مسلح تصادم، انسانی ہمدردی اور ذمہ دار صحافت
شیخ محمد امین
موجودہ دور میں دنیا مختلف نوعیت کے تنازعات، جنگوں، قدرتی آفات اور انسانی بحرانوں سے گزر رہی ہے۔ ایسے حالات میں ذرائع ابلاغ کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ جنگی ماحول ہو یا ہنگامی صورت حال، عوام تک درست معلومات پہنچانے، متاثرین کی آواز دنیا تک منتقل کرنے اور انسانی اقدار کو اجاگر کرنے میں صحافت بنیادی ذمہ داری ادا کرتی ہے۔ انہی موضوعات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے 16 اور 17 جون 2026 کو مری کے خوبصورت اور پُرفضا مقام شنگریلا ہوٹل میں ’’مسلح تصادم اور ہنگامی حالات میں صحافت‘‘ کے عنوان سے دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔یہ تربیتی پروگرام انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (IPS) اور انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (ICRC) کے اشتراک سے منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے علماء، دینی جرائد کے مدیران، صحافیوں، کالم نگاروں، محققین اور اسکالرز نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا ماحول نہایت علمی، دوستانہ اور فکری لحاظ سے زرخیز تھا، جبکہ منتظمین کی جانب سے فراہم کردہ انتظامات بھی قابلِ تعریف تھے۔

افتتاحی نشست میں پروگرام کے نگران سید ندیم فرحت گیلانی نے شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ انہوں نے گزشتہ برسوں میں منعقد ہونے والی ایسی تربیتی سرگرمیوں کے نتائج اور ان کے مثبت اثرات کا بھی جائزہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافت محض خبر کی ترسیل نہیں بلکہ انسانی ہمدردی، ذمہ داری اور اخلاقی شعور کا تقاضا بھی کرتی ہے۔

ورکشاپ کے ابتدائی علمی سیشنز میں بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کے ریجنل شرعی مشیر ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی نے ادارے کی تاریخ، خدمات اور انسانی مشن پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ آئی سی آر سی دنیا بھر میں جنگوں اور ہنگامی حالات کے متاثرین کی امداد، جنگی قیدیوں کی دیکھ بھال اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ بعض طاقتور ممالک ان اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں، لیکن انسانی جان اور وقار کے تحفظ کے لیے ان قوانین کی اہمیت برقرار ہے۔بعد ازاں ڈاکٹر ثاقب جواد نے بین الاقوامی قانونِ انسانیت کا تعارف پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ جنگ کے دوران بھی کچھ اخلاقی اور قانونی حدود مقرر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے صدیوں پہلے جنگ کے آداب اور انسانی جان کے احترام کے اصول متعین کر دیے تھے۔ شہری آبادی، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور امدادی کارکنوں کو نقصان پہنچانا نہ صرف اخلاقی جرم بلکہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی بھی ہے۔ اسی طرح زخمیوں کی دیکھ بھال، قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور خواتین و بچوں کے تحفظ کو بنیادی انسانی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔
اسلامک ریلیف سے وابستہ عمیر حسن نے انسانی خدمت کے میدان میں اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ بحرانوں کے دوران میڈیا اور امدادی ادارے کس طرح ایک دوسرے کے معاون بن سکتے ہیں۔ انہوں نے مختلف ممالک میں پیش آنے والے انسانی المیوں اور امدادی سرگرمیوں کی عملی مثالوں کے ذریعے موضوع کو واضح کیا۔ معروف صحافی طارق حبیب نے ہنگامی حالات میں رپورٹنگ کے دوران پیش آنے والے چیلنجز اور صحافی کی انسانی ذمہ داریوں پر گفتگو کی اور اپنے مشاہدات شرکاء کے ساتھ شیئر کیے۔پہلے روز کے دوسرے حصے میں آئی پی ایس کے چیئرمین جناب خالد الرحمن نے عصر حاضر میں جنگوں اور تنازعات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے عالمی سطح پر جاری کشیدگیوں کے تناظر میں ذمہ دار صحافت اور فکری رہنمائی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ایسے موضوعات پر سنجیدہ مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

دوسرے دن کی کارروائی تلاوتِ کلامِ پاک سے شروع ہوئی۔ اس کے بعد سید ندیم فرحت گیلانی نے عقیدت و محبت سے بھرپور نعتِ رسول اکرم ﷺ پیش کی جس نے شرکاء پر خاص روحانی کیفیت طاری کر دی۔خود میری حالت اس مجذوب کی سی ہوگئی جو دکھائی دیتا تھا کہیں لیکن تھا ۔۔در رسول پر ۔۔بہر حال اس روز کا پہلا لیکچر عمیر حسن نے ’’ہنگامی حالات میں انسانی خدمات کا بدلتا ہوا منظرنامہ‘‘ کے عنوان سے دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ موسمیاتی تبدیلیوں، قدرتی آفات اور مسلح تنازعات کے باعث دنیا میں انسانی بحرانوں کی نوعیت مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔ پاکستان کے تباہ کن سیلابوں، افغانستان، شام، سوڈان اور میانمار کی مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوری امداد کے ساتھ ساتھ متاثرین کی طویل المدتی بحالی بھی اتنی ہی اہم ہے، لیکن اکثر اس پہلو کو مطلوبہ توجہ نہیں ملتی۔

انہوں نے اس امر کی بھی وضاحت کی کہ امدادی سرگرمیوں میں اب روایتی طریقوں کے بجائے نقد امداد کے نظام کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے تاکہ متاثرہ افراد اپنی ضروریات کے مطابق فیصلے کر سکیں۔ شفافیت اور مؤثر نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی ادارے اب مذہبی تنظیموں اور دینی فلاحی نظاموں کو بھی اہم شراکت دار سمجھنے لگے ہیں، خصوصاً زکوٰۃ اور صدقات کے شعبے میں۔ورکشاپ کا ایک منفرد حصہ عملی مشقیں تھیں۔ شرکاء کو مختلف گروپوں میں تقسیم کرکے کالم، فیچر، اداریہ اور کیس اسٹڈی تحریر کرنے کے موضوعات دیے گئے۔ تمام گروپوں نے مقررہ وقت میں اپنی تحریریں مکمل کیں جنہیں منتظمین نے سراہا اور ان پر مفید تبصرے بھی کیے۔ اس سرگرمی نے نظری مباحث کو عملی تجربے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔

بعد ازاں ایک دلچسپ گروپ ڈسکشن منعقد ہوئی جس کا موضوع تھا: ’’کیا صحافی مکمل طور پر غیر جانبدار ہو سکتا ہے؟‘‘ اس سوال پر شرکاء نے مختلف زاویوں سے اظہارِ خیال کیا۔ بعض شرکاء کا خیال تھا کہ ہر انسان اپنے پس منظر اور تجربات سے متاثر ہوتا ہے، اس لیے مکمل غیر جانبداری مشکل ہے، جبکہ دوسرے شرکاء کے نزدیک صحافت کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ حقائق کو دیانت داری اور غیر جانب داری کے ساتھ پیش کیا جائے۔اس مباحثے میں ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی اور سید ندیم فرحت گیلانی نے متوازن گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صحافی کو اپنی ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر حقائق کی امانت دارانہ ترجمانی کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کی گفتگو کو شرکاء نے بے حد مفید قرار دیا۔
اختتامی نشست میں شرکاء نے پروگرام کے حوالے سے اپنے تاثرات پیش کئے۔ تقریباً سبھی کی رائے تھی کہ یہ ورکشاپ اپنے موضوع، معیار اور افادیت کے اعتبار سے نہایت منفرد تھی۔ متعدد شرکاء نے تجویز دی کہ اس تربیتی سلسلے کو مزید وسعت دی جائے اور سال بھر علمی و تحقیقی روابط کو فعال رکھا جائے تاکہ یہاں جمع ہونے والاعلمی سرمایہ معاشرے کے لیے مزید مؤثر کردار ادا کر سکے۔اختتامی خطاب میں ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی نے منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے شرکاء نے جس سنجیدگی، نظم و ضبط اور علمی ذوق کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔ ان کے مطابق علماء اور اہلِ علم کی یہی خصوصیات ایسے پروگراموں کو کامیاب بناتی ہیں۔ بعد ازاں مولانا حبیب اللہ شاہ حقانی نے دعا کرائی اور یوں یہ دو روزہ علمی سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔

جہاں تک میرے ذاتی مشاہدات کا تعلق ہے، مجھے اس نوعیت کی ورکشاپ میں دوسری مرتبہ شرکت کا موقع ملا۔ دونوں مواقع پر ایک چیز نمایاں رہی کہ پورا پروگرام غیر معمولی نظم و ترتیب، وقت کی پابندی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ چلایا گیا۔ اس میں سید ندیم فرحت گیلانی کی کاوشیں خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں، جنہوں نے نہایت خوش اسلوبی سے تمام سرگرمیوں کو مربوط رکھا۔اس طرح کے پروگراموں کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے علماء، صحافی، محققین اور اہلِ قلم ایک دوسرے کے تجربات اور خیالات سے استفادہ کرتے ہیں۔ اس باہمی تبادلۂ فکر سے نئی علمی جہتیں پیدا ہوتی ہیں اور فکری افق وسیع ہوتے ہیں۔مجموعی طور پر یہ ورکشاپ اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ صحافت صرف اطلاعات کی ترسیل کا نام نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور انسانی فریضہ بھی ہے۔ جنگ، تصادم اور انسانی المیوں کے دوران صحافی کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے۔ ایسے حالات میں حقائق کی درست ترجمانی، انسانی وقار کا احترام اور امن کے فروغ کی کوشش ہی وہ اصول ہیں جو صحافت کو اس کے اصل مقصد سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔ یہی پیغام اس دو روزہ تربیتی پروگرام کا حاصل اور موجودہ دور کی اہم ضرورت ہے۔
ورکشاپ کے اختتام پرایک ہم عصر ساتھی نے مجھ سے پوچھا۔۔شیخ صاحب۔۔۔آپ نے اس ورکشاپ میں شرکت کی، کیا حاصل کیا؟ میرا جواب تھا۔۔۔بہت کچھ حاصل کیا، لیکن اختتامی لمحات میں سید فرحت گیلانی صاحب کی پڑھی ہوئی نعت رسول مقبول ﷺ نے میرے پورے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ جذبات کا ایک طوفان امڈ آیا اور آنکھوں سے آنسوؤں کی دھارا بہہ نکلی۔میرے نزدیک یہی آنسو اس ورکشاپ کا سب سے قیمتی حاصل ہیں۔ یہ وہ آنسو تھے جنہوں نے دل کا میل دھو دیا۔۔ روح کو تازگی بخشی اور محبتِ رسول اکرم ﷺ کی خوشبو سے معطر کر دیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے ان بابرکت لمحوں نے مجھے آقائے دو جہاں ﷺ کی روحانی محفل کے قریب پہنچا دیا ۔۔الحمد للہ







