مین آف آل سیزن امیرالعظیمؒ: نظریے کا امین، استقامت کا استعارہ
میر بابر مشتاق
قوموں کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں صرف ان کے عہد سے نہیں، بلکہ ان کے کردار، نظریاتی استقامت اور قربانیوں سے پہچانا جاتا ہے۔ وہ وقت کی گرد میں گم نہیں ہوتیں بلکہ وقت کے دھارے کا رخ متعین کرتی ہیں۔ ان کی زندگی محض ایک فرد کی داستان نہیں ہوتی بلکہ ایک فکر، ایک تحریک اور ایک عہد کی ترجمان بن جاتی ہے۔ امیرالعظیمؒ بھی ایسی ہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن پر تحریکِ اسلامی بجا طور پر فخر کر سکتی ہے۔وہ صرف ایک تنظیمی ذمہ دار یا سیاسی کارکن نہیں تھے بلکہ سراپا نظریہ تھے۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ انسان اگر کسی مقصد سے سچی وابستگی اختیار کر لے تو حالات کی سختیاں، جیل کی سلاخیں، کوڑوں کی ضربیں اور اقتدار کی چمک دمک بھی اس کے قدم متزلزل نہیں کر سکتیں۔سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنی معروف کتاب” ـتحریک اور کارکن” میں جس کارکن کا تصور پیش کیا ہے، وہ ایسا انسان ہے جو دعوت کو اپنی ذات پر مقدم رکھتا ہے، آزمائشوں سے گھبراتا نہیں، اقتدار کو منزل نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھتا ہے اور ہر حال میں اپنے رب کی رضا کو سب سے بڑا مقصد بناتا ہے۔ امیرالعظیمؒ ان اوصاف کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ ان کی شخصیت میں اخلاص، نظم، استقامت، علم، اخلاق اور جرأت ایک ساتھ جمع تھے، اور یہی امتزاج انہیں اپنے معاصرین سے ممتاز بناتا تھا۔انیس سو اسی کی دہائی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک کڑا دور تھا۔ جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت نے سیاسی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ اختلافِ رائے کو جرم سمجھا جاتا تھا، اخبارات سنسر شپ کی زد میں تھے اور جامعات میں طلبہ کی آزادانہ سرگرمیوں کو ریاستی خطرہ تصور کیا جا رہا تھا۔ ایسے ماحول میں اکثر سیاسی قوتیں خاموشی یا مصلحت کا راستہ اختیار کیے ہوئے تھیں۔

لیکن اسلامی جمعیت طلبہ نے خاموش رہنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ چنا۔ طلبہ یونین پر پابندی کے خلاف 1983ء اور 1984ء میں جو تحریک اٹھی، وہ صرف ایک تنظیمی احتجاج نہیں تھا بلکہ نوجوانوں کے جمہوری حق کی جنگ تھی۔ اس تحریک میں ہزاروں طلبہ گرفتار ہوئے، سینکڑوں کو تعلیمی اداروں سے نکالاگیا، اور درجنوں نوجوانوں نے کوڑوں کی سزائیں برداشت کیں، مگر ان کے عزم میں کوئی کمی نہ آئی۔اسی تحریک کی صفِ اول میں امیرالعظیمؒ کھڑے تھے۔ وہ اس وقت اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب کے ناظم تھے۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کو صرف تقریروں سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے قیادت دی۔ جب گرفتاریوں کا وقت آیا تو وہ پیچھے نہیں ہٹے، جب تشدد کا سامنا ہوا تو انہوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا، اور جب آزمائشیں بڑھیں تو ان کے حوصلے مزید بلند ہوتے گئے۔ان کی زندگی کا ایک یادگار باب وہ ہے جب دورانِ اسیری انہیں اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظمِ اعلیٰ منتخب کیا گیا۔ یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا کہ ایک نوجوان، جو جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھا، اپنے رفقا کے اعتماد کا مرکز بنا اور اسی قید کے عالم میں اپنی نئی ذمہ داری کا حلف اٹھایا۔ یہ اعتماد کسی عہدے کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے کردار، اخلاص اور نظریاتی پختگی کی وجہ سے تھا۔
جیلوں میں انہیں جسمانی اذیتیں دی گئیں، تشدد کیا گیا، کوڑوں کی سزائیں سنائی گئیں، مگر ان کی زبان پر شکایت کے بجائے عزم تھا۔ وہ جانتے تھے کہ نظریات کی قیمت ادا کیے بغیر تاریخ میں کوئی روشن باب نہیں لکھا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آمریت کے سامنے جھکنے کے بجائے استقامت کی علامت بن گئے۔اس دور کا ایک واقعہ آج بھی تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے۔ معروف صحافی قومی ڈائجسٹ کے مدیر مجیب الرحمان شامی صاحب نے امیرالعظیمؒ کی زخمی حالت میں ایک تصویر سرورق پر شائع کی۔ تصویر نے پورے ملک میں تہلکہ مچا دیا۔ رسالہ ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوا اور لوگوں کو پہلی مرتبہ اندازہ ہوا کہ طلبہ رہنماؤں کے ساتھ کس قدر سخت سلوک کیا جا رہا ہے۔بعدازاں ایک پریس کانفرنس میں جنرل ضیاء الحق سے اسی تصویر کے حوالے سے سوال کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی پوری حکمرانی میں شاذ ہی کبھی جذباتی ہوئے ہوں، مگر اس سوال پر وہ برہم ہو گئے اور غصے میں کہا:
” کوئی امیرالعظیم ہو یا امیرالمعظم… میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا”
اگلے روز یہی جملہ قومی اخبارات کی سرخی بنا۔ بظاہر یہ ایک جملہ تھا، مگر درحقیقت یہ اس حقیقت کا اعتراف بھی تھا کہ ایک نوجوان طلبہ رہنما آمریت کے ایوانوں تک اپنی مزاحمت کی آواز پہنچا چکا تھا۔
امیرالعظیمؒ کی عظمت صرف اس بات میں نہیں تھی کہ انہوں نے قید و بند برداشت کیا، بلکہ اس بات میں تھی کہ انہوں نے ان آزمائشوں کو اپنی شخصیت کی تلخی نہیں بننے دیا۔ جیل ہی کے زمانے میں انہوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ یہ اس نوجوان کی کہانی تھی جو حالات کا شکار بننے کے بجائے حالات کو اپنی تربیت کا ذریعہ بنا رہا تھا۔ان کی خطابت میں دلیل تھی، گفتگو میں وقار تھا، مطالعہ ان کا مستقل شوق تھا اور تنظیم ان کی پہچان۔ وہ نوجوانوں کو صرف جذبات نہیں دیتے تھے بلکہ شعور بھی دیتے تھے۔ وہ صرف نعرہ نہیں لگاتے تھے بلکہ نعرے کے پیچھے موجود فکر بھی سمجھاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے مخالف بھی ان کی علمی استعداد، اخلاق اور استقامت کا اعتراف کرتے تھے۔آج جب سیاست میں نظریے سے زیادہ مفاد، اصول سے زیادہ مصلحت اور کردار سے زیادہ تشہیر کو اہمیت دی جا رہی ہے، تو امیرالعظیمؒ جیسے کردار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تحریکیں نعروں سے نہیں بلکہ ایسے لوگوں کے خون، پسینے، صبر اور اخلاص سے زندہ رہتی ہیں۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ جو لوگ نظریے کے لیے جیتے ہیں، وہ اپنی زندگی میں بھی محترم رہتے ہیں اور اپنی وفات کے بعد بھی تاریخ کے روشن باب بن جاتے ہیں۔
امیرالعظیمؒ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ صرف ایک مزاحمتی رہنما نہیں تھے بلکہ ایک بہترین مربی، منتظم اور انسان شناس بھی تھے۔ تاریخ میں ایسے بہت سے لوگ گزرے ہیں جو جیلیں کاٹنے یا آمریت کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے مشہور ہوئے، مگر رہائی کے بعد ان کی شخصیت میں سختی، تلخی یا انتقام کا رنگ نمایاں ہو گیا۔ امیرالعظیمؒ اس اعتبار سے منفرد تھے کہ آزمائشوں نے ان کے لہجے میں تلخی پیدا نہیں کی بلکہ ان کے کردار میں مزید وقار، تحمل اور وسعت پیدا کر دی۔اسلامی جمعیت طلبہ میں ان کی تربیت نے انہیں یہ شعور دیا تھا کہ تنظیمیں صرف نعروں سے نہیں، بلکہ انسان سازی سے مضبوط ہوتی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ جہاں بھی گئے، کارکنوں کی تربیت، علمی نشستوں، مطالعے کی روایت اور باہمی اخوت کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ ان کے نزدیک تنظیم کا اصل سرمایہ عمارتیں یا وسائل نہیں، بلکہ باکردار انسان تھے۔بعدازاں جب وہ جماعت اسلامی پاکستان کے قیم منتخب ہوئے تو انہوں نے اسی مزاج کو مزید وسعت دی۔ ان کے لیے جماعت صرف ایک سیاسی جماعت نہیں تھی بلکہ ایک دعوتی اور اصلاحی تحریک تھی۔ وہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے اور کارکنوں کی بات پوری توجہ سے سنتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جماعت کے مختلف طبقات میں انہیں غیر معمولی احترام حاصل تھا۔امیرالعظیمؒ کی زندگی کا ایک اور خوبصورت پہلو ان کا حسنِ اخلاق تھا۔ لاہور کی علمی، سماجی اور سیاسی فضا میں وہ گویا جماعت اسلامی کا چلتا پھرتا تعارف تھے۔ ان سے ملنے والا ہر شخص، خواہ وہ جماعت سے تعلق رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، ان کی شائستگی، انکساری اور خلوص کا معترف نظر آتا تھا۔اشرافیہ کے افراد ہوں، صحافی ہوں، وکلا، اساتذہ، طلبہ یا عام شہری، ہر شخص ان سے بلا تکلف ملتا، اپنی بات کہتا اور رہنمائی لیتا۔ ان کے دروازے پر آنے والے سے کبھی یہ سوال نہیں کیا جاتا تھا کہ وہ کس جماعت، کس مکتبِ فکر یا کس طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ انسان کو پہلے انسان سمجھتے تھے، پھر اس کی شناخت کو دیکھتے تھے۔ یہی وصف بڑے انسانوں کی پہچان ہوتا ہے۔
وہ گفتگو میں اختلاف ضرور کرتے تھے، مگر اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونے دیتے تھے۔ ان کی زبان شائستگی سے آراستہ اور لہجہ احترام سے مزین رہتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ دلیل کی طاقت گالی سے کہیں زیادہ مؤثر ہوتی ہے، اور کردار کی بلندی کسی بھی سیاسی کامیابی سے زیادہ دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔امیرالعظیمؒ کے سامنے کئی ایسے لوگ آئے جنہوں نے وقتی سیاسی فائدے کے لیے اپنے نظریات تبدیل کیے، جماعتیں بدلیں، راستے بدلے اور اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ گئے۔ بظاہر وہ کامیاب دکھائی دیے، مگر وقت نے ثابت کیا کہ نظریے کے بغیر حاصل ہونے والی کامیابیاں ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔اگر امیرالعظیمؒ بھی چاہتے تو ان کی سیاسی صلاحیت، غیر معمولی خطابت، تنظیمی تجربہ اور عوامی پذیرائی انہیں اقتدار کی سیاست میں بہت آگے لے جا سکتی تھی۔ مگر انہوں نے کبھی اقتدار کو مقصد نہیں بنایا۔ انہوں نے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے اس فکر کو اپنایا کہ اقتدار خود مطلوب نہیں، بلکہ اللہ کی بندگی پر مبنی نظام کا ایک ذریعہ ہے۔ اسی لیے انہوں نے اقتدار کی سیڑھیوں کے بجائے نظریے کے راستے کو اختیار کیا۔آج کے نوجوانوں کے لیے ان کی زندگی میں ایک بہت بڑا سبق موجود ہے۔
مرکزی شوریٰ کے اجلاس کی ایک تصویر نے امیرالعظیمؒ کی پوری شخصیت کو گویا ایک فریم میں سمو دیا۔ وہ امیرِ جماعت کے پہلو میں ہمیشہ کی طرح خاموش وقار، کامل اطاعت اور بے لوث اخلاص کے ساتھ موجود تھے۔ نہ منصب کا احساس، نہ عمر اور تجربے کا غرور، نہ کسی شکوے کا شائبہ؛ صرف ایک مخلص کارکن، ایک داعی اور ایک سچا سپاہی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی سے یہ ثابت کیا کہ تحریکیں شخصیات کے گرد نہیں بلکہ اصولوں کے گرد سفر کرتی ہیں، اور ایک حقیقی کارکن وہی ہوتا ہے جو ہر ذمہ داری کو اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کرے۔ امیرالعظیمؒ کی انکساری، دیانت، امانت، وفاداری اور حسنِ اخلاق ان کی اصل پہچان تھے۔ میری ان سے ملاقاتیں اگرچہ محدود رہیں، مگر ہر ملاقات میں ان کی شفقت، عاجزی اور محبت نے یہی احساس دلایا کہ بڑے لوگ اپنے عہدوں سے نہیں، اپنے کردار سے بڑے ہوتے ہیں۔
موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی مقبولیت کو اکثر کامیابی سمجھ لیا جاتا ہے، وقتی شہرت کو اصل سرمایہ تصور کیا جاتا ہے اور نظریات کو مفادات کے تابع کر دیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں امیرالعظیمؒ کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی ٹرینڈ بننے میں نہیں، بلکہ کردار بننے میں ہے؛ اصل عزت منصب سے نہیں، بلکہ اصولوں پر ثابت قدم رہنے سے ملتی ہے۔ان کی پوری زندگی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ تحریکیں افراد سے بڑی ضرور ہوتی ہیں، مگر تاریخ انہی افراد کے کردار سے لکھی جاتی ہے جو اپنے نظریے کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہوں۔ امیرالعظیمؒ نے کبھی اپنے اصولوں کو حالات کے مطابق نہیں بدلا، بلکہ اپنے کردار سے حالات کو بدلنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کی وفات پر صرف جماعت اسلامی یا اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکن ہی غمزدہ نہیں، بلکہ وہ تمام لوگ افسردہ ہیں جنہوں نے انہیں قریب سے دیکھا، ان کے اخلاق سے فیض پایا یا ان کی استقامت سے حوصلہ حاصل کیا۔ایسے لوگ جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کی فکر، ان کی تربیت، ان کے شاگرد اور ان کی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہے۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے بارے میں اقبالؒ نے کہا تھا:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے۔۔۔۔۔بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔
امیرالعظیمؒ بھی انہی دیدہ ور انسانوں میں سے ایک تھے۔ وہ واقعی مین آف آل سیزن تھے۔ احتجاج کی صف میں بھی نمایاں، تنظیم کی مجلس میں بھی مؤثر، تربیت کے میدان میں بھی سرگرم، فکری نشست میں بھی مدلل، اور تعلقاتِ عامہ میں بھی بے مثال۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ نظریے سے وفاداری، کردار کی پاکیزگی اور انسانوں سے محبت ہی وہ سرمایہ ہے جو انسان کو مرنے کے بعد بھی زندہ رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ امیرالعظیمؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور تحریکِ اسلامی کو ان جیسی مخلص، باعمل اور ثابت قدم شخصیات کا نعم البدل عطا فرمائے آمین







