ہمایوں قصیر
مقبوضہ کشمیرمیں جموں خطے کے سدھرا علاقے میںقابض بھارتی انتظامیہ کی ظالمانہ کارروائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 30سے زائد مکانات مسمار
نام نہاد انسدادِ تجاوزات اور انسدادِ منشیات کی کارروائیوں کی آڑ میں مختلف علاقوں میںبھارتی فوج اور ’’این آئی اے ‘‘کےچھاپے۔۔۔۔60 کنال جنگل اراضی سمیت درجنوں جائیدادیں ضبط
16 مئی 2026 ۔۔۔۔بھارتی افواج نےضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور سمیت 15 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے اور مکینوں کو ڈرایا دھمکایا۔فوج نے سوپور قصبے کے علاوہ بومئی، وارپورہ اور تارزو میں جماعت اسلامی سے وابستہ افراد کے گھروں پر چھاپےمارے۔چھاپوں کے دوران ڈیجیٹل آلات کے علاوہ ضروری دستاویزات ضبط کیں۔ بھارتی پولیس نے ضلع کشتواڑ میں دو کشمیری طلباء یاسر کشمیری اور شہباز احمد کو گھروں پر چھاپوں کے دوران گرفتار کیا۔دونوں طالب علموں کی گرفتاری کا جواز فراہم کرنے کیلئے ان پر علی گڑھ میں سرگرم ایک گروہ کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام عائد کیاہے۔ ضلع کپواڑہ کے علاقے کنڈی میںبھارتی پولیس کے ایک افسر سب انسپکٹر دیپ سنگھ نےایک جھگڑے کے دوران اپنی بیوی بھاؤنا کو گولی مار کر قتل کر دیا۔بھارتی انتظامیہ نے انسداد منشیات کی نام نہاد مہم کی آڑ میں ضلع کولگام کے علاقے برزلو جاگیر میں ایک شہری نفیز احمد ڈارکے گھر کو مسمار کردیاہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے ممتاز عالم دین اورسابق امیر جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر شیخ غلام حسن ساکن کولگام طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے ۔ مرحوم کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعدادمیں عوام نے شرکت کی، بھارتی پولیس نے نماز جنازہ میں شرکت کرنے پر نوجوانوں اور جماعت اسلامی کے ارکان سمیت سینکڑوں افراد کے خلاف مقدمات درج کئے ہیں۔

17 مئی 2026۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے سرینگر کے علاقے خانیار میںنذیر احمد میر عرف نذیر لشکری کا ایک دو منزلہ مکان اور آٹھ دکانیں ، مسکین باغ میں گلزار احمد میرکی زمین، ایک عارضی ڈھانچہ اور ایک گاڑ ی ،جبکہ لون محلہ نوپورہ خانیار میں زاہد منظور راتھر کا ایک منزلہ مکان ضبط کیاگیاہے۔ضلع ادھمپور میں پولیس نے اکرم آباد ڈوڈہ کے جاوید احمد وانی کی 71 لاکھ روپے کی جائیداد ضبط کر لی ہے۔ اسی طرح کی ایک کارروائی میں قابض حکام نےضلع بارہمولہ کے رفیع آبادنادی ہل علاقےمیں ایک آزادی پسند کارکن رشیدالدین قریشی ولد عبدالکبیر قریشی کی02 کنال اراضی جو لشدجی نادی ہل میں واقع ہے کو ضبط کردیا گیاہے۔
19 مئی 2026۔۔۔ضلع سرینگر کے علاقے پارمپورہ میں بدنام بھارتی ایجنسی این آئی اے نے منشیات کی آڑ میں ایک کشمیری اویس امین ڈینٹھوکاایک رہائشی مکان اوراس سے ملحقہ سات مرلہ پر مشتمل اراضی کو ضبط کرلیا ہے۔
