائی سے باہر نکلے اور اقوام متحدہ اورعالمی برادری کے سامنے کیے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری کرے، تاکہ خطے میں دیگر تنازعات کے ساتھ ساتھ پاک بھارت تنازع کی اصل وجہ کشمیر کا تنازع بھی حل ہو سکے،اور جنوبی ایشیا ء کے ممالک بھی دنیا کے ساتھ مل کر ترقی وخوشحالی کی منزل پا سکیں۔

امریکی صدر ،ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کے موقع پر جہاں ایران کا معاملہ بھی زیر بحث آنے کا قوی امکان ہے،چینی صدر ،شی جن پنگ نے کہا ہے کہ دنیا ایک دوراہے پر کھڑی ہے،بین الاقوامی صورتحال انتہائی تغیر پزیر اور ہنگامہ خیز ہے،انہوں نے صدر ٹرمپ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ طاقتوراور بڑے ملک ہونے کے ناطے اس کے جواب دہ ہم ہیں،چینی صدر نے کہا کہ تمام عالمی بحرانوں کا حل سفارتکاری اور مزاکرات ہیں،چین نے کہا کہ عالمی استحکام کے لئے ہمیں حریف نہیں شراکت داربننے کی ضرورت ہے،امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین، ایران کے ساتھ معاہدہ ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے،ایران کو مستقل طور پر ایٹمی ہتھیاروں سے دور رکھنا ہو گا ،تمام تر اختلافات کے باوجود (امریکہ،چین) دونوں ملک تعاون جاری رکھیں گے۔

صدر ٹرمپ کے دورہ چین اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں جرمن چانسلر’’فریڈرک مرز‘‘نے کہا کہ ایران کو آبنائے ہُرمز کھولنی چاہیے اور ایران کو مزاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے،ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار چاہتاہے نہ آبنائے ہرمز بند رکھنا چاہتا ہے لیکن ہم امریکہ پر اعتبا ر نہیں کر سکتے،انہوں نے کہا کہ افزودہ یورینیم پر روس کی پیشکش کے شکرگزار ہیں ،لیکن ابھی اسے کسی دوسرے ملک منتقل کرنے پر غور نہیں کر رہے، دوسری طرف خلیجی ممالک مشرق وسطیٰ کی جنگ کے بعد ایران کو بڑے خطرے کی صورت میں دیکھ رہے ہیں ۔امریکی ماہر سیاسیات(رابرٹ پیٹ) کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی تنازعات کے تناظر میں چین اور ایران کی طرف سے امریکی صدر ٹرمپ کی تذلیل کی جا رہی ہے،یاد رہے کہ( ایرانی مذاکرات کاروں نے امریکی ایلچی سے ملنے سے انکار کردیا تھا) ۔
عالمی برادری طویل جنگی حالات سے کیا واقعی کچھ سیکھ پائی ہے،اور وہ عالمی تنازعات کے حل میں کیا سنجیدہ کردارادا کرتی ہے،یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن ان مشکل اور کشیدہ حالات میں بھارت سے کچھ مثبت آوازیں بھی آرہی ہیں،جنہیں7دہائیوں سے (مختلف ادوار میں)جاری جنگ اور کشیدہ حالات کی بھینٹ چڑھی دونوں اطراف کے عوام کے مفاد کی خاطران آوازوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چایئے،انڈین خفیہ ایجنسی راکے سابق چیف ایس،اے، دلت نے کہا کہ پاکستان کو تنہا کرتے کرتے بھارت خود عالمی تنہائی کا شکار ہوگیا ،پاکستان پہلے سے ذیادہ مضبوط ہے اسے توڑنے کی کوشش بیکار ، یہ بکھر جائے گا، یہ باتیں پرانی ہو چکیں،سابق چیف نے کہا کہ بھارت کوپاکستان سے بات چیت جاری رکھنی چایئے،مقبوضہ کشمیر کے سابق وزراء اعلیٰ کی جانب سے بھی ان آوازوں کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے،انڈین حکومت کی جانب سے ابھی اس پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، پاکستان دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت کے اندر بات چیت کا مطالبہ کرتی یہ آوازیں مثبت پیش رفت ہے،ہم امید کرتے ہیں کہ بھارت میںجوش کی بجائے ہوش غالب رہے گا،امید کی جانی چاہئے کہ بھارت ؛سندُور کے ٹوٹے غرورسے باہر نکل کرحالات کی بہتری،روشن مستقبل اور علاقائی ترقی و خوشحالی اور تنازعات کے حل کے لئے سنجیدہ اور با معنی( مذاکرات )کی طرف قدم اُٹھائے گا ۔







