عالمی امن کا خواب اور تنازعہ کشمیر

محمد احسان مہر

ایران،امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے مشرق وُسطیٰ ایک بڑی ،تباہ کن جنگ اور دنیا ایک بار تیسری عالمی جنگ کے دھانے سے واپس لوٹ رہی ہے،امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پر دنیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ سب کو مبارک ہو ، ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے، صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے جہاز آبنائے ہُرمز میں تجارتی سرگرمیاں شروع کریں،(یادرہے) کہ اگر امریکہ اور ایران مفاہمتی یادداشت پر عملد رآمد سے آگے بڑھ کرکسی حتمی نتیجے تک پہنچ جاتے ہیں تو پھر ایران پر پاپندیوں کا خاتمہ اور ایران عالمی سطح پر تیل اورپیٹرو کیمیکل آئٹم کی آزادانہ تجارت کے قابل ہو جائے گا،لیکن فوری طور پر ایسا ہوتاہوا نظر نہیں آرہا،اس لئے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد دو طرفہ سفارتکاری ٹیکنیکل ابہام دور کرنے اورقابل اعتماد اقدامات بروئے کارلانے پر مرکوز ہو گی، یقینی طور پر یہ بھی ہو سکتا ہے فریقین سفارتکاری اور اقدامات کے ذریعے ایک دوسرے کو دبانے کی بھی کوشش کریں۔

امریکہ جانتا ہے کہ جس طرح ایران نے اسے گلے سے دبوچ رکھا ہے اس طرح آسانی سے وہ اسے یہاں سے نکلنے نہیں دے گا، امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو اس معاہدے سے با خبر رکھنے کے باجوداسرائیل کی معاہدے کے متن کو دیکھنے کی اجازت مسترد کر دی گئی، اسرائیل کا کہنا ہے کہ کمزور معاہدے کی وجہ سے ایران خطے میں خطرے کے طور پر موجود رہے گا ، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ ہم پر یکطرفہ فیصلے تھوپنے کا وقت گزر چُکاہے۔
امریکہ کی غیر قانونی،غیراخلاقی اور بنا جواز کے ایران پر جنگ مسلط کرنااُس کے اپنے قومی مفادات کے لئے بھی مہنگا ثابت ہوا ہے ،چند ماہ پہلے تک جو ٹرمپ ایران کو کہہ رہے تھے وقت بہت کم ہے،اب کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل کسی صورت ایران کے ساتھ معاہدے میں رکاوٹ نہ بنے،اسرائیل اور حزب اللہ ایک دوسرے پر حملے بند کریں۔معمولی تنازعات کے لئے بڑی سفارتی کوششوں کو ضائع نہ کیا جائے،ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ ہم مذاکرات اور معاہدے پرعملدرآمد یقینی بنانے پر زور دیں گے۔مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے 6ماہ بعد تک ا مریکہ،ایران کے قابل اعتماد اقدامات مشرق وُسطیٰ میں امن کیلئے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں،اور کامیاب ملکی دفاع کے بعد مشرق وُسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کو امریکہ میں میڈٹرم الیکشن تک لے جانا ایران کی بڑی سفارتی کامیابی ہو گی۔مفاہمتی یادداشتایم،او،یو میںاسرائیل ،لبنان جنگ بندی بھی شامل ، منجمد ایرانی اثاثوں(300ارب ڈالر) تک فنڈز ریلیز کرنے کا ذکر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اس معاہدے کی توثیق کی شرط کی وجہ سے اسرائیل خوش دکھائی نہیں دے رہا اور معاہدے کو ثبوتاژکرنے کیلئے لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔اسی تناظر میں نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ صرف تشدد کا راستہ اختیار کر کے آپ تمام قومی مسائل سے نہیں نمٹ سکتے۔

مشرق وُسطیٰ میں امریکہ، ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے دنیا تیسری عالمی جنگ کے دھانے سے واپس تو لوٹ آئی ہےاور عالمی برادری۔۔ امن کا خواب۔۔دیکھنے کا بھی حق رکھتی ہے،لیکن کیا تنازعہ کشمیر حل ہوئے بغیر ۔۔امن کا یہ خواب۔۔شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔۔۔۔؟ اب 78سال بعد بھی ہمیں اس سوال کا جواب تلاش کرنیکی بجائے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر تنازعہ کشمیر حل کرنے کی ضرورت پر زور دینے کی ضرورت ہے،اب جبکہ عالمی سفارتکاری۔۔عالمی امن کیلئے۔۔نقطہ عروج پر ہے،جنوبی ایشیاء کے آتش فشاں(جموں وکشمیر) کے مسئلہ کے پائیدار حل اور ایشیاء کے امن و استحکام کیلئے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی سفارتکاری اور مزاکرات کے سیشن شروع کیے جائیں۔جس طرح تعلیم کا بنیادی مقصد انسان کو شعُور سے بہرہ مند کرنا ہے،اسی طرح طاقت کے مثبت اور سہل استعمال سے اختلافات، تنازعات اور مسائل حل کئے جا سکتے ہیں،عالمی امن کے لئے جہاں طاقت کا توازن قائم رکھنے کی اشدضرورت ہے وہیں طاقت کی حقیقی تعریف سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی بھی ضرورت ہے،تاکہ عالمی امن کے لئے بہتر کردار اد اکیا جا سکےطاقت(کمزوروں) کو اُوپر اٹھاتی ہے،(نیچے دبانا)تو وزن کی تعریف ہے۔،علاقائی طاقتیں عالمی اسٹیبلشمنٹ کا کردارادا کرنے کی بجائے قوموں کی سر بلندی (اپنے آئینی اورقانونی فریضہ) کے لئے کردار ادا کریں،یقینی طور پر باشعُور قومیں ہی طاقت کا مثبت استعمال ،پیچیدہ سفارتکاری اوردلیل کیساتھ مکالمے کے بنیادپراختلافات ، تنازعات کے خاتمے اور عالمی امن کے لئے راہیں تلاش سکتیںہیں، اورجب بڑی بڑی جنگیں اور تنازعات ،بات چیت اور سفارتکاری سے حل ہو سکتے ہیںتوپھر تنازعہ کشمیر کا حل کیوں نہیں۔۔۔۔؟