مردِ لازوال ۔۔۔۔امام سید علی گیلانیؒ

شیخ محمد امین

کچھ شخصیات صرف اپنی زندگی نہیں گزارتیں، بلکہ ایک عہد کی ترجمانی کرتی ہیں۔ وہ وقت کے دھارے میں گم نہیں ہوتیں، بلکہ تاریخ کے صفحات پر اپنے عزم، نظرئیے اور جدوجہد کے ایسے نقوش چھوڑ جاتی ہیں جنہیں مٹانا آسان نہیں ہوتا۔امام سید علی شاہ گیلانی ؒ بھی کشمیر کی سیاسی اور مزاحمتی تاریخ کی ایسی ہی ایک شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اپنےنظرئیے، اپنے مؤقف اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے وقف کر دی۔یکم ستمبر 2021ء کو 92 برس کی عمر میں جب امام سید علی گیلانیؒ نے طویل علالت کے بعد اس دنیا سے رخصت لی تو کشمیر کی مزاحمتی سیاست کا ایک اہم باب اختتام پذیر ہوا، لیکن ان کی آواز، ان کا نظریہ اور ان کی جدوجہد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہنے والی یاد بن گئی۔
امام سید علی گیلانیؒ کی زندگی کا ایک بڑا حصہ قید و بند کی صعوبتوں میں گزرا۔ جیل کی سلاخیں ان کے لیے نئی نہیں تھیں۔ پابندیاں، نظربندی، گرفتاریاں اور سیاسی دباؤ ان کی زندگی کا مستقل حصہ رہے۔ جسم کو قید کیا جا سکتا تھا، فکر کو نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ قید کے دوران بھی ان کا قلم خاموش نہ ہوا۔ انہوں نے دو جلدوں پر مشتمل اپنی معروف کتاب ’’روداد قفس‘‘ تحریر کی، جبکہ سیاسی، سماجی، مذہبی اور فکری موضوعات پر سینکڑوں مضامین اور متعدد کتابچے بھی لکھے۔وہ صرف سیاست دان نہیں تھے۔ وہ ایک صاحبِ قلم مصنف، شعلہ بیان مقرر، مذہبی فکر رکھنے والے رہنما اور اپنےنظرئیےپر غیر معمولی استقامت کے حامل قائد تھے۔

امام سید علی گیلانیؒ 29 ستمبر 1929ء کو ضلع بارہمولہ میں جھیل وُلر کے کنارے آباد گاؤں زوری منز کے ایک معزز سید گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سوپور میں حاصل کی اور بعد ازاں لاہور کے اورینٹل کالج سے تعلیم مکمل کی۔لیکن ان کی اصل شناخت کسی تعلیمی سند سے نہیں، بلکہ اس سیاسی سفر سے بنی جو انہیں کشمیر کی مزاحمتی سیاست کے مرکز تک لے گیا۔انہوں نے 1950ء میں کشمیریوں کی سیاسی مزاحمت میں عملی طور پر حصہ لے کر اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ امام سید علی گیلانیؒ کی فکری تشکیل پر علامہ محمد اقبالؒ اور امام سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ اقبالؒ نے انہیں خودی، حریت فکر، عزت نفس اور غلامی کے خلاف مزاحمت کا شعور دیا، جبکہ سید مودودیؒ کی فکر نے اسلام کو محض ایک مذہبی عقیدے کے بجائے ایک مکمل ضابطہ حیات اور اجتماعی جدوجہد کے طور پر سمجھنے میں ان کی رہنمائی کی۔ امام گیلانیؒ علامہ اقبالؒ کے اس پیغام سے خاص طور پر متاثر دکھائی دیتے تھے کہ مسلمان اپنے اندر خود اعتمادی، غیرت اور آزادی کی روح پیدا کرے، جبکہ امام مودودیؒ کی تحریروں اور فکری جدوجہد نے ان کے سیاسی اور اسلامی نظریۂ حیات کو مزید واضح کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی سیاست میںعلامہ اقبالؒ کی خودی و حریت اور امام سیدمودودی ؒکی اسلامی فکر و عملی جدوجہد کا امتزاج نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ان عظیم قائدین کے نظریات کو آگے بڑھانے کیلئے وہ جماعت اسلامی جموں و کشمیر سے وابستہ ہوئے اور بتدریج اس کے نمایاں رہنماؤں میں شمار ہونے لگے۔ان کی دینی و سیاسی سرگرمیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں پہلی مرتبہ 1964ء میں گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد قید و بند جیسے ان کی زندگی کا لازمی جزو بن گیا۔ مگر ہر گرفتاری کے بعد وہ پہلے سے زیادہ پرعزم ہو کر سامنے آتے رہے۔اسمبلی سے مزاحمت کی قیادت تک امام سید علی گیلانیؒ تین مرتبہ مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ یہ ان کی سیاسی زندگی کا ایک اہم پہلو تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کی شناخت انتخابی سیاست سے زیادہ کشمیری مزاحمتی تحریک کے ایک مستقل مزاج رہنما کے طور پر بن گئی۔وہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی رہے۔

