بابری مسجد سے کمال مولہ تک

بابری مسجد سے کمال مولہ مسجد تک ہندوتوا کے سائے میں سسکتی اذانیں
اکھنڈ بھارت کا خواب یا اقلیتوں کا محاصرہ؟ آخر مسجدیں عدالتوں میں کیوں ہارنے لگیں، بھارت کس سمت جا رہا ہے؟
ایک اور مسجد خاموش ہو گئی، کیا اب سجدے بھی ثبوت مانگیں گے؟
عدالت، سیاست یا عقیدے کی جنگ؟ بھارت میں اقلیتیں کس موڑ پر کھڑی ہیں؟
ایک خاموش جنگ کی خونچکاں داستان

سید عمر اویس گردیزی

رات کی پیشانی پر کسی نے زعفرانی خوابوں کی ایسی سیاہی مل دی ہے کہ اب صبح بھی ڈرتی ڈرتی طلوع ہوتی ہے۔ گنگا کے کناروں سے ہمالیہ کی برف تک ایک خاموش سرگوشی پھیل رہی ہے… جیسے کسی پرانے کاتب نے تاریخ کے اوراق سے چند نام کاٹنے کا فیصلہ کر لیا ہو۔ شہر وہی ہیں، گلیاں وہی، اذانوں کی بازگشت بھی کہیں کہیں باقی ہے، مگر ہوا میں ایک انجانا خوف تیرتا ہے۔ جیسے کسی نے وقت کے ماتھے پر ’’اکھنڈ بھارت ‘‘کا ایسا طلسم لکھ دیا ہو جس میں صرف اکثریت کے خوابوں کو جینے کی اجازت ہو، اور باقی سب کو تاریخ کی تاریک الماریوں میں بند کر دینے کا منصوبہ ہو۔ کہتے ہیں سلطنتیں پہلے تلوار سے فتح کی جاتی تھیں، مگر یہ صدی عجیب ہے… یہاں دلوں پر قبضہ نعروں سے ہوتا ہے، عدالتوں سے ہوتا ہے، نصاب سے ہوتا ہے، اور پھر ایک دن لوگ جاگتے ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے کہ تمہاری عبادت گاہیں بھی تمہاری نہیں رہیں۔ کبھی کسی مسجد کی دیواروں میں مندر ڈھونڈا جاتا ہے، کبھی کسی گنبد میں صدیوں پرانی نفرت کی بازگشت سنائی جاتی ہے۔ اور حیرت یہ ہے کہ ہر نئے فیصلے کے بعد جشن کے دیے جلتے ہیں، مگر کسی کونے میں ایک بچہ خاموشی سے اپنے باپ سے پوچھتا ہے: ’’ ابو… کیا ہماری اذان بھی ایک دن تاریخ بن جائے گی؟‘‘ دہلی کے ایوانوں میں شاید اب بھی روشنی بہت ہے، مگر تاریخ جانتی ہے کہ سب سے خطرناک اندھیرے وہ ہوتے ہیں جو انسان کے دل میں اتریں۔ کشمیر کی وادیوں سے لے کر آسام کی خاموش بستیوں تک، منی پور کی جلتی راتوں سے لے کر اُن شہروں تک جہاں حجاب کو جرم اور شناخت کو شک بنا دیا گیا، ایک انجانا سا موسم پھیل رہا ہے۔ یہ موسم صرف سیاست کا نہیں، یہ خوف کا موسم ہے۔ ایسا خوف جس میں اقلیتیں اپنے ہی وطن میں اجنبی محسوس کرنے لگتی ہیں۔ اور پھر کہیں دور کوئی راہب، کوئی پنڈت، کوئی سیاست دان، کوئی نعرہ لگاتا ہے… اور پورا ہجوم اُس نعرے کو مذہب سمجھ کر دہرانے لگتا ہے۔ مگر تاریخ کے صحیفے ایک راز ہمیشہ لکھتے آئے ہیں… کہ نفرت کبھی ابدی نہیں ہوتی۔ ظلم جتنا بھی مقدس لباس پہن لے، وقت ایک دن اُس کا چہرہ ضرور بے نقاب کرتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ اُس دن تک کتنی مسجدیں خاموش ہوں گی؟ کتنے سجدے بے گھر ہوں گے؟ اور کتنے لوگ اپنے ہی دیس میں اپنی شناخت کا ثبوت دیتے دیتے تھک جائیں گے؟ شاید آنے والی صدیوں میں کوئی مؤرخ لکھے کہ ایک سرزمین تھی جہاں لوگ خدا کو بانٹنے نکلے تھے… مگر آخرکار خود ٹوٹ گئے۔

بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں آئین مذہبی آزادی، مساوات اور تمام شہریوں کے یکساں حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ مگر گزشتہ چند برسوں میں ایسے واقعات، فیصلے اور سیاسی رجحانات سامنے آئے ہیں جنہوں نے نہ صرف بھارت کے اندر بلکہ پوری دنیا میں یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا بھارت واقعی اُس سیکولر شناخت پر قائم ہے جس کا دعویٰ کیا جاتا ہے یا نہیں۔ خاص طور پر مسلمانوں کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی، مذہبی تنازعات، ہجوم کے تشدد، عبادت گاہوں کے مقدمات، شہریت کے مسائل اور سیاسی بیانیوں نے اس بحث کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ آج کا میرا یہ مضمون کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ اُن سیاسی، سماجی اور نظریاتی رجحانات کا پر تنقیدی نکتہ نظر ہے جن پر ناقدین یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں، کے لیے عدم تحفظ کا ماحول پیدا کیا۔بابری مسجد ایک ایسا زخم جو آج تک تازہ ہے۔ اگر بھارت میں مسجد اور مندر کے تنازعات کی تاریخ کو سمجھنا ہو تو بابری مسجد کا ذکر ناگزیر ہے۔ ایودھیا میں واقع بابری مسجد صدیوں پرانی عبادت گاہ تھی۔ ہندو تنظیموں کا دعویٰ تھا کہ یہ مسجد رام مندر کی جگہ پر بنائی گئی تھی، جبکہ مسلم فریق اسے ایک تاریخی مسجد قرار دیتا رہا۔ کئی دہائیوں تک یہ معاملہ عدالتوں میں چلتا رہا، مگر انیس سو بانوے میں دنیا نے وہ منظر دیکھا جس نے پورے برصغیر کو ہلا کر رکھ دیا۔ چھ دسمبر انیس سو بانوے کو ہزاروں شدت پسند کارسیوک بابری مسجد کے گرد جمع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے مسجد شہید کر دی گئی۔ اس وقت بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی بڑے رہنما موجود تھے اور بعد میں اس واقعے نے پورے بھارت میں خوفناک فسادات کو جنم دیا۔ ہزاروں لوگ مارے گئے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ بابری مسجد کا انہدام صرف ایک عمارت کا گرایا جانا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک نفسیاتی اور تاریخی دھچکا تھا۔ ناقدین کے مطابق اسی واقعے نے بھارت میں ہندوتوا سیاست کو مرکزی دھارے میں لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد میں سپریم کورٹ نے متنازع زمین ہندو فریق کے حوالے کر دی جبکہ مسلمانوں کو متبادل زمین دینے کا حکم دیا گیا۔ اس فیصلے پر بھی دنیا بھر میں بحث ہوئی اور کئی قانونی ماہرین نے سوال اٹھائے۔ اس کے بعد گیان واپی مسجد کا ذکر آتا ہے، بابری مسجد کی شہادت کے بعد گیان واپی مسجد کا تنازع نمایاں ہوا۔ وارانسی میں واقع اس مسجد کے بارے میں ہندو تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ یہاں قدیم کاشی وشوناتھ مندر موجود تھا جسے مغل دور میں مسجد میں تبدیل کیا گیا۔ مسلم فریق کا کہنا ہے کہ یہ صدیوں پرانی مسجد ہے اور اسے متنازع بنا کر سیاسی فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔عدالتوں میں سروے، ویڈیو گرافی، آثارِ قدیمہ اور تاریخی دعووں کے نام پر یہ معاملہ مسلسل زیرِ بحث رہا۔ مسلمانوں کے خدشات یہ ہیں کہ اگر ہر تاریخی عبادت گاہ کو ماضی کے دعووں کی بنیاد پر چیلنج کیا جانے لگا تو پھر ملک بھر میں مذہبی کشیدگی کبھی ختم نہیں ہوگی۔ ابھی یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا تھا ، پھر شاہی عیدگاہ اور متھرا تنازع شروع ہو گیا۔ جی ہاں! متھرا میں شاہی عیدگاہ مسجد کا تنازع بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جاتا ہے۔ ہندو تنظیمیں دعویٰ کرتی ہیں کہ مسجد کرشن جنم بھومی کے مقام پر قائم ہے۔ مسلمان اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عبادت گاہوں سے متعلق انیس سو اکانوے کا قانون واضح طور پر کہتا ہے کہ آزادی کے وقت جس عبادت گاہ کی جو حیثیت تھی اسے برقرار رکھا جائے گا۔ ناقدین کے مطابق اگر اس قانون کے باوجود ایک کے بعد ایک عبادت گاہ متنازع بنتی جا رہی ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا بھارت میں واقعی مذہبی استحکام قائم رہ سکے گا یا نہیں۔