21 مئی 2026۔۔۔۔ قابض بھارتی انتظامیہ نے جموں خطے کے علاقے سدھرا میں نام نہاد انسداد تجاوزات مہم کی آڑ میں گجر، بکروال خاندانوں کے گھروں کی مسماری مہم کےدوران درجنوں مکانات کو مسماراور 60کنال کے قریب جنگل کی اراضی ضبط کردی ہے۔ اس مسماری مہم سے پسماندہ قبائلی برادریوں میں خوف اور احساس عدم تحفظ بڑھ گیاہے ۔علاقے کے لوگوں نے مکانات کی مسماری اور جبری بے دخلی کے خلاف شدید احتجاج کیا ۔ احتجاجی مارچ کو روکنے کے لئے بھارتی پولیس نے لاٹھی چارج کیا اورہوا میںگولیاں چلائیں جس سے مظاہرین اور بھارتی پولیس کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں۔بھارتی پولیس نے احتجاج میں شامل قبائلی رہنما اور کارکن طالب حسین سمیت متعد افراد کو گرفتار کر لیا۔ بھارتی فوج نے ضلع کولگام کے گائوں محمد پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک نوجوان کو گرفتارکرلیا۔پولیس نےگرفتاری کا جواز فراہم کرنے کیلئے ان سے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔کشمیر میں جموں ریلوے اسٹیشن پر فائرنگ کے ایک واقعے میں بھارتی کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔ زخمی اہلکار کی شناخت جسوندر سنگھ کے نام سے ہوئی ہے۔
23 مئی 2026۔۔۔مقبوضہ کشمیر کے خطے لداخ میں بھارتی فوج کا ایک چیتاہیلی کاپٹر گرکر تباہ ہو گیاجس میں جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل سچن مہتا ، ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک میجر زخمی سمیت تین افسر زخمی ہو گئے۔ضلع کولگام کے علاقے یاری پورہ میں’’این آئی اے‘‘ نے عمر یوسف راتھر کا گھر انسداد منشیات کی نام نہاد مہم کی آڑ میں ضبط کیا جس کی مالیت 51لاکھ روپے بتائی جا رہی ہےجبکہ کولگام ہی کے علاقے منزگام میں ایک اور کارروائی کے دوران بشیر احمد گنائی نامی ایک شہری کی ایک دکان اور سٹور کو مسمار کردیا۔بھارتی پولیس نے ضلع بارہمولہ کے علاقے پٹن سے مصدق رشید یتو اور عرفان یوسف کو گرفتارکرلیا۔ پولیس نے ضلع اسلام آباد کے علاقے کوکر ناگ سے بھی اعجاز احمد وانی اور رؤف احمد بٹ کو گرفتار کر لیا ۔ ضلع گاندربل کےسید بستی سرفرا گنڈمیں پندرہ مئی سے لاپتہ ایک نوعمر لڑکی کی لاش کنگن کے علاقے گنیواں میں ایک نہر سے برآمدکرلی گئی ہے ۔بھارتی پولیس نے انسداد منشیات مہم کی آڑ میں سرینگر اوربڈگام اضلاع میں تقریباً 5 کروڑ روپے مالیت کی غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کر لیں ۔ ضبط کی گئی جائیدادوں میں رہائشی مکانات بھی شامل ہیں۔ جن لوگوں کی جائیدادیں ضبط کی گئیں ان میں بڈگام کے علاقے لربل بیروہ کے بلال احمد شیخ اور انیق احمد شیخ بھی شامل ہیں۔ پولیس نے جواہر نگر سرینگر میں محسن ابراہیم نقاش کا ایک تین منزلہ مکان بھی ضبط کرلیاجس کی قیمت تقریباً 1 کروڑ روپے ہے۔اسی طرح کرسو راجباغ کے فرحان منظور پنڈت کی جائیداد بھی ضبط کی گئی جس کی قیمت 50 لاکھ روپے ہے۔کرن نگر سرینگر میں اجس بانڈی پورہ کے فیاض احمد راتھر کا ایک دو منزلہ مکان ضبط کیاگیا۔ بخشی آباد بمنہ میں عابد حسن ڈار کا ایک دو منزلہ مکان ضبط کیاگیا جس کی قیمت تقریباً 1.7 کروڑ روپے ہے۔