امام سید گیلانیؒ کا بنیادی مؤقف واضح تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی خواہشات، تاریخی پس منظر اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔اسی مؤقف کی وجہ سے وہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کے ساتھ الحاق کے حامی نمایاں کشمیری رہنما کے طور پر سامنے آئے۔2003ء میں انہوں نےتحریک حریت جموں و کشمیر کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ اس تنظیم کے ذریعے انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد کو ایک الگ سمت دی اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے مطالبے کو اپنی سیاست کا بنیادی محور بنائے رکھا۔مشرف فارمولے سے اختلا ف امام سید گیلانیؒ کی سیاسی زندگی کا ایک نمایاں پہلو ان کی اصولی سیاست تھی۔ 2003ء میں جب پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہٹ کرچار نکاتی فارمولہ کے تحت مسئلہ کشمیر کو حل(تحلیل) کرنے کی کوشش کی گئی تو امام سید گیلانیؒ نے اس کی کھل کر مخالفت کی۔وہ سمجھتے تھے کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی بھی حل کشمیری عوام کی خواہشات کو نظرانداز کرکے نہیں نکالا جا سکتا۔ اسی اختلاف نے کشمیری مزاحمتی قیادت کے اندر موجود سیاسی خلیج کو مزید نمایاں کیا اور حریت کانفرنس مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔امام سید گیلانی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ یہی وہ مقام تھا جہاںان کی شخصیت نے ایک ایسے رہنما کی شکل اختیار کی جس کے لیے سیاسی مصلحت سے زیادہ نظریاتی وابستگی اہم تھی۔29 جون 2020ء کو امام سید گیلانیؒ نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے اس دھڑے سے بھی علیحدگی کا اعلان کیا جس کی وہ قیادت کر رہے تھے۔
عمر ڈھل چکی تھی، جسم بیماریوں سے کمزور ہو چکا تھا، مگر ان کے لہجے میں وہی یقین اور مزاحمتی جذبہ باقی تھا جس نے انہیں کئی دہائیوں تک کشمیر کی سیاست کا ایک نمایاں کردار بنائے رکھا۔انہوں نے اپنے آخری ایام میں کہا” جسمانی کمزوری اور مختلف عوارض، روح کے مضمحل ہونے کے مترادف نہیں ہے، نہ قلب و ذہن کی قوت موقوف ہوئی ہے اور نہ ہی میرے جذبۂ حریت میں کوئی ضعف آیا ہے۔ اس دارفانی سے رحلت تک میں بھارتی استعمار کے خلاف نبرد آزما رہوں گا اور اپنی قوم کی رہنمائی کا حق حسبِ استطاعت ادا کرتا رہوں گا” ۔یہ الفاظ دراصل ان کی پوری زندگی کا خلاصہ تھے۔ جسم کمزور ہوتا گیا، مگر عزم کمزور نہ ہوا ۔مارچ 2018ء میں سید گیلانی کی ایما پر ان کے دیرینہ ساتھی محمد اشرف صحرائیؒ کو تحریک حریت جموں و کشمیر کا امیر مقرر کیا گیا۔ صحرائی صاحب ؒ 5 مئی 2021ء کو دوران حراست جموں کے ایک اسپتال میں شہادت سے سرفراز ہوئے ۔ جموںکشمیر میںامام سید گیلانیؒ کے سیاسی اثر و رسوخ کو سمجھنے کے لیے شیخ محمد عبداللہ کی تاریخ کو بھی سامنے رکھنا پڑتا ہے۔ کشمیری عوام نے ایک زمانے میں شیخ عبداللہ سے بہت سی امیدیں وابستہ کی تھیں۔ لیکن 1975ء کے سیاسی سمجھوتے کے بعد یہ احساس پیدا ہوا کہ ان کی سابقہ سیاست اور بعد کی سیاست میں نمایاں فرق آ گیا ہے۔امام سید گیلانیؒ نے اس کے برعکس سمجھوتے سے گریز کی سیاست اختیار کی۔ اسی لئے لوگوں کو ان میں 1975ء سے پہلے کے شیخ عبداللہ کی مزاحمتی تصویر دکھائی دیتی تھی۔ایک ایسا رہنما جو اپنے مؤقف پر قائم رہنے کے لیے اقتدار اور مراعات سے بھی دستبردار ہو سکتا ہے۔یہی تصور ان کی عوامی مقبولیت کا ایک اہم سبب بنا۔ایک قلم، ایک آواز سید علی گیلانی کو صرف ایک سیاسی رہنما کے طور پر دیکھنا شاید ان کی شخصیت کو محدود کرنا ہوگا۔ ان کا قلم بھی ان کی سیاست کی طرح مزاحمتی تھا۔ ان کی تحریروں میں مذہبی فکر، سیاسی شعور، کشمیر کی تاریخ اور آزادی کے تصور کے مختلف پہلو نمایاں ہوتے تھے۔جیل ان کےلئےصرف قید خانہ نہیں تھی وہ اسے مطالعے، غوروفکر اور تحریر کی جگہ بھی بنا لیتے تھے۔ان کی خطابت میں جوش تھا، تحریر میں استدلال تھا اور سیاسی مؤقف میں غیر معمولی سختی۔ یہی امتزاج انہیں کشمیر کی مزاحمتی سیاست میں ایک منفرد مقام دیتا ہے۔

