شہید عبدالاحد کولنگامی

شہید عبدالاحد کولنگامیؒ۔۔۔ایک شخص ایک کارواں

بشیر کرمانی

9 جولائی 1993ء کو آخرکار عبدالاحد بھائی بھی اپنی منزل پا گئے۔ جن پیارے لوگوں سے دل نہیں چاہتا کہ کبھی جدا ہوں، انہی کے بارے میں دل کو سب سے زیادہ اندیشہ رہتا ہے کہ اگر وہ بچھڑ گئے تو…؟ ہمیں بھی ان کے بارے میں ہمیشہ یہی دھڑکا لگا رہتا تھا۔ طویل عرصے تک جس خبر کے منتظر رہے، وہ بالآخر آ ہی گئی۔ عبدالاحد بھائی اور ان جیسے جری جوانوں نے جس راہ پر قدم رکھا تھا، اس کی منزل یہی تھی۔ ایک دن بندہ اپنے رب کے حضور اس شان سے لوٹے کہ’’اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔‘‘

عبدالاحد کولنگامیؒ دراصل اُن سابقون الاولون میں سے تھے جنہوں نے موجودہ تحریکِ جہاد میں ایک بار قدم رکھا اور پھر پلٹ کر نہ دیکھا۔وہ مارچ1949 ءمیں کپواڑہ کے نواحی علاقے کولنگام میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی اور میٹرک کا امتحان ہائر سیکنڈری اسکول ہندواڑہ سے پاس کیا۔ میٹرک کے بعد گھریلو مجبوریوں اور نامساعد حالات کے باعث مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ چنانچہ جماعت اسلامی کے زیرِ انتظام ایک درسگاہ میں بطور استاد خدمات انجام دینے لگے۔ بعد ازاں باقاعدہ جماعت اسلامی سے وابستہ ہوئے۔ اسلامی لٹریچر کے گہرے مطالعے کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی سے وفاداری اور آزادیٔ وطن کے لیے جدوجہد کا جو عہد کیا، زندگی کے آخری لمحے تک اس پر ثابت قدم رہے۔اپنے اخلاص، محنت اور لگن کے باعث جماعت اسلامی میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ تدریسی صلاحیت اور فکری پختگی کی بنا پر انہیں مقامی درسگاہ کا صدر معلم مقرر کیا گیا۔1975ء میں وہ تحصیل کپواڑہ کے امیر منتخب ہوئے۔ انہوں نے تحصیل بھر میں جماعت اسلامی کی دعوت عام کرنے اور نوجوانوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی انتھک محنت کا نتیجہ تھا کہ جلد ہی تحصیل کپواڑہ میں جماعت اسلامی ایک مؤثر قوت کے طور پر ابھری۔ آٹھ برس تک وہ تحصیل کے امیر رہے۔ 1983ء میں انہیں تحصیل ہندواڑہ کا امیر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے دعوتِ دین کی اشاعت کے لیے شب و روز محنت کی۔ 1988ء میں انہیں ضلع کپواڑہ کا سیکرٹریِ قیم بنایا گیا۔اسی دوران غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے کشمیر نے کروٹ لی۔ راکھ میں دبی چنگاریاں بھڑک اٹھیں۔ 1987 ء کے انتخابات میں دھونس، دھاندلی اور ناانصافی نے نوجوانوں کے دلوں میں سلگتے ہوئے لاوے کو پھاڑ کر باہر نکال دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پوری ریاست میں بھارتی تسلط کے خلاف مزاحمت کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ نوجوان وہی زبان بولنے لگے جو بھارت نصف صدی سے ان کے ساتھ بولتا آیا تھا۔

