حق خودارادیت کشمیر

حق خودارادیت کشمیر تاریخ کے آئینے میں

شہزاد منیر احمد گروپ کیپٹن (ر)

میں سیدھا سادہ دیہاتی سادہ الفاظ استعمال کرنے اور سادگی سے صراطِ مستقیم پر چلنے کا عادی ہوں ۔ مجھے نہ ٹیڑھے میڑھے راستے پسند ہیں ، نہ بھاری بھرکم تکلف اور نہ ہی پیچیدہ گفتگو۔ میں اس قدیم قول اور سماجی دانش کا پیرو کار ہوں کہ ؛- ہاتھوں سے کئے عمل کا ۔۔رد عمل ، اور دل میں بستی آرزوئیں کبھی نہیں مرتیں۔ براہ راست اور فی البدیہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمیں ( کشمیریوں کو) ریاست کشمیر کی مکمل آزادی اور خود ارادیت کے حصول تک نہ چین ہے اور نہ ہم چین سے بیٹھیں گے۔مسئلہ کشمیر ہندوستان نے خود اپنے ہاتھوں شروع کیا، اس کا فطری ردعمل کشمیریوں کا اپنی سیاسی آزادی کے چھننے پر مزاحمت تھی جس کا مقابلہ ہندوستان نہ کرسکا تو 1948 میں وہ اپنا مقدمہ اقوام متحدہ میں لے گیا۔ اس کا ردعمل ، اقوام متحدہ کا دونوں فریقوں کا موقف سن کر قرارداد نمبر 47 (1948)پاس کی۔ ہندوستان نے قبول کیا۔ اقوام متحدہ کے نمایندے جناب جوزف کاربل کو ایڈمرل سی ڈبلیو نمٹز کو UNCIP میں با اختیار کمیشن مقرر کیا ۔ ہندستان نے قبول کیا ۔مسٹر جوزف کاربل جو چیکوسلواکیہ کے مشہور قانون دان اور سفارت کاری کے ماہر تھےنے بڑی ذمہ داری اور جانفشانی سے کام کیا۔دونوں ممالک کے کشمیر میں متصادم گروہوں، ہندوستانی افواج اور پاکستان کے قبائلی لشکر سے خالی کروانے کا حکم کیا۔ ہندوستان نے قبول کیا، ساتھ میں بھارت کو امن وامان قائم رکھنے کا پابند بھی کیا۔ لیکن اس حکم پر ہندوستان نے عمل درآمد آج تک نہیں کیا ایسا کیوں ہے۔ ان تاریخی المیہ کے عینی شاہدین ( جوزف کاربل اور سی ڈبلیو نمٹز ہی ) کی گواہی اور تحفظات پر مشتمل 1954 میں چھپنے والی کتاب Danger in Kashmir پڑھ لیں۔ اس کتاب میں مسئلہ کشمیر پر کچھ شخصیات کے حالات و واقعات پڑھ کر ، میں نےاپنے طور پر اس کتاب کے تین نام ، (لہو رنگ وادی کشمیر،) ( آشوب کشمیر) اور (سر زمین بے اماں) رکھے ہیں۔ اس کتاب کا دیباچہ برطانوی ایڈمرل C W NIMITZ نے تحریر کیا ہے۔ اس کتاب کی اہمیت اس لئے معتبر اور غیر جانب دارانہ ہے کہ مذکورہ بالادونوں شخصیات،( جوزف کاربل اور سی ڈبلیو نمٹز ) کشمیر میں استصواب رائے کروانے کے بالترتیب UNCIP کے انچارج اور ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوئے تھے۔

