سلاخیں بھی نہ جھکا سکیں جسے

سلاخیں بھی نہ جھکا سکیں جسے، وہ امیر العظیم بھی خاموش ہوگئے

وہ جس نے جوانی جیل میں اور زندگی جماعت کے نام کردی، سیاست کے شور میں خاموشی سے تاریخ لکھنے والا شخص

سید عمر اویس گردیزی

وہ شام کچھ ایسی تھی جیسے لاہور کے افق پر سورج ڈوبتے ہوئے اپنے ساتھ کوئی معمولی روشنی نہیں، ایک پورا زمانہ لے جا رہا ہو۔ فضا میں بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔سڑکیں رواں تھیں، شہر اپنی بے اعتنائی میں مصروف تھا، اخبار اپنے اگلے دن کی خبروں کے لیے الفاظ جمع کر رہے تھے، اور سیاسی دنیا اپنے معمول کے شور میں گم تھی۔ مگر کہیں ایک خاموش کمرے میں زندگی کی آخری ساعتیں ایک ایسے شخص کے گرد اپنی گرفت مضبوط کر رہی تھیں جس نے عمر بھر خاموش رہنے کے بجائے اپنے یقین کی آواز کو زندہ رکھا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وقت خود چند لمحوں کے لیے رک کر کسی طویل داستان کا آخری ورق پڑھ رہا ہو۔ وہ شخص جس نے کبھی طالب علم کی حیثیت سے کتابیں اٹھائی تھیں، پھر انہی ہاتھوں میں جدوجہد کا پرچم آیا،جس نے یونیورسٹی کے ایوانوں میں طلبہ کی آواز بن کر بات کی۔ پابندیوں کے عہد میں سوال اٹھایا، قید کی تاریکی دیکھی، سلاخوں کے پیچھے وقت گزارا، مگر اپنے عزم کو سلاخوں کے حوالے نہ کیا۔ جس نے جوانی کے شعلہ فشاں موسموں سے گزر کر تنظیمی زندگی کی طویل مسافت طے کی، جس کے حصے میں نعرے بھی آئے، ذمہ داریاں بھی، اختلافات بھی، آزمائشیں بھی اور منصب بھی؛ مگر جس کی شناخت کسی ایک عہدے کے نام سے نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر کے نام سے ہوئی۔ وہ سفر جو ایک طالب علم سے شروع ہوا اور ایک ایسے تنظیمی مقام تک پہنچا جہاں ہزاروں کارکنوں کی امیدیں اور ایک پوری جماعت کی ذمہ داریاں اس کے کاندھوں پر تھیں۔ پھر اچانک یوں لگا جیسے تاریخ کی کسی پرانی کتاب کا ایک روشن باب آہستہ سے بند ہوگیا ہو۔ ایک آواز خاموش ہوگئی، مگر اس خاموشی میں کتنے سوال باقی رہ گئے! کیا سیاست صرف ایوانوں تک پہنچنے کا نام ہے؟کیا نظریہ صرف تقریروں میں زندہ رہتا ہے؟ کیا کارکن ہونا صرف ہجوم میں کھڑے ہونے کا نام ہے؟ اور کیا انسان اپنے عہدے سے بڑا ہوسکتا ہے؟ ان سوالوں کے جواب شاید کسی تقریر، کسی تعزیتی قرارداد یا کسی اخباری خبر میں نہیں ملیں گے۔ان کا جواب ایک ایسی زندگی کے اوراق میں چھپا ہے جس نے جوانی میں قید دیکھی، تنظیم میں عمر گزاری، ذمہ داری کو منصب پر ترجیح دی اور بیماری کے آخری موسم میں بھی اپنے عہد سے رشتہ منقطع نہ ہونے دیا، بعض لوگ سیاست کے میدان میں آتے ہیں، چند معرکے سر کرتے ہیں، کچھ عہدے پاتے ہیں، چند انتخابات لڑتے ہیں، چند تقریریں کرتے ہیں اور پھر وقت کے بے رحم سیلاب میں کہیں دور بہہ جاتے ہیں۔ تاریخ ان کے ناموں کو کبھی حاشیے پر رکھتی ہے، کبھی کسی پرانی کتاب کے زرد صفحات میں دفن کر دیتی ہے۔ مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی زندگی کسی عہدے کی محتاج نہیں ہوتی۔ وہ منصب پر ہوں یا نہ ہوں، اقتدار کے ایوان میں بیٹھے ہوں یا جیل کی کوٹھڑی میں، جلسے کے اسٹیج پر ہوں یا کسی خاموش کمرے میں بیماری کے ساتھ نبرد آزما، ان کے وجود سے ایک پورا فکری سفر عبارت ہوتا ہے۔ امیر العظیم مرحوم بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ایک تھے۔ یہ داستان امیر العظیم کی ہے، ایک ایسے سیاسی کارکن، تنظیمی رہنما، سابق طلبہ رہنما، صحافتی ترجمان اور جماعت اسلامی کے مرکزی ذمہ دار کی، جس کی زندگی کو محض عہدوں کی فہرست میں مقید کرنا اس کے طویل سفر کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ ان کا اصل تعارف منصب نہیں، تسلسل تھا۔ ایک ایسا تسلسل جو طالب علمی سے شروع ہوا، جدوجہد کی دھوپ میں پختہ ہوا، قید کی تاریکی سے گزرا، تنظیمی ذمہ داریوں کی بھٹی میں کندن بنا اور زندگی کے آخری ایام تک اپنے نظریاتی و جماعتی رشتے سے منقطع نہ ہوا۔ایک صحافی کی حیثیت سے سیاسی شخصیات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ بعض چہرے کیمرے کے سامنے بہت بڑے دکھائی دیتے ہیں مگر وقت کی ذرا سی گردش انہیں معمولی بنا دیتی ہے، جبکہ کچھ لوگ منظر کے مرکز میں نہ ہوتے ہوئے بھی اپنی شخصیت کا ایسا نقش چھوڑ جاتے ہیں جو برسوں بعد بھی مٹتا نہیں۔ امیر العظیم کا شمار میرے نزدیک اسی دوسری قسم کے لوگوں میں ہوتا ہے۔ ان کی شخصیت میں ایک خاص قسم کی تنظیمی سنجیدگی تھی۔ گفتگو میں مقصدیت، سیاسی اختلاف میں ایک مخصوص سختی اور جماعتی ذمہ داری میں وہ استقلال جو آدمی کو محض عہدے دار سے کارکن بنا دیتا ہے۔ ان کی زندگی کا ابتدائی باب طالب علمی سے وابستہ ہے۔ لاہور میں پیدا ہونے والے امیر العظیم نے تعلیم کے مختلف مدارج طے کیے اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ مگر ان کی فکری و عملی تشکیل کا ایک بڑا میدان تعلیمی اداروں کی وہ دنیا تھی جہاں نوجوان محض کتابیں نہیں پڑھتے بلکہ اپنے زمانے کے سوالوں سے بھی دوچار ہوتے ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستگی نے ان کے سفر کو ایک منظم نظریاتی سمت عطا کی اور پھر وہ پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر منتخب ہوئے۔ یہ منصب کسی نسبتاً پُرسکون زمانے کی معمولی طلبہ سرگرمی نہیں تھی۔ ملک میں طلبہ یونین پر پابندی کا عہد تھا، سیاسی فضا میں گھٹن تھی اور نوجوانوں کے جمہوری اظہار کے راستے محدود تھے۔ ایسے ماحول میں طلبہ یونین کی بحالی کی جدوجہد محض یونیورسٹی کے داخلی معاملات کا مسئلہ نہیں رہی تھی؛ وہ آزادیِ اظہار، طلبہ کے سیاسی حق اور جمہوری مزاج کے ایک وسیع تر سوال میں تبدیل ہو چکی تھی۔ امیر العظیم نے اس جدوجہد میں حصہ لیا، احتجاج کیا، لانگ مارچ کی قیادت کی، گرفتاری اور مقدمات کا سامنا کیا اور جیل کی صعوبت برداشت کی۔ ان کی زندگی کا یہ باب اس لیے اہم ہے کہ یہاں ان کے سیاسی مزاج کی بنیادیں صاف دکھائی دیتی ہیں۔۔۔جس بات کو درست سمجھا، اس کے لیے قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہونا۔یہی وہ زمانہ تھا جب قید کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کی قیادت کی ذمہ داری بھی ان کے حصے میں آئی اور وہ ناظمِ اعلیٰ کے منصب تک پہنچے۔ اس واقعے کو محض ایک تنظیمی تقرری سمجھ لینا شاید اس کے پس منظر کی معنویت کو کم کر دے۔ ایک نوجوان جو آزادی سے محروم ہو، جیل کی دیواروں کے اندر ہو، مگر اسی دوران اس کے رفقا اسے اپنی قیادت کے لیے منتخب کریں، یہ اس کے کردار اور تنظیمی اعتماد کی ایک گہری شہادت ہوتی ہے۔ یہیں سے ان کی زندگی میں ایک ایسا وصف نمایاں ہوتا ہے جو بعد کے تمام ادوار میں ان کے ساتھ رہا۔