عزم و استقلال کا استعارہ۔۔۔۔ شہید کمانڈر فاروق نعمانی
فاروق قیصر
کشمیر کی سرزمین صرف جغرافیے کے لحاظ سے ایک خوبصورت خطہ ہی نہیں، بلکہ تاریخی اعتبار سے بھی ایک زندہ استعارہ اور قربانیوں کی ایک لازوال داستان ہے۔ یہاں کے پہاڑ صرف برف نہیں اوڑھتے، بلکہ صبر کی چادریں بھی لپیٹے کھڑے ہیں، یہاں کی فضائیں صرف خوشبو نہیں بکھیرتیں، بلکہ آہوں، دعاؤں اور سسکیوں کی بازگشت بھی سناتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس دھرتی نے اپنے سینے پر ایک ایسی سرخ چادر اوڑھ رکھی ہے جو اس کے بیٹوں کے لہو سے رنگی گئی ہے۔یہ مٹی محض مٹی نہیں، یہ ایک امانت دار ہےان خوابوں کی، جو ادھورے رہ گئے،ان آنکھوں کی جو راستہ تکتے تکتے بجھ گئیں اور ان ماؤں کی، جنہوں نے اپنے لختِ جگر راہِ مقصد میں نچھاور کر دئیے۔

کشمیر کے بے شمار گھرانے ایسے ہیں جہاں قربانی ایک روایت بن چکی ہے۔ کہیں ایک چراغ بجھا، کہیں دو، اور کہیں تین تین چراغ ایک ساتھ گل ہوئےمگر ان گھروں کے حوصلے چراغوں کی طرح ہی روشن ہیں۔انہی استقامت کی داستانوں میں ایک باب ثناء اللہ میر کے گھر کا بھی ہےایک ایسا گھر جہاں ممتا نے صرف محبت نہیں، بلکہ حوصلہ بھی پروان چڑھایا۔ جہاں ماں کی گود نے صرف بچوں کو نہیں، بلکہ عزم و وفا کے پیکر تیار کیے۔ اسی گھر نے اپنے تین کڑیل جوان بیٹوں کو ایک عظیم مقصد کے لیے قربان کیا۔ یہ قربانی محض ایک سانحہ نہیں، بلکہ تاریخ کے ماتھے پر سجی ہوئی ایک روشن لکیر ہے۔تاریخ کی نظروں سے یہ تینوں شہید کبھی اوجھل نہیں ہوں گے۔ ان میں سے ایک شہید کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا شرف مجھے حاصل ہوا، جس کا حسین چہرہ آج بھی تروتازہ میری آنکھوں کے سامنے موجود ہے،معصومیت سے لبریز، مسکراہٹ سے مزین، اور خلوص سے بھرپور۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی تھی، جیسے اندھیری رات میں کوئی چراغ جل اٹھے۔ اس کی سادگی میں ایک خاص کشش تھی۔ وہ وفا کا پیکر تھا، اپنے مشن سے جنون کی حد تک وابستہ تھا۔ اصل عظمت ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو اپنے نظریے کے لیے خود کو مٹا دیتے ہیں۔ وہ جو اپنی ذات کی نفی کر کے ایک بڑے مقصد کی تکمیل کرتے ہیں، دراصل وہی وقت کے دھارے کو موڑ دیتے ہیں۔ ایسے کردار کبھی فنا نہیں ہوتےبلکہ وہ زمانے کے اندھیروں میں روشنی کے مینار بن جاتے ہیں۔شہید کمانڈر عبدالرشید میر المعروف فاروق نعمانیؒ بھی انہی درخشاں ستاروں میں سے ایک تھے جو حزب المجاہدین کے افق پر نمودار ہوا۔ ان کا تعلق وادیٔ کشمیر کے گاؤں لولی پورہ پٹن سے تھا،ایک ایسا گاؤں جو ہرطرف سےسیبوں کے خوبصورت باغات سے گھیرا ہواہے ۔کمانڈر فاروق نعمانی ؒنے ایک دیندار اور بااصول گھرانے میں آنکھ کھولی۔ جیسے ہی آپ نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا، اس وقت پوری قوم بھارت کےخلاف صف آرا ہوچکی تھی ،تحریک آزادی کشمیر عروج پر تھی اور لوگ جوق درجوق اس میں حصہ لے رہے تھے۔ جب قوم نے اپنے دکھوں کو آواز دی، تو آپ نے اس صدا کو اپنے دل کی دھڑکن بنا لیا۔ آپ کا عزم ایک ایسے چراغ کی مانند تھا جو طوفانوں کے بیچ بھی بجھنے سے انکار کرتا ہے۔1990 کا دور آزمائشوں سے عبارت تھا،اسی برس آپ نے حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کرلی۔ برفانی راستے، گھنے جنگل، اور ہر قدم پر خطرا ت مگر آپ کے قدم ثابت رہے۔ آپ نے ان سختیوں کو اپنے عزم کی سیڑھیاں بنا لیا۔ یہ سفر صرف جسمانی مشقت نہ تھا، بلکہ روح کی تطہیر، صبر کی انتہا اور یقین کی معراج تھا۔1990میں آپ خونی لکیر عبور کرنے میں ان سخت آزمائیشوں کے بعد بالآخربیس کیمپ پہنچنے میں کامیاب ہوئے ۔بیس کیمپ میں زیادہ عرصہ نہیں گزارا بلکہ سخت عسکری تربیت حاصل کرنے کے بعد آپ وادی کی طرف ایک قافلہ سخت جاںکے ساتھ واپس لوٹے،آپ لوٹے تو آپ صرف ایک فرد نہ تھے بلکہ آپ ایک نظریہ، ایک استعارہ اور ایک روشن مثال بن چکے تھے۔ آپ کی زندگی ایک پیغام تھی، اور آپ کا وجود ایک تحریک۔آپ سات برس تک لگاتار بھارتی فوج کے خلاف برسر پیکار رہے ،اس دوران درجنوں کارروائیوں میں حصہ لے کر آپ دشمن پر کاری ضربیں لگاتے رہے ،ان کارروائیوں میں دشمن کو کافی نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔کمانڈرفاروق نعمانی کے دو بھائی پہلے ہی شہادت پا چکے تھے۔انکے بڑے بھائی 1990 میں بیس کیمپ کی طرف تربیت کی غرض سے ایک گروپ کےساتھ نکلے تھے لیکن کپواڑہ کے سرحدی علاقے میں باڈر کراس کے دوران شہید ہوئے،ان کی لاش تک نہیں ملی۔پھر 1992 میں انکے چھوٹے بھائی اپنے ہی گاؤں میں حادثاتی طور پر بارودی سرنگ کی زد میں آکر شہید ہوگئے۔یقیناً اپنے دو بھائیوں کی جدائی نے انکا جگر چھلنی کیا ہوگا۔میدانِ کارزار میں سات برس تک انکے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو بھی دشمنوں نے طرح طرح سے ستایا۔انکی اہلیہ اور انکے دو چھوٹے سے دودھ پیتے معصوم بچے بھی آزمائیشوں کی زد میں آئے اس دوران آپکی ایک ننھی سی بچی بھی حادثے کا شکار ہوئی اور اس نے موت کو گلے لگایا، آپ اپنے علاقے سے دور کسی جہادی مہم پر تھے کہ یہ انتہائی دلدوز خبربھی آ پ کو سنی پڑی آپ نے کمال صبر سے اس خبر کو سہہ لیا۔ لیکن ان آزمائیشوں سے آپ سرخرو ہوکر نکلے آپ کے پایہ استقلال میںکبھی لغزش نہیں آئی بلکہ،آپ ان حالات میں بھی ثابت قدم رہے اور تنظیم کی آبیاری کرتے رہے، مختلف وقتوں میں آپ نے تنظیمی سطح پر کئی ذمہ داریاںنبھائیں ، ان میں ایک بڑی ذمہ حزب المجاہدین کے مقامی نظم نے جوآپ کے کندوںپر ڈال دی،آپ کو علاقے کا بٹالین کمانڈر مقرر کیاگیا ۔ یہ دور کٹھن دور تھا جب بھارتی فوج نے مجاہدین کا زور توڑنے کے لئے جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کو تختہ مشق بنانے کے لیے اخوان ملیشیا کو میدان میں لایا جنہیں بھارتی فوج کی طرف سے ہر قسم کاملٹری ولاجسٹک سپورٹ حاصل رہا ،مجاہدین کے لیے یہ دورایک کسوٹی تھی،بہت سے لوگ اخوان میں شامل ہونےلگے تھے ۔مجاہدین کے رابطے کمزور ہونے لگے تھے ،اس دوران آپ کو کچھ عرصے کے لیے وائرلیس سیٹ پر رابطہ کرنا مشکل ہورہا تھا، آپ ایک کمین گاہ میں کئی ماہ تک پھنسے رہے جس سے تنظیم کے ذمہ داروں میں بڑی بے چینی پیدا ہوئی تھی لیکن آپ نے صبر سے کام لیا ،بہترین وقت کا انتظار کیا اور کچھ ہی عرصہ بعد آپ نےایک بہترین منصوبہ سازی کرکے مجاہدین کو اکٹھا کیا اور اخوانیوں کی سرکوبی کے لئے کارروائیاں شروع کی جس میں آپ بڑی حد تک کامیاب رہے۔

آپ کی مدد کےلئے تنظیم نے تازہ دم مجاہدین کا دستہ بھیجا جس کی قیادت کمانڈر شاکر غزنوی کررہے تھے چونکہ آپ مسلسل سات برس سے میدان کار زار میںدشمن کے خلاف ڈٹے رہے ۔گوریلا جنگ لڑنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔گوریلا جنگ لڑنے والے سپاہی کی راتوں کی نیندیں حرام ہو جاتی ہے،اس کیلئے دن،رات بن جاتی ہے اور رات ،دن کی جگہ لے لیتی ہے۔اسے رات کی تاریکی میں ہی سارے کام نمٹانے پڑتے ہیں۔وہ لوگوں کی نگاہوں سے چھپ کر جی رہا ہوتا ہے۔وہ اعصاب شکن مرحلوں سے بار بار گذرتا رہتا ہے۔وہ اپنی جان ہتھیلی پر لئے پھرتا رہتا ہے۔