بہت عظیم تھے ہمارے امیر العظیم

ایس ۔ایم ۔امین

جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل (قیم) جناب امیر العظیم کی رحلت نہ صرف جماعت اسلامی پاکستان بلکہ عالمی تحریکات اسلامی، تحریک آزادیٔ کشمیر، دینی و فکری حلقوں اور ان تمام لوگوں کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے جنہوں نے انہیں قریب سے دیکھا، سنا یا ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع پایا۔ ان کی وفات سے ایک ایسی شخصیت ہم سے جدا ہوگئی جس نے اپنی پوری زندگی دین، دعوت، تنظیم، فکری رہنمائی اور قومی و ملی مسائل کے لیے وقف کئے رکھی۔ وہ طویل عرصے سے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا تھے لیکن بیماری نے ان کے حوصلے، عزم اور ذمہ داری کے احساس کو کبھی کمزور نہیں کیا۔ وہ اپنی آخری سانس تک دعوت ، تحریکی امور اور ملی ذمہ داریوں میں سرگرم رہے اور صبر و رضا کی ایک روشن مثال بن کر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

مرحوم نے اپنی تحریکی زندگی کا آغاز اسلامی جمعیت طلبہ سے کیا۔ اپنی علمی صلاحیت، تنظیمی بصیرت اور قائدانہ اوصاف کے باعث وہ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات کی حیثیت سے ایک طویل عرصہ خدمات انجام دیں۔ اس دوران جماعت اسلامی کا مؤقف ذرائع ابلاغ اور عوام تک مؤثر انداز میں پہنچانے میں ان کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا۔ بعد میں انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی سیکریٹری جنرل (قیم) مقرر کیا گیا، اور وہ اپنی وفات تک اس اہم ذمہ داری کو دیانت، اخلاص، متانت اور حسن تدبر کے ساتھ نبھاتے رہے۔
امیر العظیم کا شمار جماعت اسلامی کے ان خوش نصیب رہنماؤں میں ہوتا تھا جنہیں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی صحبت اور تربیت سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے دین کی صحیح فہم، دعوت کی حکمت اور تحریکی مزاج انہی اکابر سے سیکھا اور پھر پوری زندگی اسی فکر کو آگے بڑھانے میں صرف کردی۔ وہ ایک صاحبِ مطالعہ، صاحبِ فکر، نرم خو، باوقار، باعمل اور شائستہ شخصیت کے مالک تھے۔ اختلافِ رائے کے باوجود احترام، مکالمے اور دلیل کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمی دینی و تحریکی حلقوں میں بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
تحریکِ آزادیٔ کشمیر سے ان کا تعلق محض ہمدردی یا رسمی حمایت تک محدود نہیں تھا۔ وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مضبوط حامی تھے۔ مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز پر انہوں نے کشمیر کے مقدمے کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنے، کشمیری عوام کے مؤقف کو اجاگر کرنے اور آزادی کی جدوجہد کو سمجھنے میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وہ کشمیری عوام کے ایک مخلص خیر خواہ اور تحریک آزادی کے ایک مضبوط پشتیبان تھے۔میرے لیے ان کی وفات صرف ایک قومی یا تحریکی نقصان نہیں بلکہ ایک ذاتی صدمہ بھی ہے۔ بعض شخصیات سے تعلق وقت کے ساتھ قائم ہوتا ہے، لیکن کچھ لوگ پہلی ہی ملاقات میں اپنا بنا لیتے ہیں۔ امیر العظیم صاحب بھی انہی لوگوں میں شامل تھے۔

جون 1999ء میں جب میں ایک مہاجر کی حیثیت سے پاکستان آیا تو میرے لیے سب کچھ نیا تھا۔ اپنے وطن، اپنے گھر، اپنے عزیزوں اور اپنے ماحول سے دور ایک نئی زندگی کا آغاز آسان نہیں تھا۔ انہی دنوں جماعت اسلامی کے مختلف رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ صفدر چودھری ؒ، امیر العظیم صاحب، پروفیسر خورشید احمدؒ اور دیگر کئی بزرگوں کو قریب سے دیکھنے، سننے اور ان کی تحریروں سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔پروفیسر خورشید احمدؒ جیسے عظیم مفکر اور دانشور کے ساتھ کچھ عرصہ کام کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا، جو میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے۔ لیکن اگر ذاتی تعلقات کی بات کروں تو دو شخصیات ایسی تھیں جنہوں نے مجھے محض ایک کارکن یا صحافی نہیں سمجھا بلکہ اپنے چھوٹے بھائی کی طرح اپنایا۔ ایک جناب صفدر چودھری ؒ اور دوسرے جناب امیر العظیمؒ۔
اس رشتے کی بنیاد میری کسی خوبی پر نہیں تھی بلکہ ان دونوں بزرگوں کی وسعت قلبی، محبت اور خلوص پر تھی۔ پہلی ہی ملاقات سے ایسا محسوس ہوا جیسے برسوں کی شناسائی ہو۔ صفدر چودھری صاحب سے جب بھی اسلام آباد سے منصورہ جانا ہوتا تو وہ اصرار کرتے کہ کھانا انہی کے گھر کھایا جائے۔ ان کے صاحبزادےبرادر مبشر چودھری اور بھتیجےمعروف صحافی و ماہر ابلاغ برادرمنصور جعفر صاحب سے بھی ایسی محبت اور دوستی قائم ہوئی جو الحمدللہ آج بھی برقرار ہے۔ یہ تعلقات محض رسمی نہیں بلکہ خاندانی محبت کی صورت اختیار کر گئے۔امیر العظیم صاحب کے ساتھ بھی تعلق اسی محبت اور اعتماد پر استوار رہا۔ وہ مختلف کانفرنسوں اور سیمیناروں میں مجھے خصوصی طور پر مدعو کرتے۔ لاہور کے مختلف میڈیا ہاؤسز میں لے جاتے، صحافیوں اور مدیران سے تعارف کراتے اور ہمیشہ عزت و احترام سے نوازتے۔ ان کی کوشش ہوتی کہ کشمیر کے حوالے سے مؤثر آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے۔ وہ جانتے تھے کہ ذرائع ابلاغ رائے عامہ کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے وہ اہلِ قلم اور صحافیوں کی حوصلہ افزائی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔

2006-2007ء میں جب میں نے دنیا ٹی وی جوائن کیا تو ابتدائی تین ماہ کی تربیت لاہور کے ایمبیسیڈر ہوٹل میں ہوئی۔ یہ میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ انہی دنوں امیر العظیم صاحب کئی مرتبہ مجھ سے ملنے خود ہوٹل تشریف لائے۔ ان مصروفیات کے باوجود وقت نکالنا ان کی محبت کا اظہار تھا۔ ایک مرتبہ اپنے گھر بھی مدعو کیا، بے تکلفی سے ملاقات کی اور بڑے بھائی کی طرح حوصلہ افزائی فرمائی۔ اس زمانے میں جماعت اسلامی کے امیر محترم قاضی حسین احمدؒ تھے۔ بعد ازاں سید منور حسنؒ امیر جماعت بنے اور اس دور میں بھی امیر العظیم صاحب سے رابطہ مسلسل قائم رہا۔بعد میں جب سراج الحق صاحب امیر جماعت منتخب ہوئے اور امیر العظیم صاحب جماعت کے قیم کے منصب پر فائز ہوئے تو ان کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئیں۔ اسی وجہ سے ملاقاتوں اور رابطوں میں پہلے جیسی کثرت نہ رہی، لیکن محبت اور تعلق میں کبھی کمی محسوس نہیں ہوئی۔آج سے تقریباً تین برس قبل مجھے “کشمیر الیوم” کے لیے سراج الحق صاحب کا ایک تفصیلی انٹرویو کرنا تھا۔ اسی سفر کے دوران سید علی گیلانیؒ پر ایک دستاویزی فلم کی تیاری کے سلسلے میں بھی کچھ اہم کام کرنا تھا۔ میں نے امیر العظیم صاحب کو فون کیا، لیکن انہوں نے کال وصول نہ کی۔ دو تین مرتبہ کوشش کے بعد میں نے وائس میسج چھوڑ دیا۔میں نے پیغام میں کہا۔۔۔۔امیر العظیم صاحب! میں آج شام اپنی ٹیم کے ساتھ منصورہ آ رہا ہوں۔ مہمان خانے میں چند دنوں کے لیے ہمارے قیام کا انتظام کروا دیجیے۔یہ پیغام بھیج کر ہم لاہور روانہ ہوگئے۔ شام کے وقت منصورہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ مہمان خانے میں ہمارے لیے کمرہ پہلے ہی مختص کیا جا چکا ہے۔ سامان رکھا، وضو کیا اور نماز کے لیے مسجد چلے گئے۔نماز کے دوران پہلی صف میں امیر العظیم صاحب نظر آئے۔ نماز ختم ہوئی تو میں باہر آکر ان کا انتظار کرنے لگا۔ چند لمحوں بعد وہ باہر تشریف لائے۔ مجھے دیکھتے ہی ہمیشہ کی طرح محبت بھرے انداز میں گلے لگایا۔