عبدالاحد بھائی نہ صرف ان نوجوانوں کے ہمنوا تھے بلکہ اپنے علاقے میں ’’میرِ کارواں‘‘ کا مقام بھی رکھتے تھے۔ انہوں نے احسن ڈار، مقبول علائی شہید اور ابو جاوید شہید کے ساتھ مل کر اپنے علاقے میں جہادی تحریک کی بنیاد رکھی اور ہندواڑہ و کپواڑہ کے ہزاروں نوجوانوں کو ایک پرچم تلے جمع کیا۔ خوش قسمتی سے میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوں جنہوں نے عبدالاحد بھائی کی دعوت پر تحریکِ جہاد میں شمولیت اختیار کی۔
ضلع کپواڑہ میں حزب المجاہدین کو ایک منظم اور مضبوط قوت بنانے میں عبدالاحد بھائی کا کردار نہ صرف بنیادی بلکہ قائدانہ نوعیت کا تھا۔ یہ ان جیسے مخلص قائدین کی قربانیوں اور محنتوں کا ثمر تھا کہ حزب المجاہدین ریاست جموں و کشمیر کی سب سے بڑی عسکری قوت بن کر ابھری۔ انہوں نے سیاسی، دعوتی، تعلیمی اور تبلیغی میدانوں میں جس طرح کامیابی کے جھنڈے گاڑے، اسی طرح عسکری شعبہ ان کے سپرد ہوا تو وہاں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔17ستمبر 1990ء کی ایک سرد شام ہم کپواڑہ سے آزاد کشمیر کی جانب روانہ ہوئے۔ ہزاروں فٹ بلند پہاڑوں، گہری کھائیوں اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل یہ سفر موت و حیات کی کشمکش سے کم نہ تھا۔ راستے بھر بھارتی فوجی مورچے، جنگلی پگڈنڈیاں اور نامعلوم خطرات ہمارے لیے باعثِ تشویش تھے، لیکن اس پورے قافلے میں عبدالاحد بھائی واحد شخصیت تھے جو ہر حال میں عزم، حوصلے اور زندہ دلی کی علامت بنے رہے۔
مزاح ان کی طبیعت کا مستقل حصہ تھا۔ سفر کے خطرناک ترین لمحات میں بھی وہ دلچسپ چٹکلے اور لطیفے سنا کر ساتھیوں کو محظوظ کرتے اور اکثر بے اختیار قہقہے بلند ہو جاتے۔ ہمارے ہم سفر شہید غلام رسول ڈار انہیں کئی مرتبہ ٹوکتے کہ وقت کی نزاکت کا خیال کریں، مگر ان کی خوش مزاجی کا سلسلہ جاری رہتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی ہنسی مذاق نے ہمارے دلوں سے خوف نکال دیا اور یہ دشوار سفر آسان محسوس ہونے لگا۔جب ہم خونی کنٹرول لائن عبور کرکے آزاد کشمیر پہنچے تو عبدالاحد بھائی اپنے بھاری جسم کے باعث سخت تھکے ہوئے تھے، لیکن اس حالت میں بھی انہوں نے ساتھیوں کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی کا سلسلہ ترک نہ کیا۔بیس کیمپ میں انہوں نے مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں۔ افغانستان کے گرم محاذوں پر سخت تربیت حاصل کی اور اپنے گروپ کے بہترین سالار ثابت ہوئے۔ ایک سال تک بیس کیمپ میں قیام کے دوران انہوں نے خود کو عملی میدان کے لیے پوری طرح تیار کیا۔ستمبر 1991میں وہ دوبارہ کشمیر واپس آئے اور ضلع کپواڑہ میں مجاہدین کی تعلیم و تربیت کے انچارج مقرر ہوئے۔ برادر طاہر آصف اور دیگر جہادی کمانڈروں کی یکے بعد دیگرے شہادت کے بعد انہیں ریاست بھر کا ناظمِ تعلیم و تربیت مقرر کیا گیا۔ شہادت کے وقت وہ اسی منصب پر فائز تھے۔عبدالاحد بھائی مجاہدین میں بے حد مقبول تھے۔ اس کی وجہ صرف ان کا اخلاص اور شفقت نہیں تھی بلکہ ان کی زندہ دلی بھی تھی۔ محفل کوئی بھی ہو، وہ اسے زعفران زار بنا دیتے۔ اکثر محفل کی جان بن جاتے۔ اسی خوبی کے باعث مجاہدین ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور ان کے ساتھ رہنا اپنے لیے سعادت سمجھتے تھے۔بچپن ہی سے انہوں نے سخت حالات کا سامنا کیا تھا۔ والدین کی وفات کے بعد گھر کی مالی حالت نہایت کمزور تھی۔ شادی کے بعد بھی حالات میں کوئی خاص تبدیلی نہ آئی۔ کثیر العیال ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی اپنی تنگ دستی کا شکوہ کسی سے نہ کیا۔ شاید اسی لیے جہاد کے میدان کی مشکلات بھی ان کے لیے نسبتاً آسان ہو گئیں۔دعوتِ دین کے راستے میں بھی انہیں بے شمار آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ کئی بار گرفتار ہوئے، تھانوں میں بند کیے گئے اور ظلم و ستم کا نشانہ بنے، مگر ان کے پائے ثبات میں کبھی لغزش نہ آئی۔ میں ان کے بہت قریب رہا، لیکن کبھی ان کی زبان سے حرفِ شکایت نہ سنا۔9جولائی 1993ء کو اپنی عسکری ذمہ داریوں کے سلسلے میں وہ ہندواڑہ کے نواحی قصبے چوگل میں موجود تھے کہ بھارتی فوج کے ایک دستے نے اچانک انہیں گھیر کر گرفتار کر لیا۔ چوگل سے ان کا گھر تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ وہ رات کی تاریکی میں بچوں کی خیریت معلوم کرنے گئے تھے کہ کسی نے مخبری کر دی۔ نتیجتاً پورے علاقے کا گھیراؤ کر لیا گیا۔ کریک ڈاؤن کے باعث مجاہدین بروقت ان کی مدد نہ کر سکے۔ گرفتاری کے بعد انہیں فوجی کیمپ منتقل کیا گیا اور اگلے روز شام کے وقت ان کی لاش گاؤں واپس پہنچا دی گئی۔
ان کے جسم پر تشدد کے اتنے نشانات تھے کہ شمار کرنا مشکل تھا۔ کسی مجاہدِ فی سبیل اللہ کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہ آخری سانس تک راہِ حق پر ثابت قدم رہے، زخم کھاتا رہے، مسکراتا رہے، اور جب مالکِ ارض و سما کا بلاوا آئے تو اپنے جسم پر قربانی کے بے شمار تمغے سجا کر حاضرِ بارگاہ ہو جائے۔کیا ایسے نفوسِ قدسیہ کے بلند مقام اور خوش بختی میں کوئی شبہ ہو سکتا ہے؟ عبدالاحد کولنگامیؒ نے اپنی پوری زندگی جس تجارت میں لگا دی، اس سے زیادہ نفع بخش سودا اور کیا ہو سکتا ہے؟
رشک آتا ہے اس مردِ درویش کے مقدر پر، جس نے غربت و افلاس کے صحراؤں اور مصائب کے جنگلوں میں زندگی گزاری، مگر زندگی بھر ہنستا بھی رہا اور دوسروں کو ہنساتا بھی رہا۔ دنیا سے رخصت ہوا تو یقیناً ’’اس پر بہت خوش ہیں جو انھیں اللہ نے اپنے فضل سے دیا ہے‘‘ کے قافلے میں شامل ہو گیا۔

’’ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘

مقتل میں اور کس کی گواہی ہے معتبر
جو سب سے معتبر ہے شہادت لہو کی ہے
پھر یاد آرہے ہیں شہیدان محترم
اسلام کو آج پھر ضرورت لہو کی ہے