شہید برہان کی یاد میں یادگار مشاعرہ

شہید برہان وانی کی یاد میں اسلام آباد میں یادگار مشاعرہ، مزاحمتی شاعری سے آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد کو خراجِ عقیدت

ماہنامہ “کشمیر الیوم” کے زیر اہتمام تقریب میں معروف شعراء، ادیبوں اور دانشوروں کی شرکت ۔اردو و کشمیری کلام نے محفل کو گرما دیامعروف ادبی و فکری مجلہ ’’ماہنامہ کشمیر الیوم ‘‘کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ’’مزاحمتی شاعری اور افسانوی شہرت کے حامل شہید برہان وانی ‘‘کے عنوان سے ایک شاندار اور یادگار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں شعر و ادب سے وابستہ ممتاز شخصیات، دانشوروں، صحافیوں اور ادب دوست افراد نے بھرپور شرکت کی۔تقریب کی میزبانی کے فرائض ماہنامہ کشمیر الیوم کے چیف ایڈیٹر شیخ محمد امین نے انجام دیے۔ انہوں نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اپنا کلام بھی پیش کیا۔جبکہ معروف شاعر طاہر اعجاز نے محفلِ مشاعرہ کی صدارت کی۔مشاعرے میں سید مبارک شاہ، شاہد مقصود، مسرور احمد ڈار، اویس بلال اور طاہر اعجاز نے اردو اور کشمیری زبان میں اپنا ولولہ انگیز کلام پیش کیا۔ شعراء نے مزاحمت، آزادی، وطن سے محبت اور برہان وانی کی جدوجہد کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے منفرد اسلوب سے حاضرین کو خوب محظوظ کیا۔ ہر شعر پر سامعین نے بھرپور داد دی اور ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔تقریب میں ماہنامہ کشمیر الیوم کے ایڈیٹر فاروق قیصر، پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کے پروڈیوسر اور معروف صحافی عبدالطیف ڈار، سچ ٹی وی اسلام آباد سے وابستہ صحافی شوکت علی خان سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس نوعیت کی ادبی نشستوں کا انعقاد مستقبل میں بھی جاری رہنا چاہیے تاکہ مزاحمتی ادب، کشمیری ثقافت اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد کو نئی نسل تک مؤثر انداز میں منتقل کیا جا سکے اور شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

برہان جو سجا ہے ہر گفتگو کا محور

برہان کےلہو کا بدلہ چکائیں گے ہم

جنت کی آرزو میں اُس پار جائیں گے ہم

اک دوسرے پہ تب ہی جانیں لٹائیں گے ہم

دشمن کو بے بسی کا رونا رولائیں گے ہم

اسرار بے خودی سے پردہ ہٹائیں گے ہم

کشمیر میں بدر کا میدان سجائیں گے ہم

آزادی وطن کی پیچان بنائیں گے ہم

اس نور کارواں کی مشعل جلائیں گے ہم

یادوں کی یہ امانت دل میں بسائیں گے ہم

گھر گھر سے ایک برہان میدان میں لائیں گے ہم

منزل کی جستجو میں سہہ لیں گے ہر ستم کو

جب جذبہ اخوت سینوں میں موجزن ہو

ڈردل سے نکالیں گے مرنا جو مقدر ہے

کردار کارواں کا آئینہ دار ہوگا

ہے پشت بان ہمارا پروردگار عالم

برہان جو سجا ہے ہر گفتگو کا محور

صورت گلاب جیسی سیرت میں بھی حسین تھا

اعجازؔہے یقیناََ برہان کی شہادت

طاہر اعجازؔ


مجاہدین اسلام کہتے ہیں

ہم مثل سورج ایک ہی محور پہ چلتے ہیں
ذرا سا ڈگمگائیں بھی تو ہم فوراََ سنبھلتے ہیں
ہمیں معلوم ہے نیچے گلوں کے سانپ پلتے ہیں
کہو ان سے جو میری موت پر اتنا اچھلتے ہیں
ضرورت روشنی کی ہو تو پھر ہم خود ہی جلتے ہیں
کبھی خالی دعائوں سے نہیں خطرات ٹلتے ہیں
نہیں تو مرغزاروں میں ہزاروں پھول کھلتے ہیں
پائوں کے رگڑنے سے ہی تو زم زم نکلتے ہیں

ہم موسم نہیں جو ہرگھڑی رنگ بدلتے ہیں
ہمارے آبلہ پائوں کبھی پُر پیچ راہوں پر
سپیرے نے پٹاری کو ہے گر پھولوں سے بھر ڈالا
میرے قاتل نے مجھکو حیات جاوداں بخشی
ہم اندھیرے نہیں جو بھیک مانگیں گے اجھالوں سے
مزاحمت تم بھی تھوڑی سی کرو تب بات بن جائے
ہرموسم کا ستم سہہ لو اگر ہے دیدور بننا
جمود اچھا نہیں مسرور ؔپلٹ کرتم اسے توڑو

مسروؔر احمد ڈار


دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف

بنتی نہ تھی جو وہی بات ہو گئی
کب دن ہوا اور کہاں رات ہو گئی
جب سے ہوئے مہجور حکایات ہو گئی
کچھ یوں ہوا کہ زندگی خیرات ہو گئی
رہبر کی سوچ حدیث خرافات ہو گئی
منزل کی آس رہین مواخات ہو گئی
امید بھی مبارکؔ کرامات ہو گئی
ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی گھات ہو گئی
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

میری غزل آج کی سوغات ہوگئی
اے ساکنان ارض وطن کچھ تو بتائیے
عشق عمیق گر چہ ہے میرے وطن سے مجھے
نکلے تھے گھر سے شوق شھادت کے واسطے
اک کارواں تھا حریت کی راہ میں رواں
تج دی ہے ہر اک شخص نے اپنی زندگی
صحرا میں سراب کی مانند ہے آرزو
محبوب کی گلیوں میں پھرتے تھے بے دھڑک
دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف

سید محمد مبارک شاہ


خونِ شہداء سے مہکے گا گلستان

اعجاز، رابعہ، ایاز و عرفان، قومِ وفا کے چار درخشاں نشان
اپنے حق کی خاطر دے دی جان، تحریکِ آزادی پہ ہوئے قربان
جموں کی دھرتی کا تھے وہ مان، علاقے کی آن، بان اور شان
عزم و ہمت کی تھے پہچان، قومِ وفا کا روشن عنوان
ماں باپ نے رکھا صبر کا مان، کہتے تھے رب کی تھی یہ امان
دشمن کے آگے نہ جھکا ایمان، حق کی خاطر قائم رہا وجدان
اعجاز نے پورے کیے دل کے ارمان، باطل کے ایوانوں میں برپا طوفان
رابعہ، ایاز اور عرفان، حریتِ کشمیر کے روشن نشان
قوم کی قوت، ملت کی جان، وادی کے چمکتے ماہ و کہکشاں
آج بھی زندہ اُن کا احسان، آج بھی روشن اُن کا فرمان
اعجاز، رابعہ، ایاز و عرفان، قومِ ذی‌شان کا عظیم نشان
خونِ شہداء سے مہکے گا گلستان

اویس اقبالؔ


ایک ہی مٹی، ایک ہی خوشبو

حرمت، عظمت، عصمت سلامت
جہاں چہار سو امن و امان ہو
باپ کے ہاتھوں کی ٹھنڈک باقی
رشتوں کو ایسی عمر دے دو
ایک ہی دھڑکن، ایک ہی آنسو
اس کا بھی کوئی جواب دے دو
روتی رہیں سب پیاری راہیں
وصل کی اک دوپہر دے دو

رہے جہاں ماں کا آنچل سلامت
دے دو ہمیں کوئی ایسا ٹکڑا
ماں کی دعا کا سایہ باقی
بہن کی چوکھٹ، بھائی کی ہنسی
ایک ہی مٹی، ایک ہی خوشبو
کس کے کہنے پر بٹ گئے ہم
بندش، زنجیر، اونچی دیواریں
آنکھ ترستی، بانہیں خالی

مقصود منتظر