کہانی ختم نہیں ہوئی، بلکہ بھارت کا وہی تعصب اب بھی موجود ہے، ایک بار پھر نیا تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔ مدھیہ پردیش کے شہر دھار میں واقع بھوج شالا اور کمال مولہ مسجد تنازع حالیہ برسوں میں شدت اختیار کر گیا۔ ہندو فریق اسے دیوی سرسوتی کا قدیم مندر قرار دیتا ہے جبکہ مسلمان اسے تاریخی مسجد کہتے ہیں۔ عدالت کے حالیہ فیصلے میں اس مقام کو مندر قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کی نماز محدود کر دی گئی۔ اس فیصلے نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی کہ کیا بھارت میں اقلیتوں کی عبادت گاہیں محفوظ ہیں؟ بھارت ایک بار پھر مذہبی تنازع، عدالتی فیصلوں اور اقلیتوں کے حقوق کے سوالات کے مرکز میں کھڑا ہے۔ مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر دھار میں واقع وہ مقام، جسے مسلمان ’’کمال مولہ مسجد‘‘جبکہ ہندو ’’بھوج شالا‘‘ کہتے ہیں، آج پورے برصغیر میں ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے حالیہ فیصلے میں اس مقام کو دیوی سرسوتی کا مندر قرار دیتے ہوئے مسلمانوں سے جمعہ کی نماز کا حق واپس لے لیا۔ بظاہر یہ ایک عدالتی فیصلہ ہے، مگر ناقدین کے مطابق اس کے پیچھے ایک لمبی نظریاتی، سیاسی اور مذہبی کشمکش موجود ہے، جو برسوں سے بھارت کے سماجی ڈھانچے کو بدل رہی ہے۔ اس مقام کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ ہندو روایات کے مطابق گیارہویں صدی میں مالوا کے راجہ بھوج نے یہاں ایک عظیم علمی و مذہبی مرکز قائم کیا تھا، جہاں سنسکرت کی تعلیم اور دیوی سرسوتی کی عبادت کی جاتی تھی۔ بعد میں مسلم حکمرانوں کے دور میں اس مقام پر مسجد قائم ہوئی، جو حضرت کمال الدین مولہ سے منسوب سمجھی جاتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو آج کے تنازع کی بنیاد بن چکا ہے۔ ہندو تنظیمیں دعویٰ کرتی ہیں کہ مندر کو مسجد میں تبدیل کیا گیا، جبکہ مسلمان کہتے ہیں کہ صدیوں سے یہاں نماز ادا ہوتی رہی اور یہ ایک تاریخی اسلامی عبادت گاہ ہے۔ دو ہزار تین میں بھارتی آثارِ قدیمہ کے ادارے نے ایک عبوری نظام بنایا تھا جس کے تحت ہندوؤں کو مخصوص دنوں میں پوجا اور مسلمانوں کو جمعہ کی نماز کی اجازت دی گئی، مگر گزشتہ چند برسوں میں بھارت کی سیاسی فضا بدلتی گئی۔ بابری مسجد، گیان واپی اور شاہی عیدگاہ جیسے مقدمات کے بعد بھوج شالا تنازع بھی شدت اختیار کرتا گیا۔ پھر آثارِ قدیمہ کا سروے ہوا، ستونوں، نقش و نگار اور تعمیراتی انداز کو بنیاد بنا کر عدالت میں یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ اس مقام کی اصل حیثیت مندر کی تھی۔ عدالت نے انہی شواہد کی بنیاد پر مسلمانوں کی عبادت روک دی اور مقام کو مندر قرار دے دیا۔ یہاں سوال صرف ایک عمارت کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا صدیوں پرانی عبادت گاہوں کی مذہبی حیثیت اب تاریخی دعوؤں کی بنیاد پر تبدیل کی جاتی رہے گی؟ اگر یہی اصول قائم ہو گیا تو برصغیر میں کون سی عبادت گاہ محفوظ بچے گی؟