2020ء میں حکومت پاکستان نے امام سید علی گیلانیؒ کو ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز نشان پاکستان سے نوازا۔ یہ اعزاز ان کی طویل سیاسی جدوجہد، ثابت قدمی اور کشمیر کے بارے میں ان کے دیرینہ مؤقف کے اعتراف کے طور پر دیکھا گیا۔ تاہم اس وقت تک ان کی صحت بری طرح متاثر ہو چکی تھی۔ برسوں کی نظر بندی، مسلسل بیماری، جسمانی کمزوری اور عمر کے آخری حصے کی مشکلات نے اگرچہ ان کے جسم کو ناتواں کر دیا تھا، مگر ان کے عزم، حوصلے اور نظرئیے کو متزلزل نہ کر سکیں۔
پھر وہ صبح بھی آ پہنچی جس نے کشمیر کی مزاحمتی سیاست کے اس بزرگ کردار کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔ یکم ستمبر 2021ء کو سید علی گیلانیؒ طویل علالت کے بعد اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ زندگی کے آخری ایام بھی انہوں نے نظر بندی اور سخت پابندیوں کے سائے میں گزارے۔ یوں ان کی زندگی کا اختتام بھی اسی جدوجہد کی فضا میں ہوا جس میں ان کی پوری زندگی گزری تھی۔
ان کی حسینی وفا اور استقامت کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال ہو سکتی ہے کہ ان کی شہادت کے بعد بھی ان کے جسد خاکی کو سکون سے نہ رہنے دیا گیا۔ ان کی میت کو رات کی تاریکی میں اہل خانہ سے چھین کر،گھسیٹ کر اور عام لوگوں سے دور لے جا کر حیدرپورہ کے قبرستان میں سپردخاک کیا گیا۔ شاید اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کا خیال تھا کہ ایک بزرگ مزاحمتی رہنما کے جسد خاکی کو تنہائی میں دفن کر کے اس کی یاد اور اثرات کو بھی مٹا دیا جائے گا، مگر وہ یہ حقیقت بھول گئے کہ حسینی انداز میں رخصت ہونا عبرت نہیں، عزت اور استقامت کی علامت ہوتا ہے۔

سید علی گیلانیؒ کی شخصیت کو مختلف زاویوں سے دیکھا گیا۔ کسی کے لیے وہ ایک سخت گیر علیحدگی پسند رہنما تھے، کسی کے لیے پاکستان سے الحاق کے سب سے مضبوط اور واضح حامی، کسی کے لیے مزاحمتی سیاست کی علامت، اور کسی کے لیے اصولوں پر آخری دم تک قائم رہنے والے ایسے قائد جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ قید، نظر بندی، مشکلات اور سیاسی جدوجہد میں گزار دیا۔مگر تاریخ کے صفحات میں ان کی سب سے نمایاں شناخت شاید یہی رہے گی کہ انہوں نے اپنے مؤقف کو وقت کے بدلتے ہوئے موسموں کے ساتھ تبدیل نہیں کیا۔ حالات بدلے، سیاسی منظرنامے بدلے، اقتدار کے مراکز بدلے، مگر سید علی گیلانیؒ کے مؤقف میں تبدیلی نہ آئی۔ وہ جیل گئے، نظر بند ہوئے، پابندیوں کا سامنا کیا، بیماریوں نے گھیر لیا، جسمانی قوت جواب دینے لگی اور عمر نے بھی اپنا اثر دکھایا، لیکن ان کی آواز میں آخری لمحے تک وہی یقین، وہی عزم اور وہی استقامت برقرار رہی۔ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ نظریات جسم سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ جسم کمزور ہو سکتا ہے، قدم رک سکتے ہیں، زبان خاموش ہو سکتی ہے، مگر اگر کسی انسان کے اندر کوئی نظریہ پوری قوت کے ساتھ زندہ ہو تو اس کی آواز سلاخوں، دیواروں اور سرحدوں سے گزر کر آنے والی نسلوں تک پہنچتی رہتی ہے۔امام سید علی گیلانیؒ کی زندگی جدوجہد، قربانی، استقامت اور اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہنے کی ایک طویل داستان ہے۔ ان کا سفر اختتام پذیر ضرور ہوا، مگر ان کی فکر، ان کے نعرے اور ان کی جدوجہد کی بازگشت تاریخ کے اوراق میں دیر تک سنائی دیتی رہے گی۔

سلام امام سید علی گیلانیؒ!سلام اے مردلازوال!سلام اے مرداستقامت!۔۔۔آپ نے وقت کے سامنے جھکنے کے بجائے وقت کے سینے پر اپنے عزم کی داستان رقم کر دی۔