کشمیریو ! ناامید نہ ہونا
معاشرتی زندگی میں کسی بھی عمل کو دہرانے سے اس عمل میں دلچسپی کم ہوتی جاتی ہے۔ ۔ لیکن یہ فلسفہ مجاہدانہ کرداروں پر لاگو نہیں ہوتا۔ کامیابی کی صورت میں مجاہدین کا مورال و اعتماد بڑھتا ہے۔ ناکامی کی صورت می وہ اپنے لائحہ عمل ( آپریشنز)پر نظر ثانی کرتے ہیں۔

زمین پر لڑی جانے والی جنگیں دو ناموں سے پکاری جاتی ہیں۔ پہلی سیاسی جنگ اور دوسری نظریاتی جنگ۔ سیاسی جنگ اقوام کے درمیان ، مفادات حاصل کرنے کی کوشش ہوتی ہے جو دوسروں کے ریاستی وسائل پر قبضہ کرنے کی خاطر لڑی جاتی ہے۔ اس جنگ کے لیے علامہ اقبال اور دیگر دانشور ” کشور کشائی” کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
صدیوں پرانی۔ آزاد ریاست جموں و کشمیر پر غاصبانہ غیر اخلاقی اور غیر قانونی برطانوی قبضہ کی جنگ کشمیری عوام نے میدان کارزارِ میں اپنی غیر معمولی، غیرت ملی ، ہمت اور سیاسی کوششوں سے1947 میں ، ایک بین الاقوامی معاہدہ
( PARTITION OF INDIA) کے تحت جیت لی ہوئی ہے۔۔ دنیا بھر کے سیاسی قوانین و دساتیر کی رو سے ریاست جموں و کشمیر اب ایک مکمل آزاد ریاست ہے۔
1947 کے بعد آزاد ریاست جموں و کشمیر کو اپنے مستقبل کے سیاسی سفر کےلئےیہ یہ طے کرنا تھاکہ وہ اپنا سیاسی الحاق کس ریاست ( پاکستان یا ہندوستان) کے ساتھ کرنا چاہتی ہے۔ جو کشمیری عوام نے اپنی سیاسی تاریخ ، مذہب ، ثقافت ، تہذیب و تمدن کی بنیاد پر غیر اعلانیہ الحاق پاکستان سے کر چکی ہے۔ اس فیصلے پر یہود و نصارٰی ہندووں کی ملی بھگت اور واضح سازش کے تحت ، 27 اکتوبر 1947 کو، ہندوستان کی مسلح افواج کو سرینگر (کشمیر) میں اتار کر ” دوسری جنگ”، یعنی نظریاتی جنگ ،( حق و باطل) کی جنگ شروع کر دی۔ اس برطانوی حکومت کی قیادت میں تیار کردہ اس سازش اور جابرانہ قبضہ کے خلاف کشمیریوں کو ایک بار پھر سے میدان جنگ میں اتر کر اپنےحق خودارادیت کے دفاع کی جنگ لڑنا پڑی۔ جو وہ بین الاقوامی اداروں اقوام متحدہ ، انسانی بنیادی حقوق کی بین الاقوامی کونسل ، او آئی سی اور دیگر نمائندہ تنظیموں میں لڑ رہے ہیں۔حق خودارادیت کی جنگ میں کشمیری عوام ناکام نہیں ہوئے ۔

کشمیریو ، نا امید نہیں ہونا۔
امید انسان کے اپنے ارادے سے جنم لیتی ہے۔ جب انسان کوئی واضح مقصد طے کرتا ہے ، اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتا ہے ، اس مقصد تک پہنچنے کے راستے تلاش کر لیتاہے تو یہی چیز اسے مستقل امید فراہم کرتا ہے۔امید ایک فطری قوت ہے جو انسان کو مسلسل کوشش کرنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے ۔ ہر انسان اپنے مستقبل کو بہتر بنانے خوشیاں سمیٹنے اور ناکامیوں سے باہر نکلنے کے لیے اسی امید کا سہارا لیتا ہے۔امید کا ماخذ ، اللّٰہ الرحمٰن کی ذات پر پختہ یقین اور بھروسہ ہے۔ یہ احساس کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے اور کوئی کوشش رائیگاں نہیں جاتی انسان کو مایوسیوں کے اندھیروں میں روشنی دکھا کر بچاتا ہے۔
امیدیں بڑی سخت جان ہوتی ہیں دوست
کچل بھی دیں پھر بھی نہیں مرتیں
امید ہی ایسی طاقت ہے جو انسان کو مشکل حالات میں بھی ذرا سرکنے نہیں دیتی اور آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتی ہے۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جب تک انسان زندہ رہتا ہے اس کی امیدیں بھی زندہ رہتی ہیں تبھی وہ فیصلے کرتا ہے ۔ اور ہمارے فیصلے ہی زندگی ہوتےںہیں۔حوصلہ اور استقامت امید کا دوسرا نام ہے ۔اس مرحلے پر کشمیریوں کو متحد اور منظم رہ کر خود آگے بڑھنا اور نئی نسلوں کو متحرک کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ ۔ ہمارے رویوں اور جذبوں اور امیدوں میں تھوڑا سا بھی جھول ہماری 77 سالوں میں حق خودارادیت کے لئے کی گئی کوششوں اور دی گئی قربانیوں کو ضائع کر دے گا۔
میرے ہم وطن کشمیریو !
بدلتے زمانوں کے تابع بدلتے حالات کے تحت ، آپ اپنی جنگ حق خودارادیت کا لائحہ عمل بدل سکتے ہیں ، لیکن خدا را اپنا ہدف نہ بدلنا ۔ اگر ہدف بدلنے کی لہر کسی سمت سے آئی یا تجویز اٹھے تواسے مسترد کر دینا ہی آپ کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
فاعتبروا یا اولی الابصار







