حق تو یہ ہے

14 اگست، 15 اگست اور کشمیر کا ادھورا باب!!

برصغیر کی تقسیم کا اعلان ہوا۔ 14 اگست کو پاکستان وجود میں آیا، 15 اگست کو بھارت آزاد ہوا۔ ایک طرف آزادی کے جشن تھے، نئی امیدیں تھیں، نئے پرچم تھے، نئی ریاستوں کی بنیاد رکھی جا رہی تھی، مگر انہی لمحوں میں ہمالیہ کی وادیوں میں ایک ایسا باب کھل رہا تھا جو آج تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود بند نہیں ہو سکا۔ تقسیم برصغیر کے اصولوں پر سوالات اٹھے، وعدے اور دعوے متنازع بن گئے اور جموں و کشمیر ایک ایسے تنازع کا مرکز بن گیا جس نے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کیا۔آج جب پاکستان اپنا یوم آزادی مناتا ہے اور اگلے ہی روز بھارت اپنایوم آزادی، تو کشمیریوں کے ذہن میں ایک ہی سوال ابھرتا ہے کہ ان کے حصے میں کیا آیا؟ آزادی، خود اختیاری اور امن کے وعدے یا مسلسل بے یقینی، خوف اور خونریزی؟کشمیر کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس سرزمین نے شاید سکون کا ایک لمحہ بھی پوری طرح نہیں دیکھا۔ نسلیں بدل گئیں، حکومتیں بدل گئیں، عالمی طاقتوں کے مفادات بدلتے رہے، لیکن کشمیری عوام کے حالات میں وہ بنیادی تبدیلی نہ آسکی جس کی امید انہیں دلائی گئی تھی۔ وقت کے ساتھ تشدد، سیاسی کشمکش، انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں، جبری نقل مکانی، گرفتاریوں، محاصروں اور مسلسل خوف نے ایک پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔تاریخ گواہ ہے کہ یہاں صبح بھی کربلا کے مناظر ہوتے ہیں اور شام بھی کربلا کا منظر پیش کرتی ہے۔ یہ محض ایک ادبی تشبیہ نہیں بلکہ اس احساس کی ترجمانی ہے جو کئی کشمیری خاندان برسوں سے اپنے دل میں لئے ہوئے ہیں۔ کوئی گھر ایسا نہیں جس نے کسی نہ کسی شکل میں جدائی، محرومی یا نقصان کا سامنا نہ کیا ہو۔ ہزاروں خاندان ایسے ہیں جن کے عزیز اس تنازع کی نذر ہوئے، بے شمار خواتین اور بچوں نے عدم تحفظ کی کیفیت میں زندگیاں گزاریں، کنن پاشہ پورہ کی خواتین آج بھی چیخ چیخ کر اپنا درد و غم سنارہی ہیں۔عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے مختلف ادوار میں کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا، رپورٹس شائع کیں، سفارشات پیش کیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ کشمیری عوام آج بھی اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔ عالمی سیاست میں اصول اکثر مفادات کے سامنے دب جاتے ہیں، اور کشمیر بھی اسی تلخ حقیقت کی ایک نمایاں مثال بن چکا ہے۔5 اگست 2019 اس تنازع کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ بھارت کی جانب سے آئینی تبدیلیوں اور جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد نہ صرف سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوا بلکہ کشمیری عوام میں اپنی شناخت، ثقافت، آبادیاتی ساخت اور مستقبل کے حوالے سے نئے خدشات نے جنم لیا۔ اس کے بعد سے زمین، روزگار، انتظامی ڈھانچے اور سماجی شناخت سے متعلق ایسے اقدامات پر مسلسل بحث جاری ہے جنہیں مختلف حلقے مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد ان تبدیلیوں کو اپنی شناخت اور تاریخی حیثیت کے لیے ایک نئے چیلنج کے طور پر دیکھتی ہے۔یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر مسئلہ صرف سرحدوں کا ہوتا تو شاید کسی نہ کسی مرحلے پر حل نکل آتا، لیکن جب ایک قوم اپنی شناخت، اپنے وجود اور اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہو جائے تو معاملہ محض جغرافیے تک محدود نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر آج بھی صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ انسانی، سیاسی اور اخلاقی مسئلہ بن چکا ہے۔اقوامِ متحدہ کی قراردادیں، عالمی رہنماوں کے بیانات، مذاکرات کی بے شمار کوششیں، اعتماد سازی کے مختلف منصوبے، جنگ بندی کے اعلانات، سفارتی رابطے اور امن مذاکرات،یہ سب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں، مگر کشمیری عوام اب بھی اس دن کے منتظر ہیں جب ان کے بچوں کی آنکھوں سے خوف ختم ہوگا اور ان کی صبحیں بارود کی بو کے بجائے امن کی خوشبو سے مہکیں گی۔یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ جنوبی ایشیا کے دو ایٹمی ممالک کے درمیان کشمیر کا تنازع صرف ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن سے جڑا ہوا ہے۔ جب تک اس مسئلے کا ایسا حل تلاش نہیں کیا جاتا جس میں انسانی وقار، انصاف اور کشمیری عوام کی خواہشات کو اہمیت دی جائے، اس وقت تک پائیدار امن کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت کے ذریعے زمین پر قبضہ تو کیا جا سکتا ہے، مگر دلوں پر نہیں۔ بندوقیں خاموشی تو پیدا کر سکتی ہیں، اطمینان نہیں۔ پابندیاں اختلاف رائے کو وقتی طور پر محدود کر سکتی ہیں، مگر احساس محرومی کو ختم نہیں کر سکتیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک ایسے ماحول کے قیام کے لیے موثر کردار ادا کرے جہاں انسانی جان، بنیادی حقوق اور انصاف کو سیاسی مفادات پر ترجیح دی جائے۔کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے آزمائشوں کے ایک طویل سفر سے گزر رہے ہیں۔ ان کی خواہش صرف یہ ہے کہ انہیں وہ حق دیا جائے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور وہ خوف کے سائے سے نکل کر عزت، امن اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔14 اگست اور 15 اگست صرف دو تاریخیں نہیں، بلکہ برصغیر کی تاریخ کے دو ایسے ابواب ہیں جن کے درمیان کشمیر کا ادھورا باب آج بھی کھلا ہوا ہے۔