26 مئی 20260۔۔۔ قابض حکام نےمنشیات کی آڑ میں ضلع اسلام آبادمیں بجبہاڑہ کے علاقے دوپتیار کے رہائشی عامر حسن میر کے رہائشی مکان کو ضبط کر لیا جس کی قیمت تقریباً 1 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔اسی طرح کی ایک اور کارروائی میں پولیس نے ضلع ریاسی میں تحصیل کٹرا کے علاقے کھیری پاروہ کے رہائشی جماد علی کے دو رہائشی مکانات کو ضبط کر لیا جن کی قیمت تقریباً 45 لاکھ روپے ہے۔

27 مئی 2026۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض انتظامیہ نے ایک بار پھر کشمیری مسلمانوں کو سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اور عیدگاہ میں آٹھویں سال بھی نماز عید ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ۔عید کےاس موقع پر مرکزی حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کو ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا گیا۔
28 مئی 2026۔۔۔ضلع سری نگر کے علاقے رنگریٹھ میں بھارتی فوج کا ایک حوالدار پراسرار حالات میں ہلاک ہو گیا۔
29 مئی 2026۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے ضلع گاندر بل کے علاقے ناگبل میںایک چیک پوسٹ پر تلاشی مہم کے دوران ابرار نامی ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔پولس نے ابرار احمد کی گرفتار ی کا جواز فراہم کرنے کے لیے اس پر منشیات فروشی کاجھوٹا الزام عائد کیا ہے۔
30مئی 2026۔۔۔۔ ضلع شوپیاں کے زینہ پورہ علاقے میں بھارتی فوج کا ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر ایک فوجی کیمپ میں بیہوش ہوکرگرنے کے بعد ہلاک ہو گیا۔ضلع بڈگام کے علاقےچاڈورہ میں نامعلوم افراد نے ایک کاشتکارکےسیب کے 3ہزار سے زائد درخت کاٹ کر اسے لاکھوں مالیت کا نقصان پہنچایا۔ کاشتکاروں نے انتظامیہ سےمطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔بھارتی انتظامیہ نے ضلع سری نگر میں مزید دو شہریوں سرینگر کی فردوس کالونی بمنہ میں مدثر احمد پیر نامی شہری کا دو منزلہ رہائشی مکان اور چار مرلہ اراضی ضبط کر لی۔ ضبط کی گئی جائیداد کی مالیت تقریبا 1.5 کروڑ روپے ہے۔پولیس نے ایک اور کارروائی میں سرینگر ہی کے علاقے مہاراج گنج میں شفیق احمد خواجہ نامی شخص کا گھر ضبط کیا جس کی مالیت تقریبا 50 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے ۔شفیق احمد کا تعلق ضلع کپواڑہ کے علاقے کرناہ سے ہے۔ ضلع پلوامہ کےعلاقے لیتھ پورہ میں اپنے تربیتی مرکز میںبھارتی فوج کا ایک انسپکٹرتیج پال سنگھ پر اسرار حالات میں ہلاک ہو گیا۔
31 مئی 2026۔۔۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے (این آئی اے) نے شوپیاں کے علاقے امام صاحب میں واقع جامعہ سراج العلوم،
مولو چترگام میں جماعت اسلامی کے سابق سربراہ کے بیٹے شہزادہ اورنگزیب کی رہائش گاہ، اور سرینگر کے لال بازار میں واقع جامعۃ البنات پر چھاپے مارےاورتلاشی لی۔ ان کارروائیوں کا مقصد کالعدم جماعت اسلامی سے منسلک ٹرسٹ اور اداروں کی مالی معاونت کی تحقیقات کرنا ہے۔یاد رہے حکام نے اپریل 2026 میںدارالعلوم سراج العلوم کو غیر قانونی ادارہ قرار دیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران مالیاتی دستاویزات اور الیکٹرانک آلات قبضے میں لیے گئے۔