گزشتہ ایک دہائی میں بھارت میں گاؤ رکشا کے نام پر ہجوم کے تشدد کے متعدد واقعات سامنے آئے۔ کئی مسلمانوں کو صرف اس شبہے میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ گائے لے جا رہے تھے یا گوشت کی تجارت سے وابستہ تھے۔ بعض واقعات میں لوگوں کو سڑکوں پر مارا گیا، ویڈیوز بنائی گئیں اور سوشل میڈیا پر پھیلائی گئیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان واقعات پر شدید تشویش ظاہر کی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض حلقوں نے مذہبی جذبات کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، جبکہ حکومت پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ وہ ایسے واقعات کے خلاف مطلوبہ سختی نہیں دکھا سکی۔ کرناٹک میں حجاب تنازع نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی۔ تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا۔ مسلم حلقوں کا کہنا تھا کہ یہ مذہبی آزادی پر حملہ ہے، جبکہ حکومت اور بعض حلقوں نے اسے یونیفارم پالیسی کا معاملہ قرار دیا۔ اس تنازع نے ایک اہم سوال کھڑا کیا: کیا بھارت میں مسلمان اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ مکمل آزادی سے زندگی گزار سکتے ہیں؟ شہریت ترمیمی قانون اور قومی رجسٹر برائے شہریات کے معاملات نے بھی بھارت میں شدید بے چینی پیدا کی۔ خاص طور پر آسام میں لاکھوں افراد کی شہریت مشکوک بن گئی۔ مسلمانوں میں خوف پیدا ہوا کہ کہیں انہیں غیر ملکی قرار نہ دے دیا جائے۔ دہلی سمیت کئی شہروں میں اس قانون کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے۔

دو ہزار بیس کے دہلی فسادات نے بھارت کے سیکولر تشخص پر ایک اور سوالیہ نشان لگا دیا۔ کئی روز تک جاری رہنے والے تشدد میں درجنوں افراد مارے گئے، جن میں بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی۔ گھروں، دکانوں اور مساجد کو نقصان پہنچا۔ عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان واقعات پر تشویش ظاہر کی۔ پانچ اگست دو ہزار انیس میں بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ اس اقدام سے ترقی اور استحکام آئے گا، مگر ناقدین نے اسے سیاسی اور آبادیاتی تبدیلی کی کوشش قرار دیا۔ خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد زمین اور رہائش سے متعلق قوانین میں تبدیلیاں کی گئیں۔ بعض کشمیری حلقوں کو خدشہ ہے کہ اس سے خطے کی آبادیاتی ساخت تبدیل ہو سکتی ہے۔ انٹرنیٹ بندشیں، سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں اور سخت سکیورٹی اقدامات بھی عالمی توجہ کا مرکز بنے۔ ۔ اس پورے منظرنامے میں سوال صرف حکومت یا اکثریتی سیاست پر نہیں بلکہ مسلم قیادت پر بھی اٹھتے ہیں۔
ہندوتوا کے خواب سجانے والو، تم آخر کس بھارت کی تعمیر کر رہے ہو؟ وہ بھارت جہاں اکثریت کے جشن میں اقلیتوں کے آنسو شامل ہوں؟ وہ بھارت جہاں خوف، شہریت سے بڑا اور نفرت، انسانیت سے مقدس ہو جائے؟ تمہیں اذان کی صدا سے اتنا خوف کیوں آتا ہے؟ تمہیں مسجدوں کے گنبدوں سے اتنی وحشت کیوں ہے؟ کیا تم واقعی ایک قوم کو تاریخ سے مٹانا چاہتے ہو یا اپنے ہی ملک کی روح کو زخمی کر رہے ہو؟ کشمیر کی خاموش وادیاں، آسام کی بے چینی، منی پور کی جلتی راتیں اور عدالتوں میں گھسیٹی جانے والی عبادت گاہیں آخر کس خواب کی تعبیر ہیں؟ کیا اکھنڈ بھارت کا مطلب صرف یہی رہ گیا ہے کہ اقلیتیں اپنے ہی وطن میں اجنبی بنا دی جائیں؟ اے دنیا کے خاموش ایوانو، تمہاری انسانیت آخر کس دن جاگے گی؟ کیا ظلم صرف وہی ہوتا ہے جو تمہارے کیمروں میں قید ہو؟ کیا مسجد پر خاموشی اس لیے ہے کہ مرنے والے مسلمان ہیں؟ کیا انسانی حقوق کے پیمانے بھی مذہب دیکھ کر بدل جاتے ہیں؟ جب ایک عبادت گاہ کی شناخت بدلی جاتی ہے تو تمہارے قلم کیوں خاموش ہو جاتے ہیں؟ تمہارے اخباروں کی سرخیاں کیوں سو جاتی ہیں؟ تمہارے عالمی ادارے کیوں گونگے ہو جاتے ہیں؟ آخر کب تک دنیا صرف تماشائی بنی رہے گی جبکہ ایک پوری قوم اپنی عبادت، اپنی شناخت اور اپنے وجود کے دفاع میں کھڑی ہے؟ یاد رکھو، تاریخ کی عدالتیں بہت خاموش ہوتی ہیں مگر اُن کے فیصلے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ شاید آنے والی نسلیں یہ سوال ضرور پوچھیں گی کہ جب عبادت گاہیں خاموش ہو رہی تھیں، جب اذانیں خوف میں لپٹی جا رہی تھیں، جب نفرت کو قوم پرستی کہا جا رہا تھا، تب دنیا آخر کہاں تھی؟