ڈپٹی سپریم کمانڈرشہید برہان الدین حجازیؒ ۔۔۔تحریک آزادی کا ایک درخشاں ستارہ
جو دلوں کو فتح کر لے، وہی فاتحِ زمانہ
عبد الباسط (شہید)
آٹھ نو گھنٹے کے مسلسل سفر کے بعد میں اپنے ایک قریبی ساتھی کے گھر پہنچا۔ نمازِ عشاء اور کھانے کے بعد اس نے یہ دلدوز خبر سنائی کہ علی محمد ڈار، المعروف برہان الدین حجازی، شہید ہو گئے ہیں۔ یہ سن کر میرے اندر گویا طوفان برپا ہو گیا۔ چند لمحوں کے لیے سکتہ طاری ہو گیا۔ میرے ساتھی نے میرے جذبات کو بھانپ لیا اور دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ راستہ ہی ایسا ہے، اس میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں لیکن دل و دماغ اس ہولناک خبر کو ماننے سے انکار کر رہے تھے۔میں اپنی پیاری تنظیم حزب المجاہدین کو یتیم محسوس کرنے لگا۔ مجھے یقین ہے کہ آرپار میرے بہت سے مجاہد ساتھیوں کا بھی یہی حال ہوگا۔ اپنے محبوب قائد کے ساتھ گزرے ہوئے آٹھ برسوں کی یادیں، واقعات اور باتیں حافظے کی اسکرین پر فلم کی طرح چلنے لگیں۔

میں نے خود کو سنبھالا، تو میرے سامنے میدانِ اُحد کا منظر آ گیا، جب جیتی ہوئی فتح عارضی شکست میں بدل گئی اور یہ خبر پھیل گئی کہ جنابِ رسولِ اکرم ﷺ شہید ہو گئے ہیں۔ صحابۂ کرامؓ کے دل بیٹھ گئے، ان کے ذہنوں میں طرح طرح کے خیالات آنے لگے۔ ایسی آزمائش میں حضرت انس بن نضرؓ نے پژمردہ دلوں میں نئی روح پھونک دی اور پکار اٹھے: ’’لوگو! آؤ، محمد ﷺ نے جس طرح اپنی جان اللہ کی راہ میں پیش کی ہے، ہم بھی اسی اللہ کی خاطر اپنی جانیں قربان کریں۔پھر انہوں نے ستر زخم کھا کر جامِ شہادت نوش کیا‘‘۔ حضرت ثابتؓ نے فرمایا: ’’اگر محمد ﷺ قتل کر دیے گئے ہیں تو اللہ زندہ ہے، وہ کبھی نہیں مرے گا۔‘‘ یوں مسلمانوں نے ایک بار پھر میدانِ عمل کا رخ کیا۔ڈیڑھ سال پہلے حزب المجاہدین کے نائب سپریم کمانڈر غازی نصیب الدین شہید ہوئے، تو اُن کی جگہ پُر کرنے کے لیے محترم برہان الدین حجازی ؒکا انتخاب ہوا۔ ’’اللہ کی برہان‘‘ نے نہ صرف غازی نصیب الدین کی جگہ پُر کی بلکہ حزب المجاہدین کو ازسرِ نو منظم کیا اور اسے ایک مربوط، منضبط اور ناقابلِ تسخیر تنظیم کی شکل دی۔ انتہائی کٹھن حالات میں انہوں نے سارے جموں و کشمیر کا دورہ کیا اور اُن مجاہدین کی صف بندی کی جو غازی نصیب الدین کی شہادت سے دل برداشتہ ہو چکے تھے۔

محترم برہان الدین حجازیؒ شہید کا اصل نام علی محمد ڈار تھا۔ وہ تنظیم کے لیے گویا حیاتِ نو کا پیام بن گئے۔ اب ان کی شخصیت اپنی بے پناہ صلاحیتوں کی بدولت جنگ بندی لائن کے اُس پار پوری آب و تاب سے چمک رہی تھی۔ یہی وہ وقت تھا جب ربِّ ذوالجلال نے اپنے بندے کی خدمات کا صلہ دیتے ہوئے اس کے سینے پر شہادت کا تمغہ سجا دیا۔ اللہ کا یہ پاک بندہ کامران ہو گیا۔ڈار صاحب کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے، مگر میں اپنے تمام مجاہدین اور قائدین کو اس نازک موقع پر احتراماً عرض کرتا ہوں کہ آئیے، ہم بھی شہید کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے زندگی کے آخری سانس اور خون کے آخری قطرے تک جہاد و قتال کے اس بابرکت سفر کو جاری رکھیں۔ ان شاء اللہ!ڈار صاحب بظاہر ایک شخص تھے، مگر اپنی ذات میں ایک انجمن، ایک قائد اور ایک فکر تھے۔ طبیعت کے سادہ، زیادہ تر خاموش رہنے والے، مگر جب بولتے تو دوسروں کو خاموش ہونا پڑتا۔ وہ بے مثل خطیب تھے۔ دل چاہتا ہے کہ ان کے تمام اوصاف بیان کروں، مگر کم علمی اور الفاظ کی تنگی آڑے آتی ہے۔ بس یہی کہہ سکتا ہوں:
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

یہ 1991ء کے ابتدائی ایام کی بات ہے۔ مجھے بیس کیمپ آئے چند ہی دن ہوئے تھے کہ جماعتِ اسلامی آزاد کشمیر کے مرکزی دفتر مظفرآباد میں محترم ڈار صاحب سے کھڑے کھڑے پہلی ملاقات ہوئی۔ اس سے پہلے مقبوضہ وادی میں ان کا غائبانہ تعارف موجود تھا۔ پہلی ہی ملاقات میں میں نے ان سے شکایت کر دی کہ مجھے کوئی ملتا ہی نہیں۔ ڈار صاحب نے انتہائی شفقت سے مسکرا کر میری تمام شکایات اور سوالات کا تسلی بخش جواب دیا۔ یہ پہلی ملاقات ہی مجھے ان کا گرویدہ بنا گئی۔
ڈار صاحب کی خاص عادت تھی کہ جن ساتھیوں سے بے تکلف ہوتے، مصافحے کے وقت ان کا ہاتھ ہنسی مذاق میں زور سے دباتے۔ میرا کمزور ہاتھ جب ان کے مضبوط ہاتھوں میں آتا تو سانس رک سا جاتا، مگر ان کی محبت اور احترام میں یہ سب سہنا آسان ہو جاتا۔ میری طرح دوسرے کمزور ساتھی بھی ان کی ـ “پکڑـ “سے بچنے کی آرزو کرتے۔مقبوضہ علاقے سے ڈار صاحب نے مختلف ذمہ دار ساتھیوں کے نام خطوط بھیجے۔ ان میں ایک خط مجھے بھی ملا، جس نے میرے اندر نیا جوش اور نیا جذبہ پیدا کیا۔ میں اسے اپنی خوش نصیبی سمجھتا ہوں۔ یہ خط ان کی بلند نگاہی، دور اندیشی اور شفقتِ مزاج کی روشن دلیل تھا۔ اس میں انہوں نے میری دلجوئی، حوصلہ افزائی اور تنظیم و تحریک کے بارے میں مفید ہدایات بھی تحریر فرمائیں۔
وہ زیادہ تر عام مجاہدین کے درمیان رہنا پسند کرتے تھے۔ 1995ء میں جماعتِ اسلامی پاکستان کے ملک گیر تاریخی اجتماعِ عام میں محترم ڈار صاحب بھی شریک تھے۔ وہ مقبوضہ علاقے سے چند ماہ قبل ہی آئے تھے۔ اس اجتماع میں کشمیری مجاہدین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مجھے یاد ہے کہ مانسہرہ کے ایک رفیقِ جماعت نے مجاہدین کے بیٹھنے اور سونے کے لیے چٹائیوں کا بندوبست کیا تھا۔ ڈار صاحب انتہائی سادہ لباس میں تھے اور ہمارے ساتھ تینوں دن انہی چٹائیوں پر بیٹھتے اور لیٹتے رہے۔ان کے مزاج میں شگفتگی بھی تھی اور حسِ مزاح بھی بہت عمدہ تھی۔ ایک مرتبہ میں دفترِ حزب میں بیٹھا تھا، اور میرے استاد محترم مجاہد مسعود شہید بھی وہاں موجود تھے۔ دورانِ گفتگو مسعود صاحب نے کہا: ’’ڈار صاحب! کتنی افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ناظمِ دفتر کے پاس گھڑی نہیںڈار صاحب نے فوراً کہا: میں ابھی بندوبست کرتا ہوں!‘‘ اور ہنستے ہوئے مسعود صاحب کے بازو سے گھڑی اتار کر میرے بازو پر باندھ دی۔ مسعود صاحب نے کہا: ’’ڈار صاحب، پیسے کون دے گا؟‘‘تو انہوں نے مزاحاً فرمایا: ’’آپ کو پیسے بھی ملیں گے!‘‘ ڈار صاحب نے گھڑی میری دائیں کلائی پر باندھی تھی، اور میں نے آج تک گھڑی بائیں ہاتھ پر نہیں باندھی۔
ایک مرتبہ مجھے شدید بخار ہو گیا اور میں کشمیر سرجیکل ہسپتال میں داخل تھا۔ بخار کی شدت میں جل رہا تھا کہ محترم ڈار صاحب چند دوسرے ساتھیوں کے ساتھ میری مزاج پرسی کے لیے وارڈ میں داخل ہوئے۔ سلام دعا کے بعد انہوں نے اردگرد کے ساتھیوں سے کہا کہ اس کا سر اور ہاتھ پاؤں دباؤ، میرا تجربہ ہے کہ اس سے بخار کم ہو جاتا ہے۔ پھر انہوں نے خود میرے پاؤں دبانے شروع کر دیے۔ میں نے عرض کیا: ’’ڈار صاحب، مجھے گنہگار نہ کریں۔ مگر انہوں نے نہایت شفقت بھرے لہجے میں ڈانٹ کر مجھے خاموش کر دیا۔ تقریباً دس منٹ تک خود اپنے ہاتھوں سے دباتے رہے اور ایک قرآنی آیت کا ورد کرنے کو بھی کہا۔ واقعی میرے بخار میں کمی آ گئی۔1993ء کی بات ہے۔ 178 ساتھیوں پر مشتمل ایک عسکری گروپ تربیتی کورس کے لیے روانہ ہوا، اور اس قافلے میں ڈار صاحب محترم بھی شامل تھے۔ مجھے اس گروپ کا امیر بنایا گیا تھا۔ وہ عمر، رتبے اور تجربے میں مجھ سے کہیں بڑے تھے، مگر 20، 25 دن مسلسل ہمارے ساتھ رہے۔ میں شرم سے پسینہ پسینہ ہو جاتا تھا اور دل ہی دل میں پریشان رہتا تھا کہ اتنا بڑا آدمی کس طرح مجھے اپنا امیر سمجھ کر احترام کر رہا ہے۔ایک بار مجھ سے پوچھاـ “کوئی ایسی تفسیر ہے جس میں آیات کے بارے میں مکمل شانِ نزول درج ہو؟ یعنی یہ آیت کب نازل ہوئی، دن کا کون سا وقت تھا، اور موسم کیسا تھا؟ـ “میں نے عرض کیا کہ ایسی کوئی تفسیر میری نظر سے نہیں گزری جس میں اتنی باریکی سے شانِ نزول کا ذکر ہو۔ پھر انہوں نے کسی فلسفی سے منسوب ایک قول سنایا کہ جو قرآن کو سمجھنا چاہے اور رسولِ محترم ﷺ کی زندگی کو سمجھنا چاہے، وہ عرب کے اس وقت کے صحابہؓ کو سمجھے، اور جو ان پاکباز نفوس کو سمجھنا چاہے تو عرب کے ریگستانوں اور سنگلاخ پہاڑوں کو سمجھے۔
فرض نمازوں، تہجد، نوافل اور اذکارِ مسنونہ سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ میدانِ کارزار سے بیس کیمپ پہنچے تو مجاہدین کے ایک کیمپ میں مجھ سے پوچھا کہ کیا لائبریری میں ’’حصن حصین ‘‘موجود ہے؟ جب میں نے اثبات میں جواب دیا تو بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ مجاہدین کو یہ دعائیں ضرور یاد کرانی چاہیں۔ ان کے نزدیک میدان میں ان دعاؤں کے اثرات دل و دماغ پر پڑتے ہیں، اور مجاہد کو اطمینانِ قلب نصیب ہوتا ہے اور تعلق باللہ مضبوط ہوتا ہے۔آج جب میں اس حقیقت کو تسلیم کر چکا ہوں کہ شہید ہم سے رخصت ہو چکے ہیں اور اپنے رب سے جا ملے ہیں، تب بھی مجھے یقین ہے کہ ان کی زندگی ہمارے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔ میں نے شہید محترم کی زندگی کے محض چند گمنام گوشوں سے پردہ اس لیے اٹھایا ہے کہ ان کی زندگی میں مشن سے لگن، جہاد و قتال سے وارفتگی، دنیا سے بے نیازی اور تقویٰ و پرہیزگاری جیسے اوصاف نمایاں تھے، اور ہم بھی ان کی پیروی کی کوشش کریں۔میری اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں شہید کے مشن اور پروگرام کو آگے لے جانے کی توفیق عطا فرمائے، شہید کی مساعیِ جمیلہ کو شرفِ قبولیت دے، اور شہید کے حق میں
قرآن و حدیث میں مذکور تمام انعامات انہیں نصیب فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی سعادت و شہادت کی زندگی عطا فرمائے۔ آمین!