امریکی چیف آف فلیٹ، سی ڈبلیو نمٹز بہتر پیشہ ور اور بربوقت موثر فیصلہ سازی کے لیے مشہور تھے۔ وہ دوسری جنگ عظیم میں بہترین کارکردگی دکھانے پر اقوام متحدہ میں نمائندے مقرر ہوئے تھے اورجوزف کاربل سفارت کا دنیائے سفارت کاری کے بے مثال اور انتہائی موثر انداز میں غیر جانبدار اور باوقار انداز میں تقریر کرتے تھے۔ امریکہ میں بلکلنٹن کی صدارت میں پہلی خاتون وزیر خارجہ بننے والی میڈلین البرائٹ کے ڈیڈی تھے۔ اور جارج ڈبلیو بش کی صدارت میں خاتون وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس جوزف کاربل کی ذہیں شاگرد تھیں۔ کہتے ہیں کونڈولیزا رائس DENVER یونیورسٹی میں میوزک پڑھ رہی تھیں ۔ انہوں نے جوزف کاربل کا ایک لیکچر سنا تو مضامین تبدیل کر کے پولیٹیکل سائنس میں پی ایچ ڈی کی تھی ۔ان ذہین فطین دور بین شخصیات کے تیار کردہ پلان کو مکمل طور پر ناکام کروانے کا ذمہ دار ہندوستان تھا اور رہا ہے۔ دونوں شخصیات نے ہندستان کے وزیراعظم جواہر لال نہرو کے انتہائی متعصبانہ کردار، اقوام متحدہ کے ناروا سلوک اور سرد مہری سے بد دل اور مایوس ہونے پر استعفیٰ دے دیا اور واپس چلے گئے تھے۔مسئلہ کشمیر ایک دیرینہ اور انتہائی حساس سیاسی، قانونی اور انسانی مسئلہ ہے۔ اقوامِ متحدہ (UN) کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں خطہ کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت (Right to Self-Determination) کے حصول اور اس تنازع کے پرامن حل کے لیے کئی سطحوں پر اقدامات ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔بین الاقوامی ماہرین، سفارت کاروں اور قانونی فورمز کے مطابق مندرجہ ذیل اہم اقدامات اس مقصد کے حصول کو ممکن بنا سکتے ہیں:
1۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمدرائے شماری کا انعقاد: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی پاس کردہ بنیادی قراردادوں (مثلاً قرارداد نمبر 47 جو حق خودارادیت دینے کی منظوری ہے۔) کے تحت کشمیری عوام کو ایک آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے شماری (Plebiscite) کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جانا سب سے قانونی راستہ ہے۔عالمی مبصرین کی تعیناتی: رائے شماری کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے بین الاقوامی مبصرین اور اقوامِ متحدہ کے امن مشن کی موجودگی کو یقینی بنانا۔
2۔ بین الاقوامی سفارت کاری اور دباؤعالمی برادری کا کردار عالمی طاقتوں (جیسے امریکہ، چین، یورپی یونین) اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے ذریعے دونوں فریقین (پاکستان اور بھارت) پر مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالنا۔انسانی حقوق کے فورمز: خطے میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (OHCHR) کی رپورٹس کی روشنی میں عالمی سطح پر آواز بلند کرنا۔
3۔ بامقصد اور جامع مذاکرات (Dialogue)
سہ فریقہ بات چیت: کسی بھی پائیدار حل کے لیے پاکستان اور بھارت کے ساتھ ساتھ کشمیری قیادت (حریت اور دیگر نمائندوں) کو مذاکرات کی میز پر بنیادی فریق کے طور پر شامل کرنا ضروری ہے۔
اعتماد سازی کے اقدامات (CBMs): لائن آف کنٹرول (LoC) پر کشیدگی کو کم کرنا، تجارتی راستے کھولنا، اور منقسم خاندانوں کی آمد و رفت کو آسان بنانا تاکہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکے۔

4۔ قانونی اور آئینی راستےبین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ): اس تنازع کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) یا دیگر بین الاقوامی قانونی فورمز پر جنیوا کنونشنز اور انسانی حقوق کے عالمی قوانین کے تحت اٹھانا۔خصوصی حیثیت کی بحالی: مقامی سطح پر سیاسی عمل کو بحال کرنے کے لیے خطے کی خودمختاری اور سابقہ آئینی حیثیت سے متعلق تحفظات کو دور کرنا۔
5۔ مقامی قیادت اور سیاسی یکجہتی
متحدہ موقف: تمام کشمیری سیاسی و سماجی دھڑوں کا ایک مشترکہ اور پرامن ایجنڈے پر متحد ہونا تاکہ بین الاقوامی سطح پر ان کا موقف زیادہ مضبوطی سے سنا جا سکے۔نوجوان نسل کی شمولیت: تعلیمی، ڈیجیٹل اور پرامن سیاسی فورمز کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کو اپنے حقوق کی وکالت کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرنا۔(۔اتفاق سے یہ سارے کشمیریوں کے دائرہ عمل میں ہیں۔لیکن غیر موثر ہو چکے ہیں ۔ کیونکہ اقوام متحدہ اس مسئلہ کو ارادتاً منجمد کر کے رکھنا چاہتی ہے۔ کشمیری آزاد اور مقبوضہ کشمیر کی دو اکائیوں میں تقسیم ہیں۔ وسائل بھی نہیں ۔
مسئلہ کشمیر کی موجودہ صورتحال۔۔۔۔۔
اس مایوسی اور زمینی حقائق کے باوجود، بین الاقوامی تعلقات اور جغرافیائی سیاست کے ماہرین کے مطابق، مستقبل میں اس مسئلے کے حل یا تبدیلی کی گنجائش اور امید کے چند غیر روایتی راستے اب بھی موجود ہیں۔موجودہ عالمی منظرنامے میں اس جمود کے ٹوٹنے کی ممکنہ وجوہات درج ذیل ہو سکتی ہیں:
1۔ نیوکلیئر ڈیٹرنس اور فلیش پوائنٹ (Nuclear Flashpoint)
پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں، اور کشمیر ان کے درمیان کا سب سے بڑا تنازع ہے۔ عالمی برادری (بشمول امریکہ اور چین) اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ یہاں معمولی سی کشیدگی بھی ایک بڑی جوہری جنگ میں بدل سکتی ہے۔ اس لیے، عالمی طاقتیں کسی بھی بڑے بحران کی صورت میں مکمل طور پر لاتعلق نہیں رہ سکتیں اور حادثاتی جنگ سے بچنے کے لیے پسِ پردہ ثالثی پر مجبور ہوتی ہیں۔
2۔۔ جغرافیائی سیاسی تبدیلیاں (Geopolitical Shifts)
دنیا تیزی سے کثیر قطبی (Multipolar) ہو رہی ہے، جہاں چین کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے اور سی پیک (CPEC) جیسے منصوبے خطے سے گزر رہے ہیں۔ چین کا اس خطے میں براہِ راست مفاد (لداخ اور گلگت بلتستان کی سرحدوں کی وجہ سے) اس مسئلے کو صرف پاک-بھارت کا دوطرفہ معاملہ نہیں رہنے دیتا۔ خطے کی یہ بدلتی ہوئی جیو-اکنامکس مستقبل میں طاقت کا توازن بدل سکتی ہے۔3۔ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کا اثر (The Digital Age)
ماضی میں معلوماتی بلیک آؤٹ کی وجہ سے مقامی آوازیں دب جاتی تھیں، لیکن اب ڈیجیٹل دور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو زیادہ دیر تک چھپانا ممکن نہیں رہا۔ عالمی سطح پر رائے عامہ اب حکومتوں کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتی ہے، جیسا کہ ہم نے حالیہ برسوں میں دنیا کے دیگر تنازعات میں دیکھا ہے۔ کشمیری نوجوان نسل اس ڈیجیٹل وکالت کو اپنے حق میں استعمال کر رہی ہے۔

4۔ اندرونی سیاسی اور معاشی دباؤ
بھارت اور پاکستان کے اندرونی حالات: دونوں ممالک کے اندرونی معاشی چیلنجز، سیاسی تبدیلیاں اور پائیدار ترقی کی ضرورت انہیں دیر یا بدیر اس بات پر مجبور کر سکتی ہے کہ وہ دفاعی بجٹ کے بھاری اخراجات کو کم کر کے عوامی فلاح پر لگائیں، جس کا راستہ صرف امن سے نکلتا ہے۔مقامی مزاحمت اور شناخت: دہائیوں کے جبر اور تقسیم کے باوجود کشمیریوں کی اپنی شناخت اور حقِ خودارادیت کی تحریک ختم نہیں ہوئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مسئلہ مستقل طور پر دبایا نہیں جا سکتا۔تاریخ گواہ ہے کہ برلن کی دیوار کا گرنا ہو یا سوویت یونین کا بکھرنا، دہائیوں پرانے اور ناقابلِ حل نظر آنے والے مسائل بھی اچانک بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تحت حل ہو گئے۔ اس لیے، اگرچہ فوری حل نظر نہیں آتا، لیکن تاریخ کے دھارے ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔

مشرف اور منموہن کے فارمولہ
مشرف-منموہن فور پوائنٹ فارمولاسال 2004ء سے 2007ء کے دوران دونوں ممالک کے مابین پسِ پردہ سفارت کاری کے نتیجے میں تیار کیا گیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد روایتی موقف سے ہٹ کر ایک ایسا درمیانی راستہ نکالنا تھا جو پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام تینوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔
یہ چار نکات درج ذیل تھے:
1۔ سرحدوں میں کوئی تبدیلی نہیں
لائن آف کنٹرول (LoC) کو مستقل بین الاقوامی سرحد تو تسلیم نہیں کیا جائے گا، لیکن دونوں ممالک کی موجودہ جغرافیائی حدود میں کوئی تبدیلی بھی نہیں کی جائے گی۔ یعنی نقشے نہیں بدلے جائیں گے، بلکہ سرحدوں کو صرف “غیر مؤثر یا نرم” بنا دیا جائے گا۔
2۔ سیلف گورننس
مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر دونوں اکائیوں کو اپنے اپنے علاقوں میں وسیع پیمانے پر اندرونی خود مختاری دی جائے گی۔ کشمیری عوام کو اپنے مقامی معاملات، قانون سازی اور انتظام چلانے کے مکمل اختیارات حاصل ہوں گے، جبکہ دفاع اور خارجہ امور دونوں ممالک (اپنے اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں) سنبھالیں گے۔
3۔ مرحلہ وار فوج کا انخلا
خطے میں امن قائم کرنے کے لیے دونوں ممالک مرحلہ وار اپنی فوجوں کی تعداد کو کم کریں گے۔ پہلے مرحلے میں شہری علاقوں اور آبادیوں سے فوج ہٹائی جائے گی تاکہ کشمیری عوام خود کو آزاد محسوس کر سکیں اور خوف کا ماحول ختم ہو۔
4۔ مشترکہ نگرانی کا نظام
آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان عوامی رابطوں، تجارت، سیاحت اور پانی جیسے مشترکہ مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک “مشترکہ نگران ادارہ” تشکیل دیا جائے گا۔ اس ادارے میں پاکستان، بھارت اور کشمیری قیادت کے نمائندے شامل ہوں گے جو دونوں حصوں کے معاملات کو باہمی مشاورت سے چلائیں گے۔یہ معاہدہ تاریخ میں حل کے سب سے قریب پہنچ چکا تھا اور اس پر دستخط ہونا باقی تھے، لیکن 2007ء میں پاکستان کے اندرونی سیاسی بحران (وکلا تحریک اور صدر مشرف کے استعفے) اور بعد میں 2008ء کے ممبئی حملوں کی وجہ سے یہ کوشش مکمل طور پر ختم ہو گئی اقوام متحدہ کی طرف سے 1950 میں مسلہ کشمیر کے حل کے لیے” ڈکسن پلان ” پیش کیا تھا ، جو ایک امن فارمولا تھا۔اسے آسٹریلوی ہائی کورٹ کے جج اور اقوام متحدہ کے نمائندے سر اوون ڈکسن نے تیار کیا تھا۔ اس پلان کے اہم نکات مندرجہ ذیل تھے۔
جزوی رائے شماری اور تقسیم:-
اس فارمولے کے تحت پوری وادی کشمیر میں رائے شماری کرانے کی بجائے ، اسے علاقائی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی تھی ۔علاقائی تقسیم ،وادی کشمیر جس میں مسلمانوں کی اکثریت تھی میں رائے شماری کروائی جائے گی جب کہ جموں اور لداخ میں ان کے رجحانات کے تحت
مسلمانوں کی اکثریت کو پاکستان کے ساتھ اور ہندو اور بودھ کی اکثریت کو بھارت کے ساتھ کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے گا ۔ازاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کے پاس رہیں گے۔ کشمیر میں رائے شماری کو شفاف رکھنے کے لئے سر اوون ڈکسن نے یہ شرط رکھی تھی کہ پورے کشمیر میں ایک غیر جانبدار اور غیر سیاسی انتظامیہ قائم کی جائے ۔اس پلان کو پاکستان نے تو ابتدائی اعتراضات کے بعد قبول کر لیاتھا۔ مگر غیر جانبدار انتظامیہ کے پوائنٹ پر ہندوستان کے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس شدید مخالفت کی وجہ سے پلان ناکام ہو گیا۔ سر ڈکسن نے اپنی رپورٹ ستمبر 1950 کو جمع کروائی پلان ختم کر دیا۔