1 جون 2026۔۔۔مقبوضہ جموں وکشمیر کے علاقے گنگیال کے مقام پر ایک سڑک حادثے کے دوران بھارتی پولیس کا اایک افسر اسسٹنٹ سب انسپکٹر کرم جیت سنگھ ہلاک ہوگیا۔
3 جون 2026۔۔۔۔ضلع اسلام آباد کے علاقے انچھی ڈورہ میں آصف حسین کی چھ مرلہ اراضی پرمشتمل دو منزلہ رہائشی مکان کو ضبط کر لیاہے، جس کی مالیت تقریبا 60لاکھ روپے ہے۔مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے معروف کارکن محمد احسن اونتو جو دل کے عارضے میں مبتلا ہیںکو تشویشناک حالت میں سری نگر کے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیاہے۔
4 جون 2026 ۔۔۔ ضلع پونچھ کے علاقے بولنوئی مینڈھر میں ایک بھارتی فوجی ڈیوٹی کے دوران اپنی سروس رائفل سے غلطی سے گولی چلنے سے زخمی ہوگیا ہے۔ بھارتی انتظامیہ نے سرینگر میں ایک اور کشمیری کا تین منزلہ رہائشی گھر مسمار کر دیاہے۔ پولیس نے محکمہ ریونیو کے ساتھ ملکر سرینگر کے علاقے رینہ واری میں شیخ تصدق نامی شخص کا گھر انسداد منشیات کی نام نہاد مہم کی آڑ میں مسمار کر دیا ۔ مسمار کیے جانے والے گھر کی مالیت 2کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے ۔
5 جون 2026۔۔۔۔ بھارتی ریاست پنجاب کے شہر موہالی میں تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی( این آئی اے) کی عدالت نے 2018 کے ایک مقدمے کے سلسلے میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ سے تعلق رکھنے والے تین طلبا زاہد گلزار، یاسر رفیق بٹ اور محمد ادریس شاہ کو 10 سال قید کی سزا سنائی۔طلبا کو بھارتی پولیس نے 10 اکتوبر 2018 کو پنجاب کے شہر جالندھر میں سی ٹی انسٹی ٹیوٹ کے شاہ پور کیمپس میں ان کے ہاسٹل سے گرفتار کیا تھا۔ پولیس نے انکی گرفتاری کا جواز فراہم کرنے کیلئے ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ضلع کشتواڑ کے علاقے میں بھارتی فوج نےبدنام زمانہ ویلیج ڈیفنس گارڑزجن کا مقصد مسلمانوں پر ظلم ڈھانا ہےکے سینکڑوں افراد کو تربیت دینے کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا ہے ۔یاد رہےگزشتہ تقریبا دو ہفتوں سے جاری آپریشن میں بھارتی فوج کیساتھ ویلج ڈیفنس گارڈز کے اہلکار بھی حصہ لے رہے تھے۔
6 جون 2026 ۔۔۔ بھارتی پولیس نےضلع بارہمولہ کے علاقے شیری میں ایک خاتون حسینہ بیگم کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا اور اسے وادی سے باہر ضلع ڈوڈہ کی بھدرواہ جیل میں نظربند کیا گیا ہے۔بھارتی پولیس نے خاتون کی گرفتاری کا جواز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ آزادی پسند اور بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ سمیت مختلف دیہات کے لوگوں نے بھارتی انتظامیہ کی طرف سے جبری قبضہ کرنے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاجی مظاہرین نے قابض حکام کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کی زمینوں پر قبضے کا فیصلہ فوراًواپس لیاجائے۔مظاہرین”ہماری زمینیں واپس کرو“، ”ہم کیا چاہتے، انصاف“ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ پولیس نے سرینگر کے علاقے حضرت بل میں راحیل منظور ملہ کا دو منزلہ رہائشی گھر اور ارضی ضبط کر لی ۔ ضبط کی گئی جائیدار کی مالیت 1کروڑ30لاکھ روپے بتائی جارہی ہے۔پولیس نے ایک اور کارروائی میں سرینگر کے علاقے صورہ میں عادل رشیدنامی شہری کا تقریبا 2کروڑ 20لاکھ روپے مالیت کا رہائشی مکان ضبط کر لیا۔ پولیس نے یہ جائیدادیں انسداد منشیات کی نام نہاد مہم کی آڑ میں ضبط کر لیںہیں۔