اسے بار بار موت سے آنکھیں لڑانی پڑتی ہیں،آپ کوتنظیم نے کچھ وقت کےلیے واپس بیس کیمپ بلایاتاکہ آپ تازہ دم ہوسکیں ۔آپ نے اپنی ذمہ داری شہیدکمانڈرشاکر غزنوی کو سونپی اور آپ تنظیم کے حکم پر 1997کے نومبر کے مہینے میں سرحد عبور کرکےدوسری مرتبہ تشریف لائے ۔میدان کارزار کے حوالے سے مزید تربیتی مراحل سے گزرے ،حزب المجاہدین کے مرکز کے اندر رہ کر کئی ذمہ داریوں پر آپ کو فائز کیا گیا لیکن آپ کی نگاہیں میدان کار زار کی طر ف مرکوز تھیں ،آپ ہمیشہ فیلڈ کے حوالے سے فکر مند رہتے تھے ۔2001میں آپ کو شہید برہان الدن حجازی ؒ کیمپ کا امیر مقرر کیا ،یہ ذمہ داری آپ نے ایک سال تک انجام دی اور اس دوران مجاہدین کی دینی وفکری تربیت سے آراستہ کرکے انہیں فیلڈ کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا۔آپ بیس کیمپ کی صورتحال سے مطمئن نہیں تھے۔تنظیم نے آپ کو بیس کیمپ میں ہی ذمہ داری اداکرنے کو کہا تھا لیکن میدان کارزار کی یاد آپ کو ہر وقت ستاتی تھی ، اس لیے بالآخر تنظیم نے آپ کےاصرار پر وادی میں جانےکی اجازت مرحمت فرمائی۔بہت سے ساتھی آپ کے ہمسفر بننا چاہتے تھے لیکن آپ نے ان سے وعدہ کیا جب میں فیلڈ میںپہنچ جائوں گا تو آپ کو وہاں کی ضرورت کے مطابق بلالوں گا،آپ کا انتخاب ایک مجاہد ٹھہرا جسے آپ نے اپنے گروپ میں شامل کیا اس بااخلاق اور بلند اوصاف کےحامل مجاہد کا نام مجاہد سہیل احمد تھا جو آپ کے شانہ بشانہ شہادت کےدم تک رہا ۔خورشید احمد المعروف سہیل احمد عمر کے لحاظ سےسترہ اٹھارہ برس کا جوان تھا،ان کا تعلق بھی مردم خیز علاقہ پٹن کے گائوں اندرگام سے تھا،دسویں جماعت کا امتحان پاس کرنے بعد ہی انہوں نے حزب المجاہدین میں سن 2000میں شرکت کی تھی ، لیکن اس کے شعور میں غیر معمولی پختگی آ چکی تھی۔2002میں سہل احمد اور آپ دشوار گزار راستوں ،بلند و بالاپہاڑوں کو عبورکرنےکے بعد میدان کا رزار میںپہنچ گئے۔ایک سال تک آپ نےاپنےعلاقے کی کمان سنبھالی اس دوران مختلف کارروائیاں کیں اور دشمن کی نیندیںحرام کیں۔2003میں 8 اپریل کو اندرگام پٹن جو شہید سہیل کا اپنا ہی گائوں تھا میں ایک تنظیمی کام کے سلسلے میں کمانڈر فاروق نعمانی اور سہیل احمد ٹھہرے تھے کہ اچانک گائوں کا محاصرہ بھارتی فوج نےکیا۔ پھر وہ لمحہ آیا جب قربانی اپنی انتہا کو پہنچی۔ مجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان معرکہ شروع ہواہر طرف گولیوں کی تڑتڑاہٹ گونج رہی تھی، مگر سہیل احمداو رکمانڈر فاروق نعمانی کے قدموں میں لغزش نہ آئی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عزم تھا، ایسا عزم جسے آخری وقت تک اس میں کمی نہیں آئی ۔ انہوں نے اپنی آخری سانسوں تک مقابلہ جاری رکھا۔ اس کے دل میں اللہ کی محبت اور اپنے مقصد کی سچائی ایک ایسی آگ بن چکی تھی جو کسی خوف کو قریب نہ آنے دیتی تھی۔سہیل احمد نے اپنے کمانڈر کے شانہ بشانہ آخری معرکہ لڑا، اور خوب لڑا۔ خون ریز معرکہ کے دوران سہیل احمد اور کمانڈر نعمانی کے سینے پر دشمن کی گولیاں لگیں اور دونوں شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے، مگر ایک بڑی فوج کے سامنے وہ جھکے نہیں، ۔ ان کی قربانی رائیگاں نہیں گئی، بلکہ اس نے آنے والوں کے لیے حوصلے اور بہادری کی ایک ایسی مثال قائم کر دی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی،ان دونوں شہداء کی جرأت و عزم کی کہانی ہمیشہ زندہ رہے گی۔
بنا کر دند خوش رسمے بخون و خاک غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را







