اب یہ ظالم لوگ جو کچھ کررہے ہیں،اللہ کو تم اس سے غافل نہ سمجھو۔اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے اس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں۔سر اٹھائے بھاگے چلے جارہے ہیں،نظریں اوپر جمی ہیں اوردل اڑے جاتے ہیں ۔اے محمد ؐ اس دن سے تم انہیں ڈرائو جب کہ عذاب انہیں آلے گا۔اس وقت یہ ظالم کہیں گے کہ ’’اے ہمارے رب! ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے ،ہم تیری دعوت کو لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے ۔‘‘(مگر انہیں صاف جواب دے دیا جائے گاکہ ) کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جواس سے پہلے قسمیں کھاکھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے؟ حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا تھا اور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے ان سے کیا سلوک کیا اور ان کی مثالیں دے دے کرہم تمہیں سمجھا بھی چکےتھے ۔انہوں نے اپنی ساری ہی چالیںچل دیکھی ،مگر ان کی ہر چال کا توڑ اللہ کےپاس تھا، اگر چہ ان کی چالیں ایسی غضب کی تھیں کہ پہاڑ ان سے ٹل جائیں۔
پس اے نبی ؐتم ہر گز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ کبھی اپنے رسولوں سے کیے ہوئے وعدوں کے خلاف کرے گا۔اللہ زبردست ہے اور انتقام لینے والاہے۔ ڈرائو انہیں اس دن سے جب کہ زمین اور آسمان بدل کرکچھ سے کچھ کردیے جائیں گے اور سب اللہ واحد قہار کے سامنے بے نقاب حاضر ہوجائیں گے۔اس روز تم مجرموں کودیکھو گے کہ زنجیروں میں ہاتھ پائوں جکڑے ہوں گے ،تارکول کے لباس پہنے ہوئے ہوں گے اور آگ کے شعلے ان کے چہروں پر چھائے جارہے ہوں گے ۔یہ اس لیے ہوگا کہ اللہ ہر متنفس کو اس کے کیے کا بدلہ دے گا ۔اللہ کو حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔
(سورۃابراہیم آیت نمبر 42تا 51تفہیم القرآن سید ابوالاعلی مودودی ؒ )
نماز پہلے کیے ہوئے گناہوں کا کفارہ !!!
حضرت عثمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب کوئی مسلمان فرض نماز کا وقت ہونے پر اس کے لیے اچھی طرح وضو کرتا ہے اور اس کے خشوع و رکوع کا اچھی طرح اہتمام کرتا ہے تو وہ اس (نماز) سے پہلے کیے ہوئے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے بشرطیکہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ ہو ، اور یہ (فرض نماز سے صغیرہ گناہوں کا معاف ہو جانا) ہمیشہ کے لیے ہے ۔‘‘ (رواہ مسلم )
رسول ﷺ سے محبت ایمان کی دلیل!!!
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا، جب تک کہ اس کو اپنے ماں باپ، اپنی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ میری محبت نہ ہو۔ (بخاری و مسلم)
تشریح: مطلب یہ ہے کہ ایمان کی تکمیل جب ہی ہو سکتی ہے اور ایک مسلمان پورا مومن تب ہی ہو سکتا ہے، کہ دنیا کے تمام دوسرے آدمیوں سے حتیٰ کہ اپنے ماں باپ، اور اپنی اولاد سے بھی زیادہ اس کو رسول اللہ ﷺ کی محبت ہو۔
ضرورت مند کی سفارش کرنا!!!
نبی کریم ﷺ کے پاس جب کوئی مانگنے والایا ضرورت مند آتا تو آپ فرماتے کہ لوگو ! تم سفارش کرو تاکہ تمہیں بھی ثواب ملے اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر جو چاہے گا فیصلہ کرائے گا ۔ (بخاری)