میں نے مسکراتے ہوئے شکوہ کیا۔۔عظیم صاحب! جب میں جوان تھا تو آپ خود فون کیا کرتے تھے، لاہور کے سکائی ویزاڈے پر گاڑی بھیج دیتے تھے، اور آج جب بڑھاپے میں قدم رکھ چکا ہوں تو میرا فون بھی نہیں اٹھاتے۔انہوں نے فوراً انتہائی شفقت اور انکساری سے جواب دیا۔ شیخ صاحب! جب آپ کی کال آئی، میں ایک اہم اجلاس میں بیٹھا تھا، اس لیے فون نہیں اٹھا سکا۔ لیکن جیسے ہی آپ کا وائس میسج ملا، میں نے فوراً اپنے معاونین کو فارورڈ کیا اور آپ کے قیام کا انتظام کرنے کی ہدایت دے دی۔ اجلاس کافی دیر تک جاری رہا۔ بعد میں آپ کو فون کرنا چاہیے تھا، لیکن نہ کر سکا۔ اس پر واقعی معذرت خواہ ہوں۔یہ ان کی عظمت تھی۔ ایک بڑی جماعت کا مرکزی سیکریٹری جنرل، بے شمار ذمہ داریوں میں گھرا ہوا انسان، مجھ جیسے ایک کارکن اور صحافی سے معذرت کر رہا تھا۔ بڑے لوگ اپنے منصب سے نہیں بلکہ اپنے اخلاق سے بڑے ہوتے ہیں، اور امیر العظیم انہی بڑے لوگوں میں سے تھے۔اس کے بعد وہ خود ہمیں جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر کی دوسری منزل پر لے گئے، اس وقت کے میڈیا ایڈوائزر سے ملاقات کرائی اور اگلے دن سراج الحق صاحب کے انٹرویو کے تمام انتظامات کرنے کی ہدایت دی۔ ان کی یہ عادت تھی کہ کوئی کام صرف کہہ کر نہیں چھوڑتے تھے بلکہ اس کی تکمیل تک خود دلچسپی لیتے تھے۔آج جب ان کی وفات کی خبر سنی تو یہی تمام مناظر ایک ایک کرکے ذہن میں تازہ ہوگئے۔ مسجد کا وہ صحن، وہ گرمجوش مصافحہ، وہ شفقت بھرا لہجہ، وہ معذرت، وہ خلوص، وہ انکساری اور وہ بے لوث محبت۔ بعض شخصیات جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہوجاتی ہیں، مگر ان کا کردار، ان کی مسکراہٹ، ان کا اخلاق اور ان کی محبت ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہے۔
امیر العظیم صاحب کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال تھی کہ قیادت صرف عہدوں کا نام نہیں بلکہ کردار، خدمت، اخلاص، علم، حلم اور انسان دوستی کا نام ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی انہی اقدار کے ساتھ گزاری اور یہی ان کا اصل سرمایہ ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جناب امیر العظیم مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی تمام دینی، ملی، تحریکی اور علمی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، رفقاء، جماعت اسلامی پاکستان، تحریکِ آزادیٔ کشمیر اور ان سے محبت کرنے والے تمام لوگوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔آمین۔بہت عظیم تھے ہمارے امیر العظیم، اور اپنی عظمت کے نقوش چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئے۔