7 جون 2026۔۔۔۔ بھارتی پولیس نے ضلع اسلام آباد کے علاقے تربل گوری میں زاہد علی ڈار نامی ایک شخص کو ناکے پر چیکنگ کے دوران گرفتار کر لیا ۔ پولیس نے ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور میںگشت کے دورن ارسلان نبی زرگر ، وسیم نبی وانی اور ظہور احمد شیخ کو گرفتار کر لیا ہے ۔پولیس نے ان چاروں کی گرفتاری کا جواز فراہم کرنے کیلئے ان پرمنشیات فروشی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
9 جون 2026۔۔۔۔ بھارتی پولیس نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کو خاموش کرنے کےسلسلے میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئررہنما غلام محمد خان سوپوری کو سوپور سے گرفتار کر کے بارہمولہ سب جیل میں بند کر دیا ہے۔
بھارتی فوج نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی ایک اور کارروائی کے بارہمولہ کے علاقے چاندسوما، کنس پورہ میں تلاشی کارروائی کے دوران ایک نوجوان کو گرفتار کیا۔ قابض فوج نے نوجوان گرفتاری کا جواز پیش کرنے کیلئے دعویٰ کیا کہ نوجوان جس گاڑی پر سوار تھاکی چیکنگ کے دوران دو پستول، میگزین اور 13 گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔ سرینگر جموں قومی شاہراہ پر پیراہ علاقے کے ایک بس بے قابو ہو کر دو گاڑیوں سے ٹکراگئی جس کے نتیجے میں بھارتی کے دو اہلکار اسسٹنٹ سب انسپکٹر سنجیت کمار اور ہیڈ کانسٹیبل ارون کمار زخمی ہو گئے۔
10 جون 2026 ۔۔۔ضلع بارہمولہ میں اوڑی کے علاقے کمل کوٹ کے ایک کیمپ میں سامان کی نقل وحمل کے دوران دستی بم پھٹنے سے دو بھارتی فوجی چوان وکرم بالاکرشنا اور ارجن جادھو راجندرا ہلاک ہو گئے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں ضلع جموںکے بشنہ کے علاقے چک وزیرو میںنام نہاد انسداد منشیات مہم کی آڑ میںدو بھائیوں لالو گجر اور پھلہ گجرکےدو مکانات کو مسمار کردیا۔
11 جون 2026 ۔۔۔۔بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی(این آئی اے) کی سری نگر میں قائم خصوصی عدالت نے 5 اپریل 1996 کو درج کئے گئے ایک مقدمے میںمحمد یوسف شاہ المعروف سید صلاح الدین اور تین دیگر افراد کو دہائیوں پرانے ایک جھوٹے میں اشتہاری قرار دیدیا ہے۔ این آئی اے نے انہیں اشتہاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ چاروں افراد مفرور ہیں۔محمد یوسف شاہ (سید صلاح الدین)، غلام نبی خان، شیر محمد اور ناصر یوسف قادری کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ، رنبیر پینل کوڈ اور ایگریس اینڈ انٹرنل موومنٹ (کنٹرول آرڈیننس) کے تحت کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر ”سی آئی “کے سری نگر تھانے میں درج مقدمے میں اشتہاری قرار دیا گیا۔ مقدمے میںان چارو ں پر بھارت مخالف تقاریر کرنے اور نوجوانوں کو بھارت کے خلاف مزاحمت پر اکسانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
12 جون 2026۔۔۔۔ضلع پونچھ میںبھارتی فوج کے ایک کیمپ میںتربیتی مشق کے دوران دستی بم غلطی سے پھٹ گیا جس سے دو فوجی زخمی ہو گئے ۔بھارتی پولیس نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما اور مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری فاروق احمد توحیدی کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے فاروق احمد توحدی کو ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور میں گھر پر چھاپے کے دران گرفتار کیا ۔ گرفتاری کے بعد انہیں ڈسٹرکٹ جیل کپواڑہ منتقل کیا گیا ۔جبکہ بھارتی پولیس نے ایک اور آزادی پسند کشمیری محمد امین ملک کو بھی سوپور سے گرفتار کر لیا ہے۔
13 جون 2026۔۔۔۔ضلع پلوامہ کے علاقے کاکہ پورہ میں شبیر احمد خان کا ایک منزلہ رہائشی مکان بھارتی بدنام ایجنسی ’’این آئی اے‘‘ نے ضبط کیا جس کی مالیت 15لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔پولیس نے شبیر احمد کی جائیداد کی ضبطی کا جواز فراہم کرنے کیلئے ان پر منشیات فروشی میں ملوث ہونے کاجھوٹا الزام عائد کیا ہے۔بھارتی پولیس نے اسلام آباد اور پلوامہ اضلاع میں الگ الگ کارروائیوں کے دوران پانچ افراد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے اسلام آباد کے علاقوںشیخ پورہ چنڈ اورخان پورہ کراسنگ کے قریب محمد یوسف ماگرے اور جاوید احمد بٹ کوگرفتار کیا۔پلوامہ میں عادل احمد ڈار اور مظفر احمد ڈار کو ستورہ ترال میں چیکنگ کے دوران گرفتار کیا گیا جبکہ پرویز احمد حجام کو ارون میں ایک ناکے پر گرفتارکیا گیا۔ضلع کپواڑہ کے علاقے سمری کے قریب آزادجموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیاہے۔قابض حکام نے گرفتارنوجوان کی شناخت 19 سالہ اسد خان ولد جاں زیب خان کے نام سے کی ہے جو مظفرآباد کا رہائشی ہے۔واضح رہے کنٹرول لائن کے نزدیک رہنے والے اکثر غلطی سے بھارت کے زیر قبضہ علاقے میں چلے جاتے ہیں جنہیں بھارتی فورسز گرفتارکرلیتی ہیں اورانہیں درانداز قراردیتی ہیں۔
14 جون 2026۔۔۔۔ جموں کے مضافاتی علاقے پالپورہ میں ایک فوجی کیمپ کے اندر بھارتی فوج کے ایک اسٹنٹ سب انسپکٹر لال سنگھ نے اپنی سروس رائفل سے خود پر گولی چلاکرخود کشی کر لی۔
15 جون 2026 ۔۔۔۔ ۔ضلع کولگام یہی باغ کے علاقے ہاتھی پورہ میںمیں نامعلوم افرادنے سیب کے تقریباً 500 درخت کاٹ دیے جس سے مقامی لوگوں اور باغبانی سے وابستہ افراد میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑگئی۔عوام نے مطالبہ کیا ہے مطلوبہ افراد کے خلاف جلد از جلد کارروائی کی جائے۔بھارتی انتظامیہ نے ضلع شوپیاں کے علاقے زینہ پورہ میںفارق احمد کی 11لاکھ61ہزار روپے سے زائد مالیت کی جائیدادضبط کی۔ پولیس نے فاروق احمد کی جائیداد کی ضبطی کا جواز فراہم کرنے کیلئے ان پر منشیات فروشی میں ملوث ہونے کا جھوٹاالزام عائد کیا ہے۔