تنظیم کے لیے خود کو وقف کر دینا۔ امیر العظیم کی سیاست انتخابی موسموں کی سیاست نہیں تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ کسی اسمبلی کی نشست کے حصول کے بجائے تنظیمی ذمہ داریوں میں گزارا۔ جماعت اسلامی میں ان کا سفر بتدریج مختلف ذمہ داریوں سے گزرتا ہوا مرکزی سطح تک پہنچا۔ وہ جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رہے، لاہور اور وسطی پنجاب کی تنظیمی قیادت سنبھالی اور بالآخر مرکزی سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری تک پہنچے۔ مرکزی سیکرٹری اطلاعات کے منصب پر ان کا کردار خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ صحافت اور سیاست کے سنگم پر کھڑا یہ منصب محض جماعتی موقف بیان کرنے کا نام نہیں بلکہ سیاسی واقعات کو سمجھنے، جماعتی پالیسی کو عوام تک منتقل کرنے اور میڈیا کے سوالات کے سامنے تنظیمی موقف کی ترجمانی کرنے کا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ ایک صحافی کی نگاہ سے دیکھا جائے تو امیر العظیم میں یہ صلاحیت نمایاں تھی کہ وہ اپنے موقف کو سیاسی زبان میں پوری قطعیت کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ ان کے انداز میں بعض اوقات سختی محسوس ہوتی تھی، مگر وہ سختی ان کے سیاسی مزاج کی پیداوار تھی۔ وہ اپنے نظریے کو محض ایک عارضی سیاسی بیان نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے لیے جماعتی وابستگی ایک طویل فکری سلسلہ تھی، جس میں اختلاف، تنقید، تنظیم، کارکن اور قیادت سب ایک بڑے نظم کے اجزا تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی میں ان کا مقام محض کسی ایک عہدے سے متعین نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے تنظیم کو نچلی سطح سے سمجھا تھا۔ وہ کارکن کے مرحلے سے گزرے، طلبہ تنظیم میں قیادت کی، جیل دیکھی، ابلاغی ذمہ داریاں سنبھالیں، علاقائی تنظیم کی قیادت کی اور پھر مرکزی سیکرٹری جنرل کے منصب تک پہنچے۔ یہ ایک ایسا سفر تھا جس میں منصب منزل نہیں بلکہ ذمہ داری کی ایک نئی منزل بنتا چلا گیا۔ 2019ء میں انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا اور بعد ازاں حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں بھی وہ اس ذمہ داری پر برقرار رہے۔ یہ تسلسل اس بات کی علامت تھا کہ جماعت کے اندر ان کی تنظیمی صلاحیت اور تجربے پر اعتماد قائم تھا۔ مگر امیر العظیم کی زندگی کا سب سے متاثر کن پہلو شاید ان کا یہ تنظیمی تسلسل ہی تھا۔

ہماری سیاست میں عموماً لوگ اقتدار کے قریب آکر نمایاں ہوتے ہیں، مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اقتدار سے دور رہ کر اپنی جماعت کے اندر کئی دہائیوں تک کام کرتے ہیں۔ ان کی کامیابی کسی وزارت، کسی سرکاری منصب یا کسی بڑے پروٹوکول میں نہیں بلکہ کارکنوں کے اعتماد، تنظیمی تجربے اور مسلسل محنت میں مضمر ہوتی ہے۔ امیر العظیم اسی روایت کے آدمی تھے۔طلبہ یونین کی بحالی کی تحریک سے لے کر جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت تک ان کے سفر میں ایک عجیب سا ربط نظر آتا ہے۔ نوجوانی میں وہ طلبہ کے سیاسی حق کے لیے میدان میں تھے، بعد میں وہ ایک بڑی نظریاتی جماعت کے انتظامی ڈھانچے میں ذمہ داری نبھاتے رہے۔ یوں ان کی سیاست میں طالب علم، کارکن، منتظم، ترجمان اور مرکزی رہنما الگ الگ کردار نہیں بلکہ ایک ہی طویل داستان کے مختلف ابواب معلوم ہوتے ہیں۔ اور پھر زندگی کا آخری باب آیا۔ بیماری نے جسم کو کمزور کیا، مگر ذمہ داری کے احساس کو مضمحل نہ کر سکی۔ عمر بھر جس شخص نے تنظیمی زندگی کو اپنا معمول بنایا ہو، اس کے لیے شاید بیماری بھی اس تعلق کو یکسر منقطع نہیں کر سکتی۔ آخری ایام تک ان کا جماعتی کردار کسی نہ کسی صورت میں برقرار رہا۔ جسمانی کمزوری اپنی جگہ تھی، مگر وابستگی کی وہ ڈور آخری سانسوں تک قائم رہی جس سے ان کی پوری زندگی بندھی ہوئی تھی۔ 22 جولائی 2026ء کو ان کا انتقال ہوا تو ایک شخص دنیا سے رخصت ہوا، مگر ایک طویل سیاسی و تنظیمی داستان اپنے پیچھے چھوڑ گیا۔ ان کی موت کو صرف جماعت اسلامی کے ایک مرکزی سیکرٹری جنرل کی وفات کہنا شاید کافی نہ ہوگا۔ وہ ایک ایسی نسل کے نمائندہ تھے جس نے سیاست کو سوشل میڈیا کی چند سطروں، انتخابی جلسوں کی وقتی گھن گرج اور اقتدار کے ایوانوں کی چمک سے پہلے ایک مختلف صورت میں دیکھا تھا۔ وہ دور جس میں نظریے کے ساتھ وابستگی کے لیے جیل جانا پڑتا تھا، تنظیم کے لیے برسوں کام کرنا پڑتا تھا، اور سیاسی شناخت بنانے کے لیے عمر کے بڑے حصے کو ایک جماعتی نظم کے سپرد کرنا پڑتا تھا۔ اختلاف رکھنے والے ان کی سیاست سے اختلاف کر سکتے ہیں، ان کے نظریات پر سوال اٹھا سکتے ہیں، ان کی جماعتی ترجیحات سے اتفاق یا عدم اتفاق رکھ سکتے ہیں۔ مگر ایک صحافی کے لیے ایک طویل سیاسی زندگی کی محنت، استقامت اور تنظیمی تسلسل کا اعتراف اختلاف رائے سے الگ ایک حقیقت ہے۔ امیر العظیم کی اصل میراث شاید کوئی عہدہ نہیں۔ وہ ایک سوال ہے۔ ایسا سوال جو آج کے سیاسی کارکن سے پوچھتا ہے کہ سیاست آخر کس چیز کا نام ہے؟ اقتدار کا، شہرت کا، منصب کا، یا کسی فکر کے ساتھ عمر بھر چلنے کا؟ وہ نوجوان سے پوچھتے ہیں کہ کیا نظریہ صرف تقریر تک محدود رہتا ہے یا اس کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے؟ وہ جماعتی کارکن سے پوچھتے ہیں کہ عہدہ ملنے سے پہلے جو آدمی کارکن تھا، کیا عہدہ ملنے کے بعد بھی کارکن رہ سکتا ہے؟ اور شاید وہ ہم صحافیوں سے بھی پوچھتے ہیں کہ کیا ہم سیاست دانوں کو صرف ان کے عہدوں، بیانات اور تنازعات سے دیکھیں گے، یا ان کے پیچھے چھپی ہوئی کئی دہائیوں کی انسانی داستان کو بھی پڑھنے کی کوشش کریں گے؟ امیر العظیم اب موجود نہیں، مگر ان کی زندگی کا سفر ہمارے سامنے ہے۔ طالب علم سے صدرِ طلبہ یونین تک، تحریک سے قید تک، قید سے ناظمِ اعلیٰ تک، تنظیم سے مرکزی ترجمان تک، لاہور و وسطی پنجاب کی قیادت سے مرکزی سیکرٹری جنرل تک، اور پھر بیماری کے سایوں میں بھی ذمہ داری کی آخری لکیر تک۔ یہ کسی ایک منصب کی کہانی نہیں، یہ وابستگی کی داستان ہے۔ اور شاید اسی لیے ان کی رخصتی پر سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ جماعت اسلامی نے اپنا ایک رہنما کھو دیا، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہماری موجودہ سیاست میں اب بھی ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو عہدے سے پہلے کارکن، اقتدار سے پہلے نظریے اور شہرت سے پہلے ذمہ داری کو ترجیح دیں؟ اگر اس سوال کا جواب آنے والی نسلیں تلاش کرتی رہیں تو امیر العظیم کا سفر ختم نہیں ہوگا۔ وہ ایک شخص کی موت کے بعد بھی، ایک سوال کی صورت میں زندہ رہیں گے۔