شیخ محمد امین
5 اگست 2019 صرف ایک آئینی تبدیلی کا دن نہیں تھا بلکہ جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا موڑ ثابت ہوا جس نے مسئلہ کشمیر کی نوعیت، ریاستی ڈھانچے، عوامی نفسیات اور علاقائی سیاست کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔ اس روز بھارتی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو غیر مؤثر بنا کر جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی، ریاست کو دو وفاقی علاقوں میں تقسیم کیا اور اس پورے عمل کو ترقی، بہتر حکمرانی، بدعنوانی کے خاتمے اور قومی یکجہتی کے نام سے پیش کیا۔حالانکہ یہ متنازع علاقے کی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی کی شرمناک کوشش ہے ۔اگر گزشتہ تین دہائیوں کے بھارتی سیاسی بیانیے کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آرٹیکل370 کا خاتمہ بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے بنیادی سیاسی وعدوں میں شامل تھا۔

اس جماعت نے اپنے انتخابی منشور میں بارہا کہا کہ خصوصی آئینی حیثیت قومی یکجہتی میں رکاوٹ ہے اور اسے ختم کرنا ضروری ہے۔ اس لحاظ سے 5 اگست کا فیصلہ اچانک نہیں تھا بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ایک نظریاتی اور سیاسی منصوبے کی تکمیل سمجھا جا سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی بڑی ریاستی حکمتِ عملی کی کامیابی کا فیصلہ چند برسوں میں نہیں ہوتا۔ اس کے اثرات کو سمجھنے کے لیے تاریخ، سیاست، معیشت، سماج اور عوامی نفسیات کو ایک ساتھ دیکھنا پڑتا ہے۔ یہی اصول 5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر پر بھی لاگو ہوتا ہے۔مودی حکومت نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کئے۔ ان اقدامات کا مقصد کشمیری شناخت کو کمزور کرنا اور بھارت کے ہندو قوم پرست ایجنڈے کو فروغ دینا تھا۔ نئے ڈومیسائل قوانین کے تحت بھارت کے دیگر علاقوں کے باشندوں کو کشمیر میں رہائش، ملازمت اور زمین خریدنے کی اجازت دی گئی۔ جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن آرڈر 2020 ءکے ذریعے ڈومیسائل کی نئی تشریح کی گئی، جس کے تحت کشمیر میں تین سال تک ڈیوٹی دینے والے فوجی و نیم فوجی افسروں اور سپاہیوں، پندرہ سال تک مقیم رہنے والے بھارتی باشندوں ،سات سال تک تعلیم حاصل کرنے والےیا دسویں اور بارہویں جماعت کا امتحان دینے والےطلبا و طالبات ملازمت کے حقدار ہوں گے۔ماضی میں آرٹیکل 35A کے تحت ان قوانین کی تدوین کا اختیار کشمیر اسمبلی کو حاصل تھا۔ منسوخی کے بعد یہ سارے اختیارات بھارتی حکومت نے اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ نئے قانون کے تحت بھارتی حکومت کے اعلیٰ افسران، آل انڈیا سروسز کے اہلکار، نیم خود مختار اداروں، پبلک سیکٹر بنکوں اور یونیورسٹیوں کے ملازمین کے بچے از خودکشمیر کی ملازمتوں کے اہل قرار پائے۔ اس قانون کا نفاذ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب دنیا کی توجہ کورونا بیماری کے بحران پر مرکوز تھی۔2025 ء تک لاکھوں غیر کشمیری ہندووں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کئے جا چکے ہیں، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ حد بندی کمیشن کی 2022 ء کی رپورٹ نے واضح کیا کہ کشمیری مسلمانوں کو سیاسی طور پر بے وزن کرنے کے لیے غیر منصفانہ فیصلے کئےگئے۔ واد ی کشمیر کی آبادی (68.88 لاکھ) کے مقابلے جموں (53.78 لاکھ) کو غیر متناسب طور پر زیادہ نشستیں دی گئیںجس سے مسلم اکثریت کی سیاسی نمائندگی کم ہوئی۔آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ اگست 2019 ء کے بعد دنیا کی طویل ترین انٹرنیٹ بندش نافذ کی گئی جو کئی ماہ تک جاری رہی۔ ہزاروں نوجوانوں، کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔ سابق وزرائے اعلیٰ جیسے محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ اور فاروق عبداللہ کو مہینوں نظر بند رکھا گیا۔ کشمیری صحافیوں کو ہراساں، گرفتار یا جلاوطن کیا گیا۔ گھروں پر چھاپوں، جعلی مقابلوں اور ماورائے عدالت قتل کی رپورٹس عام ہیں۔ پیلٹ گنز کے استعمال سے سینکڑوں نوجوان اپنی بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔سرکاری ملازمین کی برطرفی، زرعی زمینوں کی سرکاری تحویل، گرفتاریاں، ہلاکتیں، رہائشی گھروں کو نقصان اور بیوروکریسی سے کشمیری مسلمانوں کی منظم بے دخلی اس نظام کا حصہ ہے۔ جون 2025 ءتک کم از کم 110 سرکاری ملازمین کو “دہشت گردی سے تعلق” یا دیگر انتظامی وجوہات کے بہانے برطرف کیا جا چکا ہے۔ یہ برطرفی نہ صرف ان افراد کے روزگار کو ختم کرتی ہے بلکہ ان کے خاندانوں کو معاشی طور پر کمزور کرنے کا باعث بھی بنتی ہے۔جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ 2019 ءکے تحت زمین کے قوانین میں تبدیلیوں نے غیر مقامی افراد کو زمین خریدنے کی اجازت دی۔ اس سے زرعی زمینوں کو سرکاری تحویل میں لینے کا عمل تیز ہوا۔ مقامی رپورٹس کے مطابق ہزاروں ایکڑ زرعی زمین ترقیاتی منصوبوں، فوجی تنصیبات اور صنعتی زونز کے لیے حاصل کی گئی۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2 لاکھ ایکڑ سے زائد زمین کشمیریوں سے چھینی جا رہی ہے جس کا مقصد کشمیریوں کو بے اختیار کرکے باہر سے آباد کار لانا ہے۔ یہ پالیسی معاشی استحصال کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی ثقافتی اور تاریخی شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

بھارتی فورسز کی جانب سے رہائشی گھروں کو نقصان پہنچانا بھی انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔ 2019 ءسے جولائی 2025 ءتک کے اعداد و شمار یہ ہیں:
| کل تعداد | سال |
| 56 | 2019 |
| 80 | 2020 |
| 58 | 2021 |
| 29 | 2022 |
| 36 | 2023 |
| 36 | 2024 |
| 90 | 2025 |

لاک ڈاؤن اور فوجی محاصرے نے کشمیر کی معیشت کو تباہ کر دیا۔ سیاحت، قالین بافی، زراعت اور دیگر شعبوں کو شدید نقصان پہنچا۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق اگست 2019 ءسے اگست 2020 ءتک 40000کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ مسلسل کرفیو، خوف کی فضا اور مواصلاتی پابندیوں نے کشمیری عوام میں ڈپریشن، پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر (PTSD) اور دیگر نفسیاتی مسائل کو جنم دیا۔ میڈیسنز سانس فرنٹیئرز کی رپورٹ کے مطابق کشمیری نوجوانوں میں خودکشی کے رجحانات بڑھے ہیں۔ اندازاً 9 لاکھ افراد باقاعدگی سے منشیات استعمال کرتے ہیں، مئی 2019 ءمیں میڈیسنز سانس فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) / ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ وادیٔ کشمیر میں تقریباً 18 لاکھ بالغ افراد (جو آبادی کا 45 فیصد بنتے ہیں) شدید ذہنی دباؤ کی علامات کا شکار ہیں۔ ان میں سے 41 فیصد افراد میں ڈپریشن، 26 فیصد میں بے چینی (اضطراب) اور19 فیصد میںبعد از صدمہ ذہنی دباؤ کی بیماری (پی ٹی ایس ڈی) کی علامات پائی جاتی ہیں۔بھارتی حکومت کے اقدامات نے کشمیری زبان، ثقافت اور تاریخ کو معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ ہندوتوا کے حامی جیسے انوپم کھیر کشمیری مسلمانوں کو “گھل مل جاؤ، مر جاؤ یا بھاگ جاؤ” کا پیغام دے رہے ہیں۔ یہ سوچ ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک نسل پرست اور فسطائی نظام کی عکاسی کرتی ہے۔ نعیمہ مہجور کے مطابق، کشمیری تارکین وطن اپنی جائیدادیں بیچ کر وادی چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ظلم، سیاسی جبر، حکومتی دباؤ، رشتہ داروں کی لالچ اور سماجی انتشار نے ان کی زندگیوں کو مفلوج کر دیا ہے۔سرکاری تقرریوں میں تعصب واضح ہے۔ صحافی افتخار گیلانی کے اعداد و شمار کے مطابق 2020 ءمیں 24 سیکریٹریوں میں صرف 5 مسلمان تھے، 58 اعلیٰ سول سروس افسران میں 12اور 66 اعلیٰ پولیس افسران میں صرف 7 مسلمان تھے۔ 2025 ءتک صورتحال مزید خراب ہوئی۔ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کے 93 افسران میں صرف 20 مسلمان ہیں (21.5 فیصد)جبکہ ریاست کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 68.31 فیصد ہے۔ سول سیکریٹریٹ میں 36 سیکریٹریوں میں صرف 6 مسلمان ہیں (16.6 فیصد)۔ یہ اعداد و شمار کشمیریوں کی منظم بے دخلی کو ظاہر کرتے ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں، گرفتاریاں اور تشدد معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔ تاہم 5 اگست 2019 ءکو بھارتی حکومت کی جانب سے ریاست کی آئینی حیثیت کے یکطرفہ خاتمے کے بعد سکیورٹی اداروں کو ملنے والے غیر معمولی اختیارات نے ظلم و جبر کی نئی مثالیں قائم کر دیں۔ ان حالات کا چشم دید جائزہ لینے کے بعد ’’پاکستان-انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی‘‘ اور ’’جموں و کشمیر سالیڈیریٹی گروپ‘‘ نے 196 صفحات پر مشتمل دل دہلا دینے والی رپورٹ The Siege شائع کی۔ اس رپورٹ میں عوامی جبر، گرفتاریوں اور ٹارچر کے واقعات کی تفصیلات کے ساتھ دیہات و قصبوں میں جاری بھارت مخالف خاموش مزاحمت کو بھی اجاگر کیا گیا، جو بھارتی حکومت اور سکیورٹی اداروں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔

رپورٹ میں پلوامہ کے ایک تاجر کے ساتھ فوجی بدسلوکی، نمازجنازہ میں شرکت پر افراد کو جیل بھیجنے، اور سینکڑوں کشمیری نوجوانوں کی یوپی اور آگرہ جیسی دور دراز جیلوں میں غیر قانونی نظربندی کے واقعات شامل ہیں۔ یہ افراد محض شبہ، اپنی رائے رکھنے یا کسی تقریر سننے کے ’’جرم‘‘ میں گرفتار کئےگئے۔ خاندانوں کو اپنے پیاروں سے ملاقات کے لیے زمینیں بیچنی پڑیںاور کئی والدین زبان کے فرق کے باعث صرف اپنے بچوں کو دیکھ کر لوٹ آئے۔ یہ رپورٹ بھارتی عدلیہ کی بے بسی، مقامی آبادی کی غربت اور سکیورٹی اداروں کی بدعنوانی کو بے نقاب کرتی ہے۔ حبسِ بے جا کی سینکڑوں پٹیشنز عدالتوں میں دائر ہوئیںمگر ان کی شنوائی نہ ہو سکی۔ عوام کی حالت یہ ہے کہ وہ عدالتوں کے چکر لگانے یا وکلاء کی فیس ادا کرنے کی استطاعت بھی کھو چکے ہیں۔فورم فار ہیومن رائٹس ان جموں اینڈ کشمیر کی رپورٹ جو جموں و کشمیر کی تقسیم اور عوام کی بے اختیاری کی چھٹی سالگرہ پر جاری کی گئی، خطے کی سنگین صورتحال کو واضح کرتی ہے۔ اس میں سیاسی بے اختیاری، ادارہ جاتی زوال، سکیورٹی کا غیر ضروری استعمال اور جمہوری جمود کو خطے کو تاریک دور میں دھکیلنے والے اہم عوامل قرار دیا گیا۔ فورم کی سربراہی سابق سکریٹری داخلہ گوپال پلئی اور سابق مذاکرات کار رادھا کمار کر رہے ہیںجبکہ اس میں سپریم کورٹ کے سابق ججز مدن لوکور، روما پال اور اے پی شاہ، فوجی افسران جیسے لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ اور ایئر وائس مارشل کپل کاک، مؤرخ رام چندر گہا اور دیگر شامل ہیں۔رپورٹ میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے ریاستی درجہ بحال کرنے کے وعدوں سے پیچھے ہٹنے پر سخت تنقید کی گئی۔ سپریم کورٹ نے 2019 ءکے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے فوری ریاستی درجہ بحالی کی ہدایت دی تھی۔ جسٹس سنجیو کھنہ نے واضح کیا کہ کسی ریاست کو یونین ٹیریٹری میں تبدیل کرنا آئینی طور پر غلط ہے۔ تاہم، حکومت ’’مرحلہ وار‘‘ اختیارات کی منتقلی کی بات کرتی ہےجسے فورم ناقابل قبول قرار دیتا ہے۔ رپورٹ زور دیتی ہے کہ ریاستی درجہ کی بحالی ایک قانونی تقاضہ ہے نہ کہ کوئی سہولت۔ستمبر۔۔اکتوبر 2024 ءمیں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس جس کی قیادت عمر عبداللہ کر رہے ہیں، نے اکثریت حاصل کرکے حکومت بنائی مگر یہ حکومت عملی طور پر بے اختیار ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر اور مرکزی وزارت داخلہ کے پاس پولیس، سول سروسز، استغاثہ اور مالیات جیسے اہم شعبوں کا کنٹرول ہے۔ 12 جولائی 2024 ءکو جاری ٹرانزیکشن آف بزنس رولز نے کابینہ سے کلیدی اختیارات چھین لیے حتیٰ کہ وزارتی قلمدانوں کی تقسیم بھی بیوروکریٹک جائزے کے تابع ہے۔ وزیراعلیٰ کو سکیورٹی بریفنگز سے دور رکھا جاتا ہے اور کابینہ کو افسران کے تقرر کا کوئی اختیار نہیں۔ فورم اسے ’’کٹھ پتلی نظام‘‘ قرار دیتا ہے جو وفاقیت کی روح کی صریح خلاف ورزی ہے۔رپورٹ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی نشاندہی کرتی ہے جن میں نفرت انگیز تقاریر، ہجومی حملے، 2800 سے زائد افراد کی حراست اور 100 سےایکٹ اور یو اے پی اے کے تحت کی گئیں۔

کم از کم چھ مکانات (مقامی میڈیا کے مطابق دس) کو دھماکوں سے تباہ کیا گیا، جسے فورم ’’اجتماعی سزا‘‘ قرار دیتا ہے۔ 2019 ءسے ہیومن رائٹس کمیشن، خواتین کمیشن، احتساب کمیشن اور اطلاعاتی کمیشن غیر فعال ہیں کیونکہ یہ آئینی ادارے ختم کر دیے گئے اور بحال نہیں ہوئے۔لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ کا کہنا ہے کہ یہ صرف کشمیر کا مسئلہ نہیںبلکہ ہندوستان کی جمہوری روح کا سوال ہے۔ وہ حکومت پر چھ سال سے ایک قوم کے حقوق سلب کرنے کا الزام لگاتے ہیں جسے وہ ’’آمریت‘‘ کہتے ہیں۔ رادھا کمار کہتی ہیں کہ کشمیری عوام نے بارہا ووٹ دیا، اب نئی دہلی کی باری ہے کہ وہ جبر کے بجائے مفاہمت کا راستہ اپنائے۔ رپورٹ کے مطابق عزت نفس کی بحالی جو ریاستی درجے سے شروع ہوتی ہے، استحکام کی ضمانت ہے۔رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ پچھلے چھ سالوں میں حکومتی اقدامات کا مقصد مسلم اکثریتی آبادی کو بے اختیار کرنا تھا۔ جانبدارانہ حد بندی، انتخابی فہرستوں کی ترتیب نو، یوم شہداء (13 جولائی) اور شیخ محمد عبداللہ کی سالگرہ کو تعطیلات سے ہٹانا اس کی واضح مثالیں ہیں۔ خصوصاً، 13 جولائی 2024 کو وزیراعلیٰ کو مزارشہدا میں فاتحہ خوانی سے روکا گیا اور انہیں دیوار پھاند کر داخل ہونا پڑاجو پابندیوں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ تمام اقدامات کشمیری عوام یا اسمبلی کی مشاورت و رضامندی کے بغیر کئے گئے۔
1931 ءسے جولائی 2019 ء تک کےدور کو اگر ہم ماضی کا نام دیں تو یہ درست ہی ہوگا، کیونکہ اس عرصے میں بھارت کا جابرانہ قبضہ اپنی پوری شدت و ظالمانہ اقدامات کے ساتھ جاری رہا لیکن اس دوران بھی بھارتی آئین کی شق 370 اور 35A نے کشمیر کی منفرد شناخت کو کسی نہ کسی شکل میں زندہ رکھا تھا۔ یہ شقیں کشمیریوں کے لیے ایک ڈھال تھیں جو ان کی زمین، ثقافت، اور مسلم تشخص کو تحفظ دیتی تھیں۔ مگر 5 اگست 2019 ءکو شدت پسند حکمران جماعت بی جے پی نے ان شقوں کو منسوخ کرکے کشمیر کو بھارت میں مکمل طور پر ضم کر لیا۔ بھارت کے اقدامات صرف جغرافیائی قبضے تک محدود نہیں رہے بلکہ اب وہ ایک منظم فکری، تعلیمی اور تہذیبی یلغار کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ نصابی کتب میں تبدیلی، تاریخ کی مسخ شدہ تعبیر، مذہبی علامات پر پابندیاں اور اسلامی تشخص کو کمزور کرنے کی شعوری کوششیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ ایک ” خاموش نسل کُشی” کا عمل ہے، جو بندوق سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقتور ریاستوں کو کھلی چھوٹ مل جائے تو وہ سپین کی طرح پورے خطے کی شناخت بدلنے سے بھی دریغ نہیں کرتیںاور پھر صدیاں گزر جانے کے بعد وہاں مسلمان محض کتابوں میں تلاش کئے جاتے ہیں۔اس لئے آج ہم یہ برملا کہہ سکتے ہیں کہ 5 اگست 2019 ء وہ سیاہ دن تھا جب کشمیر کا حال اپنے ماضی سے بھی بدتر ہوگیا۔معروف کشمیری صحافی نعیمہ احمد مہجور نے اپنے حالیہ کالم میں اس دلخراش حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ کشمیر اب وہ جنت نظیر وادی نہیں رہی بلکہ ایک ’کاسمیر‘ بننے کی طرف بڑھ رہی ہے ،ایک ایسی جگہ جہاں اس کی اصل شناخت ڈیڑھ ارب کی آبادی میں تحلیل ہو جائے گی۔ ان کے الفاظ میں ” ایک دہائی بعد کشمیر ’کاسمیر‘ ہو گا” جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وادی کی روح کو چھین کر اسے ایک اجنبی سرزمین میں بدل دیا جائے گا۔آگے لکھتی ہیں ۔۔کہ ” کشمیر کے لوگ اپنا آبائی وطن چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ غیر کشمیریوں کی آمد، زمینوں کی فروخت، اور آبادی کے تناسب کو بدلنے کے اقدامات نے وادی کو اجنبی بنا دیا ہے۔مقامی سیاست دانوں اور تاجروں کی ملی بھگت سے وادی کی زمینیں، جنگلات، اور معدنیات کا سودا ہو رہا ہے۔ غیر کشمیری سیاحت، زراعت، انتظامیہ اور عدلیہ پرچھا رہے ہیں اور لگتا ہے کہ ڈوگرہ دور جیسے واپس پلٹ آیا ہوجہاں کشمیری صرف بے روزگار یا جبری مزدور سمجھے جاتے تھے۔شیخ محمد عبداللہ جنہوں نے مہاراجہ کے خلاف ’کشمیر چھوڑ دو‘ تحریک چلائی، آج تاریخ سے مٹائے جا رہے ہیں جبکہ لال چوک میں مہاراجہ کی مورتیوں کو تاج پہنائے جا رہے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر سوال اٹھتا ہے۔۔۔۔ کیا انڈیا کی آزادی کی تحریکیں غلط تھیں یا صرف کشمیریوں کو اپنی آواز اٹھانے کی سزا دی جا رہی ہے” ۔نعیمہ مہجور کے بقول، میڈیا کی خاموشی اور مقامی قلم پر زنجیریں اس المیے کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔ کشمیر کی ثقافت، زبان، اور شناخت اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے۔ جب اپنی گلیوں میں چلنا مشکل ہو، زبان پر پہرے ہوں، اور اپنی زمین اجنبیوں کے ہاتھوں فروخت ہو رہی ہو تو کشمیری کیا کریں۔زمینی حقائق یہ ہیں کہ بھارت کو قابلِ ذکر کامیابی ملی ہے۔ مرکزی قوانین نافذ ہو چکے ہیں، نئی حلقہ بندیاں ہو چکی ہیں، ڈومیسائل اور زمین کے قوانین تبدیل ہو چکے ہیں اور ریاست کی جگہ وفاقی علاقہ وجود میں آ چکا ہے۔ ان اقدامات نے زمینی انتظامی حقیقت کو تبدیل کر دیا ہے۔لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کشمیری عوام کے دلوں میں سیاسی قبولیت پیدا کرنا،یہ انتہائی مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے، تاہم بھارتی قیادت قبولیت بھی پیدا کرنے کے ہرممکنہ اقدامات کررہی ہے اور اس سلسلے میں خفیہ مذاکرات اور امریکن کوششوں کی بنیاد پرتقسیم کشمیر کے منصوبے پر کام ہورہا ہے اورکنٹرول لائن کو مستقل سرحد بناکر تو ادھر اور ہم ادھر کے فارمولے پر کام سرعت سے جاری ہے ۔اگر خدا نخواستہ ایسا ہوا تو پھر کشمیر کو اندلس اور جامع مسجد سری نگر کو قرطبہ مسجدبننے سے کوئی روک نہیں سکتا ۔اللہ رحم فرمائے







