سید عمر گردیزی
کشمیر صرف ایک خطہ نہیں بلکہ برصغیر کی تقسیم کا وہ نامکمل باب ہے جس کی سطریں آج بھی خون، ہجرت، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے درمیان معلق دکھائی دیتی ہیں۔ گزشتہ سات دہائیوں سے پاکستان دنیا کے سامنے یہی مؤقف پیش کرتا آیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے، جس کی حتمی آئینی اور قانونی حیثیت کا فیصلہ نہ نئی دہلی کرے گی، نہ اسلام آباد بلکہ کشمیری عوام اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ رائے شماری کے ذریعے خود کریں گے۔ یہی مؤقف پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد بھی رہا ہے اور اسی بنیاد پر ہر عالمی فورم پر بھارت کے اقدامات کو چیلنج کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن آج ایک ایسا سوال پوری شدت کے ساتھ سامنے کھڑا ہے جس کا جواب صرف سیاست نہیں بلکہ قانون، سفارت کاری اور اصولوں کی روشنی میں تلاش کرنا ہوگا۔ اگر بھارت کو 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کا اختیار نہیں تھا کیونکہ وہ ایک متنازع خطہ ہے، تو پھر کیا اسی اصول کے تحت پاکستان بھی گلگت بلتستان کی مستقل آئینی حیثیت تبدیل کر سکتا ہے؟ یہی سوال اس مضمون کا محور ہے۔ 5 اگست 2019 کو بھارت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کرتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی اور اسے دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم کر دیا۔ بھارت نے اسے اپنا داخلی آئینی معاملہ قرار دیا، لیکن پاکستان نے اس اقدام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی روح کے منافی قرار دیتے ہوئے دنیا کے سامنے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایک متنازع علاقے کی حیثیت یکطرفہ طور پر تبدیل نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان کے دفتر خارجہ، پارلیمنٹ اور سلامتی کونسل میں پیش کیے گئے مؤقف کی بنیاد یہی تھی کہ کشمیر کا مقدمہ ابھی فیصلہ طلب ہے، اس لیے کسی بھی فریق کو اس کی مستقل آئینی حیثیت تبدیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ یہ مؤقف صرف پاکستان کا سیاسی بیانیہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں سے اخذ کیا گیا استدلال ہے۔

سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 47 (1948) اور بعد کی قراردادوں میں ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کو عوامی رائے سے مشروط کیا گیا۔ اگرچہ ان قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کبھی نہ ہو سکا، لیکن سلامتی کونسل نے انہیں کبھی منسوخ بھی نہیں کیا۔ اسی بنیاد پر اقوام متحدہ آج بھی جموں و کشمیر کو ایک متنازع خطہ تصور کرتی ہے اور اسی وجہ سے دنیا کی اکثریت نے 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدام کو کم از کم ایک متنازع اور حساس پیش رفت کے طور پر دیکھا۔
یہاں اصل سوال جنم لیتا ہے۔ اگر پاکستان کا مقدمہ یہ ہے کہ متنازع علاقے کی آئینی حیثیت یکطرفہ طور پر تبدیل نہیں کی جا سکتی، تو پھر یہی اصول گلگت بلتستان پر کیوں لاگو نہ ہوگا؟ گلگت بلتستان تاریخی طور پر سابق ریاست جموں و کشمیر کا حصہ رہا ہے۔ پاکستان خود بھی بین الاقوامی فورمز پر اسی حقیقت کا حوالہ دیتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر اس خطے کو مستقل طور پر پاکستان کا آئینی صوبہ بنانے کی تجویز پر یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس سے پاکستان کے اپنے ہی سفارتی مؤقف پر سوالات کھڑے نہیں ہوں گے؟ بین الاقوامی قانون میں ایک اہم اصول Consistency یا اصولی یکسانیت کا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک ریاست جس اصول کو دوسرے پر لاگو کرنے کا مطالبہ کرتی ہے، اسے اپنے طرزِ عمل میں بھی اسی اصول کی پاسداری کرنی چاہیے۔ اگر پاکستان دنیا سے یہ کہتا ہے کہ بھارت نے متنازع کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرکے غلط کیا، تو پھر عالمی سفارت کاری میں یہ سوال بھی اٹھ سکتا ہے کہ کیا پاکستان کے اقدامات بھی اسی معیار پر پرکھے جائیں گے؟ اگر دونوں ریاستیں اپنے زیر انتظام متنازع علاقوں کو مستقل طور پر اپنے آئینی ڈھانچے میں ضم کرنے لگیں تو پھر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور حقِ خود ارادیت کے مطالبے کی عملی حیثیت کیا رہ جائے گی؟ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے بنیادی حقوق، نمائندگی، عدالتی تحفظ اور آئینی شناخت کا مطالبہ ہرگز غیرمنصفانہ نہیں۔ ایک مہذب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے زیر انتظام ہر شہری کو مساوی حقوق فراہم کرے۔ لیکن سوال یہ نہیں کہ حقوق دیے جائیں یا نہ دیے جائیں؛ سوال یہ ہے کہ ان حقوق کی فراہمی کا آئینی راستہ کیا ہو تاکہ ایک طرف عوام محروم نہ رہیں اور دوسری طرف پاکستان کا وہ سفارتی مقدمہ بھی متاثر نہ ہو جو وہ سات دہائیوں سے دنیا کے سامنے پیش کرتا آیا ہے۔ یہیں ایک متبادل راستہ سامنے آتا ہے۔ اگر مقصد صرف عوامی حقوق ہیں تو کیا گلگت بلتستان کو آزاد جموں و کشمیر کی طرز پر ایک مضبوط، خودمختار، الگ آئینی و انتظامی ڈھانچہ نہیں دیا جا سکتا؟ ایسا نظام جس میں مقامی اسمبلی، مقامی عدلیہ، مکمل داخلی خودمختاری اور آئینی ضمانتیں موجود ہوں، لیکن ساتھ ہی یہ واضح رہے کہ علاقے کی حتمی بین الاقوامی حیثیت اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیر تنازع کے حتمی حل سے مشروط ہے۔ اس صورت میں عوام کے حقوق بھی محفوظ رہ سکتے ہیں اور پاکستان کا روایتی سفارتی مؤقف بھی زیادہ مضبوط انداز میں برقرار رہ سکتا ہے۔

اسی تناظر میں ایک اور سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ اگر آزاد جموں و کشمیر کی بارہ مہاجر نشستوں میں تبدیلی کے بارے میں یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ اس سے تحریک آزادی کشمیر اور ریاست جموں و کشمیر کی نمائندگی متاثر ہوگی، تو پھر کیا گلگت بلتستان جیسے وسیع خطے کی مستقل آئینی حیثیت تبدیل کرنے سے اس سے کہیں بڑے سفارتی اور قانونی سوالات پیدا نہیں ہوں گے؟ یہ سوال کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کا نہیں بلکہ پورے مقدمۂ کشمیر کے مستقبل سے متعلق ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے سے لازماً تحریک آزادی کشمیر ختم ہو جائے گی، کیونکہ ایسی کوئی قطعی قانونی رائے موجود نہیں۔ تاہم یہ کہنا بھی آسان نہیں کہ اس اقدام کے سفارتی اثرات بالکل نہیں ہوں گے۔ بین الاقوامی سیاست میں صرف قانونی حقیقتیں ہی اہم نہیں ہوتیں بلکہ ریاستوں کا تسلسل، ان کا طرزِ استدلال اور ان کے اپنے اصولوں پر قائم رہنا بھی ان کے مقدمات کی قوت کا حصہ ہوتا ہے۔ اگر پاکستان ایک طرف بھارت کے اقدامات کو یکطرفہ آئینی تبدیلی قرار دیتا ہے اور دوسری طرف خود ایسا قدم اٹھاتا ہے جسے دنیا مستقل انضمام کے طور پر دیکھے، تو ناقدین کے لیے پاکستان کے مؤقف پر سوال اٹھانا آسان ہو سکتا ہے۔ اس پورے معاملے کا حاصل یہی ہے کہ کشمیر کا مقدمہ صرف زمین کا نہیں بلکہ اصول کا مقدمہ ہے۔ اگر اصول یہ ہے کہ متنازع خطے کی حتمی حیثیت کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، تو پھر یہی اصول ہر فریق پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق یقینی طور پر محفوظ ہونے چاہیں، لیکن ایسا آئینی راستہ اختیار کرنا جو مستقبل میں پاکستان کے اپنے سفارتی مقدمے کو کمزور کر دے، ایک سنجیدہ قومی بحث کا متقاضی ہے۔ شاید یہی وقت ہے کہ سیاسی نعروں سے ہٹ کر ایک ایسا حل تلاش کیا جائے جو نہ صرف گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ انصاف کرے بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں، حقِ خود ارادیت اور پاکستان کے دہائیوں پر محیط سفارتی مؤقف کے ساتھ بھی ہم آہنگ رہے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصول صرف اس وقت طاقتور ہوتے ہیں جب ان کا اطلاق سب پر یکساں ہو۔ اگر ہم دنیا سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارت کو متنازع کشمیر کی آئینی حیثیت یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کا حق نہیں تھا، تو پھر یہی سوال ہمارے اپنے فیصلوں کے سامنے بھی کھڑا ہوگا۔ آخرکار فیصلہ صرف یہ نہیں کہ گلگت بلتستان کو کیا حیثیت دی جائے، بلکہ یہ بھی ہے کہ آنے والی نسلوں کے سامنے پاکستان اپنے مقدمۂ کشمیر کو کس اصولی بنیاد پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ کیونکہ بین الاقوامی قانون میں بعض اوقات ایک آئینی ترمیم صرف ایک داخلی تبدیلی نہیں رہتی، بلکہ وہ مستقبل کے سفارتی استدلال کا حصہ بھی بن جاتی ہے، اور یہی وہ پہلو ہے جس پر سنجیدہ غور و فکر